Hesham A Syed

August 25, 2009

Baasatth saalah Pakistan

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:35 am
Tags: ,

Baasatth saalah Pakistan – hesham syed – urdu article

حشام احمد سید                                 62سالہ پاکستان 
( پہلا کالم پاکستان کا مطلب کیا ؟ ۷۵57ویں برسی پر لکھا گیا اور یہ  اسکا ہی تسلسل  ہے)
ڈھول بجنے لگا ۔ ساز سجنے لگا ۔ موسیقاروں ، گانے ، ناچنے والوں اور ہر قسم کے فنکاروں کے طائفوں کا ٹولہ اکٹھا ہو نے لگا ۔ اگست کا مہینہ جو آگیا ہے ، ہاں یہی مہینہ تو ہے جس میں اس سطح زمین پر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ۴۱ اگست ۷۴۹۱ ء کووجود میں آئی تھی ۔پوری قوم ایک سرشاری سے دوچار ہے ، ہر جگہ ملی نغمے چاہے وہ گانے والے یا گانے والیوں کے طائفے گارہے ہوں یا طوایفیں گا رہی ہوں بات تو خوشی سے پاگل ہوجانے کی ہے ۔ اس آزادی میں سب شریک ہیں ۔  ع
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان !
 میلے ٹھیلے کا زمانہ آیا ، جھنڈا لے کر پریڈ ہوگی ، احسان کا شکرانہ جو ادا کرنا ہے۔اخباروں میں پورے پورے صفحے کے اشتہارات چھپ رہے ہیں ۔ پروگرام کی بھرمار ہے ۔ ٹکٹ بُک ہو رہے ہیں ۔ خاندان در خاندان گانے ناچ و رنگ کی محفلوں کا انتخاب کر رہا ہے ؛ کون کہاں جائے گا ، کہاں کلاسیکی ہے ، کہاں پاپ ہے ارے یہ کیا کہہ گیا پاپ تو ہر جگہ ہے کہنا تھا کہاں پوپ ہے ، یہ بھی غلط ۔ کہاں پوپ میوزک ہے ؟ ہاں یہ صحیح ! کہاں بھنگڑا ہے کہاں لڈی ہے ، کون کس کا فین ہے ؟ کس کی نظر کس کے چہرے سے سِکتی ہے ، بار بی کیو کی محفل میں کیو لگے گی ، ون ڈش پارٹی میں فش لگے گی ، مشاعرے ہونگے ، واہ واہ سبحان اللہ تالیاں ۔ قوالیاں ہونگی ۔۔ دھنا دھن دھن ، چٹا چٹ چٹ ،
مل گیا ہے ملک بے مثال کیا کہیں  :  ہوگیا ہے کیسا یہ کمال کیا کہیں۔۔۔ آہا ۔۔ او آہا آہا !!
 کیا بچے اور کیا بڑے یا بوڑھے سب مست ہیں بلکہ بد مست ہیں ، ہم آزاد ہیں ، آزاد ہیں ۔ ہاں اسی انگریزکے ہاتھ سے ہم نے ہندوستان کے کٹے ہوئے دو ایسے ٹکڑے پائے جو ایک دوسرے سے ایک ہزار میل دور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنے سے معذور تھے۔ ہاں یہ اسی پورے ہندوستان کے ٹکڑے تھے جسے انگریزوں نے مسلمانوں سے چھینا جس پہ وہ ہزار سال سے زیادہ سے حکومت کر تے چلے آئے تھے۔ اب وہی مسلمان اس بات پر خوش تھے اور ہیں کہ ان سے ہی چھینی ہوئی پوری روٹی کے دو ٹکڑے تو میسر آئے۔ مشہور یہی کیا گیا ہے کہ اس دو ٹکڑے کے لیے ہندوستان کی پوری مسلمان آبادی میں صرف ایک شخص نے خواب دیکھا اور یہ خواب بھی اس شخص نے دیکھا جس کے نغمے سارے ہندوستان میں گونج رہے تھے ۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا  :  ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
۲
 ان  تازہ  خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے  : جو  پیرہن اس کا ہے وہ  مذہب کا کفن ہے
  خواب تو پھر خواب ہے اس پہ کس کا زور ہے جس کو نظر آجائے اور جو نظر آجائے چاہے پوری روٹی کا ہو یا روٹی کے دو ٹکڑوں کا ہو۔ پھر بقیہ سارے لوگ اس خواب کو سنانے اور اس کی تعبیر میں لگ گئے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد اس خواب کی تعبیر بھی ایسے شخص کے ہاتھوں پوری ہوئی جسے مذہب کے اجارہ داروں نے قائد اعظم کے بجائے کافر اعظم کا خطاب تک دے ڈالا اور جب یہ ملک بن ہی گیا تو حلوے مانڈے کے لئے اُسی پاکستان میں سارے لاوڈ سپیکر کو اپنے قبضے میں کر لیا اور ڈکار نے لگے ۔ ویسے صاحب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان پورے ہندوستان کو انگریزوں سے واپس چھینتے کیونکہ جیسا لیا تھا ویسا ہی لوٹاؤ لیکن خیر اس جرم ِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات سے تو بہتر ہی رہے نا ! اور سچ تو یہ ہے کہ آزاد ملک چاہے کتنا بڑا یا چھوٹا بھی کیوں نہ ہو ، یہ کیا ہوتا ہے اور آزاد ملک کے باشندے کیا ہوتے ہیں اس کی حقیقت بے وطن اور محکوم لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن جغرافیائی طور پہ آزاد مملکت میں اگر ملوکیت ، محکومیت اور مجوسیت دندناتی پھرے تو پھر کیا کیا جائے ؟ کاش ہم یہ الجھن کبھی بھی سلجھا سکیں !
 چلئے یہ تو ڈرامے کا ایک سین تھا ڈراپ سین تو نہیں تھا ، اس کے آگے کیا ہوا ؟ ملک کا نقشہ تو بڑا تھا پھر یہ اتنا چھوٹا کیسے ہو گیا ، ہند کے سارے مسلمان اس میں کیوں نہ سما سکے ؟ خیر باہر سے آنے والوں کی بات چھوڑیں خود اسی جغرافیائی حد میں رہنے والوں کے لئے ان کی اپنی زمین کیوں تنگ ہو گئ ۔ یہ تیرا وہ میرا اور تیرا کیا سب میرا ہی میراکی جنگ کیوں چھڑ گئی ؟  چشمِ فلک نے کیا کچھ نہ دیکھا ۔ ملک قبیلے میں بٹتا رہا ہر گھڑی : کیسی افتا د سر پہ تھی آکر پڑی۔ ۴۲ سال کے اندر ہی قائد اعظم کا آدھا احسان لوٹا دیا گیا۔ جس رومال کے دونوں کونوں کو پکڑ کے قائد نے مونٹ بیٹن کو یہ کہا تھا کہ  It would not be a truncated Pakistan but we will hold India like this ۔اس رومال کا ایک کونا جھول گیا اس لئے کہ ہمارا ایک بازو اور اس کی انگلیاں شل ہو چکی تھیں ِ ، فالج بدن کا ایک حصہ نہیں ہوا تھا بلکہ ہمارے ذہنوں پہ فالج گر گیا تھا ۔  ع
جنگ کھیڈ نہ ہوندی زنانیاں دی
جیسے نغمے ہمیں آئینہ دکھانے لگے ۔ وطن کے سجیلے نوجوانوں کو زہریلے نغمے چین کی نیند سلانے لگے ۔ اب وہ رومال نما چادر اب اتنی بچ گئی کے سر ڈھانکتے تو پیر ننگا ہوجاتا اور پیر ڈھانکیں تو یہ سر سے اتر جاتی ۔ بقیہ میں بھی پیوند کاری ہونے لگی ، بخیہ ادھڑنے لگا ، مادرِ وطن کا تن بھی جھانکنے لگا اور ہوس سے بھری نظریں اسے تکنے لگیں۔
۳
 قوم کو اس دھچکے سے نکالنا تھا ، اس کا علاج نیرو کی طرح بنسری کا بجانا ہی نظر آیا ، سجیلے نوجوان یا جوان اور نظریاتی بوڑھے دونوں ہی ماؤف زدہ تھے ۔ ایسے موقع پر کوئی کام آیا تو فنکاروں کا ٹولہ ، اَعضأ کی شاعری ہونے لگی ، سٹیج پہ کمر بل کھانے لگے ، نچ نچ منڈیا ناچ کا شور ابل پڑا ، شرم و حیا منہ چھپا کر کہیں اور جا بسی اور پھر ساری قوم نچدی رہی اور آج تک نچ رہی ہے چاہے وہ تگنی کا ناچ ہی کیوں نہ ہو۔ قوم کی روح کو بیدار کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے پھر قرونِ اولیٰ کے کارنامے گنوائے ۔ لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو ، لیکن آج ۲۶سال کے بعد بھی ہم اپنی طبیعت اور فطرت کو نہ بدل سکے ۔ آج بھی وہی بڑک ہے ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت ہے ۔ حقیقت سے گریز ہے۔
«  ۵۱  اگست کو یومِ پاکستان منانے پہ احتجاج ، قائداعظم کے دو قومی نظریے کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کی پاکستان کونسلیٹ کو دھمکی۔
٭ اس اعلانیے کو پڑھ کے ہم سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کسی وطن کے آزادی کے دن کی حیثیت تو جوں کا توں برقرار رہنا ہی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان کا مطلب کیا پہ بھی غور ہو اور تاریخی حقیقتیں اور اپنے جرائم  اور کارنامے کا بھی احساس ہو ، دو قومی نظریہ کی حیثیت مندرجہ ذیل حقائق اور سوالنامے کے پیشِ نظر کرنا چاہیے  اور سوچناچاہیے کہ کیا صرف نفرتوں کا پرچار اور اشتعال انگیزی اور ذاتی و سیاسی اشتہار بازی ہی اس کا حل ہے ؟
۱۔  کہنے کو تو پاکستان ہند کے سارے مسلمانوں کا وطن ہونا تھا لیکن ہندوستان میں بسے ہوئے مسلمانوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کی آبادی اب پاکستان کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ہے ؟ کیا پاکستان کے پاس ان کے مسائل کا بھی کوئی حل ہے ؟
۲۔ ان علاقوں میں جہاں مسلم اکثریت کے باوجود پاکستان نہیں بن سکا یا ایسے علاقے جہاں مسلم آبادی اکثریت میں نہیں ہے لیکن ان کے دل پاکستان کے لئے ہی دھڑکتے رہے ہیں ، ان لوگوں کے لئے پاکستان کے پاس کوئی حل ہے ؟ یا اس آزادی کا فائدہ صرف ان کے ہی حصہ میں آیا جو علاقے پاکستان کہلوائے اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو رات کو ہند میں سوئے تو صبح دم پاکستان میں بیدار ہوئے۔
 ۳ ۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی تقسیم بہ شکل بنگلہ دیش کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ یہاں کون سی دو مختلف قومیں آباد تھیں ؟
۴
۴۔  سیاسی کشمکش اور معاشرتی و اقتصادی بے عدلی کے سبب مشرقی پاکستان کا مٹ جانا ، بنگلہ دیش میں پاکستانی جرنیلوںکی ہتک آمیز شکست اور اس زمیں پہ بسے ہوئے وہ پاکستانی جو اپنی فوج کا آخری دم تک ساتھ دیتے رہے ہندوستان میں تیا رکئے ہوئے بنگالی مکتی باہنی کے خلاف اور اپنے آپ کو سوائے پاکستان کے کسی اور ملک سے منسوب کرنے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہیں ۔ان کی ساری آبادی کو ہی نہیں نسل در نسل کو انتہائی کسمپرسی اور افلاس کے عالم میں اور ایک ذلت آمیز زندگی گزارنے کے لئے وہیں چھوڑ دینے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں پاکستانی فرزند ؟ پاکستان کا خواب دیکھنے والے کی اگر پذیرائی ہے تو پاکستان کا پاکستانیوں کو نہ قبول کرنا اور ان کے مرضی کے خلاف طرح طرح کے بہانے بنا کر انہیں کسی اور مملکت میں زندہ درگور کردینے کا کیا جواز ہے ۔ یہ کون سی دو مختلف قومیں تھیں ؟ ( قدرت مظلوموں کی آہ اور احسان فراموشوں کو در گزر نہیں کیا کرتی )۔ جبکہ اسی پاکستان میں علیحدہ پسند بنگالیوں اور مکتی باہنیوں کے لوگ ان محب وطن پاکستانیوں سے کہیں زیادہ لاکھوں کی تعداد میں چور رستوں سے روزگار کے چکر میں گھُس آئے اور آج بھی رشوت خوروں کے طفیل پاکستانی پاسپورٹ بنوا کر مقیم ہیں۔ 
۔۔ ۔ غیر قانونی مقیم لاکھوں  بنگالی تو پھر بنگالی ہیں جو کبھی پاکستانی ہی تھے۔ اب جو لاکھوں افغانی اس ملک میں آکر غیر قانونی طور پہ مقیم ہیں ، ان کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
 ۵۔ ٹوٹے ہوئے پاکستان میں قبیلہ پرستی ، فرقہ پرستی اور تعصبات کے بناء پر لوٹ کھسوٹ ، ایک دوسرے کے حق پہ غاصبانہ قبضہ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو قتل و غارت کرنے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ یہاں کون سی دو  قومیں آباد ہیں ؟
۶۔  اور اب اسی ملک سے ثقافتی اور تہذیبی یک رنگی کا پرچار ، سٹیج پہ رقص و موسیقی ، فلموں اورطائفوں کے تبادلے  اور ہنگامہ آرائی کے بارے میں کوئی فتویٰ ؟ اس د و قومی نظریہ کو ا ب کیا ہوا ؟
 پاکستان کے لیڈروں کے بارے میں یہ بات بڑی معروف ہے کہ منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے ، تو ظاہر ہے نعرہ بازی  اور بھولے بھالے عوام کو کسی نہ کسی بہانے الو بنا کر اپنا سیدھا کرناہی رہ گیا ہے ۔ہم یہ بھی بھول گئے کہ تاریخِ انسانی میں اس سے بڑی ہجرت آج تک نہیںہوئی ، اس سے زیادہ قتل کسی ایک دن میں کہیں نہیں ہوا ، کہنے کو تو یہ ملک قلعہ اسلام تھا اور اسلام کے لئے بنا تھا لیکن اکثر پیشہ وروں نے ، ساہوکاروں نے ،  صنعتکاروں نے ، جاگیرداروں نے ، وڈیروں نے ، فوجیوں نے ، سیاستدانوں
۵
 نے ، مذہبی اجارہ داروں نے ،  حکومت کے کارندوں نے ، دانشوروں نے ، شاعروں اور ادیبوں نے غرض کہ ہر شعبہ سے متعلق لوگوں نے  اس وطن کے ساتھ جو حشر کیا ہے اس کا نتیجہ ظاہر ہے ۔ اب قوم کے پاس سوائے بڑک مارنے کے ، بھنگڑہ اور دھمال کے اور قوم کو سٹیج  پر یا تگنی کا ناچ نچانے کے کچھ بھی نہیں رہا۔ یہ کام ملک میں بھی ہورہا ہے ملک سے باہر بھی ہو رہا ہے۔مِلّی نغمے کی
 بوچھار ہے اور تاریخی حوالے سے ایک نغمہ یہ بھی سننے کو ملا کہ ’’ نہ میرا پاکستان ہے نہ تیرا پاکستان ہے  :  یہ اس کا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے ‘‘ ۔ صرف ایک نعرہ ہے جسے بغیر سوچے سمجھے ہم  لگائے جا رہے ہیں ، پاکستان کا مطلب کیا ۔۔ لا الہ الا اللہ ۔ اور یہ کلمہ بھی نامکمل ہے ، کلمہ کو آدھا کردیا اسی لئے شاید یہ ملک بھی آدھا  رہ گیا ۔ جس ملک کو قلعہ اسلام بننا تھا کیا اس کے موجدوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ محض اسلام کا نام لے کر لوگوں کے جذبات سے کھیلواڑ نہیں کرنا چاہیے بلکہ وحدت کا راستہ رسالت ؐسے ہوکر جاتا ہے ۔ قوم کو متحد ہو کر ایک بار اپنے خدا سے معافی مانگنی ہی چاہیے اور اپنے مقصدِ وجود کا احساس پیدا کرنا چاہیے۔ صرف اپنی ذات کی تشہیر کے لئے پاکستان کا نام استعمال کرنے سے رک جانا چاہیے اور روک دینا چاہیے۔ ضمیر کے سوداگروں سے اللہ بچائے ۔ کچھ میلے ٹھیلے سے وقت بچ رہے تو فکر کی اس نہج پہ بھی غور ہو  :
گفتارِ سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے  :  ارشادِ  نبوت میں  وطن اور ہی کچھ ہے
اقوام میں  مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے  :  قومیت ِاسلام کی جڑ کٹتی ہے اس  سے
بازو  ترا  توحید کی  قوت سے قوی ہے  :  اسلام  ترا  دیس ہے  تو مصطفوی ہے
اب جبکہ ہم ایک بار پھر پاکستان کی آزادی کا ۲۶ سالہ جشن منانے کی تیاری کر رہے ہیں ، تاریخی  حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کبھی آزاد ہوا ہی نہیں، برطانوی استعمار سے نکلا تو امریکہ کی گود میں جا بیٹھا۔ نہ پاکستان کو لیڈر ہی اچھے ملے اور نہ حکومتی کارندے ، لوٹ کھسوٹ کا بازار ہے کہ جاری ہے، آپس میں ہی قتل و غارت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ، لاکھوں معصوم جانیں جو ماری جاچکی ہیں اور ہر روز سینکڑوں مار کر ایسے گروہ اور ہماری حکومت اور ان کے آقا گوریلوں کی طرح سینہ پیٹ کر اپنے فتح کا اعلان کرتے ہیں،ان ہی میں جانے کل کے کتنے سائینسداں ، ادیب شاعر  ، مفکر ، سیاستداں ،  سپہ سالار وغیرہ  مارے جا چکے ۔ علم  وتدبر کی فضا سے پرے ، معاشی استحکام کی کوشش سے الگ  پاکستان کو ایک بے نام  یا بدنام سا جزیرہ بنانے کی سعی جاری ہے۔ عصبیت کا دیو کبھی بلوچستان ، کبھی پختونستان ، کبھی سندھو
۶
 دیش، کبھی گریٹر پنجاب ، کبھی مہاجرستان کا نعرہ لگاتا ہے۔جسے موقع مل رہا ہے وہ جہاں چاہتا ہے اس قرض کے بوجھ سے ڈوبے پاکستان سے نکل کر کسی اور ملک کو بھاگا جا رہا ہے۔جان ہے تو جہان ہے پیارے۔ جب بیماری ایک وبأ کی صورت اختیار کر لے تو افراد اپنے بچاؤ کے لیے اپنی زمین اور گھر کو بھی چھوڑدیتے ہیں۔ جو لوگ باہر سے پاکستان گئے کہ شائد وہ کچھ پاکستان کے لیے کر پائیں انہیں بھی حکومتی کارندوں نے اور بگڑے ہوئے ماحول نے ایسا سبق سکھایا کہ خواب کے سارے آئینے کرچیاں بن کر ان کے جسم و روح میں چبھ گئے۔عوام  جہالت ، بے روزگاری،  بھوک ، مہنگائی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے پریشان ہےں جبکہ پورا پاکستان  حکومتِ پاکستان کے کارندوں  اور وہاں کے ساہوکاروں ، وڈیروں ، جاگیرداروں  ، فوجیوں ، سیاستدانوں کی  بددیانتی  اور بے حسی کی ایسی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا  اور ہم ایک شمع امید جلائے بیٹھے ہیں، آسمانوں کو تک رہے ہیں ، مہدئ وقت کے منتظر ہیں  یا  کچھ نہیں تو حرمِ پاکستان میں ابراہہ کے ہی جیسے ہاتھیوں کے لیے  ابابیلیں ہی سہی۔اے رحمٰن اے کریم  رحم کر کرم کر !   ہوئی ہے  زیرِ فلک اُمتّوں کی رسوائی  :  خودی سے جب ادب و دیں ہوئے ہیں بیگانہ۔
لیکن  ایک بازگشت سی سنائی دیتی ہے :
غمگیں نہ ہو کہ بہت دَور ہیں ابھی باقی
نئے ستاروں سے خالی نہیں سپہر کبود
حشام احمد سید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: