Hesham A Syed

January 22, 2009

Industry of Superstions – urdu article

Filed under: Cults,Islam,Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:49 am
Tags: ,

Urdu Article : Tawahumm ka karkhaana : Hesham Syed

حشام احمد سید

 تَو ہّم کا کارخانہ !!

لیجئے صاحب! ایک نئی افتاد آ پڑی ، چند ایک خطوط اس بار پھر پاکستان اسٹار نے آزادئ فکر کے حوالے سے چھاپ دیئے جس میں میرے انگریزی کے ایک کالم پہ تبصرے یا اعتراضات کئے گئے، ساتھ ہی مجھے اپنا دین و ایمان کے بدلنے کی بھی دعوت دی گئی ہے۔ میرا ارادہ نہ تھا کہ میں ان خطوط کا جواب دوں ۔ مناظرہ بازی سے اور لوگوں سے بحث و تکرار کر کے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ، لیکن احباب کا خیال ہے کہ سچائی ایک عام قاری تک پہنچنی چاہیے سو اسی خیال کے پیشِ نظر چند وضاحتیں اور حقیقتوں کا بیان ضروری ہے :

٭یہ کالم انگریزی میں کیوں ؟ اصل میں یہ کوئی باضابطہ کالم نہیں تھا ۔یہ خط میں نے ای میل پہ اخبار کے مدیروں کو اس ارادے سے نہیں لکھا تھا کہ چھپ جا ئے گا ۔ پھر اس کی جگہ میرے ہفتہ وارانہ کالم بازگشت میں نہیں تھی بلکہ پاکستان کلب کی تھی لیکن پبلشر صاحب نے اسے مختلف محل پہ چھاپ دیا ۔ تاہم یہ کوئی اتنی بڑی غلطی نہیں کہ اس پہ تعزیر کی جائے اور پھر سچائی تو سچائی ہوتی ہے چاہے وہ کسی زبان میں کہی جائے ۔ انگریزی کا البتہ کنیڈا میں ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ میرے سادہ انداز بیان کو ہمارے ہم عصر تو سمجھ ہی لیتے ہیں مگر ان کے ساتھ نوجوانوں تک بھی بات پہنچ جاتی ہے جو زبانِ اردو سے واقف نہیں یا اسے پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ رہ گیا معاملہ یہاں کے اردو اخبار کی اپنی پالیسی کا تو وہ پبلشر جانیں اور ان کا کام جانے ۔ ہر شعبہ کا اپنا مسئلہ ہوتا ہے ، جو جس کام سے واقف نہیں وہ صرف اعتراض ہی کر سکتا ہے۔

          مجھے ذاتیات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔طاہر گورا کے بارے میں جو بات عام محفلوں میں کی جاتی ہے اسے میں نے لکھ دیا تھا اور وضاحت طلب کی تھی ۔ نہ میں نے کوئی ہوائی چھوڑی ، نہ میں ان باتوں کا خالق ہوں اور نہ ہی اپنا وقت ان باتوں میں ضائع کرنا چاہتا ہوں۔ذاتی معاملات ذاتی ہی ہوتے ہیں ۔ ہر انسان کی کمزوریوں کی پردہ پوشی اس وقت تک کرنی چاہیے جب تک وہ اپنی منافقانہ اور فاسقانہ رویہ کا اشتہار خود نہ بن جائے اور تقریر و تحریر کے ذریعہ معاشرے میں گمراہی نہ پھیلانا شروع کر دے۔

          یہاں کون برا ہے کون بھلا یہ فیصلہ تو بالاخر اللہ ہی کا ہے لیکن عقل سے نابلد انسان ہی برے بھلے کی تمیز سے عاری ہوتا ہے۔ کوئی شخص اگر کھلے عام بے ہودگی پر اتر آئے اوراپنی کوتاہ علمی یا غیر تربیت یافتہ ہونے کا ثبوت یوں دے کہ اللہ یا رسل و انبیا و اولیا و مقربین و صالحین ، علما و اکابرین و متقین کو صرف اپنی ساکھ جمانے کے لئے یا سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے برا بھلا کہنا شروع کر دے یا استہزا کرے تو اس کے ہذیان کا علاج تو کیا ہی جانا چاہیے۔ اب اگر ان عقل کے کوروں کی پذیرائی اس لئے کی جائے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر میں بات سے بات نکالتے ہیں یا یہ کہ وہ ہر بات میں صرف شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو ان کے مداحوں پہ بھی ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بہرحال ہر انسان اپنے ہمجولیوں اور فکری گروہ بندیوں سے ہی جانا یا پہچانا جاتا ہے۔

          کسی جماعت کی تنظیمی اچھائی یا صلاحیتیں ہی صرف اس کے حق پہ ہونے کی دلیل نہیں ہو تی ۔ اس زمانے میں کتنے ہی ابلیسی ادارے اور اس کی تنظیمیں ہیں جو نہایت تندہی سے اپنا کام کر رہی ہیں اور بڑی فعال ہیں ۔ کیا اس بات سے ان تنظیموں کا حق پہ ہونا مان لیا جائے ؟ پھر جو جماعتیں مختصر ہوتی ہیں ان میں نظم و ضبط کا فقدان کم ہوتا ہے ۔ جیسے جیسے جماعت بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے نظم و ضبط میں بھی مشکلیں پیش آتی رہتی ہیں۔سو مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی کو ایک مرکز پہ رکھنا دشوار مرحلہ ہے اور پھر ان میں انفراق بھی تو اسی طرح کی اور ان جیسی ہی بیشتر جماعتوں کی وجہ سے پیدا ہوئی  ہے۔ اگر ہر آدمی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ نہ بنائے تو پھر یہ فتنہ فساد پیدا ہی کیوں ہو۔لطف یہ ہے کہ ہر جماعت یہ سمجھتی ہے کہ اسلام کا جھنڈا اس کے ہاتھ میںہے ۔ سو مجھے قادیانی گروہ کے بارے میں کوئی حسنِ ظن نہیں۔    ؎

اتنی نہ بڑھا پاکیء داماں کی حکایت      دامن کو ذرا دیکھ  ذرا  بندِ قبا دیکھ

          مرزا غلام قادیانی یا ان کے پیروکاروں کی شاید ہی کوئی تحریر ان کے دین و عقائدسے متعلق ایسی نہ ہو جو میری نظرسے نہ گزری ہو ۔ میں نے بڑی اچھی طرح کھلی آنکھوں سے قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے اور مجھے اس کے پسِ پردہ سوائے افتراق کے کچھ نظر نہیں آیا۔ مجھے اب ان کے عقائد کو سمجھنے کے لئے کسی کے پاس جانے کی یا رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ان عقائد کے رد میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ لوگ انہیں آسانی سے حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیںاور خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ ان باتوں کو دہرا کر کوئی فائدہ نہیں ، دوسرے یہ کہ یہ اخبار ان سارے مباحث اور مناظرے کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا ۔ اس اخبار کے توسط سے عام قاری تک جتنی بات پہنچ گئی یا پہنچ رہی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو دوسرے اخبارات نے پہنچائی ہے۔

٭ میں نے قادیانی ہی کیوں لکھا احمدی کیوں نہیں ؟ یہ الجھن بھی تو ان ہی کے قبیلے کی پیدا کردہ ہے ۔ ایک جماعت لاہوری احمدی کی ہے جو مرزا غلام کی پیروکار تو ہے لیکن انہیں نبی نہیں مانتی بلکہ مجدد مانتی ہے وہ ان کو جو مرزا غلام کو نبی مانتے ہیں انہیں قادیانی کہتی ہے اور خود کو احمدی۔ ان ہی لوگوں نے ایک جدول میں اپنا اور قادیانی گروہ کے عقیدہ کا بھی موازنہ کیا ہے جو درجہ ذیل ہے۔ ظاہر ہے کہ احمدی گروہ قادیانی گروہ کے اندرون خانہ سے واقف ہونگے کہ دونوں ایک ہی شجر کے دو شاخیں ہیں۔ اس جدول سے دونوں گروہوں کے عقائد  کی بھی قلعی کھلتی ہے  :

  درجہ ذیل تفصیلات جو انگریزی میں ہے احمدی گروہ کی ہی تحریر کردہ ہے ۔ میں نے اس کا اردو میں ترجمہ بھی نہیں کیا تاکہ اسے یہ نہ کہا جائے کہ میں نے متن بدل دیا :

A Comparative Study of the Beliefs of the Two Sections

of the Ahmadiyya Movement (Lahore vs. Qadiani Groups)

L :The Lahore Group: Ahmadya Group :

Q : The Qadiani Group:

L/1.Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, is           Khatam al-Nabiyyin, the interpretation of which is that he  the greatest and last of all the prophets..

Q/1. Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, is Khatam al-Nabiyyin, the interpretation of which is that he is the greatest though not last of all the prophets.

 L/2. The Holy Quran is the final Shariah (code) for the world.

 Q/2. The same.

L/ 3. No prophet, whether new or old, shall come after the Holy Prophet Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him.

Q / 3. Prophets may come after the Holy Prophet Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him.

 L/4. Hazrat Mirza Ghulam Ahmad of Qadian was not a prophet but a Mujaddid (Reformer) and Promised Messiah and Mahdi in Islam.

 Q/4. Mirza Ghulam Ahmad was a prophet as well as Promised Messiah and Mahdi in Islam.

                                                             L/ 5. Mirza Ghulam Ahmad never changed his claim, views or definition of prophethood in 1901 with the publication of Ek Ghalati ka Izala (A Clarification of an Error).

 Q/5. The first written evidence of the change of belief with regard to prophethood was the poster Ek Ghalati ka Izala.

L/ 6. Belief in the advent of Hazrat Mirza Sahib as a Mujaddid is not essential for becoming a Muslim but his acceptance is necessary in the interest of progressive Islam.

Q/ 6. Belief in the mission of Hazrat Mirza Sahib as a prophet is essential for becoming a Muslim.

 L/7. Anyone who professes faith in the Kalima – La-ilaha illallahu Muhammad ur Rasul Allah (There is only one God and Muhammad is His Apostle) – is a Muslim and not a kafir.

 Q/7. Anyone, who does not believe Mirza Ghulam Ahmad of Qadian to be a Prophet, is a kafir.

 L/8. It is permitted to say prayers behind any Muslim Imam provided he is not guilty of dubbing other Muslims as kafirs.

Q/ 8. It is not permitted to say prayers behind any Imam                     who does not recognise Mirza Ghulam Ahma claims.

 L/9. Marriage relations with non-Ahmadis are permitted.

 Q/9. Marriage relations with non-Ahmadis are not permitted.

 L/10. After the Holy Prophet Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, Wahi-e-Nabuwwat (prophetic revelation) has ceased, only Wahi-e-Walayat (saintly revelation) is continued. Hazrat Mirza Sahib’s revelation was Wahi-e-Walayat and not Wahi-e-Nabuwwat.

Q/ 10. After the Holy Prophet Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, Wahi-e-Nabuwwat is continued. Hazrat Mirza Sahi revelation was Wahi-e-Nabuwwat.

L/ 11. The Founder of the Lahore Section was Maulana Muhammad Ali, M.A., L.L.B. Translator of the Holy Quran into English, a companion and disciple of the Founder of the Movement (Hazrat Mirza Sahib).

 Q/11. The Founder of the Qadian Section was Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad, who was the son of the Founder of the Movement and was a young man in his teens at the time of his noble fathe death.

 L/12. The members of this section call themselves Ahmadis, and are generally known also as Ahmadis or Ahmadis of the Lahore Movement.

Q/12. The members of this section call themselves Ahmadis, but are generally known as Qadianis.

           اپنے انگریزی خط میں میں نے حوالہ پاکستان اسٹار کے طارق خان صاحب کے مضمون کا دیا تھا ربوہ کے ہنگامے اور اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کی سازش کے سلسلے میں ۔ حیرت ہے کہ جب یہ بات طارق صاحب نے لکھی اس وثوق سے کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت بھی ہے تو کسی نے ان سے یہ بات نہیں پوچھی کہ انہوں نے یہ کیوں اور کیسے لکھا سو یہ بات میں طارق خان صاحب پہ ہی چھوڑتا ہوں کہ وہ اس بات کا مسکت جواب دیں۔

                    آئیے اب ہم قادیانی بھائی ( دینی بھائی نہ ہوں لیکن انسانی برادری تو ہے ہی ) ان کی مخلصانہ دعوت کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ مجھے احمدی ہو جانا چاہیے سو ایک عام قاری بھی جو کچھ کہ سامنے ہے اسے جان کر کیا اس دعوت کو قابل قبول سمجھ سکتا ہے ؟ میری دعوت تو انہیں واقعی مخلصانہ ہے کہ اللہ سے رجوع کر لیں  وہ معاف فرمانے والا ہے۔ یہ بات شاید بر محل ہی ہے کہ مرزا غلام قادیانی کی اپنی ذاتی زندگی کے جتنے واقعات مصدقہ میرے علم میں آئے ہیں اس سے تو ان صاحب کے کردار کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ انبیا کرام  کا تقدس تو بہت بڑی بات ہے وہ ایک عام آدمی کے اخلاقی معیار پہ بھی پورے نہیں اترتے۔ ان غیر اخلاقی واقعات کا بھی ذکر مناسب نہیں ۔یہ بحث  دونوں طرف کے لوگوں نے کم نہیں کی ہے اور عام لوگوں کے علم میں یہ ساری باتیںہیں۔مجھے ان باتوں پر گرفت نہیںکرنی۔ جو لوگ گزر گئے ان کی فکر کیا کرنا جو موجود ہیں فکر تو ان کی ہونی چاہیے۔ سو ان کی دعوت ِ احمدیت یا قادیانیت کے جواب میں مجھے وہی کہنا ہے جو اللہ نے اپنے آخری نبیؐ  و رسول ؐسے کہلوایا ۔ لکم دینکم ولی دین ۔میں نبی آخر الزماں محمد بن عبداللہ  ؐ  سے بے وفائی اور ان کی گستاخی کا مرتکب نہیں ہو سکتا انشا اللہ تعالیٰ و الحمد لاللہ۔میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند۔ میرے لئے اللہ سبحانہ اور اس کا رسول محمدؐ ہی کافی ہیں ، مجھے کبھی ان کے علاوہ کسی اور کی حاجت نہیں رہی اور نہ کسی اور کو بھی کسی اور کی ضرورت ہونی چاہیے ۔

          رہ گئی بات کہ میں نے صرف قادیانی گروہ ہی کو کیوںدوبارہ اسلام قبول کر نے کی دعوت دی تو غالبا ًموصوف نے میرا خط ٹھیک سے نہیں پڑھا یہ دعوت عام ہے ہر طبقہ کے لئے جو اسلام پہ نہیں اور حضورؐ کی حیثیت کی تنقیص کرتا ہو ۔ چونکہ گفتگو قادیانی ( مدعی نبی )کے حوالے سے ہو رہی تھی سو میں نے یہ دعوت انہیں اور راشد خلیفہ (مدعی رسول ) کے گروہ و جماعت منکر احادیث اور گمراہ مگر بظاہر روشن خیال دانشوروں کو دے ڈالی وگرنہ ، صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے۔ کسے باشد ۔ اللہ توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔

           ایک اور بات جو کہی گئی کہ حضورؐ کے زمانے میں بھی کچھ مدعیانِ نبوت تھے لیکن لوگوں نے ان سب کا انکار کیا اور سچے نبی یعنی حضور  ؐ کو چن لیا۔مجھے جواب دینے والوں نے اس سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ فی زمانہ اور کوئی سچا نبی سوائے مرزا غلام کے نہیں ۔ تاریخی حقیقت کو توڑ موڑ کر پیش کرنے ہی کا تو کمال انہیں حاصل ہے۔ اصل میں لوگوں کو اس بات کا ادراک ہی یوں ہوا جب حضورؐ نے متعدد بار یہ بتایا کہ وہ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد تا قیامت کوئی نبی نہیں ، قران آخری کتاب الہٰی ہے اور تاقیامت کوئی اور وحی نہیں جسے اللہ کی کتاب کہا جائے ۔ حضور ؐ کے زمانے میں مدعیانِ نبوت سے باضابطہ جہاد ہوا اور قتال ہوا۔ اگر ذرا بھی شائبہ کسی اور نبی کے آنے کا ہوتا تو کیا حضورؐ جہاد اور قتال کا حکم صادر فرماتے ؟ احادیث موجود ہیں جن کا مفہوم ہے کہ میرے بعد بے شمار لوگ نبوت کا دعویٰ کریں گے لیکن سب کے سب جھوٹے ، کاذب ہونگے کیونکہ تا قیامت اب کوئی اور نبی آنے کا نہیں۔ ( نزولِ عیسیٰ ؑ  کی علامات کا سہارا لیکر مرزا غلام قادیانی نے جو نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ خود ساختہ ہے ۔  حقیقت سے کوئی مماثلت نہیں ۔ ان کے دعوے کی تفصیلات بہت ہیں کس کس کا یہاں ذکر کیا جائے ) پھر یہ جہاد و قتال تو حضور ؐ کے وصال کے بعد بھی ان کے صحابہ کرام ؓکے دور میں ہوا ۔ کیا آج کل کے ٹٹ پونجیے مسلمان عقیدہ اسلامی اور حضور ؐ کی تعلیمات اور دینی فہم میں صحابہ کرام ؓوہ بھی عشرہ مبشرہ سے بڑھ گئے جو اس جہاد اور قتال میں شریک ہوئے ۔ مسیلمہ کذاب کے ساتھ جنگ یمامہ بہت معروف ہے جو خلیفہ اول حضرت ابو بکر ؓ کے زمانے میں ہوئی ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس لعین مسیلمہ کذاب کے لاکھوں پیروکار تھے تو کیا اس شیطان کی کثرت کو دیکھ کر یا اس کے جری و لڑاکو مریدوں یا اس کے گروہ کی تنظیمی صلاحیتوں کا مشاہدہ کر کے کیا کسی صاحبِ ایمان کا ایمان متزلزل ہوا ؟ اس جنگ میں تو مسلمانوں کے بے شمار حفاظ قران بھی شہید ہوئے لیکن اس سے کیا یہ بات ثابت ہوگئی کہ مسیلمہ کذاب اللہ کا نبی تھا ؟ فاعتبرو یا اولی الا بصار ۔ حضورؐکے زمانے میں مدعیان نبوت کا ظہور بھی اللہ کی طرف سے حضورؐ کی امت کے لئے سبق تھا کہ ایسے جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے چہ جائکہ انہیں تسلیم کر کے اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لیا جائے۔

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی     ہو  صاحبِ مرکز تو  خودی  کیا ہے ؟  خدائی  !

          ایک صاحب نے یہ بھی لکھا کہ میں نے حضورؐ  کے نبی آخر کی ہونے کی حیثیت کے خلاف کہنے کے عمل کو بدترین توہین پہ محمول کیا جبکہ قران میں اللہ نے کسی کو اللہ کا بیٹا کہنے پہ یہ بات کہی ہے ۔ جب کسی کی عقل ہی خبط ہو جائے تو صحیح اور بنیادی بات بھی سمجھ نہیں آتی ۔ رسالتِ محمدؐ پہ ایمان ہی سے تو گاڑی آگے چلتی ہے ۔ اگر آپؐ پر ہی ایمان نہ ہو تو پھر کتاب بھی مشکوک ، اس میں کہی ہوئی باتیں بھی مشکوک اورعقائد دینی بھی مشکوک ۔ جو کچھ انہوں نے کہا ہم نے مان لیا ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنی ذات کا اور اپنی صفات کا بھی صحیح تعارف ہم سے آپ ؐ ہی کے ذریعہ کرایا اور یہی سنتِ الہٰی ہے۔ سو آپؐ  کی حیثیت میں تنقیص کرنا یا آپؐ کے جامے میں خود کو سمونا اورآپ ؐ کی بتائی ہوئی باتوں سے ہٹ کر قران کی تاویل کرنا یا اپنے اوپر ایک نئی وحی کے نازل ہونے کا مدعی ہوجانا گستاخی اور توہین ِ رسولؐ  نہیں تو اور کیا ہے اور اس کے پیچھے کس کا اور کیسا ذہن کام کر رہا ہے کیا اسے بتانے کی ضرورت ہے؟ کہ شیطان وسوسوں کی شکل میں تکبر کے راستے اور عقلی تاویلات کے بہانے کیسے کیسے وار کرتا ہے ۔

N       ایک اور عجیب بات یہ جتائی جا رہی ہے کہ پاکستان یا پورے عالم اسلام میں مرزا غلام کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے تباہی آرہی ہے۔ حادثہ جو بھی ہو رہا ہے وہ اسی بات سے منسوب کیاجارہاہے۔توہمات بھی کیا کیا تاویلیں کرواتا ہے ۔ اکثر خیال آتا ہے کہ آخر یہ بظاہر پڑھے لکھے لوگ پتھروں ، درختوں ، سورج ، آگ ، پانی ، ستارے ، سانپ و حشرات الارض ، جن بھوت پریت ، انسانی قبور ، مختلف شکلوں کے تراشیدہ بتوں و صلیب اور آدمی کے تکبرانہ انداز بڑے بڑے خود ساختہ القابات ، پیغمبر ، نبی ، رسول ، مہدی زماں کے سامنے کیسے سجدہ ریز رہتے ہیں۔جواب یہی ہے کہ :   ع

یہ  تَوہم کا کارخانہ ہے ، یاں وہی ہے جو اعتبار کیا

حقیقت  تو یہ ہے کہ شرک  نتیجہ ہے تَوہم  اور  بے  پناہی کا ، اس  جملہ  پہ غور کریں بات سمجھ میں آجائے گی۔

          ثروتِ دنیا یا دنیاوی پیشہ ورانہ تعلیم جس سے صرف حصولِ زر ہو دراصل ہدایت کی بنیاد نہیں بلکہ صالح سوچ ،  قلبِ متین ، اور خشیتِ الہٰی و متقیانہ رویہ زندگی ہی اللہ کی ہدایت کی ضامن بنتی ہے۔ 

          دعا کیجئے کہ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور اپنے رسولؐ  کی محبت ا و ر ان  ؐ کی حیثیت کا صحیح فہم عطا فرمائے اور ہم انؐ کے ہی دامنِ نبوت و رسالت سے وابستہ ہوجائیںجس سے ہمیں دنیا اور آخرت میں اللہ کی رضا اور فلاح نصیب ہو ۔( آمین )۔

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: