Hesham A Syed

February 19, 2009

Sharafa ki Nagree – a commentary on this book

Filed under: Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:17 am
Tags:

Urdu : Sharafa ki Nagree – A commentary on this book : Hesham Syed

بہ تقریب رونمائی کتاب ۔ کنیڈا

 شرفا کی نگری 

مصنف قیام الدین نظامی قادری الفردوسی

معزز میر ِمحفل و میزبانان گرامی،خواتین و حضرات

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

آج کی تقریب کے دولہا جناب قیام الدین مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی تقریباً ۵۲سال سے زیادہ کی شب وروز کی محنت کے بعد دو جلدوں پہ مشتمل یہ کتاب ’شرفا کی نگری ‘منظر عام پہ آ ہی گئی۔ یہ کتاب کیا ہے ایک تاریخی سند ہے ۔ روحانی و باطنی اور جسمانی طبعی شجرہ کا ایک انسائیکلو پیڈیا ہے خصوصاً اہل بہار کے شرفا کاجس کا مرتب کرنا کچھ نہ پوچھئے کیسا کارِ دارد تھا۔ یہ جذبہ فرہادیت یاایک جنون ہی ہے کہ قیام الدین صاحب نے اسے ایک صورت دے ڈالی۔ شرفا کی نگری یوں تو دنیا میں ہر جگہ مل جائیگی کہ اللہ والوں سے یہ زمین ابھی کہیں بھی خالی نہیں ہے لیکن اس کی وضاحت قیام الدین صاحب نے خود ہی کر دی ہے کہ اس کتاب کا نام حضرت مخدوم جہاں شریف احمد یحییٰ منیری فردوسی قدس سرہ کی نسبت سے ہے جن کا مزار بہار شریف میں ہے اور لکھا ہے کہ  ’’ محفلِ سماع میں قوالوں کا اس شعر پہ تکرار کہ :  شرفا توری نگری سلامت توری دیوڑھی سلامت : شرفا توری بگیا سلامت توری نگری سلامت سے صاحب حال کو وجد آجاتا ہے‘‘۔ اے کاش کہ آج اس محفل میں کوئی یہ کیفیت پیدا کر سکے۔ مجھے خصوسی طور پہ یہ سب کچھ کہنے میں مسرت یوں ہورہی ہے کہ یہ بات ہمارے رسولؐ کی ان کی ذریت اور اپنے جدِ محترم کی ہے ۔ ہر چند کہ کچھ نام اب بھی اس کتاب میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں لیکن پھر بھی جو کچھ ہے وہ بہت ہے ۔

          مشاہدہ ہے کہ ہندوستان کے صوبہ بہار کے شرفا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ لوگ چھُپے رہنا چاہتے ہیں چھَپنا نہیں چاہتے۔ سو مجھے اندازہ ہے کہ قیام الدین صاحب کا ان لوگوں کو اس بات پہ آمادہ کرنا کہ اپنا شجرہ اور محل ِ ومقام ان تک پہنچائیں یا ان سے رابطہ کریں نہایت ہی دقت ، وقت اور صبر طلب رہا ہوگا۔ شاد ؔعظیم آبادی نے کہا تھا کہ’ ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘۔ اس دور میں جبکہ پودے جیسے لوگ سر چڑھ کے بول رہے ہوں اور ہر بولہوس نے حسن پرستی اختیار کر رکھی ہے وہاں باظرف لوگ نایاب نہیں ہیں تو کم یاب ضرور ہیں اور جو ہیں وہ ظاہر ہے کہ خموش ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہر زمانے سے خاموش اور نام و نمود سے دور ہیں ۔یہ صوبہ جس کی زمین بے حد زرخیز ہے ، دھات کی کانوں اور قدرتی وسائل کی بھر مار ہے وہاں کے لوگ دوسروں کے مقابلہ میں خستہ حال ہیں۔ اس کی وجہ شاید عمومی طور پہ ان کی دنیا سے بے رغبتی ہے۔یا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان وسائل پہ دوسرے علاقے کے لوگوں کا قبضہ ہے ۔ گویا کسی کا حصہ پوری حلوہ اپنا حصہ دور کا جلوہ ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرتِ میر ؔ کی درد انگیزشاعری کا سبب بھی یہی ہے کہ ان کے استادحضرت راسخ عظیم آبادی بہار کے تھے ۔ بہرحال حضرت سے ملی ہوئی یہ منکسر المزاجی ، دردِ آشنائی، دل کی سادگی و ذہن کی پُر کاری میر ؔصاحب کے کام آئی اور وہ سخن کے خدا بن گئے۔ یہ بات تو برسبیلِ تذکرہ ہو گئی ۔بات سے بات تو نکل ہی آتی ہے۔ خستہ حالی اپنی جگہ لیکن یہ خطہ بہت مردم خیز رہا ہے اور اب بھی اہلِ شوق و جنوں تعریف و توصیف کی پرواکئے بغیر اپنا کام کئے جا رہے ہیں۔

           یہ کتاب ظاہر ہے کہ ہر شعبہ کا احاطہ تو نہیں کرتی لیکن اس کے حوالہ جات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں تاریخِ افکارِ دین ، علم ِ تصوف اور تدبر نظامت ِ سلطنت کے بعض بہت بڑے نام کی خمیر اسی مٹی سے اٹھی تھی یا اسی علاقے سے منسوب ہے۔ چاہے وہ حضرت شیخ یحییٰ منیری ؒ ہوں یا شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری ؒ ۔علامہ سید سلیمان ندوی ؒ ہوں یا سید مناظر گیلانی ؒ یا سلطان الہند شیر شاہ سوری ؒ ۔ دونوں جلدوں میں کوئی  ۰۵ سے زیادہ صوفی منش مستند بزرگوں کا ذکر ہے جن کا قیام خطہ ٔبہار میں رہا اور یہ لوگ اس خطہ میں اسلام کی تبلیغ و تدریس میں مصروف رہے۔ ان لوگوں کا فرداََفرداََذکر کرنا یا ان کے حالات ، تعلیم و تربیت کے طور طریقوں ، ان کی کرامات اور سعی کاوشِ دین کا مکمل احاطہ کرنا ظاہر ہے اس محفل میں ہی کیا اس کتاب کی دو جلدوں میں بھی ممکن نہ تھا ۔ ایسی ہر شخصیات کے لئے کتابوں کی کئی جلد درکار ہیں۔ لیکن محترم قیام الدین نے ہر ایک کی تاریخ کو مختصراََبہت خوبی سے اپنی کتاب کیں سمو دیاہے۔

           اس کتاب کی جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ یہ شرافت و تہذیب و علم خصوصاََ علوم تصوف کے حوالے سے مرتب کی گئی ہے ۔ قاری کو اس سے بڑی رہنمائی حاصل ہوگی۔ قیام صاحب نے مختصراً بہار کی وجہ تسمیہ اور  دلچسپ تاریخ بھی بیان کی ہے یہ تفصیل جو خود اہلِ بہار کے لئے بھی بے انتہا معلوماتی ہے جلد اول میں صفحہ ۹۳ پہ دیکھی جا سکتی ہے۔ حضرت نوح ؒ کے پوتے کشن کے بڑے بیٹے راجہ مہاراج نے شہر بہار آباد کیا اور دور دور سے اہلِ علم کو بلا کر شہر میں بسایا۔ سب سے پہلے آریوں کی ایک مذہبی شاخ برہمنوں نے صوبہ بہار کو مگدھ پردیش کا نام دیا اور ایک مدرسہ یا یونیورسٹی اس سرزمین پر علم و دانش کے فروغ کے لئے جاری کیا ۔جس جگہ شہر بہار شریف ہے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی نالندہ یونیورسٹی قائم ہوئی جہاں طلبا کی ایک بڑی جماعت جمع ہوگئی تو اسے بہار بہار کہنے لگے۔ بہار دراصل سنسکرت کے لفظ دہارا سے مشتق ہے جس کے معنی دارلعلم ، زاویہ تعلیم و تعلم کے ہیں۔بہار دہارا کی مروجہ شکل ہے ۔ دہارا بدھ مت کے علمی و عملی مرکزوں کی تعبیر تھی۔ان ہی دہاروں کی وجہ سے پورے علاقے کا نام بہار ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ نالندہ یونیورسٹی میں بارہ سو سواریاں صرف استادوں کی آتی تھیں۔ اس کے کتب خانے میں تین لاکھ سے زیادہ کتابیں جمع تھیں۔ شطرنج کا موجد دنتر حلیم اسی یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔یہ سر زمین اعلیٰ تہذیب و تمدن اور مختلف علوم و فنون کا گہوارہ رہی ہے۔قدیم مورخین نے اس کا موازنہ یونانی تہذیب سے کیا ہے۔حضرت عیسیٰؑ سے پانچ سو قبل چندر گپت موریہ پیدا ہوا جس کی حکومت پاٹلی پتر ( موجودہ پٹنہ ) سے لے کر پاکستان کے علاقہ ٹیکسلا تک پھیلی ہوئی تھی ۔یہی وہ ریاست ہے جس کو دنیا کی پہلی آئینی ریاست ہونے کا فخر حاصل ہے۔ چندر گپت کی سلطنت کا وزیر اعظم کوٹلیا کو ہندوستان کا ارسطو کہا جاتا ہے۔بہار ہی کے گوتم بدھ اور مہاتیر جیسی عظمت و مرتبے یونانی فلسفی بھی نہیں پاسکے۔

          بہار علم و دانش ، اعلیٰ تہذیب و تمدن اور ایک مہذب معاشرے کی علامت رہا ہے۔ بہار میںاسلام بھی صوفیائے کرام اور مشائخ کے بدولت ہی پھیلا۔ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام اور پہلے ، شہاب الدین غوری کے فاتح دہلی اور فاتح بنگال محمد بختیارخلجی سے پہلے صوبہ بہار کے شہر منیر شریف میں (۸۷۱۱ ؑ یا ۶۷۵ ھ ) اسلام داخل ہو چکا تھا ۔یہاںدینِ محمدی کے پہلے مبلغ کے طور پر حضرت مخدوم عارف مومن کا نام لیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں پر صوفیا کرام کے چاروں معروف سلاسل اور ان کی شاخوں نے جو احسانات کئے ہیں اسے تاریخ جتنا بھی چاہے مسخ کرے مٹا نہیں سکتی۔ اسلام ایک نظریہ ،ایک رویہ ، فکر و عمل کا نام ہے۔ یہ کسی جغرافیائی حدود بندی کا پابند نہیں ۔ ا سکی ہمہ جہتی مذاہبِ عالم کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے اور اسی بات کی اہمیت تصوف میں ہے جس میں انسان کے کردار و اخلاق پہ زور دیا جاتا ہے۔ اے کاش اسلام کے محبت اور آشتی کا آدرش ہم نبھارہے ہوتے تواس کی آفاقیت کا ہمیں احساس ہوتا۔ہم دین میں خیانت نہ کررہے ہوتے تو سارا ہندوستان ہی کیا ہر ستھان اسلامستان ہوتا اور ہم ٹکڑوںمیں نہ بٹتے۔ نہ آستینوںمیں خنجر ہوتے اور نہ ہاتھ ایک دوسرے کے خون سے رنگین کر کے ہم اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے۔بات تصوف کے حوالے سے ہو رہی ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ کہے بغیر گزر جاؤں کہ۔   ؎

مٹادیا میرے ساقی نے عالم ِمن  و  تو   :    پلا کے  مجھ  کو  مٔے  لا الٰہ  الا  ھو

          بہت ہی سادہ سی بات کو لوگوں نے الجھایا ہوا ہے اور سطحی علم رکھنے والوں نے اسے ایک شجر ممنوعہ بنایا ہوا ہے۔ علمأ ظاہر اور عوام کو تصوف اور صوفیا کرام کے بارے میں بڑی غلط فہمی ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شریعت اور طریقت دو مختلف چیزیں ہیں حالانکہ احقاق ِحق کے لیے علم کلام سے کام لینے اور تصوف کے ذریعہ ایمان و یقین کی کیفیت پیدا کرنے میں فرق صرف دلیل سمعی اور دلیل ذوقی کا ہے۔   ؎

علم کا مقصود ہے پاکی ء عقل و  خرد      فقر کا  مقصود ہے عفتِ قلب و نگاہ

           اس دور میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور مسلمانوں کی دینی پستی اس حد تک ہے کہ اللہ اور اس کے نبی ؐ سے ان کا ایمانی اور روحانی تعلق برائے نام ہی رہ گیا ہے۔ انہی اعتقادی خرابیوں اور عملی بے اعتدالیوں کی جب نشاندہی کی جائے اور خواب غفلت سے جگا کر تزکیہ باطن اور اصلاح نفس کیا جائے تو لوگ لبیک کہنے کے بجائے اوہام و تشکیک کا شکار ہوجاتے ہیں۔

           اسلام کی ہمہ جہتی نہ تشدد کی طرف مائل ہے کہ ہم صرف کنویں کے مینڈک بن کے رہ جائیں اور عربی یا مخصوص قبیلہ کی ثقافت کو ہی صرف اسلام کا نام دے دیں اور نہ اللہ کا دین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم مادر پدر آزاد ہوکر جو چاہیں رسم اپنا لیں اور اپنی خواہشات کو ہی اپنا خدا بنا لیں۔ آج کا المیہ ہے کہ:   ؎

عشق کی تیغ جگر دار اڑا لی کس نے   :  علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

اورکیا آپ نے نہیں سنا کہ:    ؎

سینہ روشن ہو تو سوزِ سخن عین ِ حیات   :  ہو نہ روشن تو سخن مرگ دوام اے ساقی

          ہم تو اس عشق اور روشن قلب کی بات کر رہے ہیںکہ اس کا حصول کیسے ہو ؟ گمراہی تو ہر طبقے میں موجود ہے لیکن جس منبع فکر کی تذلیل کا جواز تو نہیں پیدا ہوتا ہے ؟ ایک برے مسلمان کو دیکھ کر کیا سارا اسلام غلط قرار دیا جا سکتا ہے ؟ چند مغلوب ا لحال لوگوں اور رسموں کی بنیاد پہ دین کے اس بیش قیمت اثاثے کو یک سر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔تصوف کے حوالے سے بھی یہ سچ ہے کہ بہت ساری گمراہیاں ، عقیدتاً ، مصلحتاً ، رسماً ، ارادتاً ، مجبوراً اور غیر ارادتاََشامل ہوگئی ہیں جس کی ہر زمانے میں تطہیر کی ضرورت رہی ہے۔ ہمارے لئے کتاب اللہ اور رجال اللہ دونوں ہی ضروری ہیں ۔ زریں اصول یہ ہے کہ رجال اللہ کا دامن تھامے رکھو اور انہیں کتاب اللہ سے پرکھو۔              تصوف کی حقیقت یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے تصوف خواہ صوف ہو اور حقیقت کے اعتبار سے اس کا رشتہ چاہے صفا سے جا ملے اس میں شک نہیں کہ یہ دین کا ایک اہم شعبہ ہے جس کی اساس خلوص فی العمل اور خلوص فی النیت پر ہے اور جس کی غایت تعلق مع اللہ اور حصولِ رضأے الٰہی ہے۔ قرآن و حدیث کے مطالعے اور نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ اور آثار صحابہ سے اس حقیقت کا ثبوت ملتا ہے۔   ؎

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی   :  کہ وہ  حلاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

          قرآن حکیم میں اسے تقویٰ ، تزکیہ ، خشیت اللہ ، سے تعبیر کیا گیا اور حدیث شریف میں اسے احسان سے موسوم کیا گیا اور اسے دین کا ماحصل قراردیا گیا۔ اس کی تفصیل حدیث جبرئیل میں موجود ہے۔ مختصر یہ کہ تصوف، تقویٰ ، احسان ، سلوک اور اخلاص ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں۔ نبوت کے دو پہلو ہیں اور دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔’’حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا ہے جب کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کے سناتا ہے اور انہیں پاک و صاف کرتا ہے اور انہیں علم و حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘‘( القرآن)، نبوت کے ظاہری پہلو کا تعلق تلاوت آیات اورتعلیم و تشریح کتاب سے ہے اور اس کے باطنی پہلو کا تعلق تزکیہ باطن سے ہے ۔جن نفوس قدسیہ کو نبوت کے ظاہری پہلو سے وافر حصہ ملا وہ مفسر ، محدث ، فقیہہ اور مبلغ کے نام سے موسوم ہوئے اور جنہیں اس کے ساتھ ہی نبوت کے باطنی پہلو سے سر فراز فرمایا گیا ان سے بعض غوثیت، قطبیت ، ابدالیت ، قیومیت وغیرہ کے مناصب پر فائز ہوئے۔ ان سب کا سر چشمہ کتاب و سنت رسول ؐ ہی ہے۔ اور یہی مدار نجات ہے۔ قبر سے حشر تک اتباع کتاب و سنت یا اتباع رسولؐ کے متعلق ہی سوال ہوگا۔

           محققین صوفیا ئے کرام نے شیخ یا پیر کے لئے کتاب و سنت کا عالم ہونا لازم قرار دیا ہے۔ کوئی ہوا میں اڑتا ہوا آئے مگر اس کی عملی زندگی کتاب و سنت کے خلاف ہو تو وہ ولی اللہ نہیں بلکہ جھوٹا شعبدہ باز ہے کیونکہ تعلق مع اللہ کے لئے اتباعِ رسولؐ  کا ہونا شرط ہے۔’آپ فرمادیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے ‘‘(القرآن )۔ اتباع سنت کا پورا حق ان لوگوں نے ادا کیا جنہوں نے نبوت کے ظاہری اور باطنی پہلوؤں کی اہمیت کو سمجھا اور ہمیشہ پیش نظر رکھا اور تبلیغ دین کو تزکیۂ نفس سے کبھی جدا نہیں ہونے دیا۔ تمام کمالات اور سارے مناصب صرف اور صرف حضور اکرم  ؐ کی اتباع کی بدولت ہی حاصل ہوتے ہیں۔ علمِ تصوف کی تعریف اور غایت کے بارے میں اگر کہا جائے تو یہ ہے کہ’ تصوف وہ علم ہے جس سے نفوس اور تصفیہ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جاتے ہیں تاکہ سعادت ابدی حاصل ہو، نفس کی اصلاح ہو اور رب العالمین کی رضا اور اس کی معرفت حاصل ہو‘۔ تصوف کا موضوع ’تزکیہ ، تصفیہ اور تعمیر باطن ہے اور اس کا مقصد ابدی سعادت کا حصول ہے‘۔ 

دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج   :  بندے کو عطا کرتے ہیں چشم نگراں اور

           یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ’ہر خرقہ سالوس کے اندر ہے مہاجن‘ یا پھر یہ کہ’زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن ہیں‘۔

          لیکن اگر کہیں نیم حکیم یا شعبدہ باز موجود ہوں تو کچھ لوگ اپنا علاج کرانے کے لئے اچھے حکیم یا ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے ؟ اگر کوئی مدرس نام نہاد ہو تو کیا ہم سب جاہل رہنا گوارا کر لیتے ہیں ، یا کسی کی آمدنی کم ہورہی ہو تو کیا اسی پہ قناعت کر لیتے ہیں یا اپنی ضرورت کی کفالت کے لئے متبادل حلال ذرائع ڈھونڈتے ہیں ؟ معاشرے میں تو ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے افراد کو تلاش کریں جو ہمارے علمی و روحانی ارتقا میں معاون ہوں۔    ؎

 صحبت صالح تورا صالح کند  :  صحبت طالع تورا طالع کند

          کیا یہ علمی بددیانتی نہیں کہ دین کے دوسرے شعبوں میں ہزاروں ظنی مسائل کو قبول کر لیا جائے اور علم تصوف میں صرف ظنی کا احتمال کر کے چھوڑ دیا جائے بلکہ یہ تو اولیا اللہ سے عداوت کے مترادف ہے جس کے بارے میں بھی تعزیر ہے۔

          حدیث قدسی ہے : ’’جس نے میرے ولی سے عداوت کی میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں ‘‘  

(عیاذاََ با اللہ )۔

           یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ جو شخص فن میں مہارت نہیں رکھتا اسے اس فن پہ تنقید کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔    ؎

جہاں میں  لذت پرواز  حق  نہیں اس  کا    :  وجود  جس  کا  نہیں  جذب خاک سے آزاد

خواتین و حضرات !

l        بات کہاں سے چلی اور کہاں تک جا پہنچی ! آئیے ہم پھر اس کتاب ’شرفا کی نگری ‘کی طرف لوٹتے ہیں ۔ اس میں چند ایک روایات ایسی نقل ہو گئی ہیں جس پہ ناقدانہ نظر ڈالی جاسکتی ہے ۔ آئیے  ہم سب یہ دعا کریں کہ محترم قیام الدین کی کاوشوں اور خلوص کا اجر انہیں اللہ تبارک تعالیٰ عطا فرمائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب ایک عام قاری ہی کے لئے نہیں بلکہ کسی محقق کے لئے بھی بے حد سود مند ہوگی۔امید ہے کہ اس کتاب کی آئندہ طباعت کسی مالی بحران کا شکار نہ ہوگی ، لوگ اس سلسلے میں تعاون کریں گے تاکہ یہ اس سے زیادہ اچھی شکل میں سب کو دستیاب ہو سکے اور یہ خزانہ ہمیشہ محفوظ رہ سکے۔

          میں بے حد شکر گزار ہوں کہ قیام الدین صاحب اور محفل کے میزبان صاحبان نے مجھے کچھ کہنے کا موقع فراہم کیا اور آپ نے صبر و تحمل سے میری باتیں گوشِ سماعت میں محفوظ کرلیں۔

و السلام ، فی امان اللہ

          ستمبر، ۴۰۰۲ئ)

حشام احمد سی

 

Advertisements

4 Comments »

  1. AOA
    Your comments on this book are excellent. Actually name of the book is “SHARAFA KI NAGRI”, not SHURFA.

    Comment by Ehtesham Arshad — April 21, 2009 @ 3:45 am | Reply

    • Thanx for your kind words – Name is written in english and it can still be read as Sharafa ki Nagri- How ever I will have the spell changed.

      Comment by heshamsyed — April 22, 2009 @ 11:10 am | Reply

  2. Dear Sir I want this book sharafa ki nagri. How can I get it?
    Syed Fazal Karim, Israar Karim and Ahmed Karim are my paternal uncles, how can get this book?

    Comment by Syed Mohammad Hammad Ali — February 20, 2012 @ 2:33 pm | Reply

    • i have already sent you an email and copied to book author to whom you can contact and he will lead you to the book.
      Thanks

      Comment by heshamsyed — February 21, 2012 @ 8:22 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: