Hesham A Syed

January 25, 2009

Preference of Love of Prophet ( saw )

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:49 pm
Tags:

Urdu Article : Tarjeehatey hubbey Rasool ( saw ) va barakatey Rasool ( saw ) : Hesham Syed

حشام احمد سید

ترجیحاتِ –  حُبِِّ رسول  ؐ کی

          اخبار وںمیں ایسی تقریبات کی خبر پڑھنے کو ملیں جس میں حضور  ؐ کی ذات سے متعلق چیزوں کی نمائش کے بارے میں تھیں اور پھر اس کے بارے میں مختلف آرابھی نظر سے گزریں جس میں اسے ناقدانہ نظروں سے بھی دیکھا گیا اور کسی حد تک اپنی کم فہمی کے بناگستاخانہ طرز اظہار اپنایا گیا جسے پڑھ کے دُکھ ہوا ۔ حضور ؐ سے متعلق جو بات بھی کی جائے اس میں اس کا تو خیال رکھا ہی جانا چاہیے کہ حد ادب میں ہو۔ اس کی تعلیم تو براہ راست اللہ سبحان تعالیٰ نے خود اپنی آخری کتاب میں دی ہے اور صحابہ کرام اجمعین  ؓ کے طرز عمل سے ہماری رہنمائی ہوتی ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ صحابہ کرام اجمعین  ؓ عموماً اور خلفۂ راشدین ؓ  خصوصاً حضور ؐ کے تربیت یافتہ تھے ان سے زیادہ نہ کسی نے اسلام کو سمجھا اور نہ تا قیامت سمجھ سکتا ہے۔ ان کی جاں نثاری اور محبت جو حضور ؐکے لئے رہی اس کا عشر عشیر بھی ہم میں سے کسی میںپیدا ہو جائے تو وارے نیارے ہو جائیں۔ حضورؐ اور ان کے صحابہ ؓ کے ہی فکر و عمل کا نتیجہ ہے کہ آج ہم سب مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ سے محبت اور تعلق کا راستہ بھی یہی ہے کہ ہم حضور ؐ  سے والہانہ محبت کریں۔جب کوئی محبت و عشق کی فضامیں سانس لیتا ہے تو عقل کی گتھیاں سلجھانے کے بجائے صاحب جنوں بن جاتا ہے۔ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے ۔ وہ تشکیک کے صحرا میں نہیں بھٹکتا  ؎

 عطا اسلاف کا جذب ِدروں کر   :  شریک   زمرۂ  لا  یحزنوں  کر

 خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں  : مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

                    سرور کونین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ و مجتبیٰ و حبیبِ رب العالمین سے محبت ہی ایمان کی شرط اول اور اللہ سبحانہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے۔بعض نام نہاد علمااپنی ا  نأپرستی میں ایک دوسرے کی ضد میں اس محبت کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکارہیںاور عام لوگوں کے لیے الجھن و گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ایک طرف شاعرانہ تعلی کے ذریعے حضور ؐ  کو اللہ کا نعم البدل بنا کرقوالوں نے اپنی قوالیوں میں کریہہ شرک کا ارتکاب کیا ہے ۔تو دوسری طرف گستاخانِ رسول ؐ ، علما ظاہر یا علمائے سُٔو نے حضور ؐ کی حیثیت میں کمی کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے اور کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح عوام کے دلوں سے حضور ؐ  کی  قدر و قیمت کم ہو جائے( عیاذاََ با للہ)۔ اس قسم کے فتنے اس وقت بھی سر اٹھا رہے تھے جب حضور ؐ جسمانی و ظاہری طور پہ سب کے رو برو موجود تھے ۔اس وقت سے نت نئے فتنے آج تک جنم لے رہے ہیں۔ اللہ سمیع و بصیر و قدیر ہے اور وہی ہر زمانے میں ایسے فتنے کا سد باب کرنے کے لئے افراد پیدا کر دیتا ہے۔ جیسے اﷲ نے قرآن مجید کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے اسی طرح اپنے محبوب کی رفعت و بلندی کے لئے بھی ذاتی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ بیشتر قرآنی آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں مثلاً  ورفعنا لک ذکرک ( اور ہم نے تمہارا ذکر بلند کیا)  سچ پوچھئے تو اہل محبت کے لئے صرف یہی ایک آیت وجد آفریں ہے۔

          حب ِ رسول ؐکے اسباب کئی ہو سکتے ہیں اور یہ سب ایک دوسرے سے باہمی ربط رکھتے یا جڑے ہوئے ہیں۔انسان مختلف اوقات مختلف کیفیات کے زیر اثر اِن اسباب سے مستفیض ہوتا رہتا ہے۔

۱)  پہلا سبب تو طبعی ہے ، یہ سبب تو بنیادی ہے جو عام آدمی کو بھی اسلام لانے پہ حاصل ہوجاتا ہے۔ یعنی حضور  ؐسے ایک نسبت یا باطنی تعلق کا قائم ہو جانا پھر اس محبت میں مزیداضافہ علم و عرفاں کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ یعنی 

۲) کمال و عظمت محبوب  ؐ 

۳) حسن و جمال محبوب  ؐ 

۴)  عطا و احسانِ محبوب  ؐ

سچی بات تو یہ ہے کہ عشق رسول  ؐ  ہی مقصودہے۔ اگر کسی کو یہ نور محبت عطا ہو جائے تو کیا کہنے۔ اس کا لطف تو صرف وہی جانتے ہیں جو اس کی سرشاری میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ کا یہ انعام کہ اپنے لئے رب العالمین کا خطاب چنا تو اپنے محبوب ؐ  کو رحمت للعالمین کے خطاب و صفات سے نوازا ۔ یعنی جس عالمین کا وہ رب ہے اسی عالمین کے لئے رحمت اپنے پیارے حبیب ؐ  کو بنا دیا۔ محبوب کی ہر چیز محبوب ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن کواللہ کی محبت کی طلب تڑپاتی ہے ان کے لیے یہ مقدر فرمادیا کہ میری محبت تمہیں ڈھانپ لے گی شرط یہ ہے کہ میرے محبوب جیسی صورت و سیرت بنا لو۔ اس سے زیادہ کوئی چیز ہمیں پیاری نہیں ۔ طاعت رسول ؐ  کو اپنی طاعت قرار دیا ۔ محبت الہیٰ کے حصول کے لیے اتباع رسول  ؐ ایک باطنی رویہ ہے جو محبت سے حاصل ہوتا ہے ۔ آغاز محبت سے ہوتا ہے اور انتہا عشق پہ ہوتی ہے۔ کسی دوسرے مضمون میں ان باتوں پہ بھی روشنی ڈالیں گے کہ : 

٭ اللہ کے یہاں حضور  ؐ کی شان اور قدر کیا ہے ؟ 

٭ قرآن خود حضور  ؐ  کے بارے میں کیا کہتا ہے 

٭ دوسری آسمانی کتابوں میں حضور کے بارے میں کیا لکھا ہے 

٭ حضور  ؐ کے حسن و جمال و اخلاق میں صحابہ کرام ؓ اور بزرگان دین کے مشاہدات و اقوال کیا ہیں 

٭ حضور  ؐ کے پورے عالم پر احسان و عطا ، حسن سلوکوحسن عمل کیا ہے 

٭ حضور  ؐ کی محبت کے آداب ، ان کے احترام کے تقاضے کیا ہیں 

٭ حضور  ؐکے اپنی امت پہ حقوق کیا ہیں ؟

           اسوقت جو بات کہنی ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ جو حضور ؐ کے وضو کا پانی نیچے نہیں گرنے دیتے تھے اور اسے اپنے سینوں پہ مل لیتے تھے ، حضور ؐ کے جسم اطہر سے اپنے آپ کو مس کرنے کا بہانہ تلاش کرتے تھے ، حضورؐ نے خود جو اپنا موئے مبارک اور ناخن مبارک تبرکاً صحابہ کرامؓ میں تقسیم فرمائے، حضورؐ نے خصوصاً اپنی قمیض جو حضرت علیؓ کی والدہ محترمہؓ  کو قبر میںپہنادی اور بعض روایت میں کسی اور صحابی کے لئے بھی ہے ، اور اس قسم کے بیشتر واقعات مستند حوالہ جات کے ساتھ موجود ہیں سو یہ سب اس لئے نہیں تھا کہ نعوذ با اللہ یہ سارے افراد اللہ کے ساتھ شرک کر رہے تھے اور ہم ٹٹ پونجئے مسلمان ان سب سے زیادہ بڑے موحد اور مومن ہیں۔ یا یہ کہ ان لوگوں کی بصیرت غیر اقوام کے مقابلے میں کم تھی اور وہ لوگ چاند پہ کمند ڈالنے کے بجائے توہمات اور بدعات پھیلا رہے تھے۔ آج اس زمین پہ جتنی اخلاقی ، روحانی ،معاشرتی ، عمرانی ، علمی قدریں پل رہیں ہیں  جن کی بدولت تمام عالم انسانیت جو بھی عروج حاصل کر رہی ہے وہ حضورؐ  کے لائے ہوئے پیغامات اور ان کے ہی محبوب پیروکاروںہی کی مرہون منت ہیں۔ نور نبوت و رسالت اور حقیقت محمدی کا ادراک ہی تودراصل سارے حجاب اٹھا دیتا ہے۔افسوس صد افسوس کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں کی نظر کو بھی دنیا کی روشنی خیرہ کر رہی ہے اور ان کی حالت بھی اندھے کی لاٹھی کی طرح ہے جس سے راستہ تلاش کرنے کے بجائے وہ دوسرے کا سر پھوڑ رہا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غیر مسلمین کی نقالی اور اس کے غلبے یا ذہنی غلامی کے سبب اپنی ہر اچھی بات کو برا کہنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ انہیں سنت نبویؐ سے انکار ، انؐ  جیسی شکل و صورت سے کراہت نہیں تو ہچکچاہٹ تو ضرور ہے اسی لئے کہ اسے نہ اپنانے کے پچیسیوں بہانے ہیں۔ او ر وہ اُس وحی کے تابع ہیں جو ابلیس ان کی عقل پہ روز نازل کرتا ہے۔ کوئی اپنے پاگل پن اور تکبر ِزہد میں اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اپناموازنہ نبی ورسول سے کرتا ہے  ( کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی ) ، پھر قرآن و حدیث کی باطل تاویل کرکے آیات الٰہی کو بھی خود سے منسوب کر لیتا ہے ۔ایسے کئی بد بخت افراد سے یا شیطان کے اُمتیوں سے ملنے کا موقع مجھے ملا ہے ۔پھر ان کے سینکڑوں، ہزاروں کی تعداد میںچیلے چپاٹے  اور مرید  دنیا بٹورتے پھرتے ہیں۔انہیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر قسم کی فتنہ پروری کریں لیکن اگر ان کی اصلاح کے لیے کوئی بات کی جائے تو اسے یہ لوگ شخصی یا فکری آزادی کے خلاف کہتے ہیں یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔

          بہر حال یہ بات مُسلّم ہے کہ حبُّ رسولؐ کی ترجیحات میں آپ ؐ  کی زندگی کا عملی نمونہ بننا ہے اور اس محبت کے تقاضے جلسے ، میلاد و فاتحہ اور ایسے ہی بہت سے افعال و اعمال سے سوا ہیں ۔ہر چیز کا اپنا ایک محل ہوتا ہے محبت کا کوئی ایک جذبہ دوسرے کی ضد نہیں ہے۔ ع

 لہو جو آنکھ سے نہ ٹپکاتو پھرلہو کیا ہے ؟

           سر شاریِ ِ ٔ و اتباع رسلؐ میں سرِ فہرست تو سارے عالم میں دین  ِالہیہٰ کا قیام اور اس کا استحکام ہی ہے۔یہ مقصد زندگی کے ہر شعبہ میں انتہائی درجہ کے علم و ہنر کے حصول  کے ساتھ ساتھ اپنی اخلاقی اور روحانی تربیت سے ہی حاصل ہو سکے گا۔خلیفۃ الارض کا منصب یوں ہی تو نہیں ملتا او ر اس کا حق یوں ہی تو ادا نہیں ہوگا۔ وما توفیقی الا باللہ !

          کیا لوگوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟القرآن :  ۹۲۲ ۔

یہ  حکمتِ  ملکوتی ،   یہ  علم  ِ  لا ہوتی     :   حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ عقل جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار   :  شریک شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: