Hesham A Syed

July 5, 2009

Khan saheb ki baateiN

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 6:49 pm
Tags: ,

Khan saheb ki baateiN : Hesham Syed

حشام احمد سید                                  خانصاحب  کی  باتیں

کوئی کچھ بھی کہے لیکن یہ واقعہ ہے کہ سرحدی لوگوں میںیعنی پٹھانوںکے اندر ایک سادگی ہوتی ہے اور یہ لوگ اپنی سوچ میں مخلص ہوتے ہیں۔ چالاکی اور عیاری ان کی سرشت میں نہیں ہوتی ۔ ہونگے ان میں کچھ چالاک  و عیار لوگ بھی  ،  شیطان کسے بخشتا ہے لیکن عمومی طور پہ یہ سادہ لوح ہوتے ہیں۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ کوئی انہیں کبھی جہادی بنا دیاتا ہے  تو کوئی انہیں جاہل و جانور و  دہشت گرد بنا دیتاہے۔کوئی انہیں سرحدی و افغانی طالبان بنا دیتا ہے تو کوئی انہیں سواتی طالبان بنا کر ایک عجیب و غریب نقشہ پیش کرتا ہے۔ کسی کو ان میں وہ کالے عمامے والے نظر آنے لگتے ہیں جو غزوۃ الہند کی معرکہ آرائی میں شریک ہونگے، امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کے معاونین میں ہونگے  اور اسلام کا بول بالیٰ کریں گے  تو کسی کو ان میں یہود  و ہنود  و مشرکوں کی آمیزش نظر آتی ہے۔گویا کہ ابلاغ عامہ میں ہر طرح کی باتیں ان کے بارے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے ،  ورنہ ہر لکھاری  و  مقرر  کے پاس اپنے انداز ِفکر کی بڑی بڑی دلیلیں موجود ہیں۔ اور کسی بھی واقعہ کو  توڑ موڑ کر  اور اس میں رنگینی بھر کے پیش کرنے ہی کا نام تو میڈیا ہے۔ سوچ جب تک گھڑی کی  پنڈولم کی طرح ڈولتی نہ رہے  تو سنسنی بھی  تو نہیں پیدا ہوتی۔

اپنے خان صاحب، سے اب جب بھی ملاقات ہوتی ہے انہیں افسردہ ہی پاتا ہوں۔  خو  یارا  ، دنیا بڑا  خراب جگہ ہے،  خو ،

اَر آدمی جوٹ بولتا ہے، سمج میں نئی آتا کہ کس کا اعتبار کرے کس کا  اعتبار  نہ کرے۔پیمانِ خدا  !  جوٹوں کو  خدا  غارت کرے ۔

اور یہ سوال میں نے  ان سے بھی کیا کہ خانصاحب یہ طالبان کو کیا ہوا ، وہ مجاہد سے دہشت گرد کیسے بن گئے۔  تو خانصاحب نے ایک ٹھنڈی سانس کھینچی اور تھوڑی دیر کو چُپ سادھ لی پھر گویا ہوئے۔ خو ، یارا  تم کو ایسا سوال کا جواب معلوم ہے لیکن تم اَمارا سے ماخول کرتا ہے۔ یارا ، مشکل یہ  اے کہ اب اسلام وہ ہے جو امریکہ کہتا ہے ، امریکہ کا صدر اب سب کا خدا ہے  تو  جو لوگ اس کے آگے سجدہ نئی کرتے وہ تو کافر و دہشت گرد  ہوا نہ  ؟  جب امریکہ کہ کہنے پر ہم روس کے خلاف جنگ لڑا  تو  ہم مجاہد تھا ،  امریکہ  نے اپنا سے  چوٹا شیطان کو  مارنے کے واسطے ہم کو استعمال کیا  لیکن  اس کے بعد جب اس سے بھی بڑا شیطان یعنی خود امریکہ سے لڑ پڑا  تو ہمارے خلاف فتویٰ دینے والا یہ مولوی لوگ کو  امریکہ نے پالا ہوا  اے  نا  ؟  یہ سب مل کر اب ہم کو کافر بلاتا ہے، دہشت گرد بلاتا ہے ۔  پیمان خدا ،  اس دنیا سے ایمان اُٹھ گیا ، اسلام اُٹھ گیا ، اسلام یہ ہے اسلام  وہ ہے  ، خو،  یہ سب فضول کا بات ہے۔ سب منافق اے ۔ یہ منافق لوگ اب اسلام  کے نام کو استعمال کر کے مسلمان کو آپس میں لڑا کے ختم کریگا۔ یہ انگریز  و مشرک  و کافر  لوگ ہتھیار کا منڈی بنایا ،  یہ  اِدھر بھی دیتا ہے  اور اُدھر بھی ۔ خو  ! تم لوگ آپس میں خوب لڑو ،  ایک دوسرے کو مارو، قتل کرو ۔ خو یہ کیسا  اسلامی ملک ہے ،  یہ کیسا اسلامی فوج ہے ،  یہ کیسا اسلامی لیڈر ہے جو امریکہ  اور کافر ملکوں کے ساتھ ملکر  مسلمانوں کا قتل کرتا ہے۔ خانصاحب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ خو تم لوگ پڑا لکھا آدمی لوگ ہے ، تم سچائی کو دیکھ کر پینترا کیوں بدلتا ہے ؟  خو،  تم لوگ کب تک اس دنیا میں جیے گا ؟  یہ سب لوگ کب تک دنیا میں جیے گا  ؟ تم کو بھی مرنا ہے ، اَم کو بھی مرنا ہے تو  اَم کو کچھ کر کے مرنا ہے ، اَم کو خوف نئی ،  تم کو مرنے کا خوف اے ، تو جاؤ  امریکہ کو سجدہ کرو ،  یہودی  اور عیسائی و کافروں کا جوتی چاٹو ، ڈالر بناؤ  ،  اوئے  اس ڈالر  کا سکہ سے ہی خدا قیامت میں تم کو داغے گا۔ اَم  چُری سے کسی منافق ،  چند اسلام دشمن کا  سر کاٹتا ہے  تو ہم دہشت گرد ہے  اور تم سب لوگ امریکہ کا ڈرونز سے ہمارا لاکھوں آدمی ماردیا تو تم لوگ اسلامی لوگ ہے مسلمان لوگ ہے ۔ خو،  اَم بولتا ہے ،  خدا  آخرت میں ایک جہنم مسلمانون کا واسطے بنائے گا ،  وہ مسلمان جو اس دنیا میں امریکہ کو خدا سمجتا ہے ، دولت کو خدا سمجتا ہے ، حکومت کو  خدا سمجتا ہے ، عیسائی اور یہودی اور کافر جیسا شکل بناتا ہے۔ اس کے جیسا ناچتا ہے ، سنگھار کرتا ہے ، بے حیائی کرتا ہے اور ہمارا مخبری کرتا ہے ، ہمارا مجاہد کو  کو قتل کرتا ہے  اور ہمارا آدمی کو  امریکہ دشمن کے حوالے کرتا ہے۔خدا  اس جیسا مسلمان کو غارت کرے ، یہ لوگ تو کافر سے بھی بد تر ہے۔ پیمانِ خدا  ! خدا کا رسولؐ نے یہ بات نہیں بتایا تھا کہ اک وقت میں مسلمان  لوگ بھی ایسا ہی کرے گا جیسا کہ یہودی کرتا ہے ، وہ اگر چوہے کے بل میں گھس کر دوسرا طرف نکلتا ہے تو مسلمان بھی ویسا ہی کرے گا۔ تو کیا جنت میں یہودی عیسائی و کافر کا مدد گار اور مسلمان کو قتل کرنے والا جنت میں جائے گا ؟خانصاحب ، غصے میں تنتنائے ہوئے تھے۔ مجھے کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دے رہے تھے۔ سو ہم نے عافیت اسی میں سمجھی کہ ان سے اجازت لی جائے۔ نا نا  مَڑا  ،  ابی کدر  جاتا ہے  ؟  یارا  ،  چائے  اُسکہ  کَنا  !!

مجھے  تو خانصاحب کی باتوں کے بعد اپنا تھوک نگلنا ہی مشکل ہورہا تھا تو چائے کیسے پی سکتا تھا  !  سو میں نے خانصاحب کو جھپی ڈالی اور کسی اور دن کے ملنے کا کہہ کے ایڑی کے بل گھوم گیا۔ واپسی میں سارے راستے میں سوچتا  رہا ۔ خانصاحب کتنے سادہ ہیں ۔ کاش یہ اتنے سادہ نہ ہوتے ، شاید انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کون اسلام دشمن انہیں بھی کیسے  استعمال کر رہا ہے۔۔ ہم سب ہی کسی نہ کسی طور پہ  استعمال ہو رہے ہیں کہ غلامانِ غلام کا طور و طریقہ یہی رہا ہے۔

اس دور میں سب مٹ جائیں گے ، ہاں باقی وہ رہ جائے گا  :  جو قائم اپنی راہ پہ ہے ،  اور پکا اپنی ہٹ کا ہے

مجھے  علامہ اقبال ؒ  کا ایک اور شعر  یاد آیا :

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے  :  تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: