Hesham A Syed

January 25, 2009

The reality of Miraaj – Accension to Sky by Prophet ( saw )

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:22 pm
Tags:

Urdu Article : Haqeeqatey Miraaj e Mustafa ( saw ) Hesham Syed :

حشام احمد سید

حقیقتِ معرا ج ِ مصطفی ؐ

 سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے ہمیں  :  کہ عالم ِ  بشریت کی زد میں ہے گردوں

اسلامی تاریخ میں ہی کیا انسانی تاریخ کے حوالے سے بھی کائنات کے اوقاتِ کار میں دو شب کی بڑی اہمیت ہے  ایک تو شبِ قدر جس میں قرآن کا نزول ہوا اور انسانی معاشرت کی تعمیر اور اس کی قدروں کی تکمیل ہوئی تو دوسری  شبِ معراج جس میں انسانِ کامل اور اس کی رفعتوں کا ادراک ہوا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہیں اور دونوںحقیقتِ محمدی سے مربوط ہیں۔ تاریخی حوالہ جات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ معراج کا یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے کا ہے۔یہ وہ وقت تھا جب حضور ا کو اعلانِ نبوت اور دین کی تبلیغ کرتے ہوئے بارہ سال سے زیادہ کا عرصہ مکہ اور اس کے اطراف میں گزر چکا تھا اور اللہ  گ کی طرف سے ہجرتِ مدینہ کے حکم کا وقت قریب آ تا جا رہا تھا اور پہلی سلطنتِ اسلامی اپنی آئینی شکل میں وقوع پذیر ہونے والی تھی۔ یہ وہ وقت بھی تھا جب حضرت خدیجہ ؓ ، جو حضورؐ کی طمانیت کا سبب تھیں، انکا انتقال ہو چکا تھا اور چچا ابو طالب بھی فوت ہو چکے تھے جو حضورؐ کے لیے تقویت اور خاص دستِ راست تھے۔ حضور کی تبلیغ کے نتیجہ میں کفار اور منکرین ہر طرح کی اذئت پہنچا رہے تھے اور انہیں قتل کرنے کے درپے تھے ۔ان کے لئے یہ وقت حزن و ملال کا تھا ۔

           مختلف مستند روایت سے جو حیرت انگیزتفصیل ملتی ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ آپ ؐ  کی عمر اس وقت کوئی ۲۵ سال کی تھی اور آپ ؐ حرم کعبہ میں سو رہے تھے کہ جبرائیل ں تشریف  لائے اورنیم بیدار حالت میں آپؐ کو اٹھا کر آبِ زمزم پہ لے گئے اور سینہ چاک کر کے اسے زمزم کے پانی سے دھویا اور حلم ، بردباری ، دانائی ، ایمان اور یقین سے بھر دیا ۔ پھر ایک برق رفتارسواری پیش کی جو گھوڑے اور خچر سے مشابہ تھی، اس کی برق رفتاری کے سبب اسے براق کہا گیا۔سب سے پہلی منزل مدینہ کی تھی جہاں حضور ؐ نے نماز ادا کی اور انہیں اس کی نشاندہی کی گئی کہ انہیں یہاں ہجرت کرنا ہے۔ دوسری منزل طورِ سینا کی تھی جہاں اللہ گنے حضرت موسیٰ ں سے کلام کیا تھا ، تیسری منزل بیت اللحم کی تھی جہاں حضرت عیسیٰ ں پیدا ہوئے تھے اور چوتھی منزل بیت المقدس کی تھی جہاں پہ براق کا سفر ختم ہوا ۔ راستے میں کئی واقعات ہوئے جن کی تفصیل مستند کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔بہر حال یہاں پہنچ کر ہیکل سلیمانی میں داخل ہوئے جہاں سارے پیغمبر ان  ں موجود تھے جو دنیا کی ابتدا سے نبی کریم  ؐ  سے پہلے تک بھیجے گئے تھے ۔حضور ؐ نے ان سب کے ساتھ نماز ادا کی اور اس نماز کی امامت کی۔ پھر آسمان کے جانب سفر شروع ہوا جس کے لئے ایک سیڑھی سی لائی گئی، اسے عربی میں معراج کہتے ہیں اور تبھی یہ سفر سفرِ معراج کہلایا۔یہاں پہ کچھ مختلف روایات بھی ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ براق پہ سفر بیت الاقدس پہ تمام ہوا اور کچھ کا کہنا ہے کہ بقیہ سفر یعنی سفر آسمانی بھی براق پہ ہی طے ہوا ۔ اس کے علاوہ یہ کہ یہ سیڑھی کیسی تھی ؟ اور کیا تھی ، یا یہ کہ براق ہی کیا تھا اور آسمان کیا ہے ، اس کے دیگر منازل کیا ہیں ، سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے ، قابِ قوسین کی تفسیر کیا ہے ؟ یہ سب اور اس قسم کی مختلف اصطلاحات اور تمثیلات ایسی ہیں جو ایک عام انسان ہی کےا مدعیانِ عقل و شعور سے بھی ماوریٰ ہیں ۔ پھر بحث اس پہ بھی ہے کہ یہ سفر عالمِ خواب میں ہوا یا جسمانی اور عالمِ بیداری میں ہوا ، حالانکہ یہ بحث بالکل بے جا ہے کیونکہ اگر یہ سفر عالمِ خواب میں ہوتا تو حضور ؐ کے بتانے پہ  کسی کواسے جھٹلانے اور انہیں دیوانہ اور مجنون کہنے کی ضرورت کیا تھی ۔ خواب میں تو سب کو پتہ ہے کوئی انسان کچھ بھی دیکھ سکتا ہے ۔ اس واقعہ کے جھٹلانے اور کسی کے حضور ؐ  کی اس بات پہ انکی تصدیق کرنے سے ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سفر عالمِ بیداری کا ہے ۔ صدیقیت یونہی تو حاصل نہیں ہوجاتی ۔ جسے اللہ تبارک تعالیٰکی حکمت  اور  اوراس رب ِ ذو الجلال کی قدرت کا ادراک ہے اور حضور ؐ  کی بتائی ہوئی باتوں پہ یقین ہے ان کے لئے ، یہ ساری تمثیلات بھی ایمان میں اضافہ اور پختہ ہونے کا سبب بنتی ہیں ورنہ تو انسان اپنی عقلِ محدود کے ہاتھوں میں تشکیک کے صحراؤں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ کیا علما ئے سویا مدعیانِ علم و ہنر آج تک جن ، شیطان ، ابلیس ، فرشتے ، ملائکہ ، پیغمبری ، نبوت ، رسالت ، ولایت، نیابت ، امامت ، روح ، عالم برزخ ، قبر کی زندگی ، جنت ، جہنم ، نظامِ تکوینی اور ایسی ہی بہت ساری باتوں کا ادراک کر سکے ؟ بالکل اسی طرح جیسے نظام شمسی اور مختلف سیاروں ، ستاروں کی موجودگی ان کا اپنے محور اور مستقر پہ قائم رہنا اور اپنے وقت پہ تغیرات کا پیدا ہونا ، انسان کا اپنا بدنی نظام ، حیات و موت ، نفسیات ، کیمیائی  مادوں کی تشکیل ، طبعیات ، جوہریات ، کشش ثقل ، برقیات وغیرہ کی حقیقت کی تلاش ہنوز جاری ہے ۔ اور تا قیامت جاری ہی رہے گی ۔ ہر بار ایک نئی دریافت انسان کو پہلے سے زیادہ حیران کر دیتی ہے۔ ایسے میں کسی انسان کا اللہ تبارک تعالیٰ کے وجود کا انکار کرنا اور اس کی قدرت سے منکر ہونا یا امام الانبیا و مرسلین کی صداقت کی تکذیب کرنا اپنی جہالت و حماقت کا اشتہارہی ہے۔ ایک محدود بھلا لا محدودتک کہاں اور کیسے پہنچ پائے گا۔ جو منکرین میں ہیں انہیں زعم علم ہی تو ہوتاہے اس لئے کہ یہی وہ دھوکہ ہے جو انسان کی جہالت کا سبب بنتا ہے۔ اللہ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے۔بہرحال بجائے اس کے کہ ہم اس واقعہ کے منکرین سے الجھیں ، آئیے ہم اس کی تفصیلات اور اس اہم سفر میں جو پیغامات ملے ہیں اُمتِ مسلمہ اور ساری انسانیت کی طرف اس پہ ایک نظر ڈالتے ہیں:

          آپ ؐ بیت المقدس سے سفر کرتے ہوئے پہلے آسمان پہ پہنچے تو وہاں حضرت آدم ںسے ملاقات ہوئی ،  داروغہ دوزخ سے بھی ملاقات ہوئی اور دوزخ کی ہولناکیوں کو بھی دیکھا۔بہت سے گناہوں کی سزاؤں کا  مشاہدہ کیا ۔ دوسرے آسمان پہ حضرت یحییٰ ں اور حضرت عیسیٰ ں سے ملاقات ہوئی ۔تیسرے آسمان پہ خوبرو حضرت یوسف ں سے ملاقات ہوئی ۔ چوتھے آسمان پر حضرت ادریس ں،پانچویں آسمان پر حضرت ہارون ں اور چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ ں سے ملاقات ہوئی ، ساتویں آسمان پر بیت المعمور دیکھا جہاں فرشتے طواف کر رہے تھے اور وہیں حضرت ابراھیم ں سے ملاقات ہوئی۔ پھر مزید بلندیوں کی طرف چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچ گئے۔ یہ مقام مخلوق اورخالقِ جہاں کے درمیان حد فاصل ہے۔ خدائی احکام کا نزول اوپر سے اس مقام پہ براہِ راست ہوتا ہے۔ اس مقام سے قریب آپ ؐ کو جنت کا مشاہدہ کرایا گیا اور انعامات و اکرامات کی ایسی تفصیل دیکھنے کو ملیں جس سے چشم تصور بھی عاجز ہے۔ یہاں آکر جبرائیل ؑ ٹھہر گئے اور حضور ؐ تنہا آگے بڑھے تو ایک سطح مرتفع پہ پہنچے اور اللہ ذوالجلال والا کرام کے دربار خاص میں باریابی اورہم کلامی کا شرف حاصل ہوا ۔یہ محبوب اور محب کا آمنا سامنا تھا۔ یہاں جو انعامات و اکرامات ہوئے اور جو ارشادات ہوئے وہ یہ تھے کہ :

( ۱)    صلوٰۃ کی تعداد پچاس ۰۵ وقت کی یومیہ مقرر کی گئی ۔ حضرت موسیٰ ؑ سے جب واپسی پر ملاقات ہوئی اور ان کے کہنے پر اور حضور ؐ کی التجا اور بار بار باریابی درگاہِ الہٰی کی وجہ سے نماز صرف پانچ وقت کی رہ گئی لیکن اس کا ثواب پچاس وقتوں کا ہی ملیگا  ( یہ بھی شاید حضور ؐ کے بار بار ش  سے جہاں وہ اپنی ذات و صفات میں جلوہ گر ہے ملاقات اور دیدار کا بہانہ بن گیا ۔ واللہ عالم )۔

(۲)     سورۃ بقرہ کی آخری دو آئیتوں کی تعلیم دی گئی 

(۳ )    شرک کے سوا دوسرے گناہوں کی بخشش کے امکانات ظاہر کئے گئے

 (۴ )   نیکی کے ارادے پرہی ایک نیکی کا ثواب ملنے اور نیکی کے کرنے پر دس نیکیاں حساب میں لکھی جانے جبکہ برائی کے ارادہ پر کوئی برائی نہ لکھے جانے کی نوید ملی تا وقتیکہ کوئی برائی کر نہ لے ۔ یہ اللہ کی رحمت کی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ جو باتیں ہوئیں وہ اللہ اور اس کا رسول ؐ جانے۔

          آپ ؐ  کی واپسی کا سفر شروع ہوا اور اسی نورانی سیڑھی کے ذریعہ حضور ؐ بیت المقدس تشریف لائے جہاں سارے پیغمبر ں آپ ا کے منتظر تھے۔ آپ ؐ نے انہیں نماز صلوٰۃ کی فرضیت کا بتایا اور سارے پیغمبروں کی نماز کی پھر امامت کی ۔ یہ غالباً صبح کی نماز تھی۔ پھر براق پہ سوار ہوئے اور بیت المقدس سے چشم زدن میں کعبہ اللہ ( مکہ ) پہنچے۔

          جب یہ سارا واقعہ حضور ؐنے لوگوں کو سنایا تو اس بات کو سنتے ہی ابوبکر ؑ نے تصدیق کر دی ، جس پہ انہیں صدیقیت کا مقام نصیب ہوا اور صدیق کا خطاب ملا۔ اس کے علاوہ صاحب ایمان اور اصحابِ رسول ؐ جتنے بھی تھے وہ اس بات پہ ایمان لے آئے ، کچھ ایسے بھی تھے جو ضعف ایمان اور تذبذب کا شکار رہے ان کے خیال میں یہ بات خواب کی حد تک تو درست ہو سکتی تھی لیکن جسمانی طور پہ یہ سب کچھ ہوا اور اتنی کم مدت میں ہوا کہ ماننا ذرا مشکل تھا ۔جو منکرینِ نبوت وصداقتِ رسولؐ تھے یا منا فقین و کافرین تھے وہ اس کا ثبوت پوچھتے رہے اور  حضور ؐ کے بہت سارے ثبوت کے بتانے پر بھی انکار کرنے کا جواز ڈھونڈتے رہے ۔ ایسے لوگ اُس وقت بھی اس واقعہ کا انکار کرتے رہے اور حضور ؐ کا استہزا کرتے رہے اور آج بھی غیر مسلموں میں تو کیا خود بظاہر مسلمان ہیں جواس واقعہ کے منکر ہیں ، صرف اس لئے کہ یہ ان کی عقل میں آنے والی بات نہیں ۔گویا اللہ کی قدرت اور اس کے رسولؐ  کی عظمت کو ان جیسے بد عقلوں کے تابع ہونا چاہیے۔ معاذ اللہ ! آج سے چند صدی قبل اگر کسی کو ہم یہ کہتے کہ انسان ہوأوں میں اڑے گا یا یہ کہ دنیا کے کسی بھی کونے سے ایک سیکنڈ میں دوسرے کونے میں باتیں کر سکے  گا یا کہ ای میل پہ پیغامات بھیج رہا ہوگا یا ایک دوسرے سے لکھ کر گفتگو کر سکے گا ،یہ کہ سیاروں کی تسخیر ہو سکے گی اور انسان چاند کے علاوہ دوسرے سیاروں پہ بھی پہنچ جائے گا یا مہینوں اور سالوں کا سفر دنوں اور گھنٹوں میں طے ہو جائے گا تو وہ شخص بھی ہمیں مخبوط الحواس ہی سمجھتا اور مجنون ہی گردانتا کیوںکہ اُس کی عقل اور مشاہدہ اس وقت کے ماحول اور بساطِ علم کا غلام تھا ۔ بس یہی کیفیت آج اور کل کے انسان کی ہے کہ اسے ابھی بھی معراج کے سفر کو طبعی طور پر سمجھنے میں وقت درکار ہے ۔ اس سے اس واقعہ کی صداقت مشکوک نہیں ہوتی بلکہ انسان کی ناقص العلمی اور ناقص العقلی کا اظہار ہوتا ہے۔   ؎

عقل عیار ہے سو بھیس  بنا لیتی  ہے   :  عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ شاہد نہ حکیم

دے  ولولہ ٔ  شوق جسے لذت  پرواز    :  کرسکتا ہے  وہ ذرہ  مہ و  مہر کو تاراج

مشکل نہیںیاران چمن معرکہ باز :  پُر سوز اگر ہو نفسِ سینہ درّاج

ناوک ہے مسلمان ہدف اس کا ہے ثریا  : ہے سّر سری پردۂ جاں نکتۂ معراج

 تو معنیء وَاَلنَجّم کو نہ سمجھا تو عجب کیا  : ہے تیرا مد و جزر ابھی چاند کا  محتاج

          سفر معراج محض ایک افسانہ نہیں بلکہ یہ وہ سفر تھا جس کی مماثلت دوسرے انبیا ئے کرام کے واقعات سے بھی ہے ۔ پیغمبری کے عہدہ پہ فائز لوگ ظاہر ہے کہ قابل اعتماد ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی کائنات کے رموز اور نظامِ تکوینی کے اسرار کا مشاہدہ کرا دیتا ہے جو عام انسانوں پہ ظاہر نہیں کئے جاتے۔ جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو ملکوت السماوات والارض یعنی اندرونی انتظام کا مشاہدہ کرایا گیا (و کذا لک نری ابراھیم ملکوت السماوات والارض ۔ سورہ انعام ) اور انہیں یہ بھی دکھایا گیا کہ اللہ مرُدوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ( سورہ بقرہ ۵۳ ) ۔حضرت موسیٰ ؑ کو طور پر جلوہ ٔربانی سے سر فراز کیا گیا اور انہیں اللہ کے ایک خاص بندے کے ساتھ سیر کرا کے مختلف واقعات سے اللہ کی مشیت اور دنیا کا انتظام سمجھایا گیا( سورہ کہف ۹ ، ۰۱ ) ۔ حضرت محمد ؐ  کو بھی ایسے بہت سے مشاہدات کرائے گئے اور اس کے سوا بھی مثلاً اللہ کے مقرب فرشتے کو آپ ؐ افق پہ علانیہ دیکھتے اور بہت قریب سے دیکھتے( سورہ التکویر )اور کبھی سدرۃ المنتہیٰ پہ اللہ کی عظیم الشان نشانیاں دیکھتے  ( سورہ النجم ۔ ۷   ۸۱ )۔ معراج کا ہونا صرف مشاہدات پہ ہی مبنی نہیں تھابلکہ یہ بلاوا کسی خاص مقصد کے لئے تھا۔ جیسے حضرت موسیٰ ؑکو وادی سینا میں بلا کر احکامِ عشرہ دیئے گئے اور حکم دیا گیا کہ فرعون کے پاس جاکر دعوت دو اور بنی اسرائیل کو آزاد کراؤ تو یہ حضرت موسیؑ کی معراج تھی ، اسی طرح حضرت عیسیؑ کی معراج یہ تھی کہ انہوں نے ساری رات پہاڑی پہ گزاری اور پھر اٹھ کر بارہ رسول مقرر کئے اور وعظ کہا ، وہ پہاڑی ابھی بھی واعظ کی پہاڑی کے نام سے موسوم ہے۔ایسے ہی حضور ؐ  کو اہم فریضہ کے لیے بلایا گیا جہاں نیا پیمانہ تقرری  اور ہدایات ملیں ، اللہ نے اپنی قدرت کی بے شمار نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ اپنا دیدار بھی کرایا اور بالمشافہ گفتگو بھی کی ،گویا اجمالی طور پہ ہر اس طریقہ کا اعادہ کیا جو دوسرے پیغمبروں کے ساتھ انفرادی طور پہ کیا تھا۔آخر کو مخلوقات عالم میں اول و آخر بھی تو حضور ؐ ہی کی ذات ہے۔ ’نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر‘۔ انسان کامل ، پیغمبر آخر ، امام الانبیا اور مقام محمودیت و محبوبیت سے سر فراز کر کے واپس اپنے مشن پہ عمر ِطبعی یا ظاہری  پورا کرنے کو دنیا میں بھیج دیا۔

          ان ساری باتوں کی تفصیل مجموعہ احادیث میں تو ہے ہی قرآن میں سورہ بنی اسرائیل او ر سورہ النجم میں موجود ہے۔ان سورتوں میں جو احکامات و پیغامات یا اصول نازل ہوئے ان کے مفاہم مختصراً درجہ ذیل ہیں :

(۱)     بندگی صرف اللہ کی ہو اور کوئی اس کا شریک نہ ہو۔

(۲)     اولاد والدین کے فرمانبردار ہوں اور رشتہ دار ایک دوسرے کے معاون ہوں۔تمدن انسانی میں خاندان کے افراد کی اہمیت ہے۔

(۳)           معاشرے میں غریب و معذور اور غریب الوطن افراد بے سہارا نہ چھوڑے جائیں۔

(۴)     اصراف نہ کیا جائے ، دولت کوبے مقصد نہ خرچ کیا جائے۔

(۵)     دولت خرچ کرنے میں اعتدال کو اپنایا جائے ۔ نہ بخل سے کام لیا جائے نہ فضول خرچی کی جائے تاکہ دونوں صورت میں مشکلات پیدا نہ ہوں

(۶)     رزق کی تقسیم کا قدرتی انتظام جو اللہ نے کیا ہے اس میں انسان مصنوعی طور سے خلل انداز نہ ہو۔

(۷)     رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کریں نہ ان کی پیدائش کو روکیں کیونکہ رزق اللہ دیتا ہے۔

(۸)     زنا گناہ کبیرہ ہے اور اس کے ارتکاب سے پرہیز کیا جائے۔

 

( ۹ )   انسانی جان اور اس کی حرمت کا خیال کیا جائے۔تحفظ فراہم کیا جائے ۔ سوائے اللہ کے نافذ کردہ قانون کے نہ اپنی اور نہ کسی اور کی جان لی جائے ۔

( ۰۱ ) یتیموں کے مال کی حفاظت ایک امانت کے طور پہ کی جائے ۔جب تک یتیم بڑے نہ ہوں ان کے حقوق کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

( ۱۱ )           عہدو پیمان کو پورا کیا جائے ۔ انسان اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔ ( چاہے یہ عہد انفرادی ہو یا قومی و ملکی سطح  پر ہو )۔

( ۲۱ )           تجارتی معاملات میں ناپ تول ٹھیک کیا جائے اور پیمانے صحیح رکھے جائیں۔

(۳۱ )  وہم و گمان اور تجسس سے پرہیز کیا جائے اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کی پیروی نہ کی جائے ۔ انسان اپنے عمل کا اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔

( ۴۱ )           نخوت و تکبر سے زمین پر نہ چلا جائے ۔ نہ کوئی زمین کو پھاڑ سکتا ہے نہ پہاڑوں سے اونچا ہو سکتا ہے ۔

          مندرجہ بالا اصولوں کے علاوہ روزانہ کی تربیت اور یاد الہٰی کے لئے صلوٰۃ (نماز) پانچ وقت کی فرض قرار دی گئی تاکہ ہر لمحہ اس کا خیال رہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے جسے اپنے عمل کا حساب دینا ہے اور انسان صرف ایک بندہ ٔ عاجزہے۔

          سورہ بنی اسرائیل میں فرد اور قوم سے خطاب کر کے مفسدوں کو باور کرایا گیا ہے کہ انسان اپنے عمل و اخلاق کا ذمہ دار خود ہے اور کسی کا گناہ کسی اور کے سر نہیں ۔ قوم میں بگاڑ صاحب ثروت و رعونت سے پیدا ہوتا ہے ، اس لئے معاشرتی عدل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ فسق و فجور میں مبتلا اورکمین لوگوںکے ہاتھوں میں سیاست اور معاشیات کی کنجی نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ فتنہ و فساد ہی پھیلائیں گے۔ اصلاح ِمعاشرہ کے لئے با اخلاق لوگوں کو ترجیح دی جائے ۔ پھر خصوصی طور پہ صاحب ایمان اور مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا کہ وہ مادیت پرستی کی طرف مائل نہ ہوں۔ دنیا چند روزہ ہے یہاں اپنی ذمہ داریوں کو خوشدلی سے پورا کر کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں کیونکہ اللہ کے پاس اس کا اجر بہت بڑا ہے اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔

 اول  و  آخر فنا  ،  باطن  و  ظاہر  فنا    :  نقش ِ کہن  ہو کہ نو  ،  منزلِ آخر  فنا

          سوچنے کی بات یہ ہے کہ معراج مصطفیٰ ؐ کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا اس شب صرف چراغاں کر کے ، نعت گوئی اور میلاد کی محفل سجا کے ، بے شمار روایات جن میں افراط و تفریط کی گئی ہو انہیں گا گا کر سنا کے ہماری اور آپ کی ذمہ داری یا اتباع رسول یا محبتِ رسول ؐ کا حق ادا ہوجاتا ہے؟

          کیا یہی کچھ حضور ؐ نے معراج کے سفر سے واپسی پہ کیا یا ہر سال صحابہ کرام ص اجمعین نے بھی وہی کیا جو آج ہم کر رہے ہیں اور اگر وہ کچھ نہیں کیا بلکہ اپنی سرشاری حب رسولؐ  میں جو کچھ کیا ہمیں بھی صرف وہی کرنا چاہیے ۔

           مندرجہ بالا چودہ نکات پہ ہی غور کریں جو احکام ِ خداوندی کی صورت میں قرآن میں موجود ہیں تو معلوم ہوگا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ معراج کی اہمیت اور اللہ کے رسول ا کے امتی ہونے کی نسبت سے ہماری اور آپ کی معراج حقیقتِ محمدی کا پالینا ہے،  حبِّ رسولؐ اللہ ہے اورجس کا اظہار اتباع رسول ؐہے ۔ یہ نصیب ہو جائے تو کیا بات ہے۔ رہ گیا معاملہ ان لوگوں کا جو اس واقعہ کا سرے سے انکار کرتے ہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ، بیشتر فتنے  روز ازل سے ہی جنم لیتے رہے ہیں ،

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز   :   چراغ ِ مصطفوی ؐ  سے  شرارِ بو لہبی

          انکار تقدیس ِ رسول ؐ ، انکار ختم نبوت ، انکارِ حدیثِ رسول ؐ ، انکار معجزاتِ رسول ؐ ، انکارِ کرامات اولیا  ؒ ، انکارِ  امامت ، انکارِ خلافت ، انکار ِ اجماع قرآن ، انکارِ ولایت ، انکار اخبارِ غیب ، انکارِ ملائکہ و جن ، انکار جنت و جہنم  وغیرہ کوئی نئی بات تو نہیں۔ منکروں کی تو بڑی طویل فہرست ہے ۔ ابلیسیت تو دندناتی پھر رہی ہے۔ عقل الجھ کے رہ گئی ہے تَوَہمات میں۔   ؎

 صبحِ ازل یہ  مجھ سے کہا  جبرائیل  نے   :  جو عقل  کا  غلام ہو  وہ  دل  نہ کر  قبول

باطل  دوئی  پسند ہے حق  لا شریک ہے  :  شرکت  میانِ  حق  و  باطل  نہ کر  قبول

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: