Hesham A Syed

January 25, 2009

The reality of celeberating the birth day of Prophet ( saw )

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:54 pm
Tags:

Urdu Article : Eid Meelad uNabi ( saw ) ki haqeeqat : Hesham Syed

حشام احمد سید

عید ِ میلاد النبی ؐ کی حقیقت !

 

یہ بھی ایک طویل اور پرانی  بحث ہے ،  علمأ ظاہر جو صرف قال قال میں لگے رہتے ہیں اور وہ  علمأ جو اسلام اور حضورؐ کی روح کو پہچانتے ہیں ، ان میں اس بارے میں اختلاف ہے۔ قرآن نے حضورؐ  کو سارے جہانوں کی رحمت قرار دیا ہے ، اور انؐ  کی بعثت کو عالمِ تمام پہ اپنا احسان کہا ہے انؐ کے بارے میں لوگ زبان کیوں دراز کر کے اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ یہ ساری بات دل کی سختی سے متعلق ہے ، جن کے دل سخت ہیں وہ اپنی عقل اور اپنے جیسے لوگوں کی تقلید کو ہی اسلام سمجھتے ہیں اور جن کے دل نرم ہیں وہ قرآن ، اسلام یا اللہ کے دین کو حضوؐر کے حوالے سے ہی جانتے اور پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں کے لیے حضورؐ  تھے وہ اپنے اسلام کے ساتھ خوش رہیں ، جن لوگوں کے لیے حضورؐ  ہیں ان سے را بطہِ رسولؐ اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔انشا اللہ تعالیٰ۔

                     حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے عیدِ میلاد ہر روز کی ہے ، اس کے لئے کسی خاص دن کو مخصوص کرنا یا کسی خاص طریقے سے اسے منانا یہ ہر علاقے اور تبلیغی مصلحت کی بات ہے ۔ لیکن محطاط رویہ کی ضرورت ہے۔ نعت شریف کو فلمی انداز میں گانے سے ، ڈھول پیٹنے سے ، آتش بازی کرنے سے ، اور اسی طرح کی بہت ساری رسومات کے ایجاد کر لینے سے محبت رسولؐ کا اظہار نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت ہی عامیانہ درجہ کا ہے، بلکہ یہ سب اور بعض رسومات احترامِ رسولؐ کی عین ضد ہیں۔ اس سے پرہیز ہی نہیںبلکہ فوری طورپہ ختم کر دیناچاہئے۔نعتِ شریف کا سننا خود حضورؐ سے ثابت ہے اور مسلمانوں کے لئے ا طاعتِ رسولؐ  یا اتباعِ رسول ؐ  سے بڑھ کے کوئی اور نعت نہیں۔ لیکن اتباع رسولؐ میں حضور  ؐ کی عملی جدوجہد میں شریک ہونا سب سے بڑی فضیلت کی بات ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ دونوں جذبوں کی اپنی الگ حیثیت ہے۔ شریعت قرآن کی عملی تفسیر ہے اور وہ ہے جو اللہ کے رسولؐ نے بتایا ، اس پہ عمل کیا ، کسی اور کو کوئی کام کرتے دیکھ کر اس کی ممانعت نہیں کی یا کسی عمل کی ترغیب دی یا کسی عمل کو دیکھ کر خاموشی اختیار کر لی اور اسے لوگوں کے صوابدید پہ چھوڑ دیا۔ اللہ نے رسولؐ کے ذکر کو اپنا ہی ذکر بتایا ہے اور ذکر اللہ کی کثرت کی ہر جگہ تاکید کی ہے ، محب کا ذکر ہو یا محبوب کا بات ایک ہی ہے۔ تو اس سلسلے میں ذہنی خلجان کیسا ؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ذکر رسولؐ سے ناخوش ہوتے ہیں  ، ایسا ہے تو انہیں تجدیدِ ایمان کی ضرورت ہے۔! 

ذکرِ تو سرمایۂ ذوق و سرور  :  قوم را دارد بہ فقر اندر غیور ۔

( آپؐ کا ذکر زوق و سرور یعنی روحانیت کا سرمایہ ہے اس نے قوم کو فقر و غیور بخشا ہے )۔

اے  مقام و  منزلِ  ہر  راہرو  :  جذبِ  تو اند ر  دلِ  ہر راہرو ۔

( آپؐ ہر سالک کے لئے مقام بھی ہیں اور منزل بھی ، ہر راہ رو کے دل میں آپؐ کا ہی جذب ہے )۔

 سند اور تاریخی اعتبار سے میلاد شریف تبلیغی مصلحتوں میں ایک مصلحت ہے اور یہ ایک اچھا عمل ہے اگر اسے جذبہ کی اسی سرشاری اور احترام ِ رسولؐ  کا خیال رکھتے ہوئے منایا جائے۔! مباحثِ دین میں اختلاف ہے کچھ اسے بدعتِ قبیح قرار دیتے ہیں اور کچھ اسے بدعت حسنہ گردانتے ہیں ، اہل اللہ اور محبانِ رسولؐ کے لئے یہ ساری بحث تضیع اوقات ہے ۔ قرآن ، حدیثِ قدسی اور مستند احادیث شاہد ہیں کہ حضورؐ  وجہ تخلیق کائنات کی بعثت کو اللہ نے ساری انسانیت کے لئے اپنا احسانِ عظیم اور فضل کہا ، اپنے آپ کو رب العالمین کہا تو انہیں رحمۃالالعالمین کہا، خود کو  نور  السماوا ت الارض کہا تو اُنہیں نورِ مبین و سراج المنیر کہا ، جن کے ذکر کو اپنا ذکر کہا ، جن کے ذکر کو بہ شکل درود و سلام خود بھی اپنا لیا ملائکہ بھی علی الدوام جن پہ ہمہ وقت سلام میں مصروف ہیں اور اہل ایمان کو اس کی تاکید کی و ترغیب دی اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کے اہل بیت اطہار و صحابہ کرام و متعلقین و محبان پر بھی علی الدوام سلامتی کا نزول ہوتا ہے ، جن کے ذکر کو اللہ تبارک تعالیٰ نے ورفعنالک ذکر ک کہہ کر  بلند کرنے کا اعلان کیا ،  جن کا ذکر کلمہ میں (یعنی تصدیقِ رسالت وحدت ِالہی کی صداقت  کا وسیلہ ہے ) ، اذان میں ، نماز میں ،  دعاوں میں ، خطبہ میں ان کا نام موجود ، جن کی حفاظت کو براہِ راست اپنے ذمہ لیا جیسے کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ( اصل میں قرآن کی حفاظت بھی انہی کی حفاظت ہے ) ، جنہیں ایسی سند عطا کی کہ جسے حضورؐ نے قرآن کہا وہ  ہی قرآن ہے ( اِنس و جن میں کوئی بتائے کہ قرآن کی تصدیق یا سند حضورؐ کے علاوہ کوئی اور ہو یا اللہ تعالیٰ نے براہ راست یا بذریعہ ملائکہ کسی اور پہ اپنی آیات کا نزول کیا ہو ؟ ) جن کے زمینی وجود سے پہلے تمام انبیا و مرسلین سے انؐ  کی اطاعت و اتباع و نصرت کا عہد لیا ( میثاق نبوی۔ قرآن ) ، جن کی اطاعت کواپنی اطاعت کہا ، جن  کے اتباع کو اپنی محبت کا وسیلہ بنادیا ، جن پہ تکمیلِ دین کر کے اس سے قبل کے سارے ادیان کو متروک کر دیا ، جن کی شفاعت کا حصول حاصلِ ایمان ہے ،  جن کے دکھ اور اذیت کو اپنا دکھ اور اذیت قرار دیا ، جن سے دعاؤں کی درخواست کے لئے اہلِ ایمان کو ترغیب دی کہ دعائیں قبول ہوں ، خود کو معطی( عطا کرنے والا ) کہا تو آپ  ؐ کو  قاسم ( تقسیم کرنے والا ) بنا دیا ، جن کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ، جن کے عمل کو اپنا عمل کہا ، جن کی گویائی کو اپنا کلام کہا ، جن کی خواہش کی تکریم میں قبلہ بدل دیا ، جن کو مقامِ محمود عطا کیا ، جن کو نعمتِ کثیر و نہر کوثر عطا کی ، جن کو مکہ کعبۃ اللہ سے چشم زدن میں فلسطین مسجد اقصیٰ بلا کر امام بنایا اور سارے انبیا ٔکرام سے ان کی اقتدا کروائی گویا عالم ظاہر میں بھی میثاق نبوی جو آسمانوں میں ہوئی تھی اس کی تجدید کی ،  سدرۃ المنتہیٰ سے آگے عرشِ معلیٰ پر بلا کر ملاقات کی تاکہ ساری مخلوقاتِ عالم کو ان کی حیثیت کا ادراک ہو ، جن کے سامنے زور سے بولنا بھی اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں ، جن کو علم ایسا عطا کیا کہ وہ قیامت تک کے واقعات کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھتے ہیں۔اور جس ہستی نے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جس میں  انہیں خطرات و پریشانیاں نہیں درپیش رہیں ، بھوک و پیاس ہو ، معاشی یا معاشرتی مقاطعہ ہو ،شعب ابی طالب کی شکل میں ، قتل کی سازش ہو ، جسمِ اطہر پر کانٹے اور گندی اوجھڑیاں پھینکی جائیں یا ان پر پتھراؤ ہو اور لہو لہان ہو ، بے گھری یا مہاجرت ہو ، خانگی مسائل ہوں ، کافرین و منافقین کا استہزا ہو ، دندان مبارک شہید ہوں کہ چہرۂ اطہر زخم آلود ہو (لیکن غزوات میں صفوں کا سینہ چیرنے والی جرأت میں کوئی کمی نہ ہو ) ، اپنی دیرینہ رفیقِ حیات کی کسمپرسی کے عالم میں دفنانے کا دکھ ہو ، یا صاحبزادوں کے گزر جانے کا غم ہو ، بیٹیوں کی منگنی ٹوٹ جانے کی پریشانی ہو ، صحابہ کرام کی شہادت کا علم ہو ، اپنی دلاری بیٹیاں اور داماد وں اور اپنے نواسے جگر گوشہ رسولؐ  کے  فتنہ انگیز زمانے کا اور انکی شہادتوں کا علم ہو ، گویا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں کوئی ایسا نہیں گزرا جس نے وہ مصائب اٹھائے ہوں جیسا کہ اشرف الانبیا نے اٹھائے ، تا دمِ وفات کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا کہ حضورؐ عالم انسانیت اور اپنی امت کے لیے فکر مند نہ رہے ہوں ،اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے سوچیں کہ کیا اپنے محسنِ اعظمؐ کے ساتھ یہی آئینہ وفاداری ہے کہ ہم انؐ کی فضیلت کو سراہنے کے بجائے ان کی تفریط کرنے والوں کا ساتھ دیں ؟  احسان مندی کے جذبہ کی اس کیفیت کو کیا نام دیا جائے کہ :

تو غنی از ہر دو عالم ، من فقیر  :  روزِ محشر عزرہائے من پزیر 

در حسابم را  تو بینی ناگزیر  :   از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر

( اے اللہ تو سراپا غنی ہے اور میں تہی دست ہوں، روزِ محشر مجھے جواب دہی سے معاف رکھنا لیکن اگر یہ ناگزیر ہو  تو حضورؐ  کی نظروں سے اوجھل ہو کر حساب لیجئے تاکہ آپؐ کے سامنے رسوائی نہ ہو )۔

          سرزمینِ کائنات میں کوئی دوسری مثال ایسی نہیں جو حضور  ؐ کی ہمہ جہت و آفاقی شخصیت کی عشر ِعشیر ہو ، کوئی دوسرا ایسا نہیں جس کی زندگی کا ہر پہلو ایک کھلی کتاب ہو اور مثال ہو تاقیامت کہ جو چاہے اپنے صفحہ ٔ ادراک کو مزین کر لے اور فلاح پائے ، اللہ تعالیٰ نے یوں ہی تو نہیں انہیں ہاں صرف انہیںؐ کے بارے میں کہا کہ آپؐ کا اخلاق عظیم ہے اور بہترین درجہ کا ہے ، وہی ہاں وہیؐ سب کے لئے ایک بہترین نمونہ ہیں ، انسانِ کامل ، عبد اللہ ، مصطفیٰ و مجتبیٰ ، اللہ کے حبیبؐ  جن کے ذکر کو اللہ اپنا ذکر کہیں ، جن کے ذکر کو سن کر اللہ تعالیٰ خود خوش ہوں ان کی بعثت اور ان کے ذکرِ میلاد کو بدعت کہنے والے اصل میں بدعت کے مفہوم سے ہی واقف نہیں اورخود بدعتی و

 کوتاہ  بیں اور گستاخ ہیں ۔ بحث یہ بھی کی جاتی ہے کہ میلاد صحابہ کرام ؑسے ثابت نہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ جو سرشاری  و جاں نثاری ٔ رسولؐ صحابہ کرام سے ثابت ہے توکیا یہ لوگ اس پر عمل پیرا ہیں ؟ خلفہ راشدین نے تو عشقِ رسولؐ میں سب کچھ لُٹا دیا ، جب تبرکات رسولؐ  کے حوالے سے جب صحابہ کرام ؑکا عمل سامنے آتا ہے تو یہ لوگ اس میں بھی گڑبڑاتے ہیں اور طرح طرح کی عقلی تاویلیں شروع کر دیتے ہیں ، صحابہ کرام ؑ کے درمیان رسول  ؐ ظاہری شکل میں موجود تھے ان سب کے لئے ہر لمحہ عید تھی ۔ صحابہ کرامؑ ہی کیا عشق و احترامِ رسولؐ کی تمثیل یہ بھی ہے کہ علم و تقویٰ کے امام بھی مدینہ شریف میں ننگے پیر چلتے رہے اور کسی اونٹ پہ سواری نہیں کی کہ کہیں ان کا یا ان کی سواری کا پیر اس جگہ کے اوپر نہ آجائے جہاں حضورؐ کا پائے مبارک رکھا گیا ہو، اور یہ لوگ اسی سرشاری میں روضہ رسول  ؐ تو کجا بازار کی گلیوں کے دیواروں کو چومتے تھے کہ اللہ کے محبوب ؐ کے جسم سے لگ کے ہوا نے ان دیواروں کو چھوا ہوگا ، صحابہ کرام بھی حضور ؐکے جسم سے کوئی چیز چھو جائے تو یہ اسے تبرک بنا لیتے تھے اور یہ بات حضور ؐ کے علم میں رہی لیکن انہوں نے منع نہیں کیا اور نہ اسے شرک و بدعت قرار دیا بلکہ خود بھی اپنی پہنی ہوئی قمیض لوگوں کو بعد از وفات پہنائی کہ جہنم کی آگ سے حفاظت ہو اور زندگی میں تبرکاً بانٹی ، ( مَن رانی فقد را اللہ بھی ایک اسرار ہی ہے ) ، ان ساری باتوں کی ، معجزاتِ و تخصیصاتِ رسولؐ  کی تفصیلات بھی بے شمار موجود ہیں جسے  پڑھ کر یا سُن کرگستاخانِ رسولؐ کے دلوں پہ سانپ لوٹنے لگتا ہے اور وہ ان باتوں کے رَد میں لگ جاتے ہیں۔ ہر نیک عمل اور کام جس کا اصول ہمیں اللہ تعالیٰ و رسولؐ سے مل جائے وہ بدعت نہیں بلکہ عین ایمان و  اسلام ہے۔مندرجہ بالا وضاحتوں کے بعد اس بات کے سمجھنے کے لئے کچھ دہرانے کی ضرورت نہیں تا وقتیکہ کوئی اس بات کو سمجھنا ہی نہ چاہے اور اس کی عقل میں ہی کجی ہو ۔

J        بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی ، فتنے جنم لیتے ہی رہیں گے ، اللہ حفاظت فرمائے کہ ایسے بھی خود ساختہ موحدوں کا گروہ ہے جو یہ بھی کہتے ہیں کہ کلمہ سے محمدؐ  رسول اللہ ۔ اذان سے محمد ؐ کا نام ، نماز سے درود و التحیات ، دعاؤں سے محمدؐ کا نام ، نماز میں ان آیات میں جس میں محمدؐ کا نام آئے سب نکال دینا چاہئے کہ یہ شرک ہے۔ تو گویا شرک کی تعریف اب یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس کسی اور خدا سے کسی اور ہی وحی کا نزول ہوتا ہے۔ ذکر رسول  ؐ کو بدعت اور شرک قرار دینے والے کیا جانتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور یہ بات کہاں پہنچتی ہے ؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ شیطان شروع سے اس بات میں لگا ہوا ہے کہ دین سے روحِ محمدیؐ کو نکال دو پھر اس کا کام آسان ہو جائے گا ، کیونکہ شیطان یا ابلیس کے سب سے بڑے دشمن  تو حضورؐ ہی ہیں۔شیطان یہ بھی جانتا ہے کہ دین میں بگاڑ پیدا کرنے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ ایسی دینی جماعتیں تشکیل دی جائیںجو حبِ رسولؐ  اور اس کی سرشاری سے متصادم ہوں ، فتنہ پروری کا اس سے زیادہ فعال اور زود اثر کوئی اور طریقہ نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ایسی شیطانی جماعتوں کی تشکیل میں غیر اسلامی جماعتیں تو موجود ہی ہیں، دنیاوی دولت و ثروت سے لبریز بظاہر اسلامی حکومتیں بھی اس سازش میں معاون و شریک ہوگئی ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ جس طرح آنکھ میں موتیا بین یعنی پانی اتر آتا ہے جس سے بینائی جاتی رہتی ہے ویسے ہی مسلمانوں کے اس گروہ کی عقل کے دیدہ میں کالا تیل دولت کی تاریکی لے کر اتر آیا ہے اور یہ نورِ ازلی سے محروم ہو کر ادھر ادھر بھٹکتے  پھرتے ہیں۔ قرآن کہتا تو ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں دل اندھے ہو جاتے ہیں !

 ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز  :   چراغِ  مصطفوی  سے  شرارِ  بو لہبی

          غور کیجئے پورے چودہ صدی پہ محیط تاریخ کا ، مسلمانوں پہ زوال کا سب سے بڑا سبب نت نئی قسم کی اسلام کی نام لیوا جماعتوں کی تشکیل و فروغ ہے جو حقیقت ِ محمدیؐ سے نابلد ، اس سے متصادم رہیں۔ ازدھامِ کثیر ہو نے اور دولت و ثروت کی فراوانی کے باوجود یہ ذلت و رسوائی اللہ کی لعنت بن کر جو امت کا مقدر بن گئی ہے اس کی وجہ یہی احسان فراموشی ہے ، جن کے سامنے زور سے بولنا بھی اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں اور ان سے کسی بھی معاملہ میں آگے بڑھنے سے منع کردیا اور ان کے ہی فیصلہ کو زندگی کے ہر فیصلے پر حتمی قرار دیا ان کو ہما شما اپنے جیسا سمجھنے  لگیں اور ان کی سنت اور باتوں کو زمانۂ قدیم کے ترازو میں تولیں ، جن کے اتالیق اللہ تعالیٰ خود ہوں جو علم کے شہر ہیں ان کو ہم ناخواندہ ثابت کرنے لگیں ، اپنی امہات المومنین کی عمر اور دشمنانِ دین کے اختراعات و ذہنی پلیدگی کا اشتہار بھی ہم اپنی محفلوں میں اور ابلاغِ عامہ میں کریں ، ایسی ناخلفی اور دریدہ دہنی کی دوسری مثال اور کیا ہوگی ؟ حضور  ؐ کو قرآن سے الگ کر کے اس کی تفسیر کرنے والوں سے میں پوچھتا ہوں کہ ان صحابہؑ کے بارے میں کیا خیال ہے جو قرآن کے مکمل نزول سے پہلے ہی وفات پاگئے یا شہید کردیئے گئے ؟ ان کی ایمانی حالت اور فضیلت کیا صرف یہ نہیں تھی کہ وہ جاں نثارانِ رسولؐ تھے اور صرف حضور ؐ  کی رسالت اور ان کی باتوں کو ہی جذوِ ایمان سمجھتے تھے ، کیا کوئی عابد و زاھدکسی درجہ میں ان لوگوں سے بھی بڑھ سکتا ہے جو صحابیِ رسولؐ تھے اور صحابیت کی شرط صرف یہ ہے کہ انہوں نے ایمان کی حالت میں رسولؐ کو دیکھا یا رسولؐ نے ان کو ایمان کی حالت میں دیکھا ۔کیا اسی قرآن میں جو رسالتِ محمدی ؐ  پہ ایمان نہ لائے اسے اللہ نے بد ترین مخلوق نہیں کہا اور جو لائے اسے بہترین مخلوق کہا ؟ یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ اللہ کی مرکزیت اور وحدت پہ تو سارے مذاہبِ عالم کے لوگ مجتمع ہیں یہاں تک کہ مشرکین بھی کسی نہ کسی طور پہ ایک سب سے بڑے خدا کا تصور رکھتے ہیں ، لیکن رسالت ِ محمدی کی شہادت نہ ہو تو آدمی مسلمان نہیں کہلا سکتا چاہے وہ کتنا بھی بڑا عابد ثابت کرے اپنے آپ کو ۔ تو کیا ان مثالوں سے بھی عقل کی گرہیں نہیںکھلتیں ؟  حقیقتِ محمدی اور آپؐ  کی سیرت کا صحیح علم و ادراک نہ ہو ، آپؐ کی محبت اپنی جان و جہان سے زیادہ پیاری نہ ہو تو نہ یہ قرآن سمجھ میں آتا ہے اور نہ اللہ کا دین چاہے کوئی کتنی ہی جلدوں میں اس کی تفسیر اپنی تشہیر کے لئے لکھ جائے ، ایسے عالموں کی مثال بھی قرآن میں گدھے کی ہے ،جس پہ کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو۔ ان حالات میں تبدیلی یا امت کی بد بختی کے خاتمے کا ذریعہ صرف اور صرف احترامِ رسولؐ و جذبہ عشق و جاں نثارئی رسولؐ ہے۔ یہی اللہ تبارک تعالیٰ کی سنت ہے اور اللہ کی سنت کو کوئی اور نہیں بدل سکتا ۔لا تبدیل کلمات الا اللہ !

  پُر امید اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ محبانِ رسولؐ  ابھی زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے ہی اپنے دین اور حرمتِ رسولؐ کی حفاظت کا کام لے رہے ہیں۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ۔آئیے ہم حضرت علامہ اقبال ؒ کے دعایہ اشعار پہ جس کے مخاطب بھی حضور ؐ ہیں اس کلام کو ختم کرتے ہیں کہ :

قُم  بِاذنی گوے  او  را  زندہ کن  :  درویش اللہ ھو  را  زندہ کُن 

 ما ہمہ افسونی تہذیبِ غرب  :  کشتہ  افرنگیاں بے حرب و  ضرب

( اے رسولؐ ، اٹھ میرے حکم سے فرما کے زندہ کردیں ، مسلمان کے دل کو اللہ ھو سے زندگی عطا کریں ۔ ہم سب مغربی تہذیب کے سحر زدہ ہیں اور افرنگیوں نے ہمیں بغیر جدال و قتال کے بھی قتل کر دیا ہے)۔

تو ازاں  قومے کہ جامِ  او  شکست  :  وا  نما  یک بندۂ اللہ مست۔

  تا مسلماں  باز  بیند  خویش  را  :  از  جہانے بر گزیند  خویش  را

( آپ  ؐ کی زیر قیادت مسلمانوں نے ان کا جام توڑا تھا ، آج بھی ایک بندۂ اللہ مست ظاہر کیجئے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو پہچان لے اور سارے جہاں سے برگزیدہ ہو جائے )۔

Hesham Syed

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: