Hesham A Syed

January 22, 2009

Dance of Devil’s wisdom : urdu article

Filed under: Islam,Media,Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:35 am
Tags: ,

Urdu Article : Aql Iblees key thumkey : Hesham Syed

عقلِ ابلیس کے ٹھمکے.. !

 

i

قارئین کی خط و کتابت بھی دلچسپ ہوتی ہے ۔وہ مجھے براہ راست بھی ای میل تبصرے اور سوالات بھیجتے ہیں۔کسی کو میرے چہرے پہ ہر چند کہ ہے ، داڑھی نظر نہیں آئی مگر میرے مضمون میں عالمانہ رنگ نظر آیا ۔ کوئی داڑھی والوں سے ہی خفا ہے ، اور انہیں چندہ خور مولوی گردانتا ہے ۔ یہ سوال تو لا ینحل ہے کہ علم و عقل کا تعلق چہرے پہ بال سجالینے سے کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ ضرور ہے کہ اب تک جو ملفوظات سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے کوئی نبی یا رسول ایسے نہیں گزرے جن کی داڑھی نہیں تھی۔واللہ عالم !۔ جو لوگ اس نیت سے داڑھی رکھتے ہیں کہ سنت نبویؐ ہے تویہ جذبہ قابلِ احترام ہے ۔ اسلام میں داڑھی ہے داڑھی میں اسلام نہیں ہے۔داڑھی تو ابوجہل اور ابو لہب کی بھی تھی۔ راسپوٹین کی بھی تھی اور غیر مسلمین ، اہل کتاب و کافروں و مشرکوں کے بھی ہوتی ہے بلکہ زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ چوروں ، اسمگلروں ، قاتلوں ، ملحدوں ، مرتدوں ، منافقوں اور رسول  ؐ کے گستاخ کی بھی داڑھی نظر آتی ہےـ چاہے وہ لمبی ہو یا ٹھڈی نما ـ اپنی اپنی پہچان ہے۔ کہتے ہیں کہ ابلیس بھی با ریش ہے ۔ملائکہ کے بارے میں یہ بات مصدقہ نہیں لیکن گمان غالب ہے کہ وہ بھی باریش ہونگے ۔ یہودی روایت میں تو ملائکہ میں تذکیر و تانیث کا ذکر بھی ملتا ہے جس سے یہ خیال گزرتا ہے کہ شاید ان کے یہاں بھی شجرۂ نسبی موجود ہو یا ممکن ہے اللہ تبارک تعالیٰ کا ان کی تخلیق کاکوئی اور ہی نظام ہو۔ واللہ عالم ۔ البتہ قومِ اجنا میں سلسلہ جنباتی وہی ہے جیسے بشر میں ہے۔اس بارے میں بہت ساری روایات میری نظر سے گزری ہیں ۔

          داڑھی کے سلسلے میں علمائے اسلام میں بات اس شدت تک بڑھی ہوئی ہے کہ داڑھی نہ رکھنے والا کافر ہے کیونکہ وہ تارکِ سنت ہے ، دوسری جانب داڑھی کے مقدار و لمبائی پہ جھگڑا الگ ہے۔ میں اپنے تجارتی دورے پہ مشرق بعید بھی جاتا رہا ہوں ۔ وہاں اکثر مردوں کے چہرے پہ بال ہی نہیں ہوتے اور ہوتے ہیں تو شاید اکا دُکا۔ اب ایسی صورت میں تو پوری قوم ہی کافر گردانی جائے گی جبکہ سب کلمہ گو ہیں اور عملی و فکری طور پہ اچھے مسلمان کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ وہاں بھی شدت پسندی کے تحت میں نے چند لوگوں کے چہرے پہ داڑھی صرف ایک یا دو بال یا چار بال چار سے چھ انچ لمبے دیکھے جو خاصے مضحکہ خیز لگتے ہیں ۔ اس سے پیشتر کہ خود ساختہ علمامیری اس بات کو گستاخی کہیں یا مجھے کافر ہی گردانیں میں یہ وضاحت کردوں کہ حضور  ؐ خود بھی داڑھی کی تراش خراش کا خیال رکھتے تھے اور اپنے صحابیوںؓ کو تاکید کیا کرتے تھے کہ اپنی داڑھی ، شکل کی مناسبت سے اور شخصیت کو سنوار کے رکھو ۔

.                   ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ناموَر علمانے بہت ساری ایسی باتوں پہ رائی کا پہاڑکھڑا کر دیا ہے اور اس کی اہمیت کودوسری بہت ساری اہم باتوں سے زیادہ قرار دے دیا ہے۔ حضورؐ کی سینکڑوں سنتیں ہیں جو ہمارے معاشرت اور اخلاقیات و اقتصادیات سے متعلق ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ حیرت ہے کہ جس نے زیادہ لمبی داڑھی بڑھائی ہوئی ہے وہ ہمارے لیے واجب الاحترام ہے ،  علامہ ہے ، مولوی ہے مولانا ہے۔ چاہے وہ نرا جاہل ہی کیوں نہ ہو اور صرف اسٹیج پہ گلے پھاڑ کر موضوع روایات بیان کرتا ہو اور افسانہ نویسی کر کے بدعات میں اضافہ ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ میرا یہ خیال ہے کہ اس معاملے میں شدت یا ایسا رویہ حضورؐ کی ہمہ جہت شخصیت کی غلط عکاسی ہے۔احترام داڑھی کا نہیں کیا جاتا بلکہ اس جذبہ کا ہوتا ہے جس کے تحت داڑھی رکھی گئی ہو یعنی حضور ؐ کی صورت کی نقالی، چلئے یہ جذبہ سلامت اور قابل احترام صحیح لیکن میرا خیال یہ ہے مسلمانوں کو حضورؐ  کی سیرت کے اتباع پہ زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ صرف اگر شکل کی نقالی کر کے کوئی حضورؐ کی سیرت سے مختلف ہو تو وہ زیادہ قابل تعذیر ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ داڑھی کا ہونا کسی کو بغیر داڑھی والے سے زیادہ اچھا مسلمان ،ہوشمند ، با شعور ، عالم و متقی نہیں بناتا اور اس کا نہ ہونا بھی اس کے بر عکس اس بات کی دلیل نہیں۔ یہ ساری بحث محض تضیع اوقات ہے۔

          دوسری بات اور بھی حیران کن ہے کہ ہمارے معاشرے میں علامہ یا مولانا یا اسی طرح کے القابات جو اپنے نام کے آگے پیچھے لوگ لگا لیتے ہیں وہ کون دیتا ہے ؟ میں نے اکثر یہ القابات خود ساختہ ہی دیکھے ہیں ۔ بعض مثالیں تو کچھ عجیب سی ہیں کہ میں نے کسی کو علامہ جوش ملیح آبادی کہتے سنا جنکی کتاب ’’یادوں کی بارات‘‘سوانح العمری اصل میں شہوان العمری ہے ایک علامہ نیاز فتحپوری بھی ہیں جن کی کتاب موجود ہے جس میں انہوں نے اللہ کے وجود کا انکار کیا ہوا ہے اور اس پہ جرح بھی کی ہے۔یہ اور بات ہے کہ میں نے ان کی بیگم و گھر والوں کو مذہبی رجحان کا پایا۔ کم سے کم شب بارات میں ان کے صاحبزادے جو میرے ساتھی تھے ان کے ساتھ جا کر ہم نیاز فتحپوری مرحوم کی قبر پہ فاتحہ پڑھ آتے تھے۔ یہ ۳۷۹۱ ء کی بات ہے اور میں سوچتا تھا کہ شاید ہماری دعا یا ایصال ثواب سے ہی صاحبِ قبر کو کچھ سکون میسر آجائے ۔خیر ان کا معاملہ کیا ہوا وہ اللہ جانتا ہے ۔ہم تو بہت ساری باتوں کا گمان ہی کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ علامہ اقبال کو علامہ کہنے پہ معترض رہتے ہیں۔ فکری جنجال ایک ہو توآدمی نپٹائے بھی۔

          اب رہ گیا معاملہ مولویوں کے چندہ مانگنے کا تو ایک مسٔلہ تو ہے کہ اگر چندہ نہ مانگیں تو مسجدیں کیسے بنیں اور اس کے انتظام پر جو خرچ ہوتا ہے وہ کون اٹھائے ؟ طنز و استہزا تو ہم سب اس بات کا کرتے ہیں لیکن کیا ہم سب نے مل کر کوئی ایسی تنظیم بنائی جس کی سرپرستی سے بے چارے مولویوں کو سب کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے اور نہ ہی وہ اس طرح رسوا ہوں ؟ قصور صرف ان کا تو نہیں ہم سب ہی قصور وار ہیں ۔ ایک طرف تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ مخصوص لوگ مسجدوں کی ذمہ داری سنبھالیں اور ہم دن رات اپنی دنیا بنانے یا کمانے میں مگن رہیں۔ جمعہ کے جمعہ نماز با جماعت میں شریک ہو کر اللہ پہ احسان کر آئیں اور اگر چندہ کا بکس سامنے آگیا تو  اس کو آگے سرکا دیں یا بے دلی سے اور شک و شبہات کے عالم میں چند سکے یا نوٹ اس میں ڈال کر اللہ سے کئی گنا بدلہ کا انتظار کریں ۔دوسری طرف مسجد کے انتظامی امور کو چلانے کا ہمارے پاس اور کوئی وسیلہ نہیں ہے سوائے چندہ کے تو پھر اعتراض کیوں ہو ؟ اگر کوئی واقعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی مولوی یا مسجد کے منتظم نے چندہ کی رقم اپنے ذاتی خرچ کے لیے لی ہے اورغبن کیا ہے تو اس کا بھی علاج ہے قانونی چارہ جوئی کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ لیکن کسی ایک کی غلطی پر ہر مولوی کو چندہ خور کہنا بڑی زیادتی کی بات ہے بلکہ انتہائی درجہ کی غیر اخلاقی بات ہے۔

           جو کام یہ مولوی حضرات کر رہے ہیں وہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسے ادارے کی تشکیل کرنی چاہیے جس سے چندہ مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔! یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جب کسی ہسپتال کے لیے اور کسی اور کار خیر کے لیے جب فلمی ستاروں کی یا طوائفوں کی ٹولیوں کی محفل منعقد کرتا ہے تو ہم بڑی بڑی رقم وہاں اپنی آنکھوں کی سکائی یا نفسانی خواہشات کی سیر آبی کے لیے یا پھر اپنی تشہیر کے لیے دے آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں لیکن کوئی مولوی چندہ مانگ لے تو ہمیں ناگوار خاطر ہوتا ہے ۔ اب یہ مولوی حضرات بھی کیا اسٹیج پہ برہنہ طوائفوں کے ساتھ ٹُھمکا لگائیں تاکہ مسجدوں کے لیے بھی چندہ دینے میں لوگ بخل نہ کریں۔برق گرتی ہے تو بیچارے ملاؤں پر۔ ہم نے کبھی اپنے اندر بھی جھانک کے دیکھا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟

 ٭          معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، اگر کوئی رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی گستاخی میں زبان دراز کرتا ہے تو یہ سارے مسلمانوں پہ فرض بنتا ہے کہ اس کی خبر لیں ، اس بات کی ذمہ داری صرف مولوی ہی پہ کیوں ہو؟ کیا کسی کے والد کو یا والدہ کو کوئی گالی دے یا برا بھلا کہے تو وہ کسی مولوی کو پکڑ کے لاتا ہے یا انتظار کرتا ہے کہ وہ مولوی یا کوئی دوسرا بھائی اس گستاخ کی خبر لے یا وہ خود ہی اس سے نپٹتا ہے ؟ کیا حضورؐ  اور ان سے وابستہ اصحاب سے محبت ہمیں اپنے والدین سے بھی کم ہے ؟ اور اگر ایسا ہے تو ہمیں تجدید ایمان کی ضرورت ہے ۔

Z

          یہ بے حسی نہیں کہ ہم سب کسی گستاخ کا منہ بڑھ کے اس لیے بند نہیں کرتے کہ یہ کام تو کسی اور کا ہے ؟   ہمیںافسوس تو اپنے حال پہ ہونا چاہیے ! نہ کہ ہم دوسروں کی تحقیر کریں ؟ ہم میں سے کچھ سر پھرے ایسے بھی لبرل یا روشن خیال افراد ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی اللہ کے دین یا رسولؐ کی استہزا کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی فکر ہے اور اپنا فعل ہے ، ویسے تو میں اس ملحد و گستاخ کو جانتا ہوں وہ بہت شریف اور ملنسار آدمی ہے اور میرا دوست ہے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ ایک شخص کی شرافت اور دوستی کی قسم کھائی جا رہی ہے جبکہ وہ اللہ اور رسولؐ سے عناد رکھتا ہے یا ان کی شریعت کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہ روشن خیالی ہے یا ذہن کی تاریکی ؟ کیا ان لوگوں نے قرآن کی تعلیمات پہ غور نہیں کیا کہ جو لوگ اللہ کے دین اور رسولؐ کا استہزا کریں ان سے دوستی تو کجا ان کے ساتھ بیٹھنا بھی منع ہے تا وقتیکہ یہ تائب نہ ہوجائیں، ورنہ ان کا شمار بھی انہی میں ہوگا۔عجیب معیار ہے انسانی رشتوں اور تعلقات کا کہ اپنے خالق اور اپنے محسن اعظم ؐ سے اپنے تعلق اور رشتے کو بڑھانے کے بجائے ہم شیطان صفت آدمیوں سے رسم و راہ بڑھائیںاِن کی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ اچھا وقت گزارنے کے لیے ۔ چہ بو العجبی است ! ان لوگوں سے مراسم صرف ان کے اصلاح کی غرض سے ہونا چاہیے ۔ انسانی رشتوں کے لحاظ سے اگر ہمدردی کی جائے تو اس سے بڑا ان پر احسان اور کوئی نہیں ہوگا کہ انہیں اپنی گمراہی اور غلطیوں کا سختی سے ہو یا نرمی سے احساس دلایا جائے تاکہ یہ تائب ہو کر صحیح العقیدہ مسلمان بنیں اور فلاح پائیں!

ورنہ عقلِ ابلیس کے ٹھمکے تو انہیں واصل جہنم کر کے ہی رہیں گے اور یہ نہ جانیں کتنوں کو اپنے ساتھ بھی وہاں لے جائیں گے !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: