Hesham A Syed

February 3, 2009

EarthQuake – Sonami

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:05 pm
Tags: ,

Urdu Article : Sonaamy Zilzilah : Hesham Syed

سونامی زلزلہ ا ور سمندری طوفان

حالیہ سونامی زلزلہ اور سمندری طوفان کے بارے میں مختلف رائے اور ان کا تجزیہ 

 

یہ عذاب آیا تو اکثر نے یہی کہا کہ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ۔ میرے نزدیک یہاں مسلمان سے مراد ایک عام انسان ہے جو اپنی زندگی کی تگ و دو میں مصروف ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں زیادہ تر مسلمان ہی تھے ۔یہ سوا لاکھ سے زیادہ جانوں کے ضیاء سے اور ۰۵ پچاس لاکھ سے زیادہ متاثرہ افراد کے بارے میں یہ سمجھنا کہ سب گنہگار لوگ تھے اور اسے طوفان نوح اور دیگر عذاب الہیٰ جو تاریخ میں درج ہیں خود شقی القلبی اور فکر کی گمراہی ہے ۔ اگر یہ عذاب ِ الہیٰ ہے تو یہ زلزلہ اور طوفان ان علاقوں میں ہی کیوں آیا ؟ بد اعمالیوں اور شیطان کی وحشت نگری تو کہیں اور ہے ؟ اس کا جواب تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ وہ جگہ کہیں اور کہاں ہے جہاں کہ یہ تباہی آنی چاہیے تھی یہ قارئین کرام ہی سمجھ سکتے ہیں اور اللہ کو آئندہ کے لئے مشورہ بھی دے سکتے ہیں ۔ خیال یہی ہے کہ سفید گھروں میں رہنے والے سفید خون لوگ عذابِ الہیٰ کے زیادہ مستحق ہیں ۔ ایک نیم دانشور اور مولوی نما نے اپنی توجیہات یوں پیش کی کہ اللہ کسی کو  صبر میں رکھ کے اس کی آزمائش کرتا ہے اور کسی کو عیش میں رکھ کے ، سو استعماری قوتوں کا عذاب عیش و کیش کی صورت میں ہے اور ایک عام آدمی اور دیگر مصائب  کے مارے کا عذاب صبر کی صورت میں ہے ۔ موجودہ المیہ کو گناہ اور ثواب سے کیسے منسوب کیا جا سکتا ہے اور کیوں منسوب کیا جائے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان وضاحتوں سے ہمارے مولوی حضرات یا نیم دانشوروں نے اللہ کو بھی ایک ایسی ہستی ثابت کر دیا جو کیپیٹلسٹ   ہے ۔ ایسے لوگوں نے اس مسئلہ کا حل یوں نکال لیا کہ وہ خود اس حادثے کا شکار ہونے سے بچ گئے اسی لئے انہیں ٹی وی پہ آکر اپنی بقراطی  بگھارنے کا موقع مل گیا۔جن لوگوں کے پیٹ بھرے ہوں وہ بھوک کو بھی ایک افسانوی حقیقت سمجھتے ہیں اور انسانی مصائب کے بارے میں ان کے پاس بڑی رنگین اور فلسفیانہ دلیلیں ہوتی ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کسی نے کہا ہے کہ :

اے موج ِحوادث ہلکے سے دو چار تھپیڑے ان کو بھی  :کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں

 میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ جب انسان کو کسی معاملے میںعلم نہیں ہوتا تو اپنی کم فہمی اور بے بضاعتی کو تسلیم کیوں نہیں کر لیتا بجائے اس کے کہ وہ خود خدا بن کر خدائی حکمت کی تاویلیں کرنے لگتا ہے۔ علم کیا علم کی حقیقت کیا ، جو بھی جسکے گمان میں آئے ۔ہر جگہ دیکھئے تو کالم نگاری ہو رہی ہے ، ٹی وی ، اخبار ، ریڈیو ، ویب سائٹ ، شاعروں اور ادیبوں کے ہاتھ میں ایک نیا موضوع ہاتھ آگیا ۔ ہر کوئی اس واقع سے نت نئے فلسفیانہ پہلوؤں کی کھوج کر رہا ہے۔ اپنے اشعار ، طرز نگارش اور تقریر و تحریر کی داد وصول کر رہا ہے ۔ کوئی آخرت کے عذاب سے ڈرا رہا ہے تو کوئی آئندہ کے آنے والے عذاب کی خبر دیتا ہے ۔ چرچ ، مندر ، عبادت گاہیں ، مسجد سب اپنے اپنے کام میں جٹ گئے ہیں اور ہر اس بات کا مدعی ہے کہ پناہ صرف اور صرف اس کی عبادت گاہ میں ہے جبکہ مسمار ہوئی ہوئی ساری عبادت گاہیں اس کے خلاف چغلی کھا رہی ہیں۔ ساری لاشیں بلا کسی تمیز مذہب ، رنگ و نسل کے بغیر کسی نماز کے ، پوجہ پاٹ کے ایک ہی ساتھ بڑے سے گڑھے میں دفن کی جارہی ہیں۔ کون کیا تھا یہ سارا کام اب فرشتوں کے سر ہے کہ وہ ان اجتماعی قبور سے اچھے اور بروں کو چھانٹتے رہیں۔بیٹھے بٹھائے  یہ ایک اور ڈیوٹی آن پڑی۔ اور جن کی لاشیں دستیاب نہ ہوسکیں ان کا بھی ڈھونڈنا کار دارد۔ یہ وقت مرنے والوں کے لیے دعائیں کرنے کا ہے ۔ ان کے لواحقین کو صبر و تحمل دلانے کا ہے ۔ کام کرنے کا اب یہ ہے کہ وہ جو بچ گئے ہیں ان کی مدد کی جائے ۔ ہر قسم کی امداد پہنچائی جائے۔ بہ ظاہر یوں نظر آتا ہے کہ اسلامی حکومتیں یا ایسی مملکتوں کے عوام اس فلاحی کام میں شریک نہیں لیکن یہ صرف شمالی امریکہ کی ابلاغ عامہ کی بد دیانتی ہے جس میں اسلامی حکومتوں اور مسلمانوں کی معاو نت کا ذکر نہیں کیا جاتا تاکہ ان کے بارے میں غلط تاثر قائم ہو۔ دوسرے ذرائع سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہر ملک کے مسلمان انفرادی طور پہ اور اجتماعی طور پہ اس انسانی ہمدردی اور مالی معاونت میں یکساں شریک ہیں۔ ان کے مساجد اور دیگر فلاحی اور تنظیمی ادارے تندہی سے انسانی خدمت میں مصروف ہیں۔الحمد لاللہ۔ ایک انتباہ یہ ہے کہ ایسے کئی جعلی شیطانی ادارے ابھر کے سامنے آگئے ہیں جو اس سانحہ کے حوالے سے لوگوں سے چندہ یا امدادی رقم کی صورت میں انہیں لوٹ رہے ہیں ۔ ہشیار رہنے کی ضرورت ہے خصوصاً ویب سائٹ پہ جو اپیل کی جارہی ہے اس کی پوری تفتیش کے بعد امدادی رقم بھیجنی چاہیے ۔

%ہولناک تباہیوں کے ساتھ چند ایک معجزانہ واقعات کا بھی پتہ چلا ۔ اس تباہی میں جانور شاذ و ناظر ہی مرے اور سب بچ گئے ، سمندر کے بیچ جو ماہی گیروں کا ٹولہ تھا وہ سب کا سب بچ گیا کیونکہ یہ طوفانی لہر ساحل کے اطراف میں آئی ، اس کے علاوہ چند ایک مساجد کا ذکر ہے جو بچ گئیں اور شاید دوسری عبادت گاہیں بھی ہوں واللہ عالم۔  رہ گیا معاملہ کہ جن بستیوں پہ عذاب اب تک نہیں آیا جہاں کہ آنا چاہیے تھا اس کے بارے میں انذار الہیٰ موجود ہیں اللہ کی آخری کتاب قرآن میں۔ اس ضمن میں بیشتر آیات موجود ہیں جن میں سے چند ایک یہاں درج کی جارہی ہیں :

E

۔اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں بلکہ آدمی اپنی جان پہ خود ظلم کرتا ہے، اللہ تو بہت ساری خطاؤں سے در گزر کرتا ہے ۔ ( ۴ ۰۴ ، ۹۴  ، ۴۶۔ ۳ ۸۰۱، ۷۱۱ ،۵۳۱ ۔ ۶۱ ۳۳ ، ۸۱۱ ۔ ۰۳۹  ۔ ۲۴ ۰۳  وغیرہ )۔لوگ اللہ کے ارضی و سماوی عذاب یا قیامت کی اچانک آمد سے بے خوف ہوکر کیوں غفلت کی نیند سونے یا لہو لعب میں مصروف ہیں ( ۷ ۷۹ تا ۸۹ ۔ ۲۱ ۷۰۱۔ ۶۱  ۵۴ تا ۷۴ ۔ ۷۶ ۶۱ ، ۷۱ )۔جو خدا کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ، چڑھتے ہوئے عذاب کا شکار ہوتا ہے ۔ عذاب جس پہ آجائے اس میں نہ تخفیف ہوگی اور نہ مہلت ملے گی ( ۲۷ ۱۷ ۔ ۶۱ ۵۸ ۔ ) بہت ساری ایسی بستیاں تباہ و برباد کر دی گئیں جو اپنی معشیت پر اتراتی تھیں ( ۹۱  ۸۹۔۰۲ ۸۲۱  ۔ ۸۲ ۸۵ ۔ ۲۳ ۶۲ )۔ جن لوگوں پہ اللہ کا عذاب مسلط ہوجاتا ہے ان کی صفات قرآن میں یوں بتائی گیں ہیں کہ :  وہ خدا سے اعراض کرتے ہیں ، اس کے سچے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں ، دین میں تحریف کرتے ہیں ، لہو و لعب میں مصروف رہتے ہیں ، معشیت پر غرور کرتے ہیں ، ظلم و تکبر کرتے ہیں یا اس کا ساتھ دیتے ہیں ، آخرت سے بے خوف ہو کر اپنی من مانی کرتے ہیں ، برائیوں کو روا رکھتے ہیں ، رسول کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ، فتنہ کھڑا کرتے ہیں وغیرہ ۔ اگر ملائکہ اور اہل اللہ زمین کے لیے استغفار نہ کرتے تو قریب تھا کہ زمین و آسمان پھٹ جاتے ( ۲۴۵ )۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب دیتا ہے تو انجام کی پرواہ نہیں کرتا   ( ۱۹ ۵۱ )۔ اللہ انہیں ڈراتا ہے لیکن ان کی حد سے بڑھی ہوئی سر کشی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے  ( ۷۱ ۰۶)۔

 اب یہ کہ ان تک یہ عذاب اب تک کیوں نہیں آیا سو یہ اللہ جانتا ہے کہ حجت کس پہ کب تمام ہو تی ہے شاید اللہ  (کافروں ، منافقوں ) ناپاک و پاک کو الگ الگ کرنا چاہتا ہے اور پھر ناپاکوں کو جمع کر کے جہنم میں ڈالنا چاہتا ہے ( ۸ ۷۳)۔ یہ بحرحال درس عبرت ہے اللہ ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور زندگی کو با مقصد بنائے ۔ورنہ بے شعوری سے بڑا عذاب کیا ہوگا جس کا شکار ہم سب عمومی طور پر ہیں۔

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: