Hesham A Syed

January 25, 2009

Love of Prophet ( saw )

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:27 pm
Tags:

Urdu Article : Hubbey Rasool ( saw ) Hesham Syed :

حُبّ ِ رسول  ؐ

(  ۱  )

          سرور کونین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ و مجتبیٰ و حبیبِ رب العالمین  ؐ سے محبت ہی در اصل ایمان کی شرط اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے۔بعض نام نہاد علما اپنی ا ناپرستی میں ایک دوسرے کی ضد میں اس محبت کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکار ہوگئے ہیں اور ہو رہے ہیںاور عام لوگوں کے لیے الجھن و گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ایک طرف شاعرانہ تعلی نے حضور ؐ  کو اللہ کا نعم البدل بنا کر کریہہ شرک کا ارتکاب کیا ہے( ہر چند کہ ایسا امت مسلمہ میں کم ہوا ہے اور یہ امت مجموعی طور پہ ذاتی شرک  سے محفوظ ہے ۔الحمد اللہ) تودوسری طرف رسول مکرم کے گستاخ، علمائے ظاہر یا علمائے سُو نے حضور ؐ  کی حیثیت میں کمی کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے اور کوششیں کی جارہی ہیں کہ کسی طرح عوام کے دلوں سے حضور ؐ  کی  قدر و قیمت کم ہو جائے ( عیاذاََبا للہ)۔ اس قسم کے فتنے اس وقت بھی سر اٹھا رہے تھے جب حضور ؐ جسمانی و ظاہری طور پہ دنیا والوں کے روبروموجود تھے اور نت نئے فتنے آج بھی جنم لے رہے ہیں۔ اللہ سمیع و بصیر و قدیر ہے اور وہی ہر زمانے میں ایسے فتنے کا سد باب کرنے کے لیے افراد پیدا کر دیتا ہے۔ جس طرح قرآن مجید کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری اﷲ نے لی ہوئی ہے اسی طرح اپنے محبوب کی رفعت و بلندی کے لیے بھی ذاتی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ بیشتر قرآنی آیات اس بات کی دلالت کرتی ہیں مثلاً  ورفعنا لک ذکرک( اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا ) سچ پوچھئے تو اہل محبت کے لئے صرف یہ ایک آیت ہی وجد آفریں ہے۔

          حب ِ رسول ؐکے اسباب کئی ہو سکتے ہیں۔وہ یہ سب ایک دوسرے سے باہمی ربط رکھتے یا جڑے ہوئے  ہیں۔انسان مختلف اوقات میں مختلف کیفیات کے زیر اثر مندرجہ ذیل اسباب سے مستفیض ہوتا رہتا ہے۔

۱)  پہلا سبب تو طبعی ہے ، یہ سبب تو بنیادی ہے جو آدمی کو بھی اسلام لانے پہ حاصل ہوجاتا ہے۔ حضور  ؐسے ایک نسبت یا باطنی تعلق کا قائم ہو جانا پھر اس محبت میں اضافہ دیگراسباب کے علم و عرفاں کے بدولت حاصل ہوتا ہے۔

۲) کمال و عظمت محبوب  ؐ 

۳) حسن و جمال محبوب  ؐ 

۴) عطاو احسانِ محبوب  ؐ اور سچی بات تو یہ ہے کہ عشق رسول  ؐ  بھی  وما توفیقی الا باللہ ہے۔جس طرح اپنی ذات اور صفات میں اللہ لا محدود ہے اس طرح اس کی محبت بھی اپنے محبوب کے لیے لا محدود ہے۔ اگر کسی کو یہ نور محبت عطا ہو جائے تو کیا کہنے۔ اس کا لطف تو صرف وہی جانتے ہیں جو اس کی سرشاری میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ کا یہ انعام کہ اپنے لئے  رب العالمین  کا خطاب چنا  تو اپنے محبوب ؐ  کو  رحمت للعالمین کے خطاب و صفات سے نوازا ۔ یعنی جس عالمین کا وہ رب ہے اسی عالمین کی رحمت اپنے پیارے حبیب ؐ  کو بنا یا۔ محبوب کی ہر چیز محبوب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن کواللہ کی محبت کی طلب تڑپاتی ہے ان کے لیے یہ مقدر فرمادیا کہ میری محبت تمہیں ڈھانپ لے گی شرط یہ ہے کہ میرے محبوب جیسی صورت و سیرت بنا لو۔ اس سے زیادہ کوئی چیز ہمیں پیاری نہیں ۔ اطاعت رسول ؐ  کو اپنی اطاعت قرار دیا ۔ محبت الہٰی کے حصول کے لیے اتباع رسول  ؐ ایک باطنی رویہ ہے جو محبت سے حاصل ہوتی ہے ۔ آغاز  محبت سے ہوتا ہے اور انتہا عشق پہ ہوتی ہے۔

          ہم رفتہ رفتہ جن باتوں پہ مختصراً روشنی ڈالیں گے وہ یہ ہیں کہ : 

٭ اللہ کے یہاں حضور  ؐ کی شان اور قدر کیا ہے ؟ 

٭ قرآن خود حضور  ؐ کے بارے میں کیا کہتا ہے 

٭ دوسری آسمانی کتابوں میں حضور کے بارے میں کیا لکھا ہے 

٭ حضور  ؐ کے حسن و جمال و اخلاق میں صحابہ کرام ؓ اور بزرگانِ دین کے مشاہدات و اقوال کیا ہیں 

٭ حضور  ؐ کا پورے عالم پر عطا ، احسان کیا ہے 

٭ حضور  ؐ کی محبت کے آداب ، ان کے احترام کے تقاضے کیا ہیں 

٭ حضور  ؐ کی محبت کے تقاضے اور ان کے اپنی امت پہ حقوق کیا ہیں  ؟

َََََََََََََََََََََََََ          انسانِ کامل ، محبوب الٰہی ، اشرف و امام ا لانبیا ، وجہ تخلیق کائنات ، عالمین کے لئے رحمت ، اور ان کی شان کے متعلق خود عالمین کے رب ، ان ؐ کے رفیق الاعلیٰ سبحان ملک القدوس کے یہاں کیا ہے ؟

 محمد  ؐ بتائیںوجود ِ الٰہی :  ہے شان  ِ محمد  ؐ  درودِ الٰہی۔

          جس طرح کہ خود حضورؐ  اللہ سبحان تعالیٰ کی تعریف و مدح کرنے سے اپنے عجز کا اظہار کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی حضرت ؐ  کی تعریف کا حق ادا کرنے سے قاصر اور بے بس نظر آتے ہیں ۔ اپنے عجز و درماندگی کا اظہار اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ : ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم یعنی حضور ؐ  کی تعریف و توصیف بھی صرف ان کا خالق اللہ سبحانہ تعالیٰ کرسکتا ہے۔ وہی احسن الخالقین ہے اور اسی نے انہیں اکمل الکا ملین بنایا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اللہ کی لا محدود محبت کی صفت اور ایک درجہ خاص انسیت و محبت جو حضور ؐ کے لئے ہے اس کا تقاضہ بھی یہی ہے۔ اللہ وحدہُ لا شریک لہُ نے مخلوقات عالم میں سب سے زیادہ حضور ؐ  کو ہی فضیلت بخشی۔ جس طرح وہ اپنی ذات و صفات میںیکتا ہے اسی طرح اپنے محبوب کو بھی یکتائے روزگار بنایا۔

 وہ بشر ہے کہ یہی اس کا ہے ارشاد مگر   :  اس جہان ِ بشریت میں ہے یکتا بھی وہی

          اللہ کی آخری کتاب کیا ہے ؟ خُلق ِرسول ؐہی تو ہے ۔ اہل اللہ کو قرآن میں حضور ؐ ہی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔اس کیفیت کا حاصل ہونا اس وقت ممکن ہے جب قلب میں اللہ کا نور جلوہ گر ہوتا ہے ورنہ بینائی ہی نہ ہو تو کیا سجھائی دے؟

t         یاران نکتہ داں کے لیے ایک نکتہ خاص ہے۔( القرآن ۳ ۱۸  و ۲۸ )۔ اللہ نے سارے پیغمبروں ( انبیأ کرام ؑ ) سے اس بات کا عہد لیا کہ جب آنے والے رسول محمد  ؐ کی بعثت ہو جوسارے ادیان حق کی تصدیق کرنے والے ہونگے تو سارے انبیائے کرام ؑ ( ان میں ان کی امت بھی شامل ہے ) انؐ پہ ایمان لائیں بلکہ انؐ کے کام میں جو اللہ کی طرف سے انہیں سونپا گیا ہے انؐ  کی بھر پور مدد ( تعاون ) کریں ۔ تو سارے انبیائے کرامؑ نے اللہ کو ضامن و شاہد ( گواہ) ٹھہرا کر اس بات کا عہدکیا ۔ پھر اللہ کی تاکید یوں آئی کہ اب اس میثاق کے بعد اگر کوئی اپنے وعدے سے پھرا تو وہ بدکرداروں ، گمراہوں میں شمار ہوگا۔یہاں ایک نکتہ کی وضاحت کرنی ہے کہ انبیا ئے کرامؑ میں حضرت آدم ؑ بھی ہیںجنکا جسمانی و انسانی ظہور سب سے پہلے ہوا اس دنیا میںگویا یہ میثاق یا عہد حضرت آدم ؑ سے لیکر حضرت عیسٰی ؑ تک سے لیا گیا( ایک حدیث ہے کہ حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت محمد ؐ کے درمیان کوئی نبی اور رسول نہیں آئے ) ۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ انبیا ، رسل ،  پیغمبروں کی ملی جلی تعدادابتدا تا نبی و رسول ِآخر تک تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزارروایت کی جاتی ہے و اللہ عالم ۔ میثاق کا یہ واقعہ عرش پہ ہوا اور ظاہر ہے کہ سارے انبیائے کرام ؑ کی ارواح نے اپنے پورے عقل و ہوش و حواس کے ساتھ اللہ کو ضامن و گواہ بنا کر یہ عہد کیا ہوگا۔ پھر یہ کہ تاقیامت زمین پہ آنے والی ارواح کی تخلیق بھی ہوچکی جیسا کہ مختلف روایاتِ رسول ؐ سے پتہ چلتا ہے سو کچھ بعید نہیں کہ اس میثاق میں ہر نبی کی اُمت بھی شریک رہی ہو ۔ یہ سب ہمارے لئے تو محیر العقول ہو سکتی ہے لیکن اللہ قادر مطلق کے لیے کونسی بات بڑی ہے ؟ وہاں تو صرف کُن کہنے کی دیر ہے ! یہ بحث غیر ضروری ہے کہ اس موقع پہ سارے انبیائے کرام ؑ اور ان کی امتوں کا جسمانی ظہور بھی ہوا یا نہیں ؟ اس کا علم اللہ کو ہے یاجسے اللہ یہ علم عطا کردے۔ ویسے بھی انبیا ؑ اپنی امت کے سربراہ یا امام ہوتے ہیں اور ان کے امتی مقتدی ہوتے ہیں۔ سو سارے نبیوں کی امت بھی اس ایفائے عہد میں ایسے شریک ہے جیسے کہ اُس امت کے نبی۔ بعد کی آیت اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ جو اس وعدے کے بعد اپنے عہد سے پھر جائے تو وہ بدکردار یا گمراہ ہے۔ انبیا تو معصوم ہوتے ہیں سو اللہ سے کئے گئے وعدے سے پھرنا تو ان کی فطرت و مزاج ہی میں نہیں ، ہاں ان کے امتیوں سے اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہ ہوجائیں۔ سو کسی دور میں اگر کوئی حضور ؐ  کی حیثیت کا منکر ہے تو وہ بدکرداروں اور گمراہوں میں ہی شامل ہے۔ کوئی نبی  ؑ بھی اگرحضور ؐ  کے وجود ظاہری کے دورمیں موجود ہوتا تو حضور ؐ  کا معاون ہوتا اور ان ہی کے شریعت کے تابع ہوتا ، جیسا کہ ایک موقع پہ حضور ؐ نے حضرت عمر ؓ سے حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرمایا اور نزول عیسیٰ ؑ کے بارے میں بھی حدیث ہے کہ وہ شریعت ِمحمدی  ؐ کے ہی تابع ہونگے اور دوبارہ اس دنیا میں آکر اسی کا نفاذ کریں گے۔حضور ؐ کے بعثت کے بعد چونکہ سلسلہ نبوت ختم ہو گیا اس لئے سارے انبیا کے امتیوں پہ یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ حضور ؐ پہ ایمان لے آئیں اور اللہ کی زمین پران کی ہی شریعت کا نفاذ کریں۔ دوسری اہم بات جس کی نشاندہی مقصود ہے کہ مفہوم ِ روایت جو اہل اللہ اور بزرگانِ دین کے یہاں مقبول ہے کہ حضور  ؐ نے فرمایا کہ’’میں اس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم ؑ مٹی اور پانی کے درمیان تھے ‘‘یہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ہے کہ تخلیق ِاول حضور ؐ  کی ہی ذات ہے ہر چند کہ عالم بشریت میں ظہور حضرت آدم ؑ کے بعد ہوا۔ قرآن کی مندرجہ بالا آیت کی وضاحت کے بعد اس حدیث کے بارے میں کسی کو شک ہو تو اس کے عقل و ایمان پہ ہی شک کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر علمائے سؤ قرآن کی وضاحت و صداقت کا بھی انکار کرنے لگ جائیں تو ان کی عقل پہ ماتم کرنے کے سوااور کیا رہ جائے گا ۔یہ بات صرف بحث کے طور پہ کی جا سکتی ہے کہ جب حضور ؐ  کی تخلیق ہو چکی تھی تو ظہور یا بعثت سارے انبیاؑکے بعد کیوں ہوئی تو یہ بات لطف و محبت کی زبان میں بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ دولہا باراتیوں کے جلو میں آتا ہے نہ کہ سب سے آگے آگے جب سردارآجاتا ہے تو عَلم اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور امامت اسی کے پاس ہوتی ہے۔ انبیا کے سارے سلاسل دراصل تکمیلِ دین کا حصہ ہیں اسی لیے کسی نبی ؑ کے درمیان تفریق سے منع کیا گیا بلکہ ایک ہی کڑی اور یہ ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے اللہ کے منتخب لوگ ہیں ۔ تکمیلِ دین کا سہرا البتہ حضور  ؐ کے سر بندھا۔ یہ سب اللہ کے اپنے محبوبین  ؑکے لیے لوازمات ہیں اور اللہ ہی کے نظام ِحکمت و انتخاب کا حصہ ہیں۔ (اللہ ہمیں بھی اپنی محبت میں شامل کر لے۔ آمین)۔اہل دل اور اللہ کے مقبول بندوں کے نزدیک حضور  ؐ ہی  وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ یہ بات محبت و عشق کے حوالے سے تو آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے لیکن اگر کسی کے پاس دل ہی نہ ہو تو اس سنگ گراں پر کسی خوشنما پھول و پودے کے اگنے کا گمان کرنا ہی حماقت ہے۔ آنے والے ابواب میں اس بات کی مزید تصدیق ہوجائے گی کہ ہر نبی ؑ نے حضور ؐ کے آنے کی بشارت دی اور اللہ کے ہر صحیفہ و کتاب میں حضور ؐ  کا ذکر ملتا ہے اور اس بات کی تاکید بھی کہ حضور ؐ کے ظہور کے بعد ایمانیات کے تقاضے کیا ہیں اور اللہ کیا چاہتا ہے۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر اپنی جگہ صحیح ہے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ حضور  ؐ  کے عالم ظہور میں جلوہ افروز ہونے کے بعد ہر صاحبِ عقل و شعور جن و انس پہ حضور ؐ پہ ایمان لانا ، ان کی تعلیم و شریعت کی اتباع و تبلیغ لازم ہے ورنہ دربار الٰہی میں کوئی بھی مقبول نہیں، یہ اسی میثاق یا ایفائے عہد کا تقاضہ ہے جس کا بیان قرآن کے حوالے سے ہوا۔  اللہ ہمیں  اپنی اور انؐ  کی محبت واتباع کی توفیق عطا کرے، آمین۔ 

(  بقیہ آئیندہ  )

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: