Hesham A Syed

August 25, 2009

Brain drain pey Tabserah !

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:13 am
Tags: ,

Brain Drain pey Tabserah – hesham syed – urdu article

حشام احمد سید                               برین  ڈرین   پہ  تبصرہ
مجھے ایک کالم برین ڈرین کے نام سے ای میل پہ موصول ہوا مقبول اوریا جان صاحب کا لکھا ہوا۔ یہ کالم اپنی نوعیت میں ایک اچھی کوشش ہے۔ لیکن ہمارے قلم کار ، مفکر ، دانشور، فلسفی اور خاصی حد تک عام لوگ بھی ایک عجیب خیالی دنیا میں رہتے ہیں یا یہ کہ یوٹوپئین آئی ڈیالوجی کا شکار رہتے ہیں۔ اپنی تجزیہ نگاری میں کسی مسٔلہ کے زمینی حقائق کو نہیں پرکھتے جسکی وجہ سے جو حل پیش کرتے ہیں وہ بھی قابل عمل نہیں ہوتا اور ان لوگوں کی تجاویز کا کوئی اثر ماحول پہ نہیں ہوتا۔ مصنف نے ہمارا تقابلہ جرمن ، فرانسیسی  اور دیگر یوروپئین اقوام کے افراد سے کیا ہے کہ انہوںنے اپنے ملک میں رہ کر ہی کیسے اس کی تعمیر کی چہ جائکہ  وہاں کے پڑھے لکھے لوگ دوسرے ممالک میں جا کر آباد ہوگئے صرف اپنی ذات کے مفاد کے خاطر۔ تاریخی اور معاشرتی اعتبار سے دیکھا جائے تو جن ممالک سے پاکستان کا مقابلہ کیا گیا ہے  وہ بہت مختلف ہے ۔ اس زمانے کا ماحول بھی بہت مختلف تھا۔ اندازِ فکر بھی مختلف تھا۔
اور صرف یہ کہدینا کہ باہر بیٹھے ہوئے پاکستانی صرف اپنی ذات میں مگن ہیں اور پاکستان کے لیے مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ایک غلط تاثر دینا ہے۔ سچ پوچھیں تو پاکستان بنانے والوں میںہراول دستے میں بھی لوگ برطانیہ میںمقیم تھے اور پیشِ نظر اپنی معاش کا حصول ہی تھا۔ پھر جو لوگ پاکستان سے باہر گئے  اور وہیں کی شہریت اختیار کر لی ،  وہ  یا توکسی نہ کسی طور پہ مجبوری کے عالم میں ہی گئے ،  یا پھر علم کے حصول کے لیے ،  یا اپنے پیشہ ورانہ تربیت کے جائز استعمال کے لیے  وہیں کے ہو رہے کیونکہ پاکستانی حکومت اور اس کے کارندوں  نے انہیں اس کا موقع ہی نہیں دیا کہ وہ پاکستان کی خدمت کر سکیں۔ ایسے بے شمار لوگ میرے علم میں ہیں جنہوں نے باہر تعلیم اور تجربہ حا صل کرنے کے بعد پاکستان کا رُخ کیا لیکن وہاں کے ماحول کے اخلاقی گراؤ کے سبب اور ہر شعبہ میں منفی سیاست بازی کی وجہ کر دل برداشتہ ہو کر پھر پاکستان سے باہر نکل آئے۔ انگلینڈ،یورپ ، امریکہ ، کنیڈا  ، آسٹریلیامیں جاکر ہر شخص نے بڑی محنت کی اور اس لیے کی کہ انہیں پتہ تھا کہ ان کی محنت ایک نہ ایک دن رنگ لائے گی اور انہیںان کا جائز حق ملے گا جبکہ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں معاشرتی اور اقتصادی بے انصافی کے نظام  و عمل  نے ایک غیر یقینی صورتِ حال سا پیدا کیے رکھا  اور یہ آج بھی جاری ہے۔ جو لوگ کہ اب محبانِ پاکستان ہونے کا دعویٰ کر تے ہیں اور جن کی کہ ہر فورم پہ پذیرائی کی جاتی ہے وہ ہیں جو اپنے قومی ہیرؤں کی بھی تذلیل کرنے سے باز نہیں آتے اور انہیں چور تک کہدیتے ہیں۔یہ کہنا کہ اگر سارے کہ سارے پاکستانی جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں اگر یکلخت پاکستان آجائیں تو ماحول درست ہو جائے گا یہ بات ایسی ہی ہے جیسے کہ پاکستان کے بننے کے وقت یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان کے بننے کے بعد بر صغیر خصوصاً
۲
 ہندوستان  ( اسوقت تو صرف ہندوستان ہی تھا ) کے سارے مسلمانوںکا مسٔلہ حل ہو جائے گا لیکن ہمارے عمل کی تاریخ نے ہمیں کیا نہیں دکھلایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان سے علٰحدگی کے پیش ِ نظر مسلمانوں کی معاشی فلاح و بہبود  ہی تھی، اسلام کا نام  تو حسب معمول مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع کرنے کی ترکیب تھی  ورنہ اسی ہندوستان پہ مسلمان ہی قابض تھے اور ان سے ہی انگریزوں نے حکومت چھینی تھی  تو کیا اس ملک پہ مسلمانوں کی بر تری دوبارہ قائم نہیں ہوسکتی تھی ؟ آج ساٹھ سال گذرنے کے بعد بھی جب ہم سب ایک انتشار  ، تفرقہ بازی اور قبیلہ پرستی کا شکار ہیں اگر ہندوستان  ، بنگلہ دیش ، اور بچے ہوئے پاکستان کی مجموعی آبادی کو دیکھیں  تو کیا وجہ ہے کہ مسلمان اپنے اوپر ہندؤں کو مسلط پاتا ؟  اور اس مجموعی آبادی میں وہ لاکھوں لوگ شامل نہیں جنہیں خود پاکستانیوں نے اپنے ہاتھوں سے یا غیر ملکی مملکتوں کی مدد لے کر قتل کیا اور یہ قتل و غارت ہنوز جاری ہے  اور اپنی بے حسی و بے چارگی سارے تماشے دیکھ رہی ہے۔ اور پھر خود پاکستانی حکومتوں نے پاکستانیوں کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا  مشرقی پاکستان کے شہری ایک زندہ مثال ہیں جن کی ایک نہیں کئی نسلیں تباہ و برباد کردی گئیں ، کیا ان میں یا جو لوگ آج بھی پاکستان میں  بغیر کسی گناہ کے قتل کیے جارہے ہیں کوئی اقبال ، جناح  یا کوئی ایسا مفکر یا سیاست دان یا جنرل پیدا نہیں ہوسکتا تھا جو پاکستان کے لیے کچھ کر سکتا۔؟ کیا پاکستان کے لیے صرف جاگیر دار ، وڈیرے اور لوٹ مار کے  امیر بننے والے لوگ یا پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھنے والے ہی رہ گئے ہیں جو پاکستان کے بارے میںکچھ سوچ سکتے ہیں ؟
اس کے علاوہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم یہ تسلیم کر لیں کہ اب جو لوگ بھی پاکستان میں ہیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ پاکستان کا بھلا کر سکیں اور اب صرف باہر مقیم پاکستانی ہی کچھ کر سکیں گے اگر کر سکیں۔ کیا مشاہدے میں باہر مقیم پاکستانیوں کا آپس میںدجل نہیں آیا ؟ پاکستان سے باہر بھی ہر سیاسی جھنڈے کے نیچے پاکستانی وہی کچھ کر رہے ہیں جو ان کے وطن میں ہورہا ہے۔ سو اگر یہ پاکستان چلے بھی جائیں  تو کیا فرق پڑ جائے گا۔ اگر کچھ سنجیدہ مزاج اور وطن دوست لوگ باہر بیٹھے ہوئے ہیں  تو ویسے ہی لوگ ملک کے اندر بھی موجود ہیں اور کم نہیں ہیں ، پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں ان کی کوئی نہیں سنتا ؟ جب اخلاقی برائی ایک وبأ کی صورت اختیار کر لے اور زندہ رہنے کے لیے وہی کچھ کرنا پڑے جو انسانی اور اسلامی معیار سے حد درجہ گری ہوئی بات ہو  تو اس زمین سے ہجرت ہی اپنے بچاؤ کا ایک طریقہ ہے۔ زمین ساری اللہ کی ہے پاکستان ہو یا کوئی اور ستھان۔مسلمانوں کی ذمہ داری ہر جگہ کے لیے یکساں ہے  اور وہ ہے دینِ اسلام کو نافذ کرنا اور اللہ کی حکومت کو قائم کرنا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ ان حالات میں
۳
بھی پاکستان میں رہ کر برایوں کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں اور محترم ہیں۔ لیکن عمومی طور پہ جو بات سامنے آتی رہی ہے  اسے  احکامِ الہی کے تناظر میں دیکھیں : »   قرآن سورہ النسا ۔ ۷۹ : جو لوگ اپنے نفس پہ ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟  انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں مجبور اور کمزور تھے ۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کرتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔«
” جب تک کہ مسلمان اپنی خودی کو چھوڑ کر  اقوامِ غیر کی پذیرائی کے لیے علم حاصل کرتے رہیں گے وہ ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اقوامِ غیر نے صدیوں پہلے عربی زبان سیکھی تاکہ ہمارے علمی اثاثے کا فائدہ اٹھا سکیں ،  ہمارے علمی خزانے کا ترجمہ انہوںنے اپنی زبان میں کیا  اور مزید تحقیقی عمل سے وہ دورِ جہالت سے نکل آئے اور سارے عالم پہ قابض ہو گئے ، ہم نے ان کی زبان صرف اس لیے سیکھی کہ ہمیں اچھی نوکری میسر آجائے اور ہم ان کے خدمت گار بنے رہیں ، اپنی زبان سے ہم شرمسار ہی رہے اور اسے اور اس کے بولنے والوں کو کم تر سمجھا جسکا نتیجہ صاف ظاہر ہے۔بجائے اس کہ کہ ہم تحقیقی کام کرتے اور اقوامِ غیر کے علمی اور تجرباتی اثاثے کو اپنی زبان میں منتقل کرتے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہم صرف اس بات پہ خوش ہوتے رہے کہ ہمارا بچہ بابا بلیک شیپ گانے لگا اور ہماری اولاد  ریپ میوزک کو سمجھتی ہے اور ہپ ہاپ ڈانس کرلیتی ہے۔ واؤ  Vow ہم کسقدر ترقی یافتہ ہوچکے ہیں۔ اقبال کا شاہین اگر پھڑ پھڑاتا  ہوا دم  توڑتا ہے  تو کیا فرق پڑتا ہے۔ قصرِ سلاطانی کو چھوڑ کر اب چٹانوں میں بسیرا کون کرے ۔ یہ پرانے وقتوں کی باتیں ہیں۔ جب چند لوگ پیٹ پر پتھر باندھ کے اللہ کے دین کے دشمنوں کو شکست دیا کرتے تھے۔ اب شکم سیری  اور تن آسانی کا زمانہ ہے اور یہ شکم سیری بھی  تو دشمنانِ دین سے ہی حاصل ہے۔
وفاداری بشرطہ استواری اصل ایماں ہے  :  مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے ، ہماری کمزوریوں کو در گذر فرمائے اور ہمیں اسلام کی سر بلندی  کے لیے استعمال کر لے ( آمین ) پاکستان میں ہو یا کہیں  اور ہو۔!
حشام احمد سید
۔۔

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: