Hesham A Syed

July 14, 2009

Izzat aur Zillat kia hai ?

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:44 am
Tags: ,

Izzat aur Zillat kia hai ? Hesham Syed : 

حشام احمد سید                                 عزت  و  ذلت کیا ہے  ؟
یہ بات اکثر احباب سے سننے میں آتی ہے کہ  وتعزۃ من تشا  وتذلۃمن تشا ۔ ]  جسے چاہتا ہے( اللہ) تو عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ( اللہ) تو ذلت  دیتا ہے [۔اور پھر اسی سانس میں اس قرانی آیت کی تفسیر و فہم میں مثالیں دی جاتی ہیں  پاپ سٹار کی اور اسی طرح کے بے شمار ہالی ووڈ اور بالی  یا  لالی ووڈ کے ہیرو اور ہروئینوں کی یا پھر سٹیج  یا ٹی وی  ڈراموں کے کرداروں کی یا میوزیکل گروپ یا  رقاص و رقاصاؤں کی یا  ملک کے بادشاہ  و صدر و وزیر اعظم کی یا کسی کھلاڑی کی یا کسی بھی شعبے میں ایسے مشاہیر کی جنہوں نے دولت و ثروت کو حاصل کیا ہوا تھا  یا کیا ہوا ہے، البتہ کچھ ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہوتا ہے  جنہوں نے اپنی زندگیوں کو خدمتِ انسانی کے لیے وقف کیا ہوا ہے اور عرف عام میں ولی اللہ یعنی اللہ کے دوست کہلاتے ہیں۔  اس سے بھلا کسے انکار ہوسکتا ہے کہ خالقِ  کُل ایک ہی ہے اور کسی بھی مخلوق میں جو بھی خصوصیات ہیں وہ اسی کی عطا ہے  ۔ انسان کے اندر بھی جو صفات ہیں وہ اسی کی دی ہوئی ہیں  تو کیا  اس بات کو یونہی سمجھ  لیا جائے جیسا کہ زبان زدِ عام ہے اور  یہ بات بھی تسلیم کر لینی چاہیے کہ کوئی کچھ بھی کر رہا ہو باطن میں فاعل اللہ ہی کی ذات  و صفات ہے۔ لوگ جیسے بھی چاہیں  دولت  و شہرت سمیٹیں  وہ ساری کی ساری اللہ ہی کی دی ہوئی عزت میں شمار ہوگی۔ مشاہدے میں یہ بات تو ہے نا کہ جو لوگ فلم و ڈرامے یا موسیقی  وغیرہ سے منسلک ہوتے ہیں ان کا معیارِ شرم و حیا  اللہ   گ   و   رسول   ؐ   کے بتائے ہوئے  طریقوں  اور  معیار  سے بہت مختلف ہوتے ہیں بلکہ کھُل کے کہا جائے  تو سراسر شیطانی ہی ہوتے ہیں۔ فلم کے سکرین پر یا ٹی وی ڈرامے میں یا سٹیج پر یا رقص کرتے ہوئے اگر حقیقت نگاری اسی طرح کی جائے  عورتیں اور مرد  ایک  دوسرے کے ساتھ کھلے عام  محرمات کا خیال کیے بغیر وہ سب کچھ کریں اور گانے میں فحش عشقیہ جملے ایسے ہوں جو شرم و حیا کے دائرے میںداخل ہے  اور جس سے معاشرے میںبرائیوں کے پھیلنے کی تحریک پیدا ہو  تو کیا ایسے عمل سے حاصل کی ہوئی دولت و شہرت بھی اللہ ہی کی طرف سے سمجھی جائے گی  ؟ جب کوئی سیاسی لیڈر ہر قسم کی بد عنوانیوں میں مبتلا ہوکر لوگوں کو دھوکہ  دے کر  دولت و شہرت و مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگے  تو کیا یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے سمجھی جائے گی ؟ جب کوئی تجار یا سوداگر دھوکہ دہی کا حربہ استعمال کر کے  اور سودی کاروبار میں یا جوئے میں یا  محرمات کا لحاظ کیے بغیر  تجارت  میں  ملوث ہو کر اگر دولت و شہرت و مقبولیت حاصل کرے تو کیا  اسے بھی اللہ ہی کی طرف سے سمجھی جائے گی ؟   اور پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ سو چوہے کھانے کے بعد بلی حج کو سدھارتی ہے ۔ ایسے ہی حرام ذریعہ سے کمائی ہوئی دولت  سے  این جی اوز  NGOs کی مدد کرنے کا بھی شہرہ ہوتا ہے ، کوئی ہسپتال بنواتا ہے ، کوئی یتیموں کی پرورش  یا بچوں کی تعلیم پہ ان پیسوں کو لگاتا ہے ،  اور بیشتر فلاحی کاموں میں  پیسہ خرچ کرتا ہے ۔ نیت کیا ہوتی ہے اس سے تو اللہ ہی واقف ہے ، کچھ  تو آمدنی یا ویلتھ ٹیکس سے بچنے کے لیے یہ کام
۲
 کرتے ہیں اور کچھ اسے شہرت کی ایک اور سیڑھی سمجھتے ہیں ، لیکن کیا حرام ذریعہ سے کمائی ہوئی دولت  کو خرچ کرنے کا  ثواب  بھی وہی ہوگا جو  حلال اور جائز ذریعہ سے کمائی کا ہوگا ؟  حرام  یا مشکوک  دولت کاا ستعمال تو اللہ کے گھر  کے بنانے  کے لیے بھی منع ہے۔ معروف بات تو یہ ہے کہ جن کے رزق میں حرام کی آمیزش ہو ان کی دعائیں بھی پہلے آسمان سے ہی لوٹا دی جاتی ہیں۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آتی ہے کہ فاحشہ عورتوں اور مردوں کی جماعت  اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے یہ تو نہیں کرتے کہ بے حیائی کے سارے کاموں سے اجتناب کرلیں جسے یہ اپنا پیشہ سمجھتے ہیں اور لوگوں میں مقبولیت و پیسے کی افراط  سے ان کی آنکھیں چندھیائی ہوتی ہیں لیکن  یہ نذر و نیاز و کونڈے کا اہتمام  ، قبور پہ سجدہ ریزی و چادر کا چڑھانا ،  اہل بیت اطہار اور صوفیا کرام کی برسی منانا ، اور اسی قسم کی بیشتر بدعات کو دین کا حصہ بنا کر اور ان رسوم کو اپنا کر  اپنے ضمیر کو مطمئن  تو کیا کرتے ہونگے اسے سلا دیتے ہیں۔ ایسی ہی صورتِ حال دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اپنائے ہوئے ہیں۔  یہ اطمینان کیا کم ہے کہ کوئی بت ، کوئی  ستارہ ، کوئی  صاحبِ قبر  یا کوئی  صاحب حال  و قلندر نما  نے ان کے دین و دنیا کی ضمانت لے رکھی ہے۔  قوم  تو اب ایک  ایسی بھی ہے جس نے اپنے سارے گناہ  خدا کے سر کر کے اس کا ایک بیٹا بنا کر  اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور اب سب معصوم  بنے ہوئے ہیں۔ اب گناہ کی خلش کیا ہوتی ہے کون جانے  ۔
براہیمی  نظر  پیدا  مگر  مشکل  سے  ہوتی  ہے   :  ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
کچھ یقیناً ایسے بھی ہوتے ہیں جن  کے دل میں اللہ کا خوف  اجاگر ہوتا اور اپنے ضمیر کی خلش کو کم کرنے کے لیے ایسی فلاح و بہبود کے کام شروع کر دیتے ہیں تاکہ گناہوں کا کچھ  تو ازالہ ہو ۔ان میں سے تیسری قسم ظاہر ہے کہ اللہ کے یہاں دوسرے اقسام  کے مقابلے میں مقبول ہونگے ، یہ احساس یا آخرت کا خوف بھی غنیمت ہے۔ مقبول تو اللہ کے دربار میںصرف وہ عبادت ہے  یا وہ عمل ہے جس میں صرف اور صرف  اللہ کے لیے اخلاص شامل ہو  اور  لالللہیت ہو ،  خشی الرحمٰن بالغیب    والی کیفیت ہو  ۔ اس کے علاوہ  جس عبادت یا عمل میں اپنے نفس کو تسکین ملے  وہ کبر کی راہ ہے یعنی  نیک عمل بھی اس لیے کیا جائے کہ لوگ پارسا سمجھیں ، مخیر سمجھیں  ، اللہ کا ولی سمجھیں وغیرہ۔ عمل کا دارومدار نیت پر ہے  انم العمال بالنیات۔ اور جو لوگ کہ شیطانی کاموں سے تائب ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی کی مقصدیت کا احساس ہوجاتا ہے ان پہ اللہ کا خاص کرم ہی ہوتا ہے۔  اللہ   د   کا عدل یہ ہے کہ اوروں کی دولت پہ اگر کسی نے قبضہ کیا  یا ناجائز آمدنی حا صل کی تو پہلے وہ اوروں کا مقروض ہے کہ ان کی دولت کو جائز حقدار کو واپس کرے  اس سے پیشتر کہ وہ اس دولت کو خیراتی کاموں میں خرچ کر کے اپنے لیے جنت کا سرٹیفیکیٹ
۳
 حا صل کرے  اور اللہ   گ  کی  غیرت یہ ہے کہ جس نے فلاحی کاموں میں اخلاص الہی کے علاوہ اپنے کسی نفسانی خواہش کے تحت کیا ہے  تو اس کا بدل اس آدمی کو اس دنیا میں ہی عطا کر دیتاہے تاکہ اس کی خواہش پوری ہوجائے  اور آخرت میں ایسے آدمی کے لیے کوئی انعام نہیں ہوتا۔ اور جنہیں ہدایت نصیب ہوگئی وہ یہ بھی سمجھ لیں کہ یہ سراسر اللہ کی رحمت ہے کہ انہیں اللہ نے اس راہ سے ہٹا دیا جو جہنم کے دہانے کو جاتی ہے۔ الحمد لاللہ۔
 سو  اربابِ  جہاں  یہ جان لیں کہ آج کے دور میں اگر کوئی سیاسی فنکار ، پاپ میوزک کا آئی کان  یا کلاسیکی موسیقی کا  استاد ،  یا کوئی بہت بڑا اداکار ، یا کوئی بہت بڑا مبلغ و مقرر  و شاعر و ادیب  ، یا کوئی جنرل یا جنگجو ، یا کوئی بہٹ بڑا دانشور  اگر لاکھوں لوگوں  کا مجمع اکٹھا کر کے انہیں ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے  یا گھر گھر میں اس کی تصویریں یا خواب انگیز باتیں ہو رہی ہوںتو
یہ  اس بات کی علامت نہیں کہ وہ اللہ کے یہاں مقبول بھی ہے۔شیطان کے چیلوں کی تو اس دنیا میں ہمیشہ کثرت رہی ہے  اور سنتے ہیں کہ جہنم میں بھی لوگوں کو  ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا جائے گا، لیکن پھر بھی وہ پکارے گی کہ  ہل من مزید۔  اللہ کے چنے ہوئے انبیأ و  رسول و اولیأ و داعی و مبلغ بے شمار ایسے گذرے ہیں جنہیں اپنی زندگی میں اتنا برا مجمع پاپ میوزک کے سٹار جیسا میسر نہیں آیا اور نہ پوپ کے جیسا مجمع اکٹھا ہوا  اور نہ ان کے اجتماع میں وہ ہیجان و  پاگل پن نظر آیا بلکہ سمندر جیسا خاموش جذبہ ٔ  لازوال سینوں میں پلتا رہا۔لیکن وہ سب اللہ کے یہاں مقبول ہیں۔  غور کریں کہ دنیا کی  چند روزہ  مقبولیت  کی کیا قیمت و اہمیت ہے۔  اصل میں  مقبولیت  اور  محبوبیتِ  الہی کی  تو صرف ایک ہی شرط ہے اور ایک ہی  معیار ہے  اور  وہ ہے  تقویٰ  اور اتباعِ رسول  ؐ  ۔   اپنے آپ کو  اور ہر کسی کو اس  معیار پر تول لیں ،  بات کھُل کر سامنے آجائے گی۔ عزت تو وہ ہے جس میں اللہ کی رضا اور اس کی محبوبیت حا صل ہو ،  ذلت  ظاہر ہے کہ اس کا اُلٹ ہے اور اپنی  قبر و آخرت  میں رسوائی ہے۔جس کی عزت آسمانوں میں ہو اس سے بڑھ کے خوش نصیب کون ہوگا۔ اور جن کی عزت و سربلندی کا ذمہ آسمان والا خود اٹھا لے  اور ہما شما کو ا ن کی صحبت و شفاعت میسر آجائے  تو کیا کہنے ہیں۔  و رفعنا لک ذکرک۔
جس روز دل کی  رمز مغّنی سمجھ گیا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں طے
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: