Hesham A Syed

May 11, 2009

Talibaan – eik Khauf ya Umeed ? – urdu article

Filed under: Global Politics,Pakistan — Hesham A Syed @ 7:41 am
Tags: ,

Talibaan – eik Khauf ya Umeed ? – hesham syed 

حشام احمد سید

طالبان ۔۔  ایک  خوف  یا  اُمید  ؟

5

پچھلے دو دہائی سے افغانی طالبان کا ایک عجیب تصور ہر طرف پھیلایا جا رہا ہے۔سننے میں تو یہی آیا ہے کہ یہ ایک جماعت طلبأکی تھی جو اپنے علاقے کے رؤسا  یا متکبر لوگوںکے ظلم و بربریت کے ردِ عمل میں ظہور میں آئی۔جس نے آتے ہی عوام الناس کو انصاف فراہم کیا، ان کی عزت و آبرو کے محافظ بن گئے  اور ظالموں کو ان کے انجام تک پہنچایا۔ نہ صرف یہ بلکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی بے شمار خرابیوں کو بھی ختم کیا اور اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوششیں جاری کردیں۔اس جماعت میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور اگر عمر رسیدہ ہیں بھی تو ان کے ولولے جوان ہیں۔ان میں زیادہ تر وہ طالبِ علم ہیں جو مدرسوں میں تعلیم پاتے رہے ، شائد کچھ ایسے بھی ہوں جو مغربی طرز کی تعلیم سے بھی مستفیذ ہو چکے ہوں اور ایسے سکول یا کالجوں یا یونیورسٹی کے سند یافتہ ہوں جہاں مغربی طرز کی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن امکان قوی یہی ہے کہ  ایسے افراد  اگر ان میں ہوں گے بھی تو بہت کم ہونگے کیونکہ جن قربانیوں کی یہ جماعت متقاضی ہے  اس کے لیے کسی دوسرے ہی قسم کی خمیر کی ضرورت ہے جن کی آبیاری مغرب زدہ تعلیمی و فکری ادارے نہیں کر پاتے۔ کسی نے کہا ہے کہ :  وحدت کی حفاظت نہیں بے قوتِ بازو : آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خداداد ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ قوت ِ بازو اور عقل دونوں ہی ساتھ ساتھ ہوناچاہیے ورنہ معاشرے میں بڑی افراتفری مچتی ہے اورمتشددانہ  رویہ دین الٰہی کے اصل پیغام کو چند رسوم بنا کے چھوڑ دیتا ہے اورفکری  بالیدگی اور مادی ترقی کی ساری راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔

طالبان جماعت کی حوصلہ افزائی  اور ان کا  استعمال ہر اس قوم و ملک نے کیا چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم  جو ان سے اپنا کوئی خاص مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے اور ابھی بھی صورتِ حال کچھ ایسی ہی ہے۔ لیکن اس سارے عمل اور ردِ عمل میں ان  لوگوں کے خلاف سازشوں کا ایک جال بھی پھیلایا جاتا رہا ہے، ان کے ہی شکل میں بے شمار ایسے افراد مختلف اقوام کے اور خود افغان و پٹھان میں سے طالبان کا نام استعمال کرتے ہوئے ان ہی کی صورت بنائے ہوئے  ایسی ایسی بدعقلی کی باتیں جان بوجھ کے کرنے لگے جس سے لوگوں کو جو اک اُمید ہو چلی تھی اس پہ پانی پھرنے لگا۔ اب جسے دیکھیے اس بات کا تجزیہ کرنے میں لگا ہوا ہے کہ اصلی طالبان کون ہیں اور نقلی کون ۔ کس حادثے یا عمل کو کس سے منسوب کیا جائے۔

یہی وہ جماعت ہے جس کے بارے میں کم سے کم پاکستان کے کئی ایک علما ٔ اور  مدعیانِ ممبر نے بشارت دی کہ یہ وہی جماعت ہے جو غزوۃ الھند میں شریک ہوگی ، اور پھر اسرائیل کے خلاف حضرت امام مھدی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ مل کر جہاد کرے گی اور ساری دنیا میں شریعت محمدی ؐ  کو نافذ کرے گی۔ ان ساری باتوں میں کتنی صداقت ہے اس کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ کتابوں میں اور سینہ بہ سینہ جو علم پھیلا ہوا ہے اس میں تو نہ جانے کیسی کیسی ہوشربا باتیں لکھی گئی ہیں یا پھیلائی جارہی ہیں ۔ یہ سب کچھ کب ہوگا اس کی علامات بھی مختلف صدیوں میں اس زمانے کے علمأ نے مختلف روائیتوں کی تفسیر اپنے حساب سے کی اور وقت مقرر کر رکھا تھا  جو ظاہر ہے کہ آنے والے وقتوں میں غلط ثابت ہوتے رہے۔پچھلے کئی صدیوں سے نہ جانے کتنے ہی لوگوں نے اور جماعتوں نے یہ روپ دھارنے کی کوشش کی ہے جن کا شمار اب کاذبین میں ہی ہوتا

۲

ہے۔ یہ تصور کہ ساری دنیا میں صرف ایک ہی مذہب یا دین نافذ ہو کر رہے گا  صرف مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ یہودی ، عیسائی بھی اس میں پیش پیش ہیں اور ان لوگوں کے یہاں بھی ایسی موسوی اور عیسوی بشارتیں موجود ہیں اور سبھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہی اور صرف وہی اللہ کے پسندیدہ لوگوں میں ہیں اور ان کا ہی دین سب پہ فوقیت رکھتا ہے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ اسلام کو بھی اسلام پسند دعویداروں نے دوسروں کی طرح ایک مذہب ہی بنا ڈالا اور اس کی آفاقیت کی شرح  اس انداز میں نہیں کی گئی جیسی کہ کرنی چاہیے تھی۔ اسے بھی علاقائی ثقافت ، زبان ، تہذیب،لباس ، شکل و صورت ،  رکھ رکھاؤ  اور سوچ کا پہراوا پہنا دیا گیا۔ رب العالمینی اور رحمت العالمینی کے مفہوم کو قرون اولیٰ کے بعد صدیوں سے ان معنوں میں اجاگر نہیں کیا گیا جس کا کہ یہ متقاضی تھا۔بھلا کسی اور مذہب سے دینِ اسلام کا کیا تقابل۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ نفاذِ شریعت محمدی چاہے کسی ملک میں ہو یا سارے عالم میں اسی وقت ہو سکے گا جب خود مسلمان اپنے رسولؐ اور دینِ اسلام کی حقیقت سے آشنا ہونگے۔اس کا راستہ علم  و تدبر و احسان و ایثار ، معاشرتی و اقتصادی عدل کا ہے نہ کہ ہر طرف ایک حشر برپا کرنے سے یہ بات حاصل ہوگی۔جہاد بالنفس کی ترغیب دلائی جانی چاہیے ، جہاد بالقتل تو ایک انتہائی عمل ہے جب کہ اللہ سبحانہ  اور اس کے رسولؐ کی حرمت پہ بات آجائے یا کوئی قوم یا فرد یا گروہ اللہ کے دین مین رخنہ اور فتنہ پھیلانے یا اس کے خلاف سرکوبی کرنے لگ پڑے۔پھر تواس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں۔ یہی طریقہ حضورؐ اور ان کے صحابہ کرام ؓ کا رہا۔

افغان ہی کیا  ایک عرصے سے ساری اسلامی دنیا میں جو اسلام کے ساتھ حشر کیا جا رہا ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے۔  ایک عجیب طرز کا معذرتانہ رویہ ہے کہ کسی طرح ایسا اسلام  فروغ پائے جس سے کم سے کم اقوامِ مغرب یا غیر مسلموں کے دینی عقائد یا فلسفے پہ کوئی چوٹ نہ لگے۔ کوئی ایسی ترکیب کی جائے کہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی والی بات سچ ہوجائے۔ دنیا بھی مادر پدر آزاد ہو کر لوٹیں اور جنت کا بھی سودا ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

پاکستان  ، افغان اور دیگر اسلامی مملکتوں میں ابھی بھی خاصی آبادی ہے جو طالبان جماعت سے اگر  مالی یا مادی تعاون نہیں بھی کر پارہی تو کم سے کم  ان سے ہمدردی ضرور رکھتی ہے۔ اس کے پیچھے تمام عالم میں امریکہ کی امپیریلسٹک پالیسی ہے  اور امریکہ کے ساتھ ساری مغربی اقوام  یا یہ کہیے کہ ساری غیر مسلم قوتوں کی گٹھ بندی ہے جو اسلام کے تشخص کے خلاف بر سرِ پیکار ہے۔

لیکن کیا یہ غیر مسلم قوتیں طالبان ہی کی شکل میں اسلام کی بیخ کنی کتنے پہ تلی ہوئی ہیں اور اس کی اصلی شکل بگاڑ رہی ہے  ؟ یہ بھی ایک طربیہ انداز فکر ہے جولوگوںکے ذہنوں میں پل رہا ہے۔ روزانہ ہی ایسے واقعات اور مشاہدات سامنے لائے جارہے ہیں جس سے شک و شبہات میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ جو کچھ کہ سوات ؔمیں ہو رہا ہے اور صوفی محمد کی جماعت کر رہی ہے کی اسے من و عن اسلام قرار دیا جا سکتا ہے ؟

خواتین کو تعلیم دینے سے روک دینا کیا کبھی ایک اسلامی طرز عمل ہو سکتا ہے ؟ معاشرے میں اگر  بے حیائی اور فحاشی پھیل چکی ہے یا پھیل رہی ہے تو اس کی ذمہ داری  عورتوں کی تعلیم سے کیسے منسوب ہو گئی ؟ ہاں اسے نظامِ تعلیم سے منسوب کیا جا سکتا ہے اور اس پہ نظر ثانی کی جا سکتی

۳

ہے۔لیکن اسکا حل یہ تو نہیں کہ عورتوں کو مقفل کر دیا جائے  یہاں تک کہ وہ کچھ سوچنے سمجھنے یا اپنی رائے کے اظہار سے بھی محروم کر دی جائیں ۔

جو شخص یا لیڈر ایسی بات کرتا ہے وہ خود اسلام کے خلاف ایک فتنہ کھڑا کر رہا ہے۔اسلام تو روشن خیالوں کا  طرز حیات ہے نہ کہ دور جاہلیہ میں لوٹ جانے کا نام۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بدکاری اور بے حیائی کی زیادہ سے زیادہ فیصد ذمہ داری مرد حضرات پہ ہے ۔ یہ وہ صنف ہے جو عورتوں کو بھی اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لیے گمراہ کرتی ہے۔ ایک طرف اسے مقفل کر کے اپنے جسمانی  یا ہیجانی تقا ضوں کا کھلونا یا  صرف بچہ بنانے کی مشین بنا دیتی ہے  تو دوسری طرف اسے محفلوں میں،  دفتروں میں ، سرِ بازار برہنہ یا نیم برہنہ کر کے اپنے تجارتی اور مادی وسائل کا سامان بنا دیتی ہے۔ اور ایسا کرنے میں اقوام مشرق ہوں یا مغرب سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ انسانی آبادی میں اور ہر معاشرے میں تھوڑے ہی افراد ایسے ہوتے ہیں جو عورتوں کو ان کی عزت و احترام  اور ان کا جائز مقام فراہم کر تے ہیں۔میری یہ بات تلخ ضرور ہے لیکن سچائی تو پھر سچائی ہی ہوتی ہے۔مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ عورتوں کو صرف مقفل کر دینے سے اسلام کیسے محفوظ ہو جاتا ہے یا عورتوں کو آزادی کا نام پر ان کی عزت کو اچھالنے سے اسلام روشن خیال کیسے بن جاتا ہے۔ان دونوں باتوں سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔اور دونوںہی گمراہی ہے اور ذہنی اپج ہے یا پراگندگی ہے۔مرد حضرات پہلے  اپنی طہارت کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے ، اپنی آنکھوں ، سوچ اور شرمگاہوں کی حفاظت کیوں نہیں کرتے۔اپنے دلوں میں خشیتِ الٰہی کیوں نہیں بساتے۔کیا اسلام میں اس کی انہیں کوئی تعلیم نہیں ملتی ، کیا حضورؐ کی سیرت  انہیں اس بات کا درس نہیں دیتی۔ کیا امر بالمعروف  و نہی المنکر کا سارا زور صرف عورتوں کو غلام بنا لینے میں ہے  ؟ کیا  اللہ نے انسانوں کو  ( مرد ہوں یا عورتیں ) غلام پیدا کیا ہے ؟

اب نظام عدل اور نظام حکومت کا جہاں تک تعلق ہے تو کوئی نظام شریعت محمدی سے نہ بہتر ہوسکتا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ جمہوریت ایک طرز ہے لیکن اس کے پردے میںقومی یا بین القوامی سطح پر جتنی نا انصافیاں جنم لے رہی ہیں وہ اب کس سے پوشیدہ ہے۔ پھر ایک ملک کی کی طرز ِحکومت کو دوسرے ملک یا قوم  پہ من و عن چسپاں کر دینا ممکن ہی نہیں ۔ صرف نظامِ دین الٰہی ہی اپنے اندر ایک آفاقی صلاحیت رکھتی ہے جسے کسی بھی معاشرے پہ جاری و ساری کیا جاسکتا ہے  اور اس سے اس معاشرے مین فلاح ہی ہوگی نقصانات کا  اندیشہ نہیں۔  افسوس یہ ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر اکثر اسلامی مملکتوں نے بھی اپنی حکومت اور طرزِ معاشرت کو  ایسی ا قوام کے حوالے کر دیا ہے جو کسی بھی طور پر اپنی تہذیب سے میل نہیں کھاتیں۔یہ ایک سازش کے تحت ہو رہا ہے اور اس میں اجتماعی طور پہ سب ہی مصروف بہ عمل ہیں۔ جمہوریت کا ہاؤکا  انہیںایسا لگا ہے کہ عقل خبط ہو چکی ہے  ، امریکی امپیریلزم کے آگے یہ ایسے سر بسجود ہیں جیسے کہ وہی ان کا خدا ہو۔ اور پھر کیون نہ ہو جب  اکثر حکمرانوں کی بقا ٔ  اور ان کا تسلسل بھی امریکی نواز پالیسیوں کی ہی مرہونِ منت ہو۔

یہ  زائرانِ حریم ِ  مغرب  ہزار  رہبر بنیں  ہمارے  :  ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے نا آشنا رہے ہیں

غضب ہیں یہ مرشدانِ خود بیں خدا تری قوم کو بچائے  :  بگاڑ  کر تیرے مسلموں کو یہ  اپنی عزت بنا رہے ہیں

۴

اب تو یہ دور ہے کہ دوست و دشمن کی بھی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ اقوام ِ غیر کی مدد سے اپنے ہی لوگوں کا قتل روز کا معمول بن چکا ہے۔ یہ اُمت یا اسلامی مملکتیں کن راہ پر چل نکلی ہیں یہ سب کی نظر کے سامنے ہے۔  نہ فرد کی کوئی عزت نہ قومی تشخص کا لحاظ ، بے شرمی اور بے حیائی ایسی کہ چوہے بنے ہوئے بلی کے سامنے بیٹھے ہیں، بس چلے تو قدموں کو بھی چومیں،  بار برداری کی قوم بنے ہوئے ہیں جس نے جب چاہا استعمال کیا اور اس کے عوض گھاس پھوس ڈال دیا جسے نعمت عظمیٰ سمجھ کے ہمارے حکمراں جگالی کر رہے ہیں۔ اور یہ گھاس پھوس بھی اپنے ہی چمن اور زمینوں پہ ہمارے ہی  اُگائے ہوئے اناج کا حصہ ہیں جو  ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر  ہمارے مالکانِ مغرب  اور ان کے غیر مسلم ساتھی لوٹ کر اپنے ملک لے جارہے ہیں۔  اپنے ہی لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے  اپنے حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ  :

 تو بھی  شیوۂ  اربابِ  ریا میں کامل  :  دل میں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز   ( اسے واشنگٹن بھی لکھا جا سکتا ہے )

جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے  :  تیرا  انداز ِتملّق بھی  سراپا  اعجاز

اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا ہے :  پردۂ خدمتِ دیںمیں ہوسِ جاہ کا راز

دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی ہیں  :  چھیڑنا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز

اسوقت پورے ملک میں ایک خونی انقلاب بپا ہے اور ملک کی اپنی بقا مشکوک ہے لیکن دوسری طرف ٹیلی ویژن چینیل اور احباب کی محفلیں ہر قسم کی خرافات اور بے ہودگیوں  سے بھری پڑی ہیں۔ بے حسی اس حد تک ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔کوئی مرے کوئی لُٹے ہم تو دور کے تماشائی ہیں۔پہلے برطانیہ کی امپیریلزم کے تحت تھے اور اب امریکہ کے زیرِ اثر ہیں ، ہمارا کام تو غلامی کا ہے سو ہم  یہ کرتے رہیں گے اور تواڈے تابعدار ہونے کا ثبوت فراہم کرتے رہیں گے۔باقی جناب زندگی چند روزہ ہے کس نے رہنا ہے یہاں  سو  دمادم مست قلندر ۔۔۔ !

       احباب میں بات یہ بھی چل نکلتی ہے کہ کہ اگر کوئی جماعت حکومت کے رِٹ کو چیلنج کرے تو  اس کا حل یہ کہ کہ اسے نیست و نابود کر دو۔ یہ بات اصولی طور پہ تو صحیح ہے لیکن اگر خود  حکومت  شریعتِ محمدیؐ  کو  اور اسلامی اصولوں کو  ، ملک کے اسلامی تشخص کو  چیلنج کر رہی ہو اور غیر اسلامی معاشرت  و بے حیائی کو فروغ دینے میں معاون ہو  تو اس کا حل کیا ہے  ؟  ارباب عقل و دانش  اس بات پہ بھی غور کریں۔۔ !

موجودہ  طالبان کوئی بھی ہوں ۔۔  یہ الگ بحث  ہے  ،  لیکن  ہم میں سے سب کو طالبانِ دین رسولؐ  محکم  تو ہونا ہی چاہیے۔۔ !

عاقبت منزل ِ ما  وادیِ  خاموشان است

حالیہ  غلغلہ  در گنبدِ  افلاک  انداز

حشام احمد سید

(اس سلسلے میںمیرا مضمون ۔ کیا یہ ممکن ہے بھی دیکھیں )

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: