Hesham A Syed

January 26, 2009

A commentary on Mumtaz Mufti Book TALASH

Filed under: Urdu Articles — Hesham A Syed @ 3:42 am
Tags:

Urdu Article : Talaa-sh e Bissiyar : Hesham Syed

تلاشِ یار یا تیشۂ فرہاد !

یوں تو ممتاز مفتی صاحب کی کتاب ’ تلاش ‘ سال ۳۰۰۲ میں منظر عام پہ آئی ۔مجھے اسے پڑھنے کا موقع حال ہی میں ملا۔ ملک سے باہر آدمی کو ملکی سیاست کے طوفانی جھکڑ کا تو پتہ چلتا رہتا ہے کہ ابلاع عامہ کے ادارے ماشااللہ ہر جگہ اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن قومی فکر و ادب کے متعلق ذرا تفصیل کم ملتی ہے تاوقتیکہ اس میں ہم جیسے قاری کی اپنی تلاش میں انہماک اور ادب میں دلچسپی شامل نہ ہو۔ خیر ! یہ کتاب دلچسپ ہے۔ مفتی صاحب مفتیانِ دین سے نالاں نظر آتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان کا اپنا تبصرہ بھی فتویٰ ہی دکھائی دیتا ہے۔ ایک جگہ صاحبِ کتاب کی لا علمی نے کعبۃ اللہ میں مصلے کے حوالے سے صوفی مشرب کا ذکر کر دیا ہے حالانکہ اگر مختلف مُصَلًے تھے  تو اس کا تعلق فقہ یا مسلک سے تھا جیسے کہ حنبلی ، شافعی ، حنفی ، مالکی وغیرہ تصوف سے تو شریعت میں اختلافِ رسوم کا واسطہ کبھی بھی نہیں رہا ۔ تصوف کی راہ تو ہر مسلک کے لیے ہموار رہی ہے۔ صوفی بزرگان دین میں ہر مسلک کے لوگ پائے جاتے ہیں لیکن صبغۃاللہ میں رنگ آمیزی کسی نے نہیں کی اور نہایت رواداری و تحمل و بردباری سے دین حق کی روح تک پہنچے اور عالمِ انسانیت کی خدمت، کائنات کی جستجو اور اپنے خالق و اس کے محبوب سے  اپنے دلی تعلق کو ہی اپنا شعار بنائے رکھا۔ یہ کتاب ایک لحاظ سے موجودہ دور کے بہت سارے اُمڈتے ہوئے سوالات یا الجھنوںکا اطاطہ کرتی ہے ۔مصنف نے بہت سے بگاڑ کا سبب مُلّا ، مولانا ، مولوی ، جذبۂ احترام و عقیدت کو ہی بتایا ہے ۔موجودہ دور کے قلم کاروں اور دانشوروں کے ایک عام رویہ کی طرح اُمت میں ہر خرابی کی جڑ انہیں یہی لوگ یا ان کے رویے نظر آتے ہیں ۔ممتاز صاحب کے علمِ تصوف کا محور ظاہر ہے کہ قدرت اللہ شہاب مرحوم ہی ہیں جنہیںیہ اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں ۔اس سے عقیدت کا اظہار بہت سے پیرائے میں اپنی کتاب لبیک میں کیا ہے ۔ ان کے شیخ کی حقیقت کا انکشاف خود قدرت اللہ شہاب صاحب کی کتاب شہاب نامہ کا آخری باب چھوٹا منہ اور بڑی بات پڑھ کے ہوتا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ عام طور پہ ہمارے دانشور حضرات تصوف کی ایک ماورائی تصویر کھینچتے ہیں اور اس پہ عامل حضرات کو دنیاوی مخلوق نہیں گردانتے لیکن سچ یہ ہے کہ تصوف کسی پر اسرار وبے نام جزیرے میں ، خاکِ خفی سے بنی ہوئی اینٹوں کے محل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طریقۂ کار ہے تحلیلِ نفسی کا اور روحانی طہارت حاصل کرنے کا ایک وسیلہ ہے ۔انسانی فطرت کے تقاضوں کا لحاظ رکھتے ہوئے مختلف سلاسل بن گئے ہیں لیکن سب کی جڑیں محمد  ؐ سے ہی جا ملتی ہیں اور وہی منبعٔ شریعت و طریقت و ولایت ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ صوفی اپنے بے لوث جذبۂ ایثار و خدمت مخلوقِ خداوندی کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا جو اللہ کے دین کا حاصل ہے لیکن اب کیا کہا جائے ، ہر چیز میں ملاوٹ ہے۔ موجودہ دور میں ہر شعبہ زندگی کے بگاڑ کی  خاصی حد تک صحیح تشریح علامہ اقبال رحمہ اللہ نے کی ہے جو خود بھی قلندرانہ صفات کے حامل تھے :   ؎

صوفی کی طریقت میں فقظ  مستئ   احوال   :  ملًا  کی  شریعت  میں  فقط  مستئ  گفتار

شاعر کی نوا  مردہ  و افسردہ  و بے ذوق  :  افکار میں  سر مست   نہ خوابیدہ  نہ بیدار

وہ  مردِ  مجاہد  نظر آتا  نہیں  مجھ  کو   :  ہو جس کے  رگ و پے میں فقط مستئ کردار

          اُسی دور میں نقشبندیہ اور اویسیہ سلسلے کے ایک معتبر بزرگ تھے جن کے انتقال کو کوئی بیس سال سے اوپر ہوا ہوگا ۔حضرت اللہ یار خان رحمہ اللہ انہوں نے تو بغیر کسی ابہام کے یا شاعرانہ تَعَلی کے تصوف کے بارے میں ایک عام غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے اور وضاحت یو ں کی ہے کہ :

 تصوف کیا نہیں ہے ؟: ’ ’ تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے ۔ نہ تعویذ گنڈوں کا نام تصوف ہے ۔نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے۔نہ مقدمات جیتنے کانام نہ قبروں پہ سجدہ کر نے اور ان پہ چادر چڑھانے یا چراغ جلانے کا نام۔نہ آنے والے کل کی خبر دینے کا نام۔نہ اولیأ اللہ کو غیبی ندا کرنا، مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا تصوف ہے ۔ نہ اس میں ٹھیکیداری ہے کہ پیر کی توجہ سے مرید کی اصلاح ہو جائے گی اور سلوک کی دولت بغیر مجاہدہ کے اور بدون اتباعِ سنت رسولؐ حاصل ہو جائے گی ،۔نہ اس میں کشف و الہام کا صحیح اترنا لازمی ہے ،۔نہ وجد و تواجد و رقص و سرود کا نام تصوف ہے ۔ بلکہ یہ سب خرافات اور تصوف کی عین ضد ہیں۔‘‘

تصوف کیا ہے ؟ :  ’ ’ لغت کے اعتبار سے تصوف خواہ صوف ہو اور حقیقت کے اعتبار سے اس کا رشتہ چاہے صفا سے جا ملے اس میں شک نہیں کہ یہ دین کا ایک اہم شعبہ ہے جس کی اساس خلوص فی العمل اور خلوص فی النیت پر ہے اور جس کی غایت تعلق مع اللہ اور حصولِ رضائے الٰہی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطالعے اور نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ وآثار صحابہ سے اس حقیقت کا ثبوت ملتا ہے۔ تمام کمالات اور سارے مناصب صرف اور صرف حضور اکرم  ؐ کی اتباع کی بدولت ہی حاصل ہوتے ہیں۔ علم تصوف کی تعریف اور غایت کے بارے میں اگر کہا جائے تو یہ ہے کہ تصوف وہ علم ہے جس سے نفوس اور تصفیہ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جاتے ہیں تاکہ سعادت ابدی حاصل ہو ۔نفس کی اصلاح ہو اور رب العالمین کی رضا اور اس کی معرفت حاصل ہو۔ تصوف کا موضوع تزکیہ ، تصفیہ اور تعمیر باطن ہے اور اس کا مقصد ابدی سعادت کا حصول ہے ۔ ‘‘

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی   : کہ وہ  حلاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

          میں یہ دیکھتا ہوں کہ آج ہر مسلمان جو غور و فکر کر سکتا ہے اس بات کی تلاش میں ہے کہ آخر کیا بات ہوئی کہ مسلمان  قوم پچھلے ڈھائی سو سال سے تنزلی کے عمیق گڑھے میں گرتی ہی جا رہی ہے ؟ یہی تو وہ امت تھی جو ساڑھے سات سو سال سے زیادہ تمام عالم میں اپنی حکمت و علمیت و تہذیب کا چراغ جلاتی رہی اور اپنے عادلانہ طرز حکومت سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کئے رکھا ۔ پھر کیا ہوا ؟ یہی نا کہ مرکزیت ختم ہو گئی ، یہ امت سے قوم بن گئی اور پھر قبیلہ میں بٹ گئی ، وہ جو تصور تھا کہ اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے،معدوم ہوتا چلا گیا ۔ آج کی ترقی یافتہ قومیں زیادہ عرصہ نہیں بلکہ صرف تین سو سال قبل وحشی قومیں کہلاتی تھیں ، یہ کایا کیوں پلٹ گئی ؟ نہ اللہ بدلا نہ اس کا رسول اور نا ہی سنت الہٰی ، پھر ہم کیوں بدل گئے ؟ وہی کتاب جو اخلاقی و معاشرتی ہدایات کے علاوہ سائنسی معلومات سے بھری ہے جس میںبے شمار آیات میں آفتاب و ماہتاب و آسمان و دنیا و نظام شمسی کی پیدائش و حکمت کا بیان ہے ۔ انسان ، زمین ، سمندر ، پانی ، آگ ، پرندوں ، چوپایوں ، نباتات ، شہد کی مکھی ، مچھلی  کی پیدائش و حکمت کا بیان ہے ، معجزات  و کرامات کی فہرست ہے کہ وہ چاہے توبغیر باپ کے مسیح کی پیدائش ہو یا بغیر باپ اور ماں کے آدم کی پیدائش ہو یا خود ایک عام انسان کی ہی پیدائش کیوں نہ ہو ۔اللہ کے حقوق ہوں یا بندوں کے حقوق ہوں ، سب ہماری نظروں سے کیوں پوشیدہ ہوگئے ؟ غور و تدبر کی عادت ختم ہوگئی ، رواداری اور تحمل کی روایت اٹھ گئی ، منظم زندگی کا معیار بدل گیا ، سب کچھ ساتھ ہی ساتھ بگڑتا چلا گیا ؟    ؎

صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بے ذوق   :  کہ  جذبِ  اندروں  باقی  نہیں  ہے

          اب اس تنزلی اور بے جہتی کا ذمہ دار کسی ایک طبقہ کو ٹھہرانا صحیح نہیںاور نا ہی کسی ایک شعبہ سے متعلق لوگوں کو اس سلسلے میں معتوب قرار دینا جائزہے۔ہاں اس کی منجملہ ذمہ داری ہمارے پڑھے لکھے اور باشعور طبقہ پر ضرور عائد ہوتی ہے۔ وہ کسی شعبہ سے متعلق ہوں یہ حالات ان ہی کی بے شعوری اور بے راہ روی کا نتیجہ ہیں۔ اللہ کی کتاب تو سب کے لئے ہے اسے کسی مخصوص طبقہ کے لئے کیوں سمجھ لیا گیا  ؟ اور پھر وہ حشر ہوا کہ :   ؎

اسی قرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم  :  جس نے  مومن کو  بنایا  مہ و پرویں  کا  امیر

تن بہ تقدیر ہے آج ان کے عمل کا انداز  :  تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

تھا جو  ناخوب  بتدریج  وہی خوب ہوا  : کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں  کا  ضمیر

          دنیا میں سب سے آسان کام تنقید ہے !! صرف اسلاف، صحابہ کرام ، تابعین ، تبع تابعیں ، محدثین  ، آئمہ کرام، اولیا ئے کرام و بزرگانِ دین ، علمائے کرام کو برا بھلا کہنے سے اور صرف ناقدانہ مضامین یا کتاب لکھنے سے اور اپنی محفلوں میں سب کا مذاق اڑانے سے ہمارے مسائل تو حل نہیں ہوتے بلکہ یہ خود ایک منفی رویہ ہے ہر اس  انسان یا انسانی معاشرت کا جو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرنے اور اسے درست کرنے کے بجائے دوسروں پہ لعن و طعن کرے ، حالانکہ ہمارے اسلاف نے جو کام کر دکھایا وہ تو اب تاریخ کا ایک حصہ ہی بن کے رہ گیا ہے۔ کاش ہم سب اس کا عشر عشیر ہی کر پائیں۔ اپنی بیماری کا علاج یہ تو نہیں کہ روشن خیالی کا ڈھونگ رچا لیا جائے اور اللہ اور رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دیا جائے ۔ برائیوں کی فاسقانہ انداز میں ترویج کی جائے اور یہ سب کچھ اس لئے کیا جائے کہ ہمیں اب اپنی شکل آئینہ میں بری لگتی ہے ۔ ذہنی غلامی میں ضمیر کا بدل جانا اسی کو تو کہتے ہیں۔ یہ تو  ہپیؤں  کا فارمولہ ہے کہ دنیا کو حسین بنانے کے لئے خو د توکچھ نہ کرو بس زمانے کو برا کہو یا چرس و ہیروئین کا سوٹا لگا کے بے سدھ پڑے رہو ۔ ہدایات تو ہمیں میسر ہیں ، زندگی اور وقت بھی ہمارے ساتھ ہے۔ تو  پھر کیا چیز آڑے آرہی ہے ؟   ؎

بے  محنتِ پیہم  کوئی  جوہر  نہیں  کھلتا

    روشن  شررِ تیشہ  سے  ہے  خانۂ  فرہاد

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: