Hesham A Syed

July 14, 2009

World Cup T-20 , Pakistan and Taliban

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:00 am
Tags:

World Cup T-20 , Pakistan & Taliban :   Hesham Syed

حشام احمد سید
      ٹی ۔۰۲  ورلڈ کپ کرکٹ  ،  پاکستان اور طالبان
اے کاش پاکستان ہر میدان میں یونہی کامیاب و کامران اترے جس طرح کہ کرکٹ ٹی ۔۰۲ میں ورلڈ کپ حاصل کر کے دنیا میں اپنی ساکھ منوائی ہے۔یہ دعا ہر پاکستانی کے دل سے جاری ہوئی جیسے ہی شاہد آفریدی نے اپنا آخری بلا گھمایا۔ ایک عرصے کے بعد ایک ایسے پاکستان میں جہاں پچھلے سالوں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہو رہی ہے اور لوگ قنوطیت اور افسردگی کا شکار ہوگئے ہیں۔دھماکے ، وحشت گردی اور دہشت گردی نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔اس جیت نے قوم میں جیسے کہ ایک نئی روح پھونک دی۔ماحول زندہ باد پاکستان ، پائیندہ رہ  اے پاکستان ، گریٹ نیشن پاکستان کے نعروں سے معمور ہوگئی۔دھمال ،  لڈی ، بھنگڑا سبھی ڈھول کی  دھنا دھن دھن  ،  تنا  تن تن کے ساتھ سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے۔مٹھایوں کی دکانوں میںرات گئے ایک جم غفیر امڈتا چلا آیا۔یہ وہ منظر تھا جو پاکستان کے نیوکلر پاور بننے پر قوم نے جشن منایا تھا یا ۱۹۹۱ میں ورلڈ کپ سیریز جیتنے پر ناچی تھی۔کراچی کے نوجوان یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے بزرگوں اور والدین نے پاکستان بنا کر اور پاکستان ہجرت کر کے ہماری نسل پہ بڑا احسان کیا۔ کوئی ہمیں مہاجر کہے ، تلیر کہے  یا پناہ گزیں کہے  تو کہتا رہے ہم  تو پاکستانی ہیں اور ہماری نسلوں نے ہی اسے خون سے سینچا ہے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔ اللہ اس ملک کو سلامت رکھے یہ دعا تو پاکستان کے  ہر شہر ہر گلی کوچے میں سنائی دے رہی تھی چاہے وہ  پنجابی ، سندھی ، پٹھان ، بلوچی ،کسی علاقے یا قبیلے کا ہو ۔ وی آر پراؤڈ پاکستانی  پاکستان زندہ باد جناب،  پاکستان زندہ باد ۔ نفلیں ادا کی جارہی تھیں، جومنتیں مانی جا چکی تھیں اسے پورا کرنے کا وقت آگیا تھا۔ بدعت ہی سہی لیکن مزاروں پہ چادر بھی چڑھائی گئیں۔بچے نوجوان جوان پیر و بذرگ سبھی  اس کامیابی کا جشن اپنے اپنے انداز میں  منا رہے تھے۔ ایک بار پھر پاکستان میں یک جہتی اور قومیت کا ایک تصور جاگا۔ جہاں آتشیں بگولے دندناتے پھر رہے تھے اور لوگون کو یتیم  وبیوہ کرتے پھر رہے تھے  وہاں آتش بازیاں اور پھلجھڑیاں چھوڑی جا رہی تھیں ۔ پھولوںکے گلدستے اور مٹھایاں ، چاکلیٹ اور جوس تقسیم ہو رہے تھے۔ اندھیری رات کے آنگن میں صبح کے قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی  ۔ یہ جشن صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں ہر شہر اور گاؤں میں پراؤڈ پاکستانی  اور پاکستان  کے ہمدرد کھلے عام  سڑکوں اور گلیوں میں گئے دن و رات تک مناتے رہے۔ لوگ نغمہ سرا تھے : 
یہ دیش ہے ویر جوانوں کا ؛  البیلوں کا مستانوں کا  ؛  اس دیش کا یارو کیا کہنا ؛  یہ دیش ہے دنیا کا گہنا۔
 یوں  دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران  :  اے قائد اعظم ترا حسان ہے احسان
چند مولویوں کا خیال ہے کہ کرکٹ یا اس قسم کے کھیل غیر اسلامی ہیں اور قوم کا وقت خراب کرنے والی باتیں ہیں۔ یہ کیا کہ لاکھوں لوگ
۲
صرف ایک بلے اور گیند کے پیچھے دیوانے ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر کوئی عمل کسی  قوم کو متحد کر دے، اور ایک لمحہ کو نفرتوں اورعداوتوں اور تعصب کی فضا سے نکال دے تو اسے غیر اسلامی کیسے کہا جا سکتا ہے ؟ قوم کو خراب کرنے اور ان کا وقت برباد کرنے میں سیاسی اور مذہبی لوگ کیا کم ہیں کہ تان صرف کھلاڑیوں پہ ہی ٹوٹے۔کرکٹ ڈپلومیسی نے تو کئی بار پاکستان کو اس کے ازلی دشمن سے بچایا ہے۔ اور فضا میں کھنچی ہوئی نفرت کی لکیروںکو دوستی کے دائرے میں بدل دیا ہے۔
بات سے بات نکلتی ہے تو یہ بات بھی کی جانے لگی کہ پاکستان پہ خان صاحبان کا بھی بڑا احسان ہے۔ جیسے  لیاقت خان ، ایوب خان ،  قدیر خان ، جہانگیر خان ، عمران  خان وغیرہ  اور خود اس میچ میں شاہد آفریدی ( یہ بھی خان ) ، یونس خان  و  عمر خان ۔ اب کوئی خان صاحبان کو طالبان بنا کر ان کے خلاف سازشوں کا بازار گرم کردے تو یہ  زیادتی ہے ۔ہاں اس لسٹ میں یحییٰ خان اور غفار خان کو شامل نہیں کیا کہ بہت سارے لوگ اس پہ اعتراض کریں گے حالانکہ تاریخ نے ان کے ساتھ بھی انصاف نہیں کیا اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا رہا ہے ، کسی اور کا جرم کسی اور کے سر منڈھنے کی پرانی رسم چلی آرہی ہے۔ سوچ پہ پہرہ پہلے ہی بہت ہے۔طالبان جو کل تک مجاہدین کہلاتے تھے اور ان کے بنانے میں ہم سب بلکہ امت مسلمہ  پش پیش تھی آج وہی دہشت گرد ہیں اور ان کا ناطہ اسلام دشمن ، پاکستان دشمن عناصر سے جوڑا جا رہا ہے۔کچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہی۔ پھلتی نہیں ہے شاخِ ستم اِس زمین پر ،  تاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہے۔ مخلصوں کے صفوف میں منافقوں کی پوری فوج کیسے شامل ہو گئی ؟  ۶۰۰۲  کے اوائل سے اوسطاّ  ۰۴ پاکستانی روز  صرف امریکی درونز  سے  مارے جارہے ہیں۔ خود پاکستانی فوج اور دیگر امریکی معاونین جو قتل کر رہے ہیں اس کا شمار الگ ہے۔
  بڑی طاقتوں  کے کردار سے کون واقف نہیں :
تم ہی تجویزِ صلح لاتے ہو  :  تم ہی سامانِ جنگ بانٹتے ہو
تم ہی کرتے ہو قتل کا  ماتم  :  تم ہی تیر  و تفنگ بانٹتے ہو
اللہ پاکستان کو اس پہ آئی ہوئی آزمائیش سے نکالے اور اِس ملک کے دشمنوں کے چنگل سے نکال کر اس کے محبان کے حوالے کرے
( آمین)  یہ  قوم  ایک  ایسے  کل  کا  انتظار کر رہی ہے جس میں وہ  پُر معنی جشن منا سکے۔اے کاش  !
بات صرف حوصلے کی  اور صحیح  فکر  و رہ نمائی کی ہے۔!  دوسرے  معاملات میں بھی صحیح بلا گھمانے ،  بالنگ کرنے اور سٹرکٹ فیلڈنگ کی ہے۔
حشام احمد سید
۔۔

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: