Hesham A Syed

January 26, 2009

Fear & Our Life – urdu article

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 3:48 am
Tags:

Urdu Article : Khauf o Haraas aur hamaari zindagee : Hesham Syed

خوف و ہراس اور ہماری زندگی

جب بھی اپنے ماحول کا جائزہ لیا تو یہ بات ذہن میں آئی کہ ہم عالمِ خوف میں جی رہے ہیں ۔ کیا خوف ہماری نفسیات کا حصہ بن گیا ہے ؟ بچے ہیں تو والدین کا خوف ۔ بڑے ہیں تو بزرگوں کا خوف ۔بیوی کا خوف ۔شوہر کا خوف ۔دشمن تو دشمن دوستوں کا خوف ۔ روٹی ،کپڑا،مکان کا خوف ۔ نادہندگی کا خوف ۔بے روزگاری و بیماری کا خوف۔ جیئے جانے کا خوف بلکہ جیتے رہنے کا خوف۔ مر جانے کا خوف۔ آسمانی بلاؤں کا خوف ۔حکومت و سیاستدانوں کا خوف۔ افسر کا خوف اور اپنے ماتحت کا خوف ۔ دہشت و وحشت گردوں کا خوف۔ بچوں کی ناخلفی کا خوف ۔بچوں کی زندگی اور ان کے ماحول کا خوف۔ امن ِعامہ کے اداروں کا خوف۔ پولیس اور فوج کا خوف۔ اپنی بے عزتی اور کسمپرسی کا خوف ۔سودی کاروبار و رشوت ستانی کا خوف ۔ وضو کے ٹوٹ جانے اور نماز کے قضا ہو جانے کا خوف۔ زکوٰۃ کے ادا کرنے کا خوف ۔ ٹیکس دینے اور اس کے بچانے کی ترکیبوںکے پکڑے جانے کا خوف ۔ سچ بات کا خوف ۔ نیتوں میں فتور کا خوف ۔ ڈھلتی ہوئی عمر کا خوف۔ شوہر و بیوی میں بے وفائی کا خوف۔ خوداپنی ذات سے خوف اور کسی خوف کے نہ ہونے کا بھی خوف سب سے بڑھ کر اپنے خالقِ حقیقی اپنے اُس مالک کا خوف جو اپنے بندوں کا کفیل ،وکیل ،حفیظ ہے ا ور ان پر بے حد و حساب ،رحیم و کریم ہے ؟

(        کبھی ہم نے سوچا ہے کہ خوف ہماری نفسیات پہ کیسا منفی اثر ڈالتا ہے ؟ ہمارے مبلغین ، اساتذہ ،  والدین کے ہی تحت الشعور میں اگر عناصرِ خوف جاگزیں ہو تو اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ پوری کی پوری نسل کی سوچ و فکر کا محور ایک غیر یقینی صورتحال و خوف و ہراس ہی ہوگا۔ پھر اس زندگی سے جوقدرت کا ایک تحفۂ عظیم ہے انہیں کیا دلچسپی باقی رہ جائے گی ۔ ایسے ماحول میں جو ادب تخلیق ہوگا اس میں بھی قنوطیت پائی جائے گی اور جو تہذیب وثقافت جنم لے گی یا جو رویہ ابھر کر سامنے آئے گا اس میں بھی ڈر نمایاں ہو گا اس سے ایک ماحول بے اعتمادی کا تشکیل پائے گا۔

          ہستی اک فریب ، عالم حلقۂ دامِ خیال ، کائنات تَوہم کا کارخانہ ہو کے رہ جائے گا ۔ غم سے نجات موت ہی میںمضمر ہوگا ، بارش آنسوؤں کی تمثیل ہوجائے گی ، آسمان سے صرف بلائیں اترتی نظر آئیںگی ، بجلیاں ہر وقت  نشیمن کے تعاقب میں ہی دکھائی دیںگی، دنیا کو سنوارنے کے لئے کسی قسم کی جدوجہد تضیع اوقات ہو گی، الغرض آدمی  ایک کنوئیں کے مینڈک کی طرح زندگی گزارے اور اسی سیلن زدہ پانی کو بقائے حیات جانے۔ہر سعی لا حاصل ہر عمل بے جا اور بے محل گویا کہ    جی کر ہم شرمندہ ہیں    والی کیفیت ہر وقت طاری رہے گی۔

          مجھے اپنا ایک واقعہ یاد ہے کہ ایک بار میںایک مسجد میں کسی واعظ کا خطاب سننے چلاگیا ۔ اس دن اتفاق سے حضرت کے پاس زور خطابت کے لئے موضوع ’جہنم ‘ہی تھا ۔ انہوں نے دوزخ کا وہ نقشہ کھینچا اور اللہ سے اس قدر خوف دلایا کہ مجھے لگا کہ اگر تھوڑی دیر میں اور بیٹھا رہا تو جان سے جاتا رہوں گا۔ حضرت کو کیا پتہ کہ ان کی زوربیانی نے کتنے لوگوں کی زندگی کو یہیں جہنم بنا ڈالا ہوا ہے۔ ایک آدمی جو اپنے روزمرہ کے مسائل سے پہلے ہی پریشان ہو وہ ایسے مبلغین کے ہاتھ لگ جائے تو ذہنی جمود کا شکار کیوں نہ ہو ؟ اسے اپنا وجو د زمین پہ بوجھ نہ لگے توکیا لگے؟یااپنی ہر فطری خواہش کے آگے وہ ایک ملزم بنا رہے اور اپنے جسم و جاں کی قید میں پھڑ پھڑاتا رہے۔اس بات کا جواب کوئی تو دے کہ اگر اللہ کو یہ دنیا اتنی ناپسندیدہ ہے تو اسے بنا یا ہی کیوں تھا اور اگر انسان کے بنانے کا مقصد صرف جہنم کو اس سے بھرنا ہے تو پھر اللہ کی کیسی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔( استغفراللہ ) ۔

          اس تصویر کشی کے ذمہ دار ایسے ہی مبلغین ہیں جو اپنے چاروں طرف آدمیوں کو ذہنی مریض بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اللہ کی ایسی تصویر میرے ذہن میں کبھی نہیں آئی۔ اللہ تبارک تعالیٰ سے میرا تعلق دوستانہ ، ہمدردانہ ، مشفقانہ ، رحیمانہ ہیں ۔میں ہمیشہ احباب و دوستوں کو یہی کہتا ہوں کہ اللہ کی عبادت بھی اس کی محبت میں ڈوب کر کرو پھر دیکھو کہ تمہاری روح کن بلندیوں کی جانب پرواز کرتی ہے۔ میں اگر یہ کہدوں کہ میں اللہ سے کلام کرتا ہوں تو نہ جانے مفتیانِ دین اسے کیا سمجھیں ، کتنے فتوے میرا سر قلم کرنے کے وارد ہوجائیں گے۔ متشدد طبقہ جو اللہ سبحانہُ اور اس کے رسول  ؐ کو اپنی میراث سمجھتا ہے اور اکثر ان سے بھی بڑھ کر اس دنیا میں ایسے قوانین کا نفاذ کرنا چاہتا ہے جس سے صرف ان جیسے ہی لوگ زندہ رہ سکیں۔ وہ یہ گستاخی کیسے برداشت کریں گے کہ ہم جیسا معمولی شخص اللہ کے اتنا قریب بھی ہو سکتا ہے۔ کیا یہ قولِ رسولؐ  نہیں کہ نمازاس طرح ادا کرو کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو ورنہ کم سے کم یہ خیال کرو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ان جیسے لوگوں کے نذدیک تو اللہ پوشیدہ ہے۔وہ آسمانوں میں کہیں کسی عرش پہ  تخت پہ جلوہ گر ہے اور دوزخ کی آگ دھکا کر خوش ہے ، وہ فقط متکبر ، قہار و جبار ہے ۔ان کی پر زور خطابت میں یہ بات نمایاں کیوں نہیں ہوتی کہ وہی سمیع و بصیر و حی و قیوم ہمہ وقت اپنے بندوں کی شہ رگ سے قریب ہے۔وہ ان کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے۔اس کی رحمت اس کے غضب پہ حاوی ہے۔ کیا ان لوگوں تک یہ بات نہیں پہنچی کہ اللہ سے جو جیسا گمان رکھتا ہے اسے اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی ملتا ہے ۔ یہ لوگ تو اس بات کو بھی ماننے کو تیار نہیں کہ محبوب ِ خدا اور رحمت ِعالم ؐنے بھی کبھی اللہ سے کلام کیا ہوگا یا اللہ کا دیدار کیا ہوگا۔ ان کے پاس روایتوں کا ایسا ذخیرہ ہے کہ جس سے وہ غصِ بصر کا شکار ہوگئے ہیں۔قال اللہ اور قال رسول ؐ  تو وہ ہمہ وقت کہتے رہتے ہیں لیکن وہ لوگ خود دیکھنے ، سننے ، سوچنے سمجھنے سے قاصر ہیں۔یہ اللہ خالقِ کائنات اور اس کی لا انتہا قدرت کو بھی ایک محدود دائرہ میں گھرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔کبھی معراجِ مصطفیؐ  کے روحانی یا جسمانی ہونے پر جھگڑا ۔ کبھی معجزاتِ رسول ؐ سے انکار۔ کہیں اُنؐ کے علم الغیب پہ موشگافیاں ۔ کہیں قران کو اُنؐ سے الگ کر کے پڑھنے کی تحریک۔ کہیں رسولؐ سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار بدعت و شرک ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اذان تو کجا دعاؤں میں وسیلہ رسول ؐ کو گمراہی اور نماز میں بھی درود و سلام کا پڑھنا شرک خیال کرتے ہیں۔ پھر اگر پردۂ غیب دراصل ان کی عقلوں پہ پڑا ہوا پردہ نہ ہو تو کیا ہو !

          یہ حقیقت ہے کہ کوئی انسان اس وقت تک کوئی سود مند فکری تخلیق سے نہیں گزرتا جب تک کہ اسے ذہنی اطمینان نہ ہو ۔ دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ قومیں ہیں ان میں ایک بات تو عام ہے کہ انہوں نے اپنے معاشرے اور نظامِ سلطنت اور تعلیمی و تربیتی اداروں میں ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں ہر بچہ بڑا بلا خوف و خطر اپنی ایک انفرادی رائے رکھتا ہے اور بڑی خود اعتمادی سے اپنی زندگی گزارتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ امت مسلمہ کی صدیوں سے گرتی ہوئی حالت کی بھی ذمہ دار خوف و ہراس کی کیفیت کا ان کی فطرت میں سمو جانا ہے۔ صدیوں سے ایک منظم طریقے سے ہمیں اس بیماری میں مبتلا رکھا گیا ہے ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ خوف و ہراس و بے یقینی کی حالت ہی در اصل غلامانہ ذہن اور مشرکانہ عقائد کو جِلا بخشتی ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس خوف و ہراس کی کیفیت سے جلد سے جلد نکلنا ہے۔ ہر وہ فکر و عمل جو انسان کو اللہ سے اور اللہ والوں سے محبت کرنا سکھائے ، اور آدمی کو ہر قسم کے تَوہمات و خوف و ہراس سے نجات دلائے وہی پیامِ شوکت ِ انسانیت اور پیغامِ اسلام ہے۔ کہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر۔    ؎

جرأت ہو نمو کی تو فضا تنگ نہیں  ہے  

 اے مردِ خدا ملکِ خدا تنگ نہیں  ہے

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: