Hesham A Syed

January 26, 2009

Fear not Allah is with us ! La Tahzan innAllah maayna !

Filed under: Islam,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 3:52 am
Tags: , ,

Urdu Article : La Tahzan innAllah maayna : Hesham Syed

لا تَحزن اِنَّ اللّہ مَعَنَا۔۔۔( ۹ ۸۳۔۰۴ )

 حزن و ملال ، غم و افسردگی  و خوف ، یاس و حسرت ، مایوسی و قنوطیت کیا ہے ؟ ہر کسی کو دنیا میں کوئی نہ کوئی غم کھائے جارہا ہے۔  طلبِ روزگار کا غم ، کسی شے یا کسی محبوب کے نہ ملنے کا غم اور مل کر بچھڑ جانے یا ضائع ہوجانے کا غم ،  جاہ و حشمت کا غم ، مسند و منبر کا غم ، دولت و ثروت کا غم  اور نہ جانے کیا کیا غم۔

اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس  ہر دم

یہ  ذرہ  نہیں ،  شاید  سمٹا  ہو ا  صحر ا ہے

          کہتے ہیں کہ غم اور خوشی زندگی کے ساتھی ہیں ۔تاہم خوشیوں کے اثرات اتنے دیر پا نہیں ہوتے جتنا کہ غم کے ہوتے ہیں۔ دل میں ایک نامعلوم سی کسک ہمیشہ پلتی رہتی ہے۔ ایک خواہشِ نامعلوم کی بے چینی طاری رہتی ہے ۔ایک تلاش ہے کہ جاری رہتی ہے۔ایک انجانہ سا خوف ہے کہ مسلط رہتا ہے ۔غالبؔ نے کہا کہ:    ؎

قید ِحیات بند غم اصل میں  دونوں  ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

          تو کیا  زندگی میں غم سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ؟ ہے کیوں نہیں !

          غور کیجیے تویہ بے یقینی کی کیفیت ، خلفشار و منفی انداز فکر کا نام ہے ، اپنی پہچان اور اپنے مقصد حیات کے کھو دینے کے اثرات ہیں۔ انتشارِ فکر کا نتیجہ ہے ، راہِ  ہدایت سے الگ ہٹ کر گمراہیوں کے اختیار کر لینے کے اثرات ہیں۔ یہ ساری کیفیت اس بات کو نظر انداز کرنے سے طاری ہوتی ہے کہ عالمِ کُل کا خالق ایک ہی ہے ، پالن ہار بھی ایک ہی ہے اور جب ایسا ہی ہے تو غم کاہے کا ؟   ؎

گر خدا داری  ز غم آزاد  شو 

  از خیالِ بیش و کم آزاد  شو

          جسم و جاں ، عقل و شعور ، علم و فراست ، حکمت و دانش ، مال و دولت ، حال و مستقبل ، عزت و ذلت ، زندگی اور موت سبھی تو اسی وحدہُ لا شریک  لہُ کے دستِ قدرت و منزلت میں ہے تو غم کاہے کا ؟    ؎

پالتا  ہے  بیج کو  مٹی کی  تاریکی میں  کو ن

کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟

          اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس بات کی فکر ہمیں کرنی چاہیے اور جو کام ہمیں کرنا چاہیے وہ ہم کرتے نہیں ۔ ہم انسان نہیں خدا بننا چاہتے ہیں ۔یعنی جن باتوں کی ہدایت اللہ نے ہمیں دی ہے اور جس فکر کی طرف دعوت اللہ کے رسول ؐ نے دی ہے اسے چھوڑ کر ہم  اپنے انداز میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اپنی راہ خود بنا لیتے ہیں چاہے آگے کھائی ہی کیوں نہ ہو اور اللہ تبارک تعالیٰ جو ہم سے یہ کہتا ہے کہ تم میری بتائی ہوئی راہ پہ چلو گے تو میری طرف سے اسکا ایک فطری نتیجہ اچھا نکلے گا اور تم انعامات و اکرامات سے نوازے جاؤ گے۔ اس دنیا میں بھی اس کے اثرات دیکھو گے اور اگلی دنیا میں تو تمھارے اخلاصِ نیت اور میری رحمت کے طفیل انعامات کثیر تو ملے گا ہی۔

          ہم اس زمین کو اپنی میراث سمجھ کر اس پہ دندناتے پھرتے ہیں حالانکہ ہماری حیثیت یہاں صرف اور صرف ایک امین کی ہے ۔ ہم صرف اس بات کے مکلف ہیں کہ اپنی بساط کے مطابق اس زمین پر ہم اللہ کی ساری مخلوقات کی نگہبانی کریں اور اللہ کی بیش بہا انعامات و انوارات کی عدل و انصاف کے ساتھ تقسیم کریں نہ کہ مخلوقات ِ الہٰی کے خدا بن کے بیٹھ جائیں اور ہر شے پہ ناجائز قبضہ کر لیں۔

          انسان کا نفس جب نفسیات بن جائے تو عارضہ شدید ہو جاتا ہے ۔ لالچ ، حسد ، غیبت ، جھوٹ ، مکاری ، عیاری ،  اداکاری ، سفارش ، رشوت ، چوری ، بے عدلی ، خیانت ، بد اخلاقی ، دشنام طرازی ، حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی وغیرہ جیسے عارضے لا حق ہو جاتے ہیں جن میں کچھ تو ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ کینسر یا  ایڈز کی طرح اندر ہی اندر آدمی کو گھلاتے رہتے ہیں اور انسان بے چینی ، ذہنی پریشانی اور بے آرامی کا شکار ہو جاتا ہے ، پھر یہ باطنی بیماریاں اسے زندہ درگور کر دیتی ہیں اور وہ یہ کہنے پہ مجبور ہوجاتا ہے کہ:    ؎

مری روح کی  حقیقت  مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرے  قہقہوں کی  دنیا  مری  ترجمان  نہیں  ہے

          واقعہ یہ ہے کہ آدمی کتنی ہی گمراہیوں کا شکار کیوں نہ ہو اور اپنے خالق و مالک کو بھلا بیٹھا ہو، لیکن جب آفاتِ ارضی ، بحری یا سماوی آجائے تو وہ اللہ کی طرف ہی رجوع کرتا ہے ۔اس کی نگاہیں آسمان کو ہی تکتی رہتی ہیں۔ اسے کسی نادیدہ قوت یا دستِ قدرت کا انتظار رہتا ہے کہ وہ اسے اس ناگہانی مصیبت سے نجات دلائے ۔ ایسی صورت حال میں بڑے سے بڑا ملحد بھی اپنی بے عقلی کی دلیلوں کو چھوڑ کر بارگاہ ایزدی میں سر بسجود ہو جاتا ہے۔ زندگی کا چراغ بجھنے والا ہو تو فرعون بھی اللہ پہ ایمان لے آتا ہے۔ اپنی خدائی اور سر کشی کو بھول کر عالمِ اضطراب میں اللہ کے سامنے اپنا دست دراز کر دیتا ہے۔ ] ’ ’  وہی  تو ہے جس کے سامنے زمین و آسمان کی ہر مخلوق بے کس و مجبور ہے اور دست سوال داراز کئے ہوئے ہے اور اسی کے کارخانہ قدرت و نظام تکوینی کے  تحت کسی کو عزت ، کسی کو ذلت ، کسی کو زندگی ، کسی کو موت بٹ رہی ہوتی ہے ( قرآن ۵۵: ۹۲) ‘‘ [۔ 

           آئیے دیکھتے ہیں کہ قنوطیت ، افسردگی ، گھبراہٹ ، بے دلی ، بے زاری ، نا امیدی  یہاں تک کہ خود کشی کی خواہش جیسے امراض سے نکلنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے ۔ یہ ساری بیماریاں چونکہ ذ ہنی ، قلبی  یا نفسانی طرز کی ہیں سو ان کا علاج بھی انداز فکر کی تبدیلی سے ہی ہو سکتا ہے یا کیا جا سکتا ہے۔ ایسے امراض کا علاج ایسے مراقبات ہیں یعنی عادتاً ایسے غور و فکر کو اختیار کرنا جس سے فطرت میں یا طبیعت میں انشراح پیدا ہو  اور مثبت روئیے کی طرف پیش قدمی ہو۔

۱)  جو گزر گیا  وہ گزر گیا  :     ؎             یادِ  ماضی  عذاب  ہے   یارب 

                                         چھین لے مجھ  سے  حافظہ  میرا  

بلا شبہ ایسا  ہی ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ماضی سے جڑا رہتا ہے اور ماضی کی خوشگوار یادیں اور کبھی کوئی تلخ یاد اسے حال سے متنفر کئے دیتی ہے ، یہاں تک کہ زندگی ، یعنی مستقبل بھی اسے تاریک نظر آنے لگتا ہے۔ یہ بھی اکثر لوگوں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ حال سے کبھی مطمئن نہیں رہتے۔ کوئی پدرم سلطان بود کا راگ الاپتا ہے تو کسی میں ماضی میں گزرے ہوئے حادثات یا واقعات کی تلخی کا زہر اس کی رگوں میں خون کے ساتھ دوڑ رہا ہوتا ہے اور  اسے ایک نفسیانی مریض بنا دیتا ہے۔ ہم میں سے اکثر اس بات پہ بھی بحث و وقت صرف کر کے ہلکان ہوئے جاتے اور آپس میں ایک دوسرے سے دشمنی تک مول لیتے ہیں کہ ماضی میں کسی اورنے کس کے ساتھ کیا کیا چاہے اس کا تعلق ان سے ہو نہ ہو ۔ یہ بھی ایک منفی ہے۔ جو  قومیں گزر گئیں یا جو لوگ گزر گئے وہ گزر گئے ، جو انہوں نے اپنی زندگی میں برائی یا اچھائی کمائی وہ ان کے لئے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے وہ تمھارے لئے ہے ، تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے تھے(القرآن ۲ ۴۳۱ ):  سو گزرے موسم کا کیا سوچنا نئے موسم کی تیاری کریں۔   ؎

کیوں  زیاں کار  بنوں  سود  فراموش  رہوں

فکر ِ  فردا  نہ  کروں  محو  غمِ  دوش  رہوں  ؟

۲)  جو آج ہے وہی آپ کا سب کچھ ہے ، کل ہو نہ ہو !

سویرے آنکھ کھلے تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ ایک نئی زندگی آج پھر ملی ، کل تک جو گزری اس کے تجربے کی روشنی میں آج جی ہاں آج ایک روشن و کامیاب زندگی گزارنے کا ارادہ کر لیں ۔اس لئے آپ کے پاس جو ہے وہ سب کچھ آج ہی ہے۔ اپنی گزشتہ یعنی گزرے ہوئے کل کی کوتاہیوں یا غلطیوں کا سد باب اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی معافی اللہ سے خلوص دل سے طلب کریں اور آج کے لئے ایک نیا عہد اپنے خالق و مالک سے کریں کہ آج آپ کوئی کام ایسا نہیں کریں گے جو اللہ کی ہدایت اور حکم کے خلاف ہو۔

          جو وسائل و خصوصیات اللہ نے آپ کو عطا کئے ہیں ان پہ قانع ہو کر اس کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ذہنی و جسمانی قوتوں کو مفید کاموں میں صرف کریں۔ سو جو کچھ کہ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس کا جائزا ستعمال کرو اور شکر گزار رہو ۔(القرآن ۷  ۴۴۱ )۔

          آج آپ کو جو زندگی ملی ہوئی ہے کیا پتہ کل ہو نہ ہو ، آج محنت اور ایسے کام کریںکہ سو سال کی زندگی کی تیاری ہو لیکن دل میں ہر پل یہ احساس اجاگر رہے کہ کسی پل بھی یہاں سے چلے جانا ہے۔ آج کے لئے صبح ہی صبح کاموں کی ایک فہرست مرتب کر لیں اور یہ بھی لکھ لیں کہ آج کا دن آپ جھوٹ ، غصہ ، حسد ، غیبت ، نفرت و تعصب و بے ایمانی جیسی برائیوںسے دور رہیں گے۔ آج آپ ہر ایک سے خوش اسلوبی سے پیش آئیں گے اور حسنِ تکلم اختیار کریں گے۔ آج آپ اپنی جسمانی اور باطنی صفائی ورزش کا اہتمام رکھیں گے ۔آج آپ کسی نہ کسی کی مدد ضرور کریں گے۔کسی کے دکھ درد میں شریک ضرور ہونگے ۔آج آپ اپنے گھریلو اور دفتر و باہر کی ذمہ داریوں کو بہ حسن و خوبی نبھائیں گے۔ آج ہی آپ اس بات کی کوشش کریں گے کہ آپ دوسروں کے لئے ایک اچھی مثال بنیں اور کوئی ایسا کام ضرور کریں گے کہ کل لوگ آپ کو یاد رکھ سکیں۔ آج ہی آپ اس شخص سے جس کے ساتھ کل زیادتی کر بیٹھے تھے معافی طلب کر لیں گے اور اس کا ازالہ فرمائیں گے ـکیونکہ ـکیا پتہ کل ہو نہ ہو !    ؎

منظر  چمنستاں  زیبا  ہوں کہ  نا  زیبا

محرومِ  عمل  نرگس  مجبور ِ  تماشہ  ہے

۳) کل کا خوف کیوں :

مستقبل یعنی کل کا استقبال کرنے کی بجائے اس سے خوف کیوں کھایا جائے ؟ آج کا دن اللہ کی رضا سے کامیاب گزار لیااگر کل زندگی میں آیا تو کل بھی اچھا گزرے گا ، اُس سے خوف کاہے کا ؟ زندگی سے ایسی توقعات ہی کیوں وابستہ کی جائیںکہ کل ایک بوجھ بن جائے ؟ کل کے دن تو کل آنے پہ ہی نپٹا جا سکتا ہے ۔ جو صاحب یقین ہیں انہیں زمانے سے یا وقت سے شکایت ہی کیوں ہو۔ ان کے پاس اس خوف سے چھٹکارے کا سب سے بڑا ہتھیاراللہ حافظ وناصر کا ہر دم ان کے ساتھ ہونا ہے۔ قضا اور قدر تو ہمارے اعتقاد کا حصہ ہے ، ہم صرف اس بات کے مکلف ہیں کہ اللہ کے بتائے ہوئے احکام کی پیروی کریں بقیہ دنیا میں کیا اورکچھ کب ہو گا یہ سارا معاملہ اللہ کا ہے اور اس کے نظامِ فطرت و نظام تکوینی کا ہے ، ہم اگر صرف اس کے احکام کے پابند ہیں تو مستقبل تابناک ہوگا ، دشواریاں ، پریشانیاں ، جد و جہد یہ سب قوانینِ فطرت کا حصہ ہیں ۔ان سے نہ ڈرنا چاہیے اور نہ گھبرانا چاہیے اور نہ نا امید ہونے کی ضرورت ہے ۔ 

          بات یہ ہو رہی تھی کہ ان دیکھے کل کے خوف سے آج مرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ آج کا دن با مقصد گزار لیا ہے تو کل بالامید تابناک ہی ہوگا ۔ کوئی آفت اچانک آنی ہے تو جب آئے گی دیکھی جائے گی۔ کوئی پہاڑ ٹوٹ پڑے ، کوئی زلزلہ آجائے ، کوئی سیلاب امڈ پڑے ، کسی کی اچانک موت آجائے ، کوئی طوفان آجائے ، کوئی بیماری وبا کی صورت پھیل جائے تو اس کا سدباب قبل از وقت کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ یہ ضرور ہے کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے  نہیں رہنا چاہیے ، بجائے اسکے کہ کل کے خوف میں ہم نفسانی بیماری کا شکار ہوجائیں۔ ہمیں قدرت کے اور زمینی یا سیاروں کی گردش کے بہت سارے تخریبی عمل سے بچنے کے لئے بھی آج ہی اپنی عقل استعمال کر کے اپنے کل کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔ اگر ہم نے زندگی اللہ کے احکام اور قانون قدرت کے مطابق گزاری ہے تو عذابِ الہیٰ کے بھی ٹل جانے کی امید رکھنی چاہیے۔ احکام الہٰی کے پابند ہونے سے مراد  صرف یہ نہیں ہے کہ دن رات ظاہری نماز ادا کرتے رہیں بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی کائنات میں اپنے اشرف المخلوقات ہونے اور واقعتاً اﷲ کے بندے ہونے کا ثبوت یوں فراہم کریں کہ:    ؎

چاہے تو بدل ڈالے  ہیئت چمنستاں کی

وہ ہستیِ  دانا ہے ،  بینا ہے ،  توانا  ہے

          بہت سے عذاب تو ایسے ہیں جن پہ انسان کے تحقیقی اور نظامِ کائنات کی جستجو و تسخیری عمل نے اسے مغلوب کر لیا ہے۔ مثلاً ہیضہ،نمونیہ ، ٹی بی ،چیچک کبھی وبائی اور مہلک بیماریاں تھیں، اب ان کا سہل علاج دستیاب ہے ۔ وہ ملک جو سطح سمندر سے نیچے ہے وہاں کے لوگوں نے اپنی حکمت عملی سے اس ملک کو سیلاب کے عذاب سے محفوظ کر لیا ہے۔اسی طرح کی بے شمار مثالیں دنیا میں ایسے انسانوں سے بھری ہیں جو ہر لمحہ اک نئی آن بان کے ساتھ زندہ ہیں اور زندگی کو ایک نیا مفہوم پہنا رہے ہیں۔

تسلیم کی خوگر ہے جو  چیز ہے دنیا  میں

انسان کی  ہر قوت  سر گرم ِ  تقاضا  ہے

          مستقبل کے حوالے سے ایک خوف انسان پہ رزق کی تنگی کا بھی غالب رہتا ہے ، اور اسی خوف کی وجہ سے انسانی آبادی دو حصوں میں منقسم ہوتی جارہی ہے ، ایک وہ جو ارتکازِ دولت میں مصروف ہے کہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ محفوظ کر لیا جائے ۔کیونکہ مادیت پرستی اور دنیاوی لالچ کے پیچھے بھی جو محرکات ہیں وہ  انجانا سا خوف ہی ہے اور دوسرا سب سے بڑا گروہ وہ ہے جو پہلے گروہ کے ظلم کا شکار ہے اور ان کے ستم کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی نسل کی آبیاری بھی اس خوف سے نہیں کر پاتا۔

’’  اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ( یعنی ضبط اولاد نہ کرو یا کسی اور طور پہ ان کی آبیاری یا پروان چڑھانے میں پس و پیش نہ کرو ) کیونکہ ہم ( اللہ) تمھیں رزق دیتے ہیں تو اسے بھی دیں گے ] قران ۶  ۱۵۱ [۔ کتنے ہی جاندار ہیں جو اپنا رزق اپنے کاندھوں پہ اٹھائے نہیں پھرتے ( یعنی ان میں رزق حاصل کرنے کی خود کوئی اپنی پیدا کردہ صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ یہ قوت و صلاحیت وسائل و توفیق اللہ کی طرف سے نصیب ہو تی ہے)، اللہ ان کو بھی رزق دیتا ہے اور تمھیں بھی۔وہی سب کچھ اور سب کی سنتا ہے اور جانتا ہے (القرآن  ۹۲  ۰۶)۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ صرف نفسانی خواہشات و تقاضوں کے لئے ارتکاز دولت کا عمل شیطانی ہے اور وہ اللہ کو ناپسند ہے۔ جو لوگوں کے ساتھ نا انصافی کر کے اور ناجائز طریقے سے رزق یا دولت کا حصول کرتے ہیں وہ دولت یا رزق اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ اس کے قوانین کی خلاف ورزی سے

 حا صل کی جاتی ہے جس کا حساب آخرت میں تو دینا  ہی  ہو گا ، ااس کے اکثر نتا ئج اسی دنیا میں ظاہر ہوجاتے ہیں۔ ’’ تباہی ہے اس شخص کی  جو طعن و تشنع اور غیبت کرے اور مال کو گن گن کر جمع کرتا رہے ، تو کیا وہ سمجھتا ہے کہ یہ مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا ؟ ہر گز نہیں ایسا شخص تو چکنا چور کردینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا ( دنیا میں بھی ایسے حالات کا شکار ہوگا جہاں وہ وحشت و انتشارمیں مبتلا ہوگا ) اور تم کیا جانو کہ وہ چکنا چور کردینے والی جگہ کیا ہےـ یہ وہ آگ ہے جو اللہ کے بنائے ہوئے قوانین سے بھڑکی ہوئی ہے جو دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ایسا شخص اس آگ کے تندورمیں جھونک دیا جائے گا جس کے دھانے کو ڈھانپ دیا جائے گا ، وہ آگ کے ستونوں میں گھرا ہوا ہوگا (اور نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی) ‘‘ ] قرآن ۴۰۱ [ ۔ آخرت میں تو انجام کار ہوگا سو ہو گا ، دنیا میں اس آگ کا دلوں تک پہنچنے کی تمثیل حسد و وحشت و گھبراہٹ و بے چینی میں گرفتار رہنا ہے یا اس کا شکار ہوجانا ہے۔    ؎

مومن پہ گراں ہیں یہ شب  و  روز      دین   و   دولت ،  قمار  بازی

ہمت  ہو  اگر  تو ڈھونڈ  وہ   فقر     جس  فقر کی  اصل ہے  حجازی

           حلال کی کمائی ہوئی دولت سے خوشیاں ہی خریدنے کا طریقہ یہ ہے تو اس دولت کا جائز استعمال کریں اور لوگوں کی حاجت روائی کریں۔ خود بخود دل سے بے چینی اور وحشت ختم ہو جائیگی اور یک گونہ مسرت و سکون میسر آئے گا۔ حقوق العباد بھی اصل میں حقوق اللہ سے مختلف چیز نہیں ۔ ’’ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ] قرآن ۲ ۵۹۱ [۔ جو کوئی احسان کا راستہ اختیار کرے گا تو ہم ( اللہ ) اس میں احسان در احسان بڑھا دینگے] قرآن  ۴۲ ۳۲ [۔ اب آپ خود ہی اندازہ کر لیں کہ کسی پہ اللہ کا احسان کس درجہ کا ہو سکتا ہے۔

           معاشرتی معاملات و روابط میں بھی انسان احسان کا رویہ اختیار رکھے تو اس کی پریشانیاں رفع ہو جاتی ہیں ۔ کسی کی برائی کو بھی حسن و خوبی سے رفع کرنے سے ایک صحتمند معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے ۔ ہر انسان کے لئے سب سے پہلے جو احسان کے حقدار ہیں وہ اس کے والدین ہیں اور اسی طرح دوسرے اعزا و اقربا احباب دوست و اغیار  وغیرہ اپنے اپنے درجہ میں اس کے مستحق ہیں۔جو وقت و مال کسی پہ احسان کرنے میں خرچ کیا جائے وہ بھی اللہ کے یہاں اس طرح مقبول ہے کہ اس میں خلوص شامل ہو ریاکاری یا اپنی نام و نمود کو دخل نہ ہو۔ اللہ کے یہاں اخلاص سے خرچ کیا ہوا ایک روپیہ یا ایک ڈالر یا ایک درہم کی بھی بڑی قدر ہے ۔ اللہ کا یہ بھی وعدہ ہے کہ خلوص نیت کے کئے گئے ہر عمل کا اجر تو آخرت میں ہے ہی اس دنیا میں بھی دسیوں بلکہ سینکڑوں کی ضرب سے یہ مال کسی نہ کسی شکل میں اللہ اپنے بندوں کو لوٹا دیتا ہے۔ بندے کے خرچ کئے ہوئے مال کو اللہ اپنے لئے قرضہ سمجھتا ہے اور جب بندوں پہ ایک دوسرے کا قرضہ لوٹانے پہ سخت تاکید ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ اس مال کے لوٹانے میں تاخیر کرے ۔بلکہ یہ تو صرف ایک بہانہ ہے اللہ کا اپنے بندوں پہ خود احسان کرنے کا تاکہ بندے کو اس بات سے بھی خوشی حاصل ہو کہ جیسے یہ نعمت جو اللہ کی طرف سے آئی ہے وہ اس کے اپنے اچھے عمل کا نتیجہ ہے حالانکہ اس عمل کی توفیق بھی اللہ کی طرف سے ہے اور جو مال اس نے خرچ کیا ہے وہ بھی اللہ ہی کی دین ہے۔یہ سارا معاملہ ایسے ہے جیسے کہ شفیق باپ کا ہوتا ہے ، جب باپ اپنے چھوٹے سے بچے یا بچی کو ایک روپیہ دے کر یہ کہتا ہے کہ وہ اسے واپس کر دے تو دس یا سو روپیہ دے گا ، کچھ بچے اس میں پس و پیش کرتے ہیں توکچھ اسے لوٹا کر مزید شفقت کے حقدار بن جاتے ہیں۔ ’وَ اَقرض اللہ قرضاً حسنا‘ ۔ اللہ کو قرض دو کہ وہ اس قرض کا بہترین لوٹانے والا ہے ۔ یہ پیار و محبت کی گفتگو ہے ورنہ بھلا اللہ کو قرض کی کیا حاجت ہے ، وہ کائنات کا خالق ہے ، وہی مالک کل ہے ، وہی معطی ہے ؟ بندوں کا کام بندوں سے ہی چلتا ہے ، بندوں کی حاجت روائی کرنے والوں کا حاجت روا اللہ بن جاتا ہے۔ قرآن میں ایک نہیں سینکڑوں ایسی آیات ہیں جس میں اللہ نے بندوں کو  اپنے اس تعلق کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔عمومی طور پہ چونکہ انسان منفعت پسند واقع ہوا ہے اس لئے ہر عمل کے پیچھے اسے کسی فائدے کی امید ہوتی ہے ، انسان جب انسانیت کے تکمیلی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے تو اسے ثواب کی امید اور عذاب کا اندیشہ ڈرائے رکھتا ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اس کی تربیت ہو چکی ہوتی ہے اور وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کی مخلوق کی محبت میں سب کچھ نثار کر دیتا ہے یہاں تک کہ اپنی جان بھی۔ اسے نہ دوزخ کا خوف لاحق ہوتا ہے اور نہ جنت کی بشارت اس کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔وہ صرف اور صرف اللہ کا بن کے رہ جاتا ہے۔ دنیا کا خوف ، لالچ و طمع ، نام و نمود ، سجادہ و دلق ، محراب و منمبر ، محفل اور انجمن ، سب کچھ ہیچ نظر آنے لگتا ہے ۔ تب اسے قیام و سجود کا فہم ہوتا ہے ، اس کی حقیقت سے روشناس ہوتا ہے ، جیسا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی  ؒ نے فرمایا کہ مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ’ میں اپنی حاجت روائی کے لئے اللہ کے بجائے اللہ کی مخلوق کے سامنے گزارش گزار ہوں‘۔ ہر بلند ایواں کے آگے جبیں سائی کرنے کی کلفت و اذیت سے انسان آزاد ہوجاتا  ہے ۔ سو یہی توکیفیت ہے انسان کی باطنی مسرت کی :    ؎

وہ  ایک سجدہ  جسے  تو گراں سمجھتا  ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

          اگر یہ بات دل میں جا گزیں ہو جائے کہ : ’نہ تھا کچھ تو خدا تھا  کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ‘ تو پھر غم کاہے کا ؟ جو ہے وہ سب کچھ ہی اسی خالق کا ہے اسی مالک کا ہے ، دنیا بھی اسی کی ، آسمان و کہکشاں بھی اس کے ، ستارے اور سیارے بھی اس کے موسم بھی اس کے ، دن و رات کے تغیرات بھی اس کے ، سماوات اورارض بھی اس کے، جنت و جہنم بھی اس کے ، ہم بھی اس کے ، ہماری زندگی اور موت بھی اس کی ، بات ساری کی ساری اور صرف اتنی سی ہے کہ ہم شعوری طور پہ اسے اپنا بنا لیں۔

          اس مضمون کا خلاصہ و مفہوم بھی یہی ہے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ، یہی وہ بات تھی جو اللہ کے رسول و حبیب  ؐ نے اپنے رفیق سے غار ثور میں کہی تھی اور اس بات کواللہ نے اپنے کلام قران کا حصہ بنا دیا۔ یہ بات اللہ کے رسول  ؐ کی زبان مبارک سے اس وقت ادا ہوئی جب دشمنانِ رسول قاتلوں کا گروہ رسول اﷲ  ؐ کو تلاش کرتے ہوئے غارِ ثور کے دھانے پہ آگیا۔وہ اندر جھانک کے دیکھ لیتا تو نبی آخر سرور کائنات ؐ اور صدیق اکبر  ؓ  انہیں نظر آجاتے ، حضرت ابو بکر  ؓ فکرمند ہوگئے کہ اب موت و حیات کے درمیان صرف ایک لمحہ کا فاصلہ رہ گیا ہے کہ وہ دونوں قاتلوں کے گروہ کے ہاتھ لگ جائیں مگر ایک حق الیقین سے بھر پور آواز عرش ِ بریں سے لوح ِمحفوظ سے اتری اور سینہ ٔ  اطہر سے ہوتی ہوئی یوں ادا ہوئی  ۔  لا تَحزن اِنَّ اللّہ مَعَنَا۔۔۔غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ آواز صرف اس غار میں ایک بار نہیں گونجی بلکہ اس کی باز گشت سماوات وارض میں قیامت اور اس کے بعد بھی سنائی دیتی رہے گی ۔ یہ آواز یہ باز گشت ہر اُس انسان کے سینے میں گونجتی ہے جب  وہ اپنی بشریت کے تقاضوں کے تحت عالم ِخوف سے دوچار ہوتا ہے ، لیکن اللہ کے دامن کو پکڑ ے رہتا ہے ، یہ آواز صرف غم سے نجات ہی نہیں دلاتی بلکہ یہ نو  یدِ مسرت بھی ہے کہ اللہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہے ۔!

گرچہ  تو زندانیء اسباب ہے     قلب  کو  لیکن ذرا  آزاد  رکھ

عقل کو  تنقید سے  فرصت  نہیں     عشق  پر  ا عمال  کی  بنیاد  رکھ

اے مسلماں ہر گھڑی  پیش  ِ نظر      آیہ  لا یخلفُ المیعاد  رکھ

یہ لسان  العصر  کا پیغام ہے      انَّ وَعَدَ اللہ  حق ً  یاد  رکھ

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: