Hesham A Syed

January 25, 2009

Just keep observing ! urdu article

Filed under: Media,Muslim world,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 5:01 pm
Tags:

Urdu Article : Bas deikhtey jaaieye : Hesham Syed

بس !  دیکھتے جائیے …سنتے جائیے

1کالم کا لکھنا بھی کارِ دار د ۔مجھے تو اپنی روزمرہ کے مشاغل ومصروفیات سے فرصت ملے تو ہفتہ وار کالم لکھوں ۔  مجھے ان لوگوں پہ حیرت ہوتی ہے جو روز ایک نیا کالم پیشہ وارانہ مجبوریوں کے تحت لکھ لیتے ہیں ، اور پھر اسے خود پڑھے بغیر اخباروں کی زینت بنادیتے ہیںاور میری حیرت دوچند ہوجاتی ہے جب قارئین اس کالم میں لکھی ہوئی ہر بات کو تسلیم کر کے اس پر اپنی رائے بھی قائم کر لیتے ہیں اور محفلوں میں اس کا ذکر بھی کر رہے ہوتے ہیں۔صحافت ظاہر ہے کہ اب ایک کاروبار ہے ۔ سوجس کا جی چاہے اپنے اپنے ٹھیلے پر ذہنی یاموادتفریح کا ڈھیر لگا دے ۔دنیا تماشہ دکھانے والوں اور تما شبینوں کی ہے۔ ڈھول جتنا پرُ اشوربجے گا لوگ اتنے ہی اس کی طرف کھنچتے چلے آئیں گے۔اخبار ہو یا ٹیلی ویژن یعنی وہ میڈیا جو پڑھنے سننے کے علاوہ دیکھنے کے لئے ، سوائے دیدہ عبرت کے بہت کچھ فراہم کرے، تو اس کی چاندی ہے۔سینکڑوں کی تعداد میں اخبار اور ٹیلی ویژن کے چینل کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اخباروں میں ایک طرف مذہبی صفحہ ہے تو اس کے ساتھ ہی فلمی صفحہ جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف جنت و دوزخ کی باتیں ہیں تو دوسری طرف دوزخ میں جانے کا آسان نسخہ رنگین و ہوش ء با تصویروں کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ زمینی حوریں اتنی سجی بنی ہوتی ہیں کہ ایک ضعیف العمرشخص کو یہ بھی کہتے سنا کہ جنت میں تومیں اللہ میاں سے ایشویرا رائے جیسی حور ہی طلب کروں گا۔ ڈھلتی ہوئی عمر میں جب عمل سے عاری ہو آدمی تو ذہنی عیاشی کے لئے تصور جنت میں بھی حرم آباد کر لیتا ہے۔ نفس ہر رنگ میں ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔تو کسی نے لقمہ دیا کہ پھر یہ بھی مانگنا کہ تمھاری شکل ابھیشیک بچن یا امیتابھ بچن جیسی بنائے ورنہ تمھاری خواہشِ بے لگام کی تسلی نہیں ہوپائے گی۔ دونوں بچن میں کسی کا بھی انتخاب ہو سکتا ہے اس لئے کہ سسر ہو یا شوہر ادائیں دونوں کے لئے یکساں ہی دکھائی جاتی ہیں اور دونوں  ہی کسی آوارہ گرد کی طرح اس کے گرد منڈلا سکتے ہیں ۔ ( کجرا رے کجرا رے مرے کالے کالے نینا….. ) ۔ اس طبقے میں رشتوں کا لحاظ یا اس کے احترام کی ویسے بھی کوئی اہمیت نہیں اور نہ اس کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ ہرکسی کی بیوی یا بہن کسی دوسرے کے ساتھ داد عشق  ہی نہیں داد عیش دیتی دکھائی دے لیکن یہ سب فن کے بہانے جائز ہے ۔نیچرل ایکٹنگ کا تقاضہ بھی یہی ہے ۔ اب دیکھنا یہ کہ جنت کے امیدواروں کی خواہشات کا کس قدر احترام کیا جاتا ہے، اگر طبیعت کی جولانی کا حال یہی ہے تو آسان کام تو یہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کو جنت کے بجائے وہاں بھیجا جائے جہاں ایسی طوائفیں اور طائفوں کی ٹولیاں پہلے سے ہی موجود ہوں۔ ٹیلی ویژن کی رنگینی کے کیا کہنے ہر داعی ، ہر مبلغ ، ہر سیاسی ، ہر فوجی ، ہر دانشور ، ہر صحافی، ہر اداکار و اداکارائیں ، ہر موسیقار ، ہر گائیک و گائیکائیں ، ہر رقاص، ہر مزاح نگار ،ہر پیشہ ور ،  ہر شوہر ، ہر بیگم متحرک و زندہ و پائندہ ۔ دل لبھانے کا اتنا سامان گھر بیٹھے میسر دستیاب ہو تو پھر بے جا خواہشات پر بند کیسے باندھا جائے۔ دین و دنیا کے سارے مسائل کی خبر اور اس کا حل صرف ایک بکس اور ایک کمرے میں بند۔ اب سوچنے سمجھنے کے لئے رکھا کیا ہے ؟ دیکھتے جائیے ، سنتے جائیے  اور زندگی کا لطف اٹھاتے جائیے۔ہر زبان ، ہر فکرِ بے لاگ صرف آپ کی انگلیوں کی حرکت پہ آپ کے گرد ناچ رہے ہوتے ہیں۔ دقیق فلسفیانہ موشگافیاں ، تصوف کے رموز، روح کا سروریا اعضا کی شاعری ، علم دین یا سیاسی و اقتصادی پیچیدگیاں ، تاریخ ،جغرافیہ یا سائنس کا کوئی بھی شعبہ ہو ،سب کے سب آپ کے قدموں میں۔ اب آدمی حصول علم کے لئے کاہے کو چین کا سفر کرے ۔ کون یونیورسٹیوں میں دن و رات اپنی جان ہلکان کرے جب کہ معلومات کے سارے خزانے ٹیلی ویژن اور ویب سائٹ پہ موجود ہوں۔اس سے آگے یاروں کی محفل تبادلہ خیال یا مزید انشراحِ صدر کے لئے موجود ہے۔ ایک طبقہ تو ایسا بھی ہے جو ٹیلی ویژن کو ہی کانا یعنی ایک آنکھ والادجال کہتا ہے محض تفریحاً نہیں بلکہ یہ اس طبقہ کے عقیدے کا حصہ ہے اور  اسے قرب قیامت کی نشانیوں میں جو بشارتِ رسول ؐ ہے اس سے تعبیر کرتا ہے۔ قرب قیامت کی نشانیوں میں ٹیلی ویژن چاہے کانا دجال ہو یا نہ ہو یہ ضرور ہے کہ یہ بشارت اب عام دکھائی دے رہی ہے کہ گھر گھر سود کا دھواں پہنچ جائے گا  اور گھر گھر موسیقی ، رقص و لہو و لعب جاری ہوجائے گا۔ اسی ٹیلیویژن پہ ٹاک شو میں اس بات پر اصرار کیا جارہا ہے کہ موسیقی حرام نہیں بلکہ حلال ہے اور محتاط رویہ ہے کہ اسے مباح قرار دیا جائے۔ کچھ منچلوں کا خیال یہ بھی ہے کہ موسیقی اگر عام کردی جائے تو پورے عالم کو دہشت گردی سے نجات مل جائے گی۔ اب ذرا چشم تصور سے دیکھیں کہ بُش کو کسی ملک کو دھمکی دینا ہے تو وہ گٹار ہاتھ میں لئے تھرک رہا ہے۔ فلسطینی  اور کشمیری مضراب لئے  اپنے وطن کی یاد میں نغمہ سرا ہیں ، طالبان کے ہاتھ میں کلاشنکوف کے بجائے تنبورہ ہے۔مشرف صاحب شہر جل بھی رہا ہو تو کیا نیرو کی بنسری بجا رہے ہیں۔ سیاست دان سارے یا تو تالی پیٹ رہے ہیں یا طبلے پر سنگت دے رہے ہیں۔ٹی وی کا ہر چینل کیو ٹی وی کے بجائے میوزیکل ٹی وی دکھائی دے رہا ہے۔ اقوام کی امدا دمیں بم اور ہتھیار کے بجائے آلات موسیقی ہیں۔ ایک طبقہ کے عقیدہ میں ویسے بھی جہاد جیسی اصطلاح خارج از کتاب ہو چکی ہے۔ سو چین کا سانس لیں ، اورناچتے گاتے زندگی گزاریں۔ہر آدمی کم سے کم خونریزی سے تو محفوظ رہے گا۔ موسیقی کے اثرات میں وحشت ہے دہشت تو نہیں۔ویسے بھی امت کو افیم کھلاکے نہ سہی موسیقی کے ذریعہ ہی سلا دیا جائے تاکہ دوسرے آسانی سے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ ڈالیں۔اور پھر کسی کو کسی کے کاٹنے یا مارنے کی ضرورت بھی کیوں پیش آئے جب کہ وہ پہلے ہی مردہ ہو چکا ہو ، اب مرے ہوئے کو کیا مارنا۔اور وہ جو کہتے ہیں کہ :    ؎

آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سنا اول طاوس و رباب آخر

o چھوڑئیے صاحب !اس قصے کو ، یہ سب کچھ فرسودہ اور پرانی باتیں ہیں ۔انہیںسوچنے کی اب فرصت کس کو ہے۔ اب سازندوں اور رقاصاؤں اور اداکاروں کو موقع ملنا چاہیے تاکہ اقوام عالم میں امن قائم ہو سکے۔ بس  دن ہو یا رات دیکھتے جائیے ، سنتے جائیے ، لچکتے رہیے ، ٹھمکتے رہیے ، اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے۔ بے ہوش و حواس ہی سہی ۔۔ اللہ اللہ خیر سلاّ۔وہ جن میں ذرا بھی ہوش و حواس باقی ہے وہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات ہی دیکھیں اور سنیں اور طبلہ و ڈھول نہیں پیٹ سکتے تو اپنا سر ہی پیٹیں۔! ہر ایک کی اپنی اپنی سوچ ہرکسی کا اپنا اپنا فعل ، ہرشخص کی اپنی جنت ، ہر فردکی اپنی اپنی حوریں  ہیں  !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: