Hesham A Syed

January 25, 2009

SAnctity of Prophet ( saw ) & Cartoon blasphemy

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:33 pm
Tags:

Urdu Article : Hurmatey Rasool ( saw ) aur Cartoon : Hesham Syed

 

حرمتِ رسول ؐ اورکارٹون

 

 کارٹون کاایک نیا ہنگامہ عیاذاََ باللہ شروع ہو گیا ہے۔عالمِ اسلام ایک نئے صدمے اور غم و غصے سے دوچار ہے  اور اس کا اظہار اشتعال اور بحث دونوں سے کیا جارہا ہے۔ ابلاغ عامہ کو ایک نیا اور سنسنی خیز موضوع ہاتھ لگ گیا ہے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیںہے ، ابلیس کی پیدائش تو حضرت آدم ؑ سے قبل کی ہے۔   ؎

 ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز   :  چراغ  مصطفوی   سے  شرارِ   بو لہبی 

           کئی سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ کیا یہ سب کچھ غیر مسلمین حکومتوں کی سازش  ہے ؟ اشرف الانبیا ؐ کے ساتھ عناد اور اسلام دشمنی کا نتیجہ ہے ؟ کسی ایک یا چند افراد کی شیطانیت ہے ؟ اسے اگرچند افراد کی شیطانیت قرار دیا جائے تو ان ممالک میں ان ملعون افراد کو حکومتی سطح پر اس قبیح فعل کی سزا کیوں نہیں دی گئی ؟ آزادی ٔ رائے اور فکر کے اظہار کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ اللہ اور اس کے حبیب ؐ  کی تضحیک کی جائے۔ اس قسم کا مذاق یا تضحیک اخلاقی طور پہ کسی بھی فرد کے ساتھ قابل قبول نہیں چہ جائیکہ اس کی جسارت اس محسنِ اعظم  ؐکے ساتھ کی جائے جس کی حرمت و عزت کی حفاظت ساری انسانیت پہ فرض ہے۔عذر ِ گناہ گناہ سے بد تر ہے ۔ ڈنمارک کے اس اخبار اور ان افراد یا حکومت کی بے حسی کے خلاف عام مسلمانوں کا جو ردِ عمل سامنے آیا تو دوسری اقوام نے بھی اس بے لگام آزادی یا اپنی اسلام دشمنی کا اظہار ان ہی خرافات کو اپنے یہاں بھی شائع کر کے کیا۔

          یہ سب کچھ کیا آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ دنیا کی آبادی صرف دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔مختلف اسلامی مملکتوںمیںعام مسلمانوں کا جو رد عمل اور گروہی اشتعال انگیزی کا جو منظر سامنے آیا اس میں کیا کوئی سیاسی چال ہے ؟ اللہ اور اس کے حبیب  ؐ  کی تضحیک پہ خاموشی یا پس و پیش نے مومنوں اور منافقوں کی تفریق اجاگر کردی ہے۔ تاہم کیا ردِ عمل میں توڑ پھوڑ ، کسی دوسرے انسان کا چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو جس کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہو اس کی املاک یا اس کی جان کو نقصان پہنچانا اللہ کے رسول  ؐ کی تعلیمات اور تربیت کے منافی نہیں؟ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ  کے ساتھ ہر مسلمان اور مومن کا ایک ذاتی اور جذباتی رشتہ ہے جو کسی بھی حکومت یا دوسرے کی رائے کا پابند نہیں ، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ کسی بھی بچے کا اپنے باپ یا ماں کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ ۔وہ جان ہی کس کام کی جو حرمت رسول ؐ  پہ قربان ہونے کو ہمہ وقت تیار نہ رہے اور یہ بھی صحیح کہ جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو پھرلہو کیا ہے لیکن اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آنسووں کو سیلابِ بلا بنا کر دوسری  انسانی جانوں کو بہا لے جانا خود رحمت للعالمین  ؐ کی حرمت و عزت کو کس حد تک تقویت بخشتا ہے ۔

                    ایک جاہلانہ و مجرمانہ غفلت اور منافقانہ و ظالمانہ بے حسی اور بے عملی کے نتائج اپنی جگہ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ناموسِ رسول  ؐ  اور اپنے حبیب  ؐ کی رفعتوں اور ان کی عزت و احترام کو اللہ نے اپنی ذمہ داری قرار دیا ہے ۔کسی کارٹون زدہ اقوام و فرد کی بے ہودگیوں سے اللہ کے رسول  ؐ کا کچھ بگڑ نہیں سکتا ۔ آسمان پہ تھوکنے والے کا تھوک اس کے منہ پہ آگرتا ہے۔ اس کا انجام بالآخر ان افراد و اقوام کی بگاڑ پہ ہی منتج ہوگا جیسے کہ پچھلی اقوام کی شکلیں سور اور بندروں جیسی بنا دی گئیں تھیں۔ اس میں ہر وہ شخص یا گروہ یا حکومت شامل ہے چاہے وہ نام کے لحاظ سے مسلمان یا اسلامی ہی کیوں نہ ہو جو اللہ کے حبیب ؐ کی عزت و احترام میں کمی یا ان کی حیثیت میں تحریف و تفریط کرتا ہے ۔ اللہ چاہے تو ان کے قلوب کی حالت بدل دے ( اس سے پہلے بھی تو دشمنانِ رسولؐ کے ساتھ یہ ہوتا رہا ہے ) ، جب وہ چاہتا ہے تو ابابیلوں اور بہ ظاہر کمزور اور پسے ہوئے لوگوں سے بھی کام لے لیتا ہے ۔جب اس کا غضب حاوی ہوتا ہے تو بڑے بڑے نمرود و شداد ، فرعون اور عاد و ثمود کو لوگوںکے لیے درس عبرت بنا دیتا ہے۔ انسانی تاریخ کے اوراق سب ہی کچھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ اب جیسا ہو رہا ہے اس کا نتیجہ بھی یونہی آتا رہے گا ۔ فطرت بڑی خاموشی سے اور حیرتناک طور پہ اپنا کام کئے جا رہی ہے۔ جو پردۂ غفلت میں رہنا چاہتے ہیں ان کو اس کی خبر ہی نہیں ہوتی۔

T       اسلام اور حضور  ؐ کے دشمنان تو یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا میں اسلام کو بدنام کیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ یہ ایک مشتعل مزاج لوگوں کا مذہب ہے جو اپنی ہی حماقتوں سے ہر جگہ تذلیل کا شکار ہیں۔ سو ان معاملات میں ایسا رویہ جو دشمنان دین کو تقویت بخشے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔دشمنان دین چاہتے  ہیںکہ ایسی باتوں سے دین اسلام کو تفریح طبع کے لئے بدنام کر کے اس کا لطف اٹھا یا جائے بلکہ اس کے پیچھے ایک گھناونی سازش یہ بھی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی لابی بنائی جائے تاکہ اقوام عالم مل کر اسے ایک متفقہ دشمن قرار دے کر اسلامی مملکتوں میں ایسا ملک جو ترقی اور مقابلہ کی راہ پر گامزن ہے اسے دوسری مملکتوں یا اقوام کے لئے خطرہ قرار دے کر اس پر حملہ کرنے کا جواز پیدا کیا جائے۔ مسلمانوں کو تہی دست اور بیچارگی کے عالم میں رکھنے کی کوششیں صدیوں سے جاری ہےں ۔ اس کام میں خود مسلمانوں کے اندر ہی ایسے منافقانہ روش کے گروہ تیار کئے جاتے ہیں جو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ، کبھی دنیا وی خواہشات کے تقاضوں کو اجاگر کر کے اور کبھی مشتعل انگیز بہ ظاہر انقلابی جذبوں یا جذباتی نعروں سے وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ان کے رکھوالے یا آقا پسِ پردہ چاہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو عمومی طور پہ اور مسلم حکومتوں و مبلغوں و دانشوروں کو خصوسی طور پہ ایسی باتوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ متوازن ذہن رکھنے والے رہنماؤں کا فقدان آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ رسول اکرم ؐ کے گستاخوں کے خلاف مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کو شدید احتجاج و مذمت اور قانونی چارہ جوئی تو کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ہی ایسی آزمائشوں سے صبر و تحمل ، برد باری ، تدبر اور حسنِ عمل، تبلیغ و اصلاح سے کام لے کر گزر نا چاہیے۔ اپنی کمزوریوں کو بھی دور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے ایسے شر پسندوں کی اور فتنہ پروروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

                    کون مسلمان یا مومن ہے جو اپنے آقا ؐ کی حرمت کو بچانے کے لیے  اپنی جان قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار نہیں  تاہم  اپنے وجود کی حقیقت کا ادراک ، مقصدِ زندگی کا احساس ، تعلیم و تربیت ، اتحاد و تنظیم ، نرم مزاجی اور حسن عمِل ، معاشرتی عدل ، امانت و خیانت کی تمیز ، دیانت کا پرچار اور توکل الٰہی ہی وہ راستہ ہے جس پر قدم ِ رسول  ؐ  کے نشاں باقی ہیں اور تا قیامت رہیں گے ۔انشا اللہ تعالیٰ ان نشانات قدم پر چل کر ہم اپنی کھوئی ہوئی شناخت پا سکیں گے۔! ہماری پیش رفت تعمیری فکر و عمل کے جانب ہونی چاہیے کہ حُبِ ّ ِرسول  ، ؐ اتباعِ رسولؐ  اور محسن ِ انسانیت  ؐ کے پیغام کا یہی تقاضہ ہے !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: