Hesham A Syed

June 15, 2009

Pakistan aur Pakistani BaateiN – urdu article

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 12:10 pm
Tags:

Pakistan aur Pakistani BaateiN : Hesham Syed

حشام احمد سید                                 پاکستان  اور  پاکستانی  باتیں

پاک ستھان سے پاکستان یعنی پاک جگہ ،  یہ ملک وجود میں آیا تو اُمتِ مسلمہ کے جسم میں ایک نیا خون دوڑنے لگا۔لیکن پاکستان میں یہی خون ارزاں ہو کر سڑکوں ، گلیوں ، کھیتوں اور گاؤں اور شہروں میں بہنے لگا  ۔ لاکھوں جانوں کی قربانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سللہ ہے کہ ابھی تک جاری ہے۔ آدھا پاکستان ہو یا ٹوٹا پاکستان  ، لاچار و مجبور و شکستہ پاکستان جیسا بھی ہے اس کے درد مند دل  اور اس میںجذبات کا ایک اَتھاہ سمندر لیے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے ابھی بھی یہ ملک انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔

پاکستانیوں کی البتہ مختلف اقسام ہیں اور ویسے ہی ان کے خیالات و نظریات ہیں۔آپ کہیں بھی بیٹھیں بھانت بھانت کی بولی ہے ، خیالات و جذبات کی ایک رو ہے جو بہے جاتی ہے ، محفلوں میں گرم گرما گرم بحث ہو ، ریڈیو ہو ،ٹیلی ویژن ہو ، شاعری ہو ، ادب ہو ، کہانی ہو ، افسانہ ہو، کھیل ہو ، ڈرامہ ہو ، فلم ہو  ہر فکر ، ہر زبان اور ہر قلم پاکستان ہی سے متعلق ہے۔ جو باتیں کہنے سننے میں آتی ہیں ذکر اس کا بھی کر چلیں :

ََّّ  ۔ارے بھئی اب پاکستان کا کیا پوچھتے ہو ، اس ملک کو تو اس کے لیڈروں ، فوجیوں ، سیاستدانوں ، ساہوکاروں ، زمینداروں ، وڈیروں ، پیروں ، مولویوں ، روشن و آزاد خیالوں  ، صحافیوں ، دانشوروں ، وکیلوں  و منصفوں نے ہی تباہ و برباد کر ڈالا۔ کس کس سے اِس کا گلہ کریں ؟ کسی بھی کمین گاہ کی طرف نگاہ کیجیے  تو اپنے ہی دوستوںسے ملاقات ہوتی ہے۔

۔ ۱۷۹۱ میں پاکستان دو لخت ہوا  اور اسے مزید تقسیم کرنے کی کوششیں ہنوز جاری ہیں، آپس کی  نفرتوں ، عداوتوں ، قتل و غارت کی موجودگی میں اب ہم کس دو قومی نظریے کا پرچار کریں ؟ اور پھر یہ دو قومی نظریہ تو اسوقت ہی ختم ہوگیا تھا جب پاکستان جانے والے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے ہندوستانی علاقے میں مقیم مسلمانوں کو یہ کہا گیا کہ وہ ایک فرمانبردار شہری بن کر ہندوستان میں رہیں ۔ تو کیا ان کا ووٹ صرف اس لیے حاصل کیا گیا تھا کہ ہندوستان کے صرف چند علاقے کے لوگوںہی کو وہ معاشرتی اور اقتصادی فائدے حاصل ہوں جس کا کہ خواب دیکھا گیا تھا یا دکھایا گیا تھا  اور بقیہ سارے مسلمانانِ ہند اپنی زندگی اچھوت بن کر ویسے ہی گذاریں جیسا کہ گذارتے آرہے تھے۔ یہ مونہہ موڑ کر چل دینے والا واقعہ کوئی آخری نہیں تھا  بلکہ پاکستان بننے کے  چوبیس سال کے بعد بعینہ ِمشرقی  پاکستانیوں کو  بنگلہ دیش میں فوجیوں  اور سیاستدانوں نے  اسوقت کے قاتلوں کے گروہوں کے درمیان ان کے رحم و کرم پہ  چھوڑ کر فرار ہوگئے  یہاں  تک کہ انہیں پاکستانی ماننے سے بھی منکر ہوگئے اور ان کے پاکستان آنے کے سارے وسائل پہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔یہ بد قسمت  جذباتی پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں  اپنے پاکستان کا     عَلَم لیے  زندہ درگور ہوگئے اور ان کی نسل در نسل تباہ و برباد ہوگئی۔

۔کسی نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے مسائل اپنی جگہ ہونگے لیکن  پاکستان کی شکل میں مسلمان جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنی  زمیںبچانے کی صورت نظر آئی ،  بیوروکریٹس اور فوجیوں کو اپنی ترقی نظر آئی ، تجاروں اور ساہوکاروں کو ایک نئی منڈی نظر آئی ،  سیاستدانوں کو اپنی نئی دکان چمکتی نظر آئی ، گویا ہر شعبہ زندگی کے لوگوں میں ایک نیا خواب مادی حصول کا  اور نئی امنگ ایک خوشگوار زندگی کا  اُبھر کے آنے لگا  اور اس سر شاری 

۲

نے پاکستان کا بننا اور بنانا آسان کردیا ۔

۔چلیے یہ ملک بن گیا اس لیے کہ اس کو بننا ہی تھا، کوئی اسے عطأ خداوندی کہنے لگا ، کوئی اسے رسول ؐ کا خواب گرداننے لگا ، اسے اسلام کا قلعہ بنایا جانے لگا ، گویاکہ ایک نیا حرم تعمیر ہونے لگا  ۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی معاشی و اقتصادی بدحالی  اور ایک غیر منصفانہ رویہ  ہی در اصل  اس ملک کی تحریک کا سبب بنا۔ نماز ،  روزے  اور دیگر  فرائض و رسوم  تو ہندوستان میں آج بھی جاری ہےں جیسے کہ پاکستان میں جاری ہیں  اور کبھی بھی اس میں کسی نے رکاوٹ نہ ڈالی۔ مغلیہ دور کی تقریباّ ہزار سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے اور راجِ برطانیہ میں بھی مسجدوں میں قتل اور اسے بم سے اُڑا دینے کی کوئی مثال نہیں ملتی  جیسا کہ پاکستان بننے کے بعد اور پچھلے دو یا تین دہائی سے زیادہ دیکھنے میں آرہی ہے۔ اور  لطف یہ ہے کہ یہ سب اسلام کے نام پہ ہی ہو رہا ہے کہ جسے بنیاد بنا کر یہ ملک حاصل کیا گیاتھا۔

۔کہتے ہیں کہ پاکستان میں علاقائی تعصب اور آپس کے انتشار کا حل صوبائی خودمختاری ہے۔لیکن کسی کو مائی مختاری سے فرصت ملے تو اس کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ اس ملک میں سیاسی اداکاروں اور ابلاغ عامہ  کے نذدیک ملکی مسائل کی اہمیت الگ ہے۔ ڈھول تماشے اور سنسنی خیز خبروں کا لطف ہی کچھ اور ہے، ایک آزاد ملک میں یہ کچھ بھی نہ ہو تو کیا ہو ؟ شاید پاکستان آگے چل کر  یونائیٹیڈ سٹیٹس آف پاکستان بن جائے۔

۔کہتے ہیں کہ پاکستان کا بنیادی مسٔلہ جاگیرداری نظام اور وڈیرہ شاہی رہا ہے جسے ہندوستان نے آزاد ہوتے ہی ختم کر ڈالا تھا  ۔ بنیادی مسائل ویسے  تو بہت سارے ہیں ، جڑوں میں بیماری جو لگی ہے وہ روحانی ہی ہے اور وہ  معاشرتی و اقتصادی عدل و انصاف کا نہ ہونا ہے ، مادیت پرستی مختلف شکل میں چاہے وہ حسد ، لالچ ، خود پسندی ، دوسروں کے حقوق پہ غاصبانہ قبضہ جیسے عوامل کو جنم دے رہی ہو ۔ اس کے اثرات  ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ توہمات و مشرکانہ عقائد بھی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ  رہے ہیں۔ ایک طرف  متشدد گروہ صرف لٹھ بازی کر کے اور ہر شخص کو بدعتی اور کافر گردان کے یا بندوق اور بم سے اسلام کو نافذ کرنے پہ تلا ہوا ہے تو دوسری طرف آزادئ افکار کے پردے میں دنیا جہان کی خرافات و بے حیائی کلچر ، ثقافت و تہذیب کا لبادہ اوڑھے  اپنا  راستہ آپ بنا رہی ہے۔

۔کہتے ہیں کہ پاکستان سے بنیاد پرست عناصر ختم کر دیے جائیں تو پاکستان ترقی کی راہ پہ چل پڑے گا ، اس لیے امریکہ یا کسی دوسری اقوام کے ہاتھوں اپنا تشخص بیچ کر ان بنیاد پرستوں کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہیے ، چاہے اس سارے عمل میں پاکستان کی بنیاد ہی ختم کیوں نہ ہوجائے۔

۔افسوس صد افسوس کہ وہ وقت بھی آیا کہ قائد اؑظم محمد علی جناح کی تصویر کی جگہ بے نظیر اور زرداری کی تصویر لگائی گئی ، پاکستان کے عوام نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ پاکستان چند خاندانوں کی موروثی جائداد ہے اور عوام ان کے غلام ہیں۔جسے یہ کہیں گے اسے ووٹ ڈالیں گے اور جمہوریت کا اس ملک میں پرچار کریں گے۔ صدر و  وزرأ  اور سینیٹ ممبر کے سیٹوں پر قوم و ملک کے ڈاکو ، لٹیرے ، زانی اور دھوکے اور نوسر باز قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ قوم  و عوام کتنی بھی بھوک و  بدحالی کا شکار کیوں نہ ہو  حکومتی کارندے اپنے ملک میں بھی اور ملک سے باہر بھی عوام کی دولت پہ ہی دادِ عیش دے رہے ہیں۔ جو موقع آج ملا ہے وہ کل ملے نہ ملے ۔ ایسا تو ہوتا ہی ہے  جب جہل  و قبیلہ پرستی سر چڑھ کر بولنے لگے۔

۳

۔پاکستان کے بارے مین کوئی البتہ غلط فہمی میں نہ رہے ، یہ ایک نیوکلر پاور ہے اور کسی مائی کے لال کی ہمت نہیں کہ اس کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھے ۔ اَسی پٹھیا پا دیاں گے۔  لیجیے صاحب سارے مسٔلے کا حل نکل آیا۔  اور جو یہ دن ورات پاکستان کے شہروں ، گاؤں اور قصبوں میں  بم پھوٹتے رہتے ہیں اور بے قصور عوام کا قتل ایک عبادت کی طرح جاری ہے  ؟ جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس میں ہندوستان شامل ہے اور امریکہ بہادر بھی دوہری سیاست کھیل رہا ہے ، یعنی اپنوں کا قتل اپنوں ہی کے ہاتھوں کروا کر  دونوں فریق کو ختم کر ڈالو۔ کبھی کوئی مسجد کا پیش امام غیر مختون  نکلتا ہے تو کبھی کوئی جہادی کی شکل میں یہودی یا ہنودی نکل آتا ہے۔ جب ہم خود اپنے دروازے قوم غیر پہ وا کر دیں اور مسلمانوں کو ہی قتل کرنے کو غیر مسلم کی مدد طلب کریں تو کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کا کیا ہوگا  ؟  اپنے  آپ کو لٹانے اور مٹانے  کی قیمت صرف  چند لاکھ ڈالر اور پاؤنڈ  اور چند روزہ  دنیاوی عیش و آرام کی اُمیدیں  ؟

  اشد ہ من الکفار و  رُحما بینہمکی تعلیم و مفہوم کہاںکھو گیا۔  ؟  شاید قارئین کو تاریخ میں  حضرت  امیر معاویہ  ؒ کا واقعہ یاد ہو کہ جب انہیں روم کے بادشاہ نے حضرت علی ؓ کے خلاف اُکسایا اور اپنی مدد پیش کی  تو انہوں نے اُسے رومی کتے کے القاب سے نوازا اور لکھا کہ معاویہ

 یہ پسند کرے گا کہ وہ  حضرت علی ؒ کے فوجی کمک میں ایک معمولی جہادی بن کر تیرے خلاف جنگ کرے چہ جائیکہ تیری مدد حضرت علیؒ کے خلاف  لے۔ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور اس سے ہم آپس میں ہی نپٹیں گے۔ لیکن وہ دور اور تھا  ، یہ دور اور ہے  ۔ اسوقت کے ہمارے لیڈر مردِ حُر تھے اور اب صرف غلام اور دنیا داری میں مقید، اقوامِ غیر کی چبائی ہوئی  ہڈیوں کو چاٹ رہے ہیں۔

۔فوج کے کیا کہنے ، انہیں تو وہ کرنا ہے جس کا انہیں ضمیر فروش جنرلوں سے حکم آئے۔ جب ہتھیار ڈالنے کا حکم ملا تو ۰۰۰۳۹ نے ہتھیار پھینک دیا اور ذلت و رسوائی قبول کر لی۔ جب اپنے ہی ملک پہ قبضہ کا اشارہ ملا  تو آئین وغیرہ کی پرواہ کیے بغیر اس پہ قبضہ کر لیا ، جب اپنے ہی لوگوں کے قتلِ عام کا حکم نافذ ہوا تو کرائے کی فوجی کی طرح قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ کہتے ہیں کہ فوج کو سوچنا نہیں چاہیے ورنہ غلامی کیسے پنپے گی ؟

۔اب رہ گئے ہمارے شاعر و ادیب و صحافی ، ان کی دانشوری کے بھی کیا کہنے ، جس کے جو مونہہ میں آیا وہ بول ڈالا ، جس نے جو چاہا لکھا اور قلم کار کہلایا ، جس نے اقبال کے دس بیس اشعار یاد کر لیے اور  اسے موقع بے موقع  و بے محل سناتا رہا وہ  بڑا عالم  و  ا قبالیات کا  ماہر بن گیا۔ جس نے  اپنے دھوکہ باز پیر کی  لال ٹوپی اور لال و ہری پگڑی پہن کر من گھڑت مذہبی داستانیں اور خفیہ اذکار کا ذکر کیا وہ بہت بڑا صوفی بن گیا ولی بن گیا۔جس نے روشن خیالی کے پردے میں اللہ کے دین اور رسول کے قول کا مذاق اڑایا وہ مجدد بن گیا، یہان تک کہ ملحدوں کو بھی علامہ بنا دیا گیا۔ عشق کی اک جست سے قصہ یونہی تو تمام نہیں ہوتا ۔  اب یہ عشق الٰہی ہے یا شیطانی اسے اب کون دیکھنے والا ہے ؟

       ۔پاکستان اپنی عزت کبھی بناتا ہوا اور کبھی بچاتا ہوا کشتی نوح میں طوفانوں سے گھرا  ہوا  ایک ایسے سمندر میں ڈول رہا ہے جس کا کنارہ فی الوقت نظر نہیں آتا۔ لوگ کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے ، جو جیسے ہورہا ہے ہونے دیں ، پریشان نہ ہوں اور زندگی کا لطف اٹھائیں۔لیکن  :

مشکل ہے کہ اک بندۂ حق  بین و حق اندیش  :  خاشاک کے تودے کو کہے کوہِ دمادن

Advertisements

2 Comments »

  1. Nice post. You are invited to write for our website, pakistandesk.com so that more readers can read your write ups.
    We welcome opinions from all sides: the majority, the dissenters, the contrarians.
    You can contact me at pakistandesk@gmail.com

    Comment by Mariam Rehman — June 15, 2009 @ 12:32 pm | Reply

    • Thanx for your invitation – You are welcome to publish my article at your website.

      Comment by heshamsyed — June 21, 2009 @ 11:11 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: