Hesham A Syed

March 25, 2009

Pakistan aur Pakistani gallaN : urdu article

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:23 pm
Tags:

Pakistan aur Pakistani GallaN : urdu article : Hesham Syed

حشام احمد سید

پاکستان  اور پاکستانی  گَلّاں۔۔۔!

پاکستانی چاہے پاکستان میں رہتا ہو یا پاکستان  سے باہر ، اس کا دل پاکستان کے یے دھڑکتا ضرور ہے اور اس ملک کے حالات  سے متعلق ہی گفتگو اس کا اُٹھنا بیٹھنا ہے۔  یہ مشاہدہ تو اپنا بھی ہے کہ پاکستان سے باہر  پاکستان کی جتنی سیاسی جماعتیں فعال ہیں شاید ہی کسی اور ملک کی سیاسی جماعتیں کسی دوسرے ملک میں اپنا دفتر بناتی ہیں یا اپنے ملک کے مسائل کو اتنی ہی تندہی سے اپنی تقریروں میں  یا تحریروں میں یا انجمنیں سجا کر اس کا پرچار کرتی ہیں، چندہ اکٹھا کرتی ہیں اور آپس ہی میں انفراق پیدا کرتی ہیں جیسا کہ اندرونِ خانہ پاکستان میں ہوتا رہتا ہے۔ ویب سائیٹ کی بھرمار ہے ، ای میل  یا فون پہ تبادلہ کلام نرم و گرم  ، کمیونٹی کے سینکڑوں اخبارات  میں ایک ہی خبر بذریعہ کٹ  پیسٹ ، محفلوں میں بزم یاراں میں جہاں جائیے لوگ گرما گرم چائے یا کھانے سے پہلے اور بعد میں گرمی گفتار نظر آتے ہیں۔مشاعرہ ہو ، ادبی تقریب ہو موضوع کچھ بھی ہو ہر پاکستانی قلبی اور ذہنی طور پہ کسی نہ کسی سیاسی یا فوجی لیڈر کی اچھائی یا برائی کرتا سنائی دے گا۔ یہ  وہ  نفسیاتی یا جادوئی دائرہ ہے جس سے نکلنا محال ہے۔ اس کی وجہ ایک بنیادی یہ بھی ہے کہ پاکستانی سیاسی لیڈران ملک یا ملک سے باہر کے دورے پر مستقل رہتے ہیں۔ اور  بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی وہی اشتعال دلاتے رہتے ہیں جو ملک کے اندر رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ اور اب تو ملک بدری نے  اس کام میں زیادہ آسانی پیدا کردی ہے۔ اور پھر میڈیا کی آزادی اور بہتات نے بھی اپنا کام کر دکھایا ہے۔ انگلیاں چینل بدلنے میں مصروف ، نظریں ہیں کہ سکرین سے ہٹتی ہی نہیں۔ ٹی وی  ببیوی  کا متبادل ہی نہیں بلکہ بدترین سوکن بن گیا ہے ،  بلکہ بعض شوہروں کو بھی اپنی بیگمات میں یا انکے خود  کی بھی  عدم دلچسپی کی وجہ بھی ٹی وی ہی نظر آتا ہے ۔ لیکن ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ بات کرنے کو  ان کے درمیان بھی کوئی موضوع  ایک سا مل گیا ہے چاہے تھوڑی دیر کو ہی سہی ۔ شہری برطانیہ کے ہوں یا کنیڈا کے یا امریکہ و فرانس و جرمنی کے الغرض کہیں کے بھی ہوں انہیں کسی بھی ملک کی سیاست سے وہ دلچسپی نہیں جیسی کہ پاکستانی سیاست سے ہے۔اکثر کسی اور ملک کے شہری پاکستانی کو تو وہاں کے لیڈروں یا سیاسی جماعتوں کے نام تک بھی ٹھیک معلوم نہیں۔

لیکن حیرت صرف اس بات کی ہے کہ جتنی بحث ہوتی ہے وہ کسی سیاسی فرد سے متعلق ہی  زیادہ ہوتی ہے۔ مسائل گنوائے ضرور جاتے ہیں  مگر اس کا حل کسی نہ کسی  سیاسی فرد میں ہی تلاش کیا جاتا ہے۔ جتنے بھی مباحث سننے میں آتے  ہیں ان کا دائرہ  کلام کچھ  ایسے ہے کہ  :  زرداری یہ کر پائے گا  یا نہیں  یا صرف پاکستان کو لوٹنے کا پلان بنا رہا ہے ،  نواز شریف ساڈا گرائیں ہے  ، ساڈا لیڈر ہے جناب ،   اوس نے عدلیہ پہ پتھر پھینکا تھا  لیکن اب تو آزادی دلوا دی نا ،  ہُن ویکھو  افتخار چودھری آکر مشرف دا  تیا پانچا کیس طرح کرنا ہے ،   اوئے یار  یہ ٹھیک ہے نواز شریف بھی کوئی شریف بندہ  نئی گا  لیکن  اوس نے پاکستان کو زرداری سے کم لوٹا ہے ،  الطاف بھائی نے آج ٹیلیفونی خطاب میں یہ کہا ،  چودھری برادران نے یہ کہا، چودھری شجاعت نے وہ کہا  لیکن کیا کہا سمجھ نہیں آتی  ،  چلو اچھا ہے  نا ہی سمجھ آئے،   مشرف  دوبارہ آکر پاکستان کو ٹھیک کرے ،  اوئے امریکہ نواز نہ بن ،  یہ حرامزادے  را  والے بڑی گڑبڑ پھیلا رہے ہیں ،  اُوئے  یار ا امریکہ سے جان کب

                                                ۲                                                   

چھوٹے گی ؟  یہ بلوچیوں  اور پٹھانوں کو کیا ہوگیا ہے  ؟ یہ تو بالکل ہی  سکھ  سردار بن گئے ، یہ طالبان کی بھی بڑی گند ہے جی ،  القاعدہ  والوں نے بھی جینا حرام کر دیا ہے ،  جناب اے دسو  یہ  کونڑ سا اسلام ہے کہ مَصوموں کو بم سے اڑاتے پھرو۔ یار یہ  وہابیت بھی بڑی پیڑی چیز ہے ،  اوئے اس سے بہتر تو یہ بریلوی ہیں جو سارا وقت  نعتیہ قوالی گا تی رہتے ہیں چاہے وہ ہندوستانی گانے کی نقالی ہی کیوں نہ ہو لیکن کسی کی جان تو نہیں لیتے ، ایمان کا کیا ہے وہ تو اللہ کو مَلوم ہے کہ کونڑ اچھا مسلمانڑ ہے۔ ارے بھائی  وہ جیو پہ لیاقت کی گائی ہوئی نئی نعت سنی یار بڑا مزہ آیا ۔ کیا بات ہے جنڑاب کیا بات ہے۔  بھر دے جھولی  ،  بھر دے جھولی ۔۔ کیا بات ہے جناب کیا بات ہے۔  کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔۔!

 ارے چھوڑیں جناب آپ کچھ بھی کہیں لیکن مشرف بے ایمان نہیں تھا ، امریکی چکر میں وہ پھنس گیا  اور اپنے ہی لوگوں کا قتل کرنے لگ پڑا ، بڑا مجبور تھا بیچارہ ،  اور یہ جو لوگ اسے قادیانی  وادیانی کہتے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ، وہ تو خالص سید ہے اور اب دیکھا نہیں دہلی میں بذرگوں کے مزاروں پہ بھی حا ضری دے رہا ہے۔ اس کے وقت میں پاکستان نے بڑی ترقی کی ، روپیہ کی ڈالر کے مقابلے میں کیا قیمت تھی ؟ اور اب دیکھو  یہ سیاسی لیڈروں نے آکر کیا کھلواڑ کر رکھا ہے۔ صرف سر پھٹوئیل اور  جو بات بھی خراب ہو اسے مشرف کے دور پہ ڈال دو۔ قوم کو پھر سے بے  وقوف بنانے کا اس سے آسان نسخہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ تم دیکھ لینا یہ زرداری اورنواز شریف وغیرہ پاکستان کا تیا پانچا کر دیں گے صرف اپنی گدی کے چکر میں۔ سیاست  اور حکمرانی سے بڑا  بزنس  پاکستان میں اور کیا ہے۔ ؟

        اوئے یار ،  قدیر  خان کے ساتھ بھی بڑی زیادتی ہوئی ،، چلو ہُن تو آزاد ہے ۔۔ ویکھو شاید کوئی اور بم بنڑائے۔ لیکن  اُونا نو  مشرف دے خلاف گلاں  نئی کرنی چائیے دی  ۔۔  لگدا ہے  حبث بے جأ کا اثر ہو گیا ہے دماغ پر۔ ملک کا بھی خیال نئی کیتا ایس طرح دی گلّاں کار کے۔

 یار  پاکستان کو اللہ ہی بچائے ،  آمین جی آمین !!  کھانڑا  لگاؤ جناب دیر ہورہی ہے ۔۔ پاکستان دی فکر نا کرو ۔ پاکستان ایسے ہی چلتا رہے گا۔

پاکستان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، کسی نے آنکھ اٹھائی تو ہم اس پہ ایٹم بم برسا دیں گے۔  اوئے بنگلہ دیش کی باتیں  نہ کرو اسوقت ہمارے پاس ایٹم بم نہیں تھا ورنہ مزہ چکھا دیتے ان بنگالیوں کو اور ہندوستانیوں کو ۔  جیوے جیوے جیوے پاکستان ، پاکستان پاکستان جیوے پاکستان  !

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا  ؟  الغرض ۔ ایسی ہی باتیں ہر محفل میں سننے کو ملیں گی اور یہ باتیں اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد کر رہے ہوتے ہیں۔ اور کبھی تو یہ باتیں  ایسی تلخ ہو جاتی ہیں کہ توبہ بھلی ۔ لوگوں کے تعلقات  پہ بھی حرف آجاتا ہے۔  میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ  رائے  کا اختلاف کسی کو بھی  اسلام سے یا پاکستان کی شہریت سے خارج نہیں کرتا۔  ایک ذرا تحمل سے کام لیجیے۔  ۲۶ سال کے بعد ہم میں اتنی تو  بالغ النظری آجانی چاہیے کہ ہم  قومی مسائل کو  اپنے شخصیت پرستی کے جذبات سے الگ ہٹ کر دیکھیں اور ان پہ غور کر کے کوئی حل تلاش کریں۔ ورنہ یہ ساری باتیں سوائے تضیع اوقات کے کیا ہیں۔ جبکہ ہمارے پاس وقت بہت ہی کم ہے۔!

حشام احمد سید

 (  پاکستان اور پاکستانی  گَلّاں  

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: