Hesham A Syed

January 22, 2009

Dwarf of Wisdom – urdu article

Filed under: Media,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:22 am
Tags: ,

Urdu Article : Aql  key  Boaney : Hesham Syed

عقل کے بونے 

 (گزشتہ  سے  پیوستہ : آزادیء افکار کی حقیقت )

اخبار کے کالم میںچونکہ حاشیہ آرائی کی قید ہوتی ہے اس لئے بعض موضوعات پہ سیر حاصل بحث ایک ہی کالم میں نہیں ہو سکتی اس لئے قسط وار لکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ زندگی کے چند موضو عات ایسے ہوتے ہیں کہ پورا کا پورا دفتر درکار ہوتا ہے اور پھر بھی تشنگی باقی رہ جاتی ہے ۔ پچھلے ہفتہ کے کالم میں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی پیش آ ئی اور بات جس حد تک میں قارئین تک پہنچانا چاہتا تھا وہ مکمل نہیں ہوپائی۔ اس لیے چند گزارشات و معلومات ِ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش ہیں : 

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

          ہر چند کہ قلم کی ذمہ داری بہت بڑی ہے کہ اللہ نے بھی قلم کی قسم کھائی ہے اور انسان کو قلم سے ہی وہ علم سکھایا جس سے انسان ناواقف تھا(القران : ۸۶۱ ، ۶۹۴) لیکن ایک غلط فہمی عام ہے کہ جس نے بھی چند کتابیں پڑھ لیں ،چند اشعار کہہ ڈالے ، شعری مجموعہ مرتب کر لیا ، کوئی کتاب لکھ ڈالی ، کہیں خطابت کی ،فنکاری کی، محفلوں اور انجمنوں کو سجانے میں کلیدی کردار ادا کیا وہ سب اپنی نظر میںدانشوروں کی فہرست میں شمارہیں۔ قطع نظر اس بات کہ کسی نے کیا کہا ، کونسی بات صحیح کہی ، معاشرے میں اس کے اثرات کیسے مرتب ہوئے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو تحقیقی عمل سے گزرے ہیں اور جنہوں نے شب و روز کی محنت سے کوئی فلاحی کام کرنے کی سعادت حاصل کی یا اپنے قول و فعل سے انسانی زندگی کے کسی شعبہ کی رہنمائی میں معاون رہے ۔بقیہ سارے کا سارا ٹولہ بھان متی کا کنبہ ہے جو اپنے فقدانِ علم وتربیت کی بنا اپنے فکری انتشار میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتاپھرتاہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنی مدح سرائی سے پھولے نہیں سماتے اور یہی وہ جتھا ہے جو’ من تورا حاجی بگوئم تو مورا حاجی بگو ‘کے مصداق ایک طرف دوسرے کے کندھے پہ چڑھ کے اپنا قد بڑھاتا ہے۔ دوسری طرف یہ ایک دوسرے کی ٹانگ بھی کھینچتے ہیں بلکہ انھوں نے ہزلیات کوایک باضابطہ فن کی شکل دے ڈالی ہے۔ کوئی اپنے کو خدائے شعر و سخن گردانتا ہے۔ کوئی اپنے زہد و علم کا پرچار کرتا ہے ۔ کوئی اپنی فلسفیانہ پیچیدگی اور ذہنی کج روی میں زمین و آسمان ایک کئے دیتا ہے ۔ اپنے نفس یا انا ئے باطلہ کی تسکین کے لئے طرح طرح کی اصطلاحات ایجاد کی جاتی ہیں ۔لوگ اپنی غلط فہمیوں اور تکبر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ عالم ِ صرف خدا کی ذات ہے ۔ یہاں تک کہ جو مدینہ العلم محمد  ؐ نے بھی اللہ کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کر کے ہی کیا ہے ۔ عروج انسانی کی انتہائی منزلوں پہ پہنچ کر بلکہ کامل ترین انسان کے مرتبہ اور ارفع ِروحانی مقام محمود پہ فائز ہو کر اور اشرف و امام الا نبیا و رسول ہو کر بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ،عبدہُ کہنے میں ہی فخر محسوس کیا ، اور انتہائی سادگی و انکساری سے زندگی بسر کرتے رہے۔

          انسان کے ہر قول اور ہر عمل کے نتیجہ کا  دارومدار اس کی نیت پہ ہے۔ اگر خلوص الااللہ و حب رسولؐ اورفکری توازن درست ہے تو نتیجہ اچھا نکلتا ہے لیکن اگر نیت میں ہی کھوٹ ہے تو سارے کا سارا تحقیقی عمل اور زندگی کی جدوجہد بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔آخر مستشرقین نے بھی توقرآن اور رسولؐ پہ بڑی تحقیق کی ہے لیکن چونکہ وہ اپنی نیتوں میں مخلص نہیں تھے سو انہیں ایمان نصیب نہیں ہوا اور وہ اپنی تاریکی ہی میں منڈلاتے رہ گئے ۔ خود حضورؐ کے رشتہ داروں میں کئی تھے جنہیں سوائے محمد بن عبداللہ کے کچھ نظر نہیں آیا۔ وہ رسول اللہ و حبیب اللہ کے نور نبوت کو دیکھ ہی نہیں سکے۔ آج بھی تنقیص ِ رسول ؐ میں غیروںکے ساتھ نام کے مسلمان بھی شامل ہیں۔یہ صورتحال ہر دور میں تا قیامت رہے گی ۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز   :  چراغ  مصطفوی  سے  شرار  بو لہبی۔

          یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی چاہت کا اعلان بھی اپنے رسول ؐپہ خود ہر لمحہ سلامتی بھیج کر کررہا ہے اور انؐکے نام کی رفعت کو اپنی ذمہ داری ٹھہرا لیا ہے ۔

٭  و رفعنا لک ذکرک ۔اور ہم نے تمہارے ذکر کو بلند کیا ۔القران : ۴۹۴۔بالکل ایسے ہی جیسے کہ ا پنی وحی بہ شکلِ معجزۂ قرآن وحدیثِ قدسیہ و صحیحہ کی اللہ خود حفاظت فرمارہاہے۔

           ٭یہ کلام اللہ نے نازل فرمایا ہے اور اس پہ وہی نگہبان ہے ۔اللہ نے کتاب میں کلام احسن و حکمت اتارا ہے جو آپس میں ملتی جلتی ہیں اور جنہیں سن کر متقیوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کے دل و جسم نرم ہوکر اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجاتے ہیں۔القران: ۵۱۹ ، ۹۳۳۲ ۔

 سکوتِ  شام  سے  تا  نغمۂ  سحر گاہی  :  ہزار  مرحلہ  ہائے  فغانِ  نیم  شبی

«اور ایسے لوگ بھی ہیں جو بیہودہ حکایتیں (لٹریچر) حاصل کرتے ہیں ، خریدتے ہیں تاکہ (لوگوں کو ) بے سمجھے بوجھے خدا کے رستے سے گمراہ کریں اور استہزا کریں، یہی لوگ ہیں جن کو ذلت کا عذاب ہوگا۔مفہوم القرآن : ۱۳۶۔

٭خدا حد سے بڑھنے والوں اور فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔القرآن :۵۷۸ و ۴۶ ۔

٭جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر نہیں ہو سکتے اورنصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیںالقرآن :۹۳۹۔

         

٭جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ اس گدھے سے بھی بدتر ہیں جس پہ کتابوں کا بوجھ لدا ہو ا ہو( یعنی جنہیں زعم علم ہو)القرآن :۲۶۵ ۔

٭اللہ کی آیات اور سورۃ کو سن کر جہاں اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے وہیں ان منافقوں کے دل کی غلاظت بڑھتی ہے۔ القرآن :۹۴۲۱۵۲۱۔

٭ جس کسی کو بھی اللہ نے توفیق بخشی ہے اور اس نے الہامی کتابوں کا خصوصاّ اللہ کی آخری کتاب قرآن کا مطالعہ خلوص نیت سے وحی الٰہی سمجھ کے کیا ہے اورجنھیں سیرتِ رسولؐ سے شغف ہے اور اس پہ گہری نظر ہے، اس کے لئے کسی اور نقطہء نظر کے فلسفی، دانشور ، شاعر و ادیب کی حیثیت سوائے عقل کے بونے کے کچھ بھی نہیں۔

4        یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ اللہ کی کتاب ، کتاب ِہدایت ہے ، جو انسان کے شعور کو اجاگر کرتی ہے۔اس میں معاشرتی اور اخلاقی و روحانی قوانین سے متعلق باتیں تفصیل سے ہیں ۔ انسان کوانسانیت کا کھوج مل جائے تو بقیہ کام اس کی عقل خود کر لیتی ہے۔ یہ کتاب بیشتر مقامات پہ دوسرے شعبہ ہائے  زندگی ، طبعی رموز اور نظام تکوینی پہ بھی کلام کرتی ہے اور انسان کی جستجو کو ہوا دیتی ہے۔زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس کی اس کتاب سے رہنمائی نہیں ہوتی ۔ بقیہ تو اپنی اپنی پہنچ کی بات ہے۔ جو جہاں تک پہنچ پائے ! آخری منزل تو اللہ کی اور اس کی رضامندی کی ہے۔

«اے مومنو ! اللہ اور اس کے رسولؐ سے پہلے نہ بول اٹھا کرو ۔القرآن  :۹۴۱ ۔ ( یعنی اللہ اور رسولؐ  کی باتوں اور حدود سے تجاوز نہ کرو) تقویٰ اختیار کرو بے شک اللہ سب جانتا ہے اور سنتا ہے۔

٭زمین و آسمان کی ہر چیز چھپی اور کھلی مسخر کردی اور تسخیرِ انسانی کے لیے بنائی ہے۔ القرآن : ۱۳۲۰ ۔اور بیشتر قرآنی آیات ۔ ( تاکہ وہ اپنی جستجو میں منہمک رہے اوراللہ تک پہنچ جائے) مگر انسان اللہ کے بارے میں ہی جھگڑتا ہے بغیرکسی علم و ہدایت و روشنی یا کتاب کے۔

٭ اب اگر کوئی  اس حقیقت سے ہٹ کر اللہ کا ہی منکر ہوجائے اور اللہ کی کتاب کو ہی ناقص سمجھے اور اس میں ترمیم کرنے بیٹھ جائے یاخیرالبشر انسان کاملِ رسالت مآب سرور کائنات ،امام الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ و مجتبیٰ  ؐ سے ہی اپنے آپ کا موازنہ کرنے لگ جائے اور ان کی فضیلتوں کو خود اپنی ذات سے منسوب کر لے اور ان کے قول و فعل پر اپنی کند ذہنی اور کج روی کو ترجیح دے تو پھر آدمی افسوس نہ کرے تو کیا کرے ! سچ تویہ ہے کہ علمِ الٰہی میں رخنہ ڈالنے والے باطن میں باطل افکار اور ابلیسی قوتوںکے آلہ کار ہوتے ہیں ۔ اُف  یہ  بونے  !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: