Hesham A Syed

July 14, 2009

Ham bey nishaaN sey kiyuN haiN ?

Filed under: Muslim world,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:06 am
Tags: ,

Ham bey nishaaN sey kiyuN haiN : Hesham Syed

حشام احمد سید                                ہم  بے نشاں سے کیوں ہیں  ؟

اسلامی دنیا  صدیوں سے ایک عجیب انتشار کا شکار ہے۔ سوچنے سمجھنے کے لیے ایسے ایسے فروعی موضوعات اُٹھائے جاتے ہیں کہ ساری قوم ان ہی باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتی رہے۔ لے  دے کے ایک میڈیویل ایج رہ گیا ہے یعنی پندرہویں صدی رہ گئی ہے ہمارے پاس جس کا ہم بار بار ذکر کر کے اس زمانے میں مسلمان سائینسدانوں اور علمأ کرام کے وہ کارنامے گنواتے رہتے ہیں جس کا اثر دوسری قوموں نے بھی قبول کیا اور وہ ہم سے کئی درجہ آگے بڑھ گئیں، لیکن اس کے بعد ہماری ترجیحات میں یہ ہے کہ  ہم یا تو داڑھی کی لمبائی ناپتے رہتے ہیں یا گھٹنوں سے اوپر کے پائنچہ پہ زور دیتے ہیں ،  یا وضو کرتے ہوئے  پاؤں کو  تین فٹ  اوپر واش بیسن میں رکھ کر ہاتھوں کی انگلیوں سے پیر کی انگلیاں کتنی بار رگڑی جانی چاہیے ،  رفع یدین کے بغیر نماز ہوتی ہے یا نہیں  یا عورتوں کو  حبثِ بے جأ میں کیسے رکھا جا سکتا ہے ، سر سے لے کر پیر کی انگلیوں تک  کے نہ ڈھانپنے سے شریعتِ اسلامی کو کس قدر خطرہ لاحق رہتا ہے، ہر وقت برقعہ اور حجاب کا جھگڑا  اور ایسے ہی بے شمار  معاملات ہیں جن کی بحث میں ہر مقرر اپنا گلا صاف کر رہا ہے  ، ہر لکھاری اپنے قلم کا زور صرف کر رہا ہے  ، ہر عالم  و مبلغ  اپنے گلے کی  نسوں کو ابھار رہا ہے  وغیرہ ۔

 الرجال و قوام النسا کا درس یوں دیا جاتا ہے کہ عورت کوئی ایک بے عقل سی مخلوق ہے اور اس پہ ایک حاکمانہ و جابرانہ تسلط مردوں کا فریضۂ دینی ہے۔ اس کے بچہ جننے اور مردوں کی  حیوانی جبلت کا خمیازہ بھگتنے کے بدلے میں کھانے اور رہنے کا انتظام کرنے کا بھی ثواب ہے یعنی جو بھی ان کے ساتھ کرو اس کا  انعام بھی مطلوب ہے مقصود ہے۔ پنڈال ہے ، جلسے ہیں ، لونگ مارچ ہے  اور ہم ہیں۔علم کی انتہا یہ ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اپنی ہی  تاریخ میں نئی سے نئی  مافوق الفطرت  روایات گڑھی جارہی ہیں ، چاہے وہ غزوات سے متعلق ہوں ، صحابہ کرام و اہل بیت کے جھگڑے سے متعلق ہو ،  واقعہ کربلہ سے متعلق ہو یا کسی بھی دور میں بنو عباس اور بنو امیہ کا جدل ہو۔ اسے دینی علم سے تعبیر کیا جاتا ہے جسے علم نافع قرار دیا جاتا ہے بقیہ ہر قسم کا علم  تو ایک پیشہ ہے ، ضرورتمندوں کا علم ہے۔ اس میں ممبر پہ بیٹھ کے ہرزہ سرائی اور کہانیاں گڑھنے کا لطف  تو نہیں ملتا۔

 کیا بات ہے کہ ہم دنیا میں ایک بے وقعت سی قوم بن کے زندگی گذار رہے ہیں۔جن کی نہ اپنی کوئی شناخت ہے اور ہے تو وہ بھی ایک وحشت گرد اور دہشت گرد  قوم کی صورت میںتشہیر پاچکے ہیں۔ اب ہم ہر طرف ایک معذرتانہ انداز میں یا تو غیر قوموں کے یہ قائل کرنے پہ لگے ہوئے ہیں کہ بھائی  اسلام ایک عالمی برادری  اور امن و چین کا مذہب ہے۔ بھائی مسلمانوں کی حالت پہ نہ جاؤ بلکہ اسلام کو دیکھو کہ کیا کہتا ہے ۔ہمیں بھی انسانی برادری میں شمار کرلو،  قدرت کی عطا کردہ  ہماری ساری دولت لوٹ لو ، ہمیں

جب چاہے تہِ تیغ  کر لیا کرو  ،  ہماری ہی دولت پہ غاصبانہ قبضہ کر کے ہمیں بھیک میں کچھ رقم دے دیا کرو  یا سودی شرح پہ ایڈ کی شکل میں ہمارے سوچ و فکر میں  ایڈز  کے جراثیم داخل کر دو ،  ہماری توبہ جو ہم ذرا جو تمہیں کچھ بھی کہیں ۔ اپنے ہی دینی بھائیوں اور بہنوں کو جسے چاہو جیسے چاہو ہم ہی سے ان کا قتل کرالو  ،  بس یہ کریو کہ  ہماری چودھراہٹ قائم رکھیو ۔

 اے میرے خدا  ہمیں آزمائیش میں نہ ڈال ، ہمیں آرام و آسائیش کی زندگی عطا کر ، ہماری تیل کی دولت میں  ، معدنیات اور

uدھات کی دولت میں اضافہ فرما تاکہ مخصوص خاندان اس سے مستفیظ ہو سکیں ،  ہمارے حرم  اور ان میں ساری دنیا سے اکٹھی کی ہوئی خوبصورت نازنینوں کی حفاظت فرما  ،کفار سے ہمارا مقابلہ ہو  تو ہمیں ان کا تابع کر کے ہماری حفاظت فرما  اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو  ابابیلیں بھیج ،  ان کے ٹینک اور جہاز  و میزائیل میں کیڑے پڑیں،  ان کے بم پھوٹ نہ پائیں ، ان کے بموں کو فرشتے آسمانوں میں ہی لوک لیں اور کسی سمندر میں جا کے ڈال آئیں۔( آمین ثم آمین )۔  اے خدا ، تو نے ہمیں اپنے محبوب ؐ  کی اُمت بنایا ہے  اور ہم سے پوچھے بغیر بنایا ہے سو ہماری حفاظت بھی تو تیری ذمہ داری ہے ، تجھے اگر اُنؐ سے محبت ہے تو ہم سے تو لازمی ہوگی سو ہم تیری رحمت و محبت ہی کا تو سہارالیے ہوئے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو  تو بھی عرش پہ بیٹھا دیکھ رہا ہے۔ حضرتِ موسیٰ ؑ کی اُمت کو من و سلویٰ دیا تو ہمیں بھی تیل اور تیل کی دھار دی جس کے ساتھ پیاز و لہسن بھی عطا کیا سو ہمیں آزمائیشوں سے محفوظ کر دیا ، تیرا  بڑا شکر ہے کہ مغربی اقوام کو ہماری آپس کی  لڑائی اور جھگڑے کے تصفیہ کے لیے بھی مقرر فرمادیا اور انہیں ہمارے ہی مسائل کو نپٹانے کے لیے  نت نئے ہتھیار بنا کر ہمیں بیچنے پر مجبور کردیا تاکہ ہم ایک دوسرے پر ان مہلک ہتھیاروں کو آزمائیں ، ایک دوسرے کو کافر ،  بدعتی کہہ کے  انہیں واجب القتل قرار دینے کا جواز پیدا کریں  ورنہ یہ ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کا کیا بنے گا۔اتنے سارے سائینسداں  و انجینیر و ٹیکنیشین و صناعات  سب کے سب بے کار ہوجائیں گے جس سے بھی ایک عالمی بحران پیدا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ سوچنا بھی تو ہماری ذمہ داری ہے کہ کوئی مولوی یہ کہہ رہا تھا کہ  اے خدا  تو نے ہمیں خلیفہ الارض بنایا ہے۔ اب جو بھی کیا  بہت اچھا کیا ، بہت اچھا کیا ۔۔ ہم سے بہتر اور کون ہو سکتا تھا اس کام کے لیے  ؟  لیکن جانے کیوں ہم بے نشاں سے کیوں ہیں  ؟

حرارت ہے بلا کی بادۂ تہذیبِ حاضر کی  :  بھڑک اٹھا بھبھوکا بن کے مسلم کا تنِ خاکی

حیاتِ تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا  :  رقابت ، خود فروشی ، ناشکیبائی، ہوس ناکی

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: