Hesham A Syed

July 14, 2009

Safayee kaisey kee jaaiey ?

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:49 am
Tags: ,

Safaayee kaisey kee jaaiey ? Hesham Syed :

حشام احمد سید                                 صفائی کیسے کی جائے  ؟
میرے کالم کے قارئین کبھی کبھار مجھے یہ بھی لکھتے ہیں کہ میری تحریر میں اسلام  اور امت مسلمہ کا درد چھپا ہوتا ہے لیکن کیا فائدہ ان باتوں کا جب کہ کوئی سمجھتا ہی نہیں اور ساری باتیں جان کر بھی کوئی عمل نہیں کرتا۔ یہی تو سانحہ ہے جس کا اشارہ میں تقریباّ اس موضوع پہ اپنے ہر کالم میں کرتا ہوں۔  ابلاغ عامہ کے پھیلاؤ نے ہر طرح کا زاویہ نگاہ پھیلا رکھا ہے۔ لوگ سنتے ہیں ،  سر دھنتے ہیں یا سر پیٹتے ہیں یا سر کو دیوار پہ مارتے ہیں ،  سینہ پھلاتے ہیں یا سینہ کوبی کرتے ہیں۔ ممبر پہ بیٹھ کر بغیر اس کی حرمت کا لحاظ کیے ہوئے سنی سنائی باتوں پہ جھوٹ بولتے ہیں اور گھڑتے ہیں، اخبار ہو ،  ویب سائیٹ ہو ، ٹیلی ویژن ہو، ریڈیو ہو ، فلم ہو جدھر دیکھیے، پڑھیے  اور سنیے جھوٹ کا ہی بول بالیٰ ہے۔قران ہو حدیث ہو اس کے متن کو بغیر سیاق و سباق کے جہاں چاہے  نیم دانشور جو جہلأ سے بھی بدتر قبیلہ ہے اپنی باتوں میں  تقدس پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، اقبال کے اشعار ہوں یا کسی اور شاعر کا عارفانہ کلام ہو یا عارفانہ نہ بھی ہو سوقیانہ ہی ہو ، اسے بھی جا بجأ تحریر ہوتقریر میں رنگینی پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ہر کوئی دانشور ،  عالم و صوفی بن کے مافوق الفطرت باتوں کے سِحر میں لوگوں کو گرفتار کرتا ہے اور ان سے اپنا الو سیدھا کرتا ہے اور کچھ نہ ہو تو لوگ اسے ایک آسمانی اور نورانی مخلوق  تو سمجھنے ہی لگتے ہیں  اور اس ہر قسم کی کرشمہ و واردات کی امید لگائے رکھتے ہیں۔ کوئی نبی اللہ تو کوئی رسول اللہ تو کوئی ولی اللہ  تو کوئی خلیفہ الرسول تو کوئی انسانِ کامل بلکہ بعض  تو خود اللہ ہی بن کے اپنے شیطانی علم و ذکر سے لوگوں کو مسحور کیے  رکھتے ہیں اور پورے معاشرے کو گمراہ کر چھوڑتے ہیں۔طرح طرح کی اصطلاحات ایجاد  ہو چکی ہیں جن کی حیثیت قران کے حروف مقطعات کی ہوگئی ہے جس کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے چند خاص لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہیں۔ کوئی قران کی صحت کا منکر اور اگر پورا نہیں تو کچھ سورتوں کا یا چند آئیتوں کا ، کوئی مجموعہ احادیث کا منکر، کوئی محدثین اور اماموں سے بد ظن،کوئی معجزات و کرامات کا انکاری ، کوئی عقلیات کا ماہر، کوئی مکالمات کا ساحر ، کوئی عملیات اور باطنی علوم کا ماہر ،  الغرض  جدھر نگاہ کیجیے یہ گلشن پھولوں سے تو نہیں سجا کانٹوں سے  اور جھاڑ جھنکار سے بھرا ہوا ہے اور ہم سب صحرا میں اک سراب کے پیچھے دوڑ لگا رہے ہیں ۔
مسٔلہ ایک ہو تو آدمی کچھ کرے ، امت مسلمہ میں صرف یہی نہیں کہ ہر دم ایک فکری و طبعی جدل و انتشار ہے بلکہ  روز مرہ کی زندگی اور معاشرت میں بھی جو برائی پھیلی ہوئی ہے اس کا علاج بھی نہیں کیا جاتا بلکہ ان برایوں کو  اب برائی سمجھا ہی نہیں جاتا۔ جھوٹ کو مصلحت اور تقیہ کا نام دے دیا گیا ،  ایمان داری اور دیانت داری کو حماقت قرار دیا جانے لگا ۔ لوٹ کھسوٹ ، رشوت و سفارش ، دھوکہ دہی  اور مادیت پرستی  ، سودی کاروبار کو عین کامیابی تصور کیا جانے لگا ۔ وقت کی بربادی کھیل تماشے ،  رقص و موسیقی کو ثقافت کا حصہ بنا دیا گیا۔جنسی آزادی اور بے راہ روی، بے شرمی  و بے حیائی کو آزادئی افکار سے تعبیر کیا جانے لگا۔ اور سب سے بڑھ کے جو بیماری ہمارے اندر سرائیت کر چکی ہے  وہ ہے منافقت کی ۔ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔
عمل کم کم ہے تقریریں بہت ہیں  :  تری سنت کی تشہیریں بہت ہیں
قدم اُٹھے ترے رستے میں کیسے  :  سگِ دنیا ہوں زنجیریں بہت ہیں
مندرجہ بالی مسائل کا حل کیا ہے ؟ ظاہر ہے یہ ایک منطقی سوال ہے۔ سو اس کا جواب یہی ہے کہ اپنے قلب کو صاف و ثیقل کیا جائے تاکہ آدمی اپنا محاسبہ خود کر سکے اور اس طرح ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا چلا جائیگا۔قلب کی صفائی ذکر الہی سے ہوتی ہے۔جب قلب شفاف آئینہ بن جائیگا تو اس میں اپنی تصویر صاف نظر آنے لگے گی اور آدمی علم  و تدبر کی روشنی میں اپنی شکل و صورت سنوار کر انسان بن جائے گا۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے ( آمین)۔
دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اُٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا  نہ  ہو  اندازِ  آفاقی
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: