Hesham A Syed

January 25, 2009

Respect of the Sanctity of Prophet ( saw )

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:38 pm
Tags:

Urdu Article : Hurmatey Rasool  ( saw ) aur uskey Taqaazey : Hesham Syed

حُرمتِ رسول  ؐ اور اسکے تقاضے

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز   :  چراغِ  مصطفوی  سے  شرارِ  بو لہبی

وجہ کائنات فخر موجودات سروردو عالم  ؐ کی حرمت و تقدس پہ زبان درازی کرنا بھی ایسا ہی ایک شیطانی اور اتنا ہی قدیم فعل ہے جتنا کہ اللہ تبارک تعالیٰ کی ذاتِ گرامی کے تقدس یا اس کے وجود یا اس کے احکام و  خواہش سے گریز یا اسکا انکار ہے۔ جن لوگوں کا مقدر ہی جہنم کا ایندھن بننا ہو ان لوگوں کواپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا عمل تو کرنا ہی ہے جو جہنم کے لیے ہل من من مزید کا سبب بن سکے۔

          جو لوگ مجھے سنتے ہیں اور پڑھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ بات میں تواتر سے کہتا اور لکھتا رہتا ہوں کہ اسلام ایک نظریہ ہے ، اس میں آفاقیت ہے ۔ یہ کسی عربی یا ایشیائی علاقے کا دین نہیں ۔ حضور ؐسے پہلے سارے ادیان اور انبیائے کرام کسی علاقے اور معاشرت سے متعلق تھے جبکہ یہ اختصاصِ رسولِ آخرؐ ہے کہ وہ بحیثیت رسول تمام لوگوں کے لئے مبعوث کیے گئے ۔وہ تخلیق اول ہیں خاتم النبین ، اکمل الکا ملین یعنی انسانِ کامل بن کر عالمِ ظاہر میں جلوہ گر ہوئے۔ موقع ملے تو میرے مضامین : (۱)کیا یہ ممکن ہے ،(۲)  ترجیحات تبرکات رسولؐ،(۳)  ہم بڑے کہ اللہ ، (۴) علامات عروج و زوال ،(۵)  امانت و ملوکیت ، (۶)  ہمارا ماحول اور ہمارا رویہ و کردار ، (۷)  حقیقتِ معراج (۸) عقل کے بونے ، (۹) تم کو بھی لے ڈوبیں گے(۰۱)  حرمتِ رسولؐ (۱۱)  حُبِّ رسولؐ  ،پہ ایک بار نظر ضرور ڈال لیں) ۔ اللہ کے پسندیدہ دین کی اور حضور  ؐ کی آفاقیت سے متعلق قرآنی آیات ہی نہیں بلکہ اس سے قبل کی آسمانی کتابیں بھی گواہ ہیں۔ اس حیثیت میں حضورؐ سارے عالمین کے لئے رحمت ہیں یعنی اللہ جس عالمین کا رب ہے اسی عالمین کی رحمت حضورؐ ہیں ۔۔ اللہ کی طرف سے آپ کو دی گئی بڑی فضیلت ہے۔ اس بات پہ بار بار اصرار میں یوں کرتا ہوں کہ جب تک یہ تصور ہمارے دل و دماغ میں سرایت نہیں کرے گا ۔ ہم حضور ؐ کے امتی اور ان سے محبت کے مدعی ہونے کے باوجود اوروں کی طرح حضور ؐ  کوبڑے ہی محدود معنی میں قبیلوں اور ثقافت میں بانٹ کر دیکھیں گے اور تعصب کا شکار ہوتے رہیں گے اور اس حقیقت کو کبھی بھی سمجھ نہیں پائیں گے کہ ساری انسانیت حضورؐ  کی امتی ہے ٹھیک ایسے ہی جیسے ہر انسان اللہ کا بندہ ہے۔حضور ؐ  کی  فضیلت یا حقیت محمدی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ کے سارے انبیائے کرام نے حضور ؐ کے امتی ہونے کی تمنا کی ہے اوراسی لحاظ سے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار سب ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔

V

           اس وقت پوری انسانیت صرف اور صرف دو حصوں میں منقسم ہے ، ایک تو وہ جو صالحین میں ہیں اور دوسرے وہ جو باطل قوتوں کا آلہ کار ہیں۔ یعنی ایک وہ جو شعوری طور پہ حضورؐ  کی امت میں ہونے کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جنہیں امتی کے ہونے کا شعور ہی نہیں ، نہ انہیں اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ دوسروں کو کیا کہا جائے بہ ظاہراسلامی نام یا مشرقی طرز حیات کے باوجود وہ بھی حضورؐ  کی تفریط اور ان کی حیثیت کو کم کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ تفرقہ بازی ، مذہب میں نت نئی باتیں ، جھوٹے انبیا و رسول کا ظہور ، فقط بقائے جسمانی ، تحریفات احکام ربانی ،  دشنام طرازی یہ سب ابلیسیت کے زیر اثر پرورش پا رہے ہیں۔ حضور ؐ  کی حیثیت کو یوں سمجھیں کہ پرکار مشیت کے دائرے کا مرکزی نقطہ ہیں ۔محمد مصطفی  ؐ اللہ ذوالجلال والاکرام کے محبو ب ہیں۔ گمراہ کن پروپیگنڈہ کچھ تو دشمن الٰہی کھلے عام کر رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے آپ کو اسلامی جماعت سے منسوب کر کے بڑی خاموشی سے فتنہ پھیلائے جا رہے ہیں اور اپنے آپ کو عاشقانِ رسولؐ  کہلا کربھی اپنے آپ کو حضور ؐ کے بالمقابل لا کر اپنے جاہل یا مفلوک الحال خالی دماغ گماشتوں کے ذریعے عوام الناس کو گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ ایک فیشن بھی ہے یا اپنے آپ کو فروتر بتانے کی بات ہے کہ     ’’ دعوئ عشق رسول کر بیٹھو ‘‘۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔کیا لوگ جانتے ہیں کہ اس دعوے کی حقیقت کیا ہے ؟ کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں خادم ِرسولؐ  ہوں ، ان ؐ  کی جوتی میں جگہ مل جائے تو غنیمت ہے۔

`        کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حضور ؐ امام الانبیا اور ان کے اہل بیت اطہارؓ و اصحاب ؓ کے بارے میں زبان درازی یا دشنام طرازی چاہے کوئی کرے ، وہ پوری عالمِ انسانیت کو گالی دے رہا ہوتا ہے۔سارے انبیا ئے کرام ؑ کو گالی دے رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ مسئلہ صرف کسی مخصوص جماعت کا نہیں بلکہ عالمی اور انسانی تہذیب و تمدن کا مسئلہ ہے۔ ایسی باتوں کو درگزر کرنا انسانی وقار و شرافت کی انتہائی درجہ تذلیل و توہین ہے بلکہ حیوانی رویہ کو استحکام بخشناہے۔ تاریخ میں ہی کیا روز مرہ آپ خود یہ بات دیکھتے ہیں کہ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ کعبہ کی حفاظت کے لیے صنم خانے والے تیار کر دئے جاتے ہیں۔ حضور  ؐ کی مدح میں نعت کہنے والے ایسے لوگ بھی ہیں جو بہ ظاہر مسلمان نہیں لیکن ان کے کلام کو سن کر مسلمانوں کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ اللہ یا اس کے رسول ؐ  پہ مسلمانوں کا احسان نہیں کہ وہ دین کے تحفظ پہ کمر بستہ ہیں بلکہ یہ تو اللہ کا احسان مسلمانوں پر ہے کہ انہیں یہ توفیق نصیب ہوئی اور اسی بہانے انہیں درجات عطا ہوئے ورنہ اللہ کی قدرت سے کیا یہ بات بعید ہے کہ وہ چشم زدن میں کسی اور قوم کو صاحب ایمان بنا دے جو ہم سے زیادہ اللہ اور اس کے محبوب ؐ کی محبت میں سرشار ہو یا یہ کہ دوسری دنیا ہی تخلیق کر ڈالے۔ اللہ اگر کام لینا چاہے تو ابابیلوں سے لے لیا کرتا ہے اور دشمن کابڑے سے بڑا لشکر کھائے ہوئے بھس کی طرح رہ جاتا ہے۔ یہ بات صرف کہانی نہیں بلکہ حقائق ہیں جو آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں ۔ایسے واقعات آج بھی وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں لیکن دیکھنے والی آنکھ چاہیے ۔ اللہ انسانوں کا مجبور تو نہیں ، وہ تو صرف بہانہ ڈھونڈتا ہے اپنی رحمت اور نوازشات کے عطا کرنے کا ،کوئی ایک قدم اٹھائے تو سہی !

          ہم اپنی تقریروں میں غازی علم دین ؒ  کی مثال دیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اُس وقت بھی عاشقانِ رسولؐ  کا بہت بڑا ٹولہ اپنے واعظ اور تقریر و تحریر کے ذریعہ لوگوں کے خون کو گرماتا رہا لیکن عشق رسول ؐ کا اصل ثبوت کس نے دیا ؟ ایک خادمِ رسولؐ نے جس نے کبھی بھی رسول سے عشق کا دعویٰ بھی نہ کیا تھا اور نہ اس نے یہ سوچا تھاکہ میں یہ کر گزروں گا تو کیا ہوگا ؟واقعہ کی تفصیلات میں ایک پہرہ دار کی یہ روایت بھی درج ہے کہ جس دن علم دین کو سولی پہ لٹکایا جانا تھا اس شب جیل کی آ  ہنی سلاخوں کے پیچھے حضورؐ  خود تشریف لائے اور علم دین  ؒکو دلاسہ دیا اور کہا کہ بیٹا حوصلہ رکھو ،میں حوض کوثر پہ تمہارا انتظار کرر ہا ہوں۔ پہرہ دار نے علم دین ؒ کے کمرہ میں اچانک ایک تیز روشنی دیکھ کر علم دین  ؒسے اس کے بارے میں دریافت کیا تو علم دین  ؒنے اسے مذکورہ یہ بات بتائی۔ وا للہ عالم ! اور پھر چشم فلک نے یہ دیکھا کہ لاہور میں اس سے بڑا جنازہ اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا ۔ کسی علامہ یا بزرگ نے اس وقت تڑپ کے یہ کہا کہ’’ ویکھو علم دین بازی لے گیا تے اَ سی لوگ ویکھتے ای رہ گئے ‘‘! یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے ! ہمارے پاس سوائے مصلحت اور حجت ِفضول کے کیا ہے ؟ کاش ہمیں سرمایہ آخرت کی بھی فکر ہو !  بات پرُ تکبر علما ، علامہ ، واعظین کی نہیں بلکہ خادمانِ رسولؐ کی ہے کہ وہ اللہ ہی کی عطا کی ہوئی ساری دولت و جسم و جان کے سرمائے کو اللہ کے محبوب ؐ  کی اتباع اور حرمتِ رسولؐ  کی حفاظت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ایک امانت کا اس کے مالک کے حکم کے مطابق استعمال کرنا اور اسے لوٹا دینے کا ہی تو نام ایمان ہے۔   ؎

جان دی تو دی ہوئی اسی کی تھی   :  حق تو یہ  ہے کہ  حق ادا  نہ ہوا

 اللہ کی راہ میں قربان ہونے والی میتیں ہی زندہ ہیں بقیہ سب زمین پہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔

          ہر وہ  فورم اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ جس نے ایسی کتابوں کا احاطہ کرنے کی ٹھان لی ہے جس میں حضورِ اکرم  ؐ اور ان کے اہلِ بیت اطہار و صحابہ کرام کے بارے میں گستاخانہ ہی نہیں بلکہ انتہائی درجہ کی رکیک و گمراہ کن و غلیظ من گھڑت باتیں چھاپی گئی ہیں۔ اس فورم کے روح رواںکو مبارک ہو کہ انہیں اس کی توفیق نصیب ہوئی اور وہ کچھ کر گزرنے کو احباب صدق و وفا اکٹھے کرنے لگے ہیں۔

 میں  تنہا  چلا  سوئے  منزل  مگر   :  لوگ  آتے گئے  کارواں  بنتا گیا

 فورم کے جلسہ کے حوالے سے کچھ تجاویز اور رائے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ذیل میںدرج ہیں :

( ۱) سب سے پہلے تو ہمیں خود اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور اللہ سے اپنی کمزوریوں اور گناہوں کی معافی مانگ کر یہ تہیہ کر لینا چاہیے کہ ہمیں اپنی زندگی بامقصد گزارنی ہے اور شہادۃ الی الناس کی ذمہ داری جو سونپی گئی ہے اس کو بخیر و خوبی نبھانا ہے۔ اگر ہم میں ہی کمزوریاں نہ ہوتیں اور ہم آپس میں متحد ہوتے تو کیا مجال ہے کہ کوئی آنکھ اٹھا کے بھی ہماری طرف دیکھ سکتا۔ 

(۲) مسلمانوں کی حیثیت ایک طبیب و جراح کی ہے ، وہ مرض کا علاج کرتا ہے مریض کومارتا نہیں اور نہ اس سے نفرت کرتا ہے ۔ گستاخِ رسولؐ اور ذہنی طور پہ بیمار لوگوں کی اصلاح بھی کرنی چاہیے تاکہ انھیں حضور  ؐ کی حقیقت اور حیثیت کا ادراک ہو ۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ، یہ کیسی المناک بات ہے کہ جو شفیع المذنبین ہو اور خُلق العظیم ہو ، امام المتقین ہو ، بے ہودہ حکایتیں گڑھ کے اسی کی ذات سے منسوب کر دی جائیں ۔ جو شافع ِمحشر ہو اسی کے نام سے زمین پہ حشر برپا کیا جائے ۔ جو رحمتہ للعالمین ہو سب کا غم گسار ہو، اسی سے ظلم کی داستان کو گتھی کر دیا جائے۔ یہ کام تو ابلیس کو ہی کرنا ہے کیونکہ حضورؐ  کی ذات مبارک سے شیطان کو سب سے بڑی دشمنی ہے ۔حدیث ہے کہ شیطان آدمی کی رگوں میں خون بن کے دوڑتا ہے۔ اﷲ مسلمانوں کو اس خونی فساد سے بچائے۔

 ( ۳) ایسی کتابوں اور ویب سائیٹ کے بارے میں قانونی حدود میں رہ کر احتجاج کرنا چاہیے بلکہ یہ تجویز بہت ہی عمدہ ہے کہ اسے ایک قانونی جرم قرار دلانے کے لئے بل پاس کرا یا جائے تاکہ شیطان صفت آدمیوں کی ہمت ٹوٹ جائے اور ان کا آزادی افکار کے بہانے منہ اور قلم سے غلاظت اگلتے رہنے کا عمل بند ہو ۔یہی بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پاسِ حرمتِ رسولؐ  در اصل سارے رسولوں اور انبیا کی حرمت ہے ۔ قانونی چارہ جوئی ہی بہترین علاج ہے۔

 ( ۴)  احباب کی طرف سے چند تجاویزات سامنے آئی ہیںکہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کی اس لئے ان طریقوں پہ بھی عمل کرنا چاہیے۔ اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا گیا کہ یہ نہ ہو کہ ہم خود ایسی کتابوں کی تشہیر بے جا کر دیں کہ مصنف اور اس کے پبلشر کے وارے نیارے ہو جائیں ۔ اصل مقصد فوت ہوجائے اور دشمنانِ دین کو مالی منفعت اور تقویت حاصل ہوجائے۔

 ( ۵)  ایک مشاورتی کونسل کا قیام بھی ضروری ہے تاکہ ہر کام مشورے اورسوچ بچار کے ساتھ کیا جائے اور اشتعال انگیزی کا پرچار ہر وقت نہ کیا جائے۔

( ۶) ایسے افراد کی ایک تنظیم بن جانی چاہیے جو اپنا وقت معاشرے اور اس کے فکری بگاڑ کی اصلاح میں صرف کرنے کو تیار ہوں۔ ایسے معاونین کی فہرست مرتب کر لی جائے جن کے پاس اپنے وسائل کو حب الہٰی اور حب رسولؐ کے مد میں خرچ کرنے کی توفیق و صلاحیت ہو۔

( ۷)  نعتیہ کلام سے متعلق جو اعتراضات ہوئے ان سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔اعتراض نعت کہنے پہ نہیں یہ تو ذکر الہٰی کی ایک شکل ہے ۔ اعتراض اسے فلمی انداز میں گانے پہ ہے ۔ ہر دور اور ہر وقت کی ایک ضرورت ہوتی ہے اس وقت کے حالات کسی اور بات کے متقاضی ہیں ۔ حب رسول ؐ  کا صرف ایک ہی رنگ نہیں۔

 نہ  ہو  جلال  تو حسن و جمال بے  تاثیر   :  ترا  نفس ہے  اگر نغمہ  ہو  نہ  آتشناک

مجھے  سزا کے لئے بھی نہیں قبول  وہ آگ   :  کہ جس کا شعلہ نہ ہو  تند و  سرکش و بیباک

 ( ۸)  میڈیا سے متعلق جتنے بھی لوگ ہیں وہ اس سلسلے میںمتحرک ہو جائیں اور تعاون کریں ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ تحریک کوئی بھی جنم لے قدم کوئی بھی اٹھے ، ایک بات اصولی ہے کہ کوئی اسے اپنے سیاسی یا دنیاوی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے ، اور نہ اپنی انا کی تسکین کے لئے یا صرف اپنی ذات کی تشہیرکے لئے  کسی کے کام میں روڑے اٹکائے ۔  نیزے پہ قرآن اٹھا کے اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے کی رسم اب ختم ہو جانی چاہئے ۔ جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ یہ وقت بیداری کا ہے ۔ جو کوئی بھی کچھ کرے وہ خالصتاً اللہ اور اس کے محبوب کی رضا کے لیے ہو ورنہ پھر خسارہ ہی خسارہ ہے۔ ہم اب بھی نہ جاگے گیں تو کب جاگیں گے ؟ دیر پہلے ہی بہت ہو چکی۔ ! میں خود اس بات کا اظہار کر چکا ہوں اور اعادہ کرتا ہوں کہ میں ہمہ وقت اس کام کے لیے تیار ہوں اور حرمت رسولؐ سے زیادہ مجھے کوئی چیز پیاری نہیں۔    ؎

ٹھہرتا  نہیں  کاروانِ  وجود   :  کہ ہر  لحظہ ہے  تازہ شانِ  وجو

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: