Hesham A Syed

June 21, 2009

Aur yeah baansri kab tak bajey gee ?

Filed under: Global,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:18 am
Tags: ,

Aur yeah bansri kab tak bajey gee ? Hesham Syed

حشام احمد سید                                 اور  یہ  بانسری کب تک بجے گی ۔؟

۔ یہ بڑا پرانا معقولہ ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو اپنی بانسری بجاتا رہا ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ صرف نیرو اور روم سے ہی کیوں منسوب ہے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی تو ارباب حکومت کی بے حسی ، تعیش پرستی ، نا اہلی ،  بے عقلی، غیر ذمہ داری ، بد دیانتی اور بے ضمیری، کوتاہ نظری کی بہتیری ایسی مثالیں موجود ہیں جن کے نذدیک بیچارہ  نیرو  تو طفلِ مکتب ہی نظر آتا ہے۔لیکن کیا کیا جائے جو بات زباں زدِ عام ہوجائے۔ ایسے ہی جیسے یزید یا  یزیدیت ایک ظلم کا ستعارہ بن گیا ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی مظالم ڈھائے گئے تھے اور اس کے بعد بھی مظالم اہلِ حق پہ کم نہیں توڑے گئے ۔ یہ بھی ایک الگ بحث ہے کہ یزید خود  شھادتِ حسینؑ اور اہلِ بیت پہ کیے گئے ظلم میں کتنا شریک تھا  اور یزید کے کردار سے متعلق تاریخی مندرجات  دو مختلف  رائے رکھتے ہیں اور اس پہ علمأ اور تاریخ دانوں نے بڑی بحثیں کیں ہیں، اور  اللہ سلامت رکھے ہمارے اربابِ سخن اور علمأ قال قال کو کہ پوری اُمت کو اس واقعہ میں ایسا الجھایا ہوا ہے اور نت نئی روائیتوں کا وہ ڈھیر لگایا ہوا ہے کہ ایک جم ِغفیر کوئی تعمیری کام کرنے کے بجائے ان فتنون کے فروغ کا دانستہ اور غیر دانستہ معاون بن گیا ہے اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔قومیں ایسے تو نہیں ذلت کا شکار ہوتی ہیں اور صرف وقت گذر جانے پر یا تو سانپ کی لکیر کو پیٹتی ہیں یا اپنا سر پیٹتی رہتی ہیں۔جو قوم اپنی عزت کی سر افرازی کے لیے خون نہیں بہا سکتی اس کے مقدر میں پھر آنسو کا ہی بہانا ہی لکھ دیا جاتا ہے۔ کاتب تقدیر  اور فطرت کا یہ عمل ازل سے یہی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی کبھی بھی نہیں ہونے کی۔ جو ایک بار کی موت سے ڈرتے ہیں وہ ہر روز مرتے ہیں۔

۔صدیوں سے اُمّتِ مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے ، قبیلہ پرستی اور قوموں کی تقسیم نے  اسے کہیںکا نہیں رکھا۔ معاشرتی و اقتصادی عدل و انصاف کی راہ سے الگ  ، علم و حکمت و تدبر سے پرے اور نظامِ حیات کے تعمیری پہلوؤں سے صرفِ نظرکر کے دین کو صرف چند رسوم کا ملغوبہ بنا دیا ہے۔ایک طرف سوچنے پر پابندی ، کچھ کہنے پر پابندی ،لکھنے پر پابندی تو دوسری طرف یہ سب کچھ مادر پدر آزاد ہو کر جو چاہے کر گذریں۔

اسلامی وحدت کا نام و نشان نہیں ، ایک قومیت کا تصور ہی محال ہے ،  زبان  و نسل کی بنیاد پر جغرافیائی اور اخلاقی و تعلقاتی تقسیم ،  نت نئے  مذہب  اور بدعت کا پرچار اور آپس میں نفرت کا وسیلہ ،انسانیت کے حوالے سے ہر قسم کے غیر انسانی سلوک کا روا ہونا۔ یہ سب کچھ ہی تو ہو رہا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ انسان فطری طور پہ  دورِ جہل میں واپس لوٹ گیا ہے۔ پوری نوع آبادی میں صرف چند ہیں جن کی عمارتیں شاندار ہیں ، پوشاک اگر مکمل پہنا ہوا ہے تو قیمتی ہے اور اگر نہ پہننے کے برابر ہو تو زیادہ قیمتی ہے ، سواری ایک سے ایک ہے،  جسمانی نشیب و فراز کا مقابلہ ہے چہرے و بدن کی لیپا پوتی ہے ، مصنوعی دانت ہیں ، بال ہیں ، چہرے کی بناوٹ کی جراحی ، سینے کی گولائی یا ابھار ، پیٹ کا تناؤ ،  بازو  و  ران کا ستواں ہونا ، پنڈلیوں کا سڈولپن  یہ سب ایک کامیاب تجارت کی سبیل و دن رات کی فکر و محنت کا مقصد  ہے ،  یہی  موضوعِ سخنِ محفل ہ و ابلاغ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان ایک بے مقصد اور ایک لایعنی سی زندگی گذار رہا ہے جس میں صرف جسم اور اس کی بھوک  کے لیے ساری دوڑ

بھاگ ہے لیکن روح کہیں بیمار و محزن کسی گوشہ میں کراہ رہی ہے جس کی آواز بھی کوئی سُن نہیں پاتا۔ صرف چند افراد کے ہاتھوں میں سمٹی ہوئی

۲

 دولت  سے وحشت و دہشت کی آتش فشانی ہر ماحول ہر سبز و شاداب وادی کو جلا کر خاک کیے دے رہی ہے۔۔ ترقیوں کا معیار ٹیکنولوجی ہے، اور اس میں بھی برتری اسی قوم کوحاصل ہے جو مہلک ہتھیاروں کی ایک سے ایک ایجاد میں آگے بڑھ رہی ہے۔اور نسلِ انسانی کی تباہی میں پیش پیش ہے۔ اشتہا ہ اور ہوس ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔ ملکوں پہ غاصبانہ قبضہ  اور تجارتی منڈیوں کا حصول ہی مطمع نظر ہے۔بھوک و افلاس  و قحط ایک طرف ، چاند اور دیگر سیاروں پہ کمند ڈالنے کی کوششیں دوسری طرف۔ زمین کو  اگر شیطان بہ شکلِ آدمی بگاڑ دے تو انسان  جأ پناہ کہاں ڈھونڈے  ،  خلاؤں میں سیاروں پہ۔  صرف ستاروں اور چاند کی سِحر انگیزی  پہ شاعری سے  تو کچھ نہیں بننے کا۔ سنتے ہیں کہ آسمان پہ  فرشتے زمین پہ انسان کی خلافت پہ معترض تھے کہ یہ وہاں جا کر فساد برپا کرے گا  سو یہ واقعتا  ہو کر ہی رہا ،  اب دوسرے سیارے اپنی خیر منایں۔

۔ایک طرف ثقافت و رسوم  کے حوالے سے  روح کی  غذا  موسیقی و اعضأ کی شاعری یعنی  رقص کی بے ہنگم  تالیں اور اچھل کود  ،  تو دوسری طرف اشک شوئی  و  مرثیہ اور  زخمیوں کی چیخ و پکار،  ایک طرف محل  سراؤں کے قطار تو دوسری طرف گلیوں ، سڑکوں اور گٹر کی پائیپ میں پیدا ہونے اور اسی میں پلنے والے بچے ،  یا  توپوں  بموں یا میزائیلوں سے تباہ ہوئے ہوئے گھروں کے کھنڈرات ،  ایک طرف دعوتوں میں ہزارہا اقسام کے کھانے تو دوسری طرف بھوک و افلاس میں بسی حسرت زدہ آنکھیں  اور کوڑوں کے ڈھیر سے چن کر پیٹ کی اذئیت مٹانے والے لوگ اور ان کے بچے،ایک طرف بسیار خوری کے سبب خون میں فشار اور دل کی بیماریاں اور ورزشی اداروںکا بڑھتا ہوا  کاروبار تو دوسری طرف فاقہ زدگی کے سبب خون و توانائی میں کمی  و  مدقوق چہرے  و لاغر جسم، ایک طرف مضبوط گرانڈیل جوان و تروتازہ چہرے تو دوسری طرف بے سروسامان آوارہ بھوکوں کا ہجوم ،  زرد چہرے پہ نقاہت کی نمود ،  خون میں سینکڑوں سالوں کی غلامی کا جمود ، علم کے نور سے عاری محروم  ، ایک طرف جیب میں نقرئی سکوں کی کھنک یعنی  بھوکے دہقانوں کے ماتھوں کا عرق ،  رات کو جس کے عوض بکتا ہے کسی افلاس کی ماری کا تقدس  ، کسی دوشیزۂ مجبور کی عصمت کا غرور ۔ یہ سب بھی  تو روم کے ظلم کی زندہ تصویریں ہیں۔ آئینے  اپنے اوپر پڑی خاک پہ خود حیرت زدہ ہیں۔

کاش یہ اپنا ماحول بدل دینے کے قابل ہوتے ، جانے کتنی صدیوں کے پابندِ سلاسل کتے  اور گدھے  جن سے چند ہڈیوں کے سبب  یا سامنے گاجر لٹکا کر کام اور کام لیا جاتا رہا ہے  ، کاش یہ اپنے آقاؤں سے لے سکتے خراجِ قوت، کاش یہ اپنے لیے صف آرا ہوتے ، اپنی تکلیف کا خود آپ مداوا ہوتے۔بنامِ امن  جنگ و جدل کے منصوبے ہیں ،  بہ شعورِ عدل تفاوت کے کارخانے ہیں ،  بلند دعوئ جمہوریت کے پردے میں فروغِ مجلسِ زنداں ہے  تازیانے ہیں،  تمام ارضِ جہاں کھولتا سمندر ہے ، تمام کوہ و بیاباں ہیں تلملائے ہوئے ، لیکن قدم قدم  پہ لہو نذر دے رہی ہے حیات اور قافلۂ ارتقائے انسانی رواں ہے۔ اب اس آواز کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف ،  اور اگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی، پھوٹے گی صبحِ امن لہو رنگ ہی سہی۔ آخر یہ نیرو کی  بانسری کب تک بجاتے رہیں گے وہ  لوگ جو حق کے تصور کو ہی مٹا ڈالتے ہیں۔ ان سے تعاون کیسا ؟ ظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قوم  اور  ظالم کو جو نہ روکے  وہ شامل ہے ظلم میں۔!

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: