Hesham A Syed

January 22, 2009

They will drown you along with them – !urdu article

Filed under: Cults,Media,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:10 am
Tags:

Urdu Article : Tum ko bhi ley doobeiN  gey – Hesham Syed

تم کو بھی لے ڈوبیں گے  

جی ہاں آج کل تقریروں اور تحریروں کا ایک ریلہ ایک سیلاب ہے کہ بہتا چلا آرہا ہے۔ جسے دیکھئے اسے کالم نویس ، شاعر ، ادیب ، افسانہ نویس ، دانشور ، اخبار اور رسالے کا پبلشریا ایڈیٹر ، مبلغِ دین ، مفتی ، فقیہہ ،قلم کاروں کا دستِ راست، ہر قسم کی محافل ، کانفرنس کی سربراہی ، مشاعرے اور دیگر تقریبات کے منتظم و صدارت اور جانے کیا کیا کچھ بننے اور منوانے کاشوق چرا رہا ہے۔سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا۔ایسی گروہ بندیاں ہیں کہ اللہ ہی محفوظ رکھے۔ ہر قبیلہ دوسرے کی ہر رائے سے اختلاف رکھنا بھی اپنا حق گردانتا ہے ۔آزادئ افکار کے بہانے ہر طرح کی ہزل سرائی ، خود نمائی ، فحش کلامی ، ملحدانہ ، مشرکانہ ، کافرانہ ، عامیانہ و سوقیانہ باتوں کی ترویج ہورہی ہے۔ہر گروہ اپنی ساکھ بڑھانے کے لئے کسی باریش طویل العمر آدمی کا سہارا لے رہا ہے یا پھر خود ہی اپنی ٹھوڑی پہ چند بال اگا کر اپنے معتبر ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ انسانی معاشر اور اس کے فکری ارتقا میں بال اور کھال کی اہمیت بھی اپنی جگہ ہے ۔ چاہے بال کی کھال ہو یا کھال میں بال ہو۔چہرے پہ صرف بال یا چھال کے اگا لینے سے عقل و ہدایت تو نصیب نہیں ہوتی ۔ کیا مشاہدے میں راسپوٹین جیسے شیطان نما افراد سامنے نہیںآئے جن کی عقل ماہ و پرویں کا شکار نہیں بلکہ مال و بی بی پرویں کا شکار کرتی رہی ہے۔ ساری بات نیت کی ہے کہ کس نے خود کو کیسے چھپایا ہوا ہے یا کس نے خود کو کیسا بنایا ہوا ہے۔ اسی طرح نیم حکیم خطرہ جان کا محاورہ اس وقت کے لیے موزوں تھا جب واقعی حکیم بھی دستیاب تھے۔ اب تو زہر ہلاہل کی بھی تمیز جاتی رہی۔ پودنے جیسے لوگ ادھر اُدھر پھدکتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں صاحب شعور و عقل تناور درخت بنے چپ سادھے حسب روایت پھل اور سایہ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ع

 جس میں جتنا ظرف ہے اتنا وہ خموش ہے

4

          بظاہر دانشوروں بہ باطن جاہلوں کا ہر دور میں ایک ٹولہ ایسا رہا ہے جس کا کام یہ ہے کہ طرح طرح کے خدشات پیدا کئے جائیں اور ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہو کر جیا جائے۔ ان لوگوں کا پہلا حملہ انسانی معاشرے میں اخلاقی اور اصلاحی قوانین اور ان کے معیار پہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے مادر پدر آزاد ہو کر اسی وقت جیا جا سکتا ہے جب کہ الہامی کتابوں ، نبی اور رسولوں اور ہر اساس پہ کاری ضرب لگائی جائے یہاں تک کہ روز ِ آخرت ، یوم الحشر و قیامت اور خدا کے وجود کا بھی انکار کیا جائے ورنہ محاسبہ کے عمل سے کون روک سکتا ہے۔ ان ابلیسی چیلوں کی تعداد میں اضافہ یوں ہوتا ہے کہ آدمی کی نفسانی خواہشات ان لوگوں کے ذریعہ پایہ تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ بقول ان عقل کے اندھوں کے خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور اسے اپنی رائے اور عمل کے اظہار کا بھی اختیار دیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ اختیار تو خدا نے ابلیس یا شیطان کو بھی دیا ہے پھر اس اختیار کا استعمال اس نے کیا اور کیسے کیا ؟ ہر اختیار یا عہدہ کے ساتھ ذمہ داری بھی منسلک ہے۔ اگر احساسِ ذمہ داری ہی نہ ہو تو وہی چھری جس سے پھل کاٹا جانا چاہیے لوگوں کی گردن پہ چلتی ہے۔ ایسے ہی قبیل کے لوگ ہیں نبی ، رسول ، مہدی ، عیسیٰ مسیح ، ولی برحق ، یہاں تک کہ خدا ہونے کا جھوٹا اور مکروہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ پیر فقیر کا اپنا کاروبار ہے ۔ کوئی اپنی شکل چاند اور مریخ میں دکھاتا ہے تو کوئی اپنے آپ کو  انبیا کا وجود روحانی بتاتا ہے ۔ ہر طرف دیکھئے تو دما دم مست قلندر۔

          افسانہ طرازی اور شاعرانہ تعلی سے زمین کو آسمان اور آسمان کو زمین بنانے کا عمل جاری ہے۔ کچھ وہ جو ان اصطلاحات کو قدیم جانتے ہیں اپنے آپ کو  لبرل ، موڈریٹ ،روشن خیال ، ہوشمند ،ترقی پسند ، قوانینِ طبیعات وغیرہ کے ماننے والے کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ان کے علم کا دائرہ حواس خمسہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ جسے یہ ہوش کی باتیں کہتے ہیں وہ بھی بے ہوشی اور مدہوشی ہی ہے۔ گلہائے رنگا رنگ سے زینت چمن کی ہے۔ان میں کوئی الہامی کتابوں خصوصاً قران کو طاق پہ رکھ دینے کی باتیں کرتا ہے۔ کوئی احادیثِ رسول کے جمع شدہ ذخیروں میں سے چند ایک روایت کی غلط تفسیر کر کے اس سارے اثاثے کو ہی مشکوک بنا تا ہے۔

           دین سے روح ِ محمدؐ  کو نکالنے کی کوشش تو بڑی پرانی ہے۔ کوئی قرآنی آیات میں بھی تحریف کرتا ہے اور ایسی ہر آیت جس سے اس کی اپنی پکڑ ہوتی ہو اسے قابل متروک سمجھتا ہے۔ کچھ ایسے بھی اہل ذوق ہیں جو قران کی وہ ساری آیات جو حضورؐ  سے منسوب ہیں وہ خود اپنے آپ سے منسوب کر کے اپنے آپ کو معتبر ترین لوگوں کی صف میں گردانتے ہیں ۔ قرآن کو بھی آج کے روشن دماغ لوگ مستشرقین کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ غرض جو جتنا بڑا جاہل ہے اتنا ہی عالم ہونے کا مدعی ہے۔ انکی ساکھ تو اسی وقت جمے گی جب اپنے سے پہلے یا اپنے ہم عصروں لیکن مخالف الخیال علماکی نفی کی جائے ورنہ انکی دوکان کیسے چمکے گی ؟ کانفرنس کیسے منعقد ہونگی ؟ انکی بے ہودگیوں سے بھری ہوئی کتاب غیر مسلمین پبلشر کیسے چھاپیں گے اور اس کی رائیلٹی سے انکے پیٹ کا دوزخ کیسے بھرے گا؟ انکی رال جو نام و نمود اور اشتہائے جسمانی کے لئے ٹپکتی رہتی ہے اس کو بھی تو پوچھنے والا ہونا چاہیے۔ پھر ابلیسی چیلوں کی یااس کی امت کی کوئی کمی تو ہے نہیں ۔ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں ۔ ہر حرام کو حلال ہونا چاہیے اور حلال تو حلال ہے ہی ۔ بس کسی طرح کی پابندی نہ ہو بقیہ سب خیریت ہے۔

<                 ایسے ہی افکار کے بدولت ایسی قومیں بھی پیدا ہوگئیں ہیں جن کی بڑی آبادی بغیر شادی کے وجود میں آئی ہے۔ انھیں اب ناجائزکہنے والاخود لعن طعن کا شکارہوجاتاہے۔ان کے لیے لو چائیلڈکی اصطلاح ایجاد کی گئی ، ایسے والدین کو بھی سراہا گیا ، ان کے بارے میں محبت ہی در اصل خدا ہے جیسے فلسفہ کا پرچار ہوا تاکہ معاشرے میںبرائیاں بغیر کسی احساس گناہ کے بڑھتی رہیں۔ بے ضمیری میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے۔ عورتوں کی آزادی کے بہانے انہیں تجارتی منڈی کی زینت بنا دیا گیا۔ جو معاشرہ عورتوں کے نقاب ، حجاب ، پردہ وغیرہ کے بارے میں ناک بھوں چڑھاتا ہے اس نے کبھی پلٹ کے یہ دیکھا ہے کہ عورتوں کا حجاب میں ہونا اچھا ہے یا نیم برہنہ ہو کر محفلوں ، کلب یا سطح ساحل پہ بغیر کپڑوں کے پھرنا اچھا ہے ؟ افغانی عورتوں کے شٹل کاک نقاب یا مشرق وسطیٰ کے نقاب و حجاب پہ کیچڑ اچھالنے والے اپنے گھروں کی خبر لیں جہاںبے حیائی کا احساس تک مٹ چکا ہے۔ابلیسی تہذیب اب ایسے پنپنے لگی ہے کہ شادی کی حرمت ، شوہر اور بیوی کی عفت و عزت سبھی کچھ ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ مشرکوں سے شادیوں کو بھی فروغ حاصل ہورہا ہے ۔مسلمان مرد تو کجا اب مسلمان عورتیں بھی مشرک اور اہل کتاب سے شادی کرنے میں پیچھے نہیں ہیں ۔ ان کا نظریہ ہے کہ انسان تو انسان ہوتا ہے ۔ یہ مولویوں کا فساد ہے کہ انہوں نے انسانی تعلقات کو مذہب کے بنیاد پہ تقسیم کر رکھا ہے۔

                    اب تو ایسے نکاح خواں بھی دستیاب ہیں جو مسلمان عورتوں اور  غیر مسلم  مردوں کا اسلامی نکاح کروا رہے ہیں ۔ بحث یہ ہے کہ قرآن میں اس کی ممانعت آئی ہی کیوں ہے جبکہ یہ انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسی لئے تو قران کو بھی اکیسویں صدی اور آنے والے وقت کے حساب سے بدل دینا چاہیے ۔اب دیکھئے عورتوں کے حقوق کو پامال یوں کیا گیا کہ انہیں شوہر کے رہتے ہوئے دوسری شادی کی اجازت نہیں۔ اللہ اتنا غیر منصف کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ بھی ضرور تحریفِ قران ہے !! جنسیات  سیکس  ہی ایک قوی جذبہ ہے بقیہ سارے احساسات و جذبات اس کے گرد گھومتے ہیں ۔ لیجیے فرائیڈ نے فلسفۂ عشق بھی سلجھا دیا۔ ماں باپ کی محبت اور حرمت کو بھی اس نے اپنے اس گھناؤنے فلسفہ میں دفن کر دیا۔ اور اب ان باتوں سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھ کے افکار تازہ نے ہم جنسیت کو بھی جائز قرار دے دیا بلکہ اسے معاشرے میں تسلیم کروانے کے لئے ہر طرح کی ترغیبی اور مصالحتی کتابیں اور رسالے بھی چھپنے لگے ۔ سیاسی پارٹیوں میں شریک چندلوگوں نے اور وہ بھی مسلمانوں نے ،اس نفس کی بیماری کو بیماری کے بجائے ایک فعال اور صحتمندانہ رویہ کہہ کے تسلیم کیا۔ ووٹ بھی تو کھرے کرنے ہیں ۔ دنیا بنتی رہے دنیا والے ناراض نہ ہوں ۔ خدا اگر ہے تو اس کی پسند اور ناپسند بعد میں دیکھیں گے۔اور پھر کیا وہ مسلمان روشن خیال دانشوروں میں شمار نہ ہوں ؟۔

h        اب تو یہ بات بھی ہونے لگی کہ اچھا انسان بننے کے لیے مسلمان ہونا کوئی ضروری نہیں ( حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک اچھامسلمان ہی اچھا انسان ہو سکتا ہے )۔ دین ِاسلام جسکا آغاز آدم ؑ سے ہوا اورتکمیل حضورؐ کے دور میں ہوئی ، موروثی تو ہے نہیں ۔ یہ تو ایک نظریہ زندگی ہے جس کا عامل مسلمان کہلانے کا حقدار ہے۔ جو اسے نہیں اپناتا اس کا نام کچھ بھی ہو وہ اس دائرے سے خارج ہے ۔  برے سے  بھلے کو واضح کر کے اس فیصلہ کا اختیار بھی اللہ نے انسانوں کودیا ہے کہ وہ اسے اختیار کریں یا نہ کریں ۔ لا اکراہ فی الدین ۔اب اگر کوئی خود ہی اپنے پیر پر کلہاڑی مارنا چاہے تو کیا کیا جائے ۔

          جب یہ فیصلہ ہو ہی چکا کہ اللہ کی نہیں سننی تو ہمارے روشن خیال مدبر اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لیے جنسی بے راہ روی کا بھی راستہ کیوں نہ اپنائیں ۔ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ ترقی یافتہ قومیں اگر اخلاقی خبا ثتوں کا شکار ہیں تو کیا ہوا چاند پہ تو جا رہی ہیں ۔ ہم کچھ تو کریں جس سے ان کے ہی ساتھ ہماری  پہچان ہو ۔ جب شرم و حیا یا اخلاقیات کی تعریف ہی بدل گئی تو بحث کاہے کی ؟جسم کے تقاضے پہلے ہیں ۔ روح کی پاکیزگی یا بالیدگی ، اخلاقیات کی بلندی یہ سب دقیا نوسی باتیں ہیں ۔ جیو اور جینے دو کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ دوسرا آیا تو اس نے انسان کو بندر بنا دیا ، کیا کرے خود اس کی شکل جو ایسی تھی۔تیسرا آیا تو روح کو ایک بے معنی شے قرار دے کر صرف مادیت پرستی کا پر چار کیا۔ پہلے آم پھر پرنام۔جسم کی بھوک ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی ، ابلیسیت اسی کا تو نام ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ خود ہمارے روشن خیال مدبروں کو احساس ہی نہیں کہ وہ تہذیب حاضر کے گرفتار اور غلام ہیں ۔   ؎

اغیار کے  افکار و تخیل  کی  گدائی   :  کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی

 ہے   سوزِ  دروں  سے  زندگانی   :  اٹھتا   نہیں   خاک   سے   شرارہ

          دانشوری کا اس دور میں معیار یہ ہے کہ خوب لکھا جائے ۔ کیا لکھا جائے اس سے کوئی غرض کیوں ہو ؟ سوائے  اللہ اور رسول کے ہر بات کی جانی چاہیے۔ جب کوئی معیار ہی نہ ہو اور نہ کوئی مطمع ٔنظر ہو سوائے اس بات کے کہ زندہ کیسے رہا جائے ؟ حیوانی خواہشات کی تکمیل کیسے ہو ؟ اور ایک دوسرے کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کے ہر فعل کو جوں کا توں تسلیم کیا جائے کہ یہی درس ِانسانیت ہے ۔ جس نے انسان بنایا ہے اس کے وجود میں ہی شبہ ہے تو پھر کیا چیز آڑے آئے ؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ماننے والے قدامت پرست ہیں یا متشدد گروہ کا طبقہ ہے۔ اصل میں تو معاشرے کی فلاح ان روشن خیال دانشوروں ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ایسے موقع پہ مجھے حضرت علی ؓ کا واقعہ یاد آیا ۔ ان کا مذاکرہ ایسے ہی کسی روشن خیال دانشور سے ہو گیا جو خدا کے وجود کا منکر تھا۔ حضرت علی ؓ نے اسے سمجھانے کو کہا کہ چلو ایک لمحہ کو ہم تمہاری بات تسلیم کر لیتے ہیں کہ خدا نہیں ہے پھر تو جو تمہارا حشر ہوگا وہ ہمارا بھی ہو گا لیکن یہ حقیقت مسلم ہوئی کہ خدا ہے تو سوچو تمہارا حشر کیا ہوگا ؟

          برائیوں کی طرف توجہ دلائیے تو ہم قدامت پسند یا متشدد لوگ ہیں۔ اب اس نئی تہذیب کے گندے انڈے کی طرف کوئی نہیں دیکھتا ۔ اس متعفن فضا میں کسی کا دم نہیں گھٹتا۔جب نتھنوںمیں ہی گندگی بھری ہو تو قوت شامہ بھی کیا اثر لے ؟ جب بے حیائی کا پانی آنکھوں میں موتیاکی شکل میں اتر گیا ہو تو کیا دکھائی دے ؟  جب کانوں کے پردے ہی پھٹ گئے ہوں تو کیا سنائی  دے ؟ جب دماغ کو بددماغی کا ہیضہ ہو گیا ہو تو کیا  سجھائی دے ؟ جب دل ہی مردہ ہو گیا ہو تو قلب کیسے منور ہو ؟ ہاں قلب تومنور ہو سکتا ہے ، اس تاریکی میں بھٹکنے  والے اور روشن خیال مدبروں کی آنکھیں بھی کھل سکتی ہیں ۔ حل اور علاج تو ایک ہی ہے اس مرض کا  : لاتطمٔن القلوب الا بذکر اللہ:  اور  کاش  ہم  دامنِ رسول رحمت اللعالمین  ؐ  کی اہمیت کو سمجھیں اور عمل کریں ۔

          اے کاش ایسا ہو !  ورنہ جس دن آنکھ بند ہوئی تو تقریریں بھی اور تحریریں بھی یہیں دھری کی دھری رہ جائیں گی !!

اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمدؐ    :  آیات  الٰہی  کا  نگہبان  کدھر  جائے

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: