Hesham A Syed

August 25, 2009

Kia hamara Muashra muhazab hai ?

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:14 pm
Tags: ,

Kia hamara muashra muhazab hai ? hesham syed – urdu article

حشام احمد سید     .    کیا ہمارا معاشرہ مہذب ہے  ؟

پھر وہی پاکستان کی باتیں اور مملکت اسلامیہ کے مسائل ۔ کیا کیا جائے کہ کوئی پاکستانی ایسا نہیں ملتا جس کے دل میں اپنے ملک کا درد نہ بسا ہو اور اپنے ملک کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھیں نہ نمناک ہوتی ہوں۔کچھ ایسے ملتے بھی ہیں جنہیں پاکستان میں صرف ترقی اور خوشحالی نظر آتی ہے  وہ یا تو اتنے ہی بے حس  یا کوتاہ نظر ہوتے ہیں یا پھر پاکستان ان کے ایک تجارت کی منڈی ہے جہاں کہ ان کے لیے بھی لوٹ مار کے بے شمار مواقع میسر ہیں۔ اقتصادی مسائل  کا شکار بھی وہی معاشرہ ہوتا ہے جہاں اخلاقی بگاڑ پیدا ہوچکا ہو اور عدل و انصاف کی راہیں مسدود کر دی گئی ہوں۔ قانون کے ہرکارے لاقانونیت کا پرچار کر رہے ہوں۔طبقاتی کشمکش میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہو۔علم و تدبر کے بجائے جہل ممبر پہ سر چڑھ کر بول رہا ہو۔اختلاف رائے  پر علمی و فکری  زاویے سے  بحث کی جانے کے بجائے دشنام طرازی ، گالیوں ، بدگمانیوں کی چنگاریاں پھیلائی جائیں۔ اور یہ سب کچھ کئی برسوں سے پاکستان میں اور پاکستانیوں میں  ہو رہا ہے چاہے وہ کہیں بھی  رہ رہا ہو  اور اس میں روز بروز اضافہ ہی ہورہا ہے۔ لوگوں پہ جو کچھ بیت رہی ہے اس کا ذکر آخر کیسے نہ کریں اور سب ٹھیک ہے کی دھانی چادر اوڑھ کے کیسے چین کی نیندسو رہیں۔ایک صاحب نے یہ بات بتائی کہ پچھلے سالوں سے اب  پاکستان میں اخلاقی معیار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔موبائل چھیننے والے پستول دکھا کر یہ کہتے ہیں کہ بھائی صاحب کافی دیر سے آپ موبائل پہ گفتگو کر رہے ہیں اور میرا وقت برباد کر رہے ہیں ۔ اسے میرے حوالے کریں اور اپنا بل بچائیں۔ گاڑیوں اور گھروں میں لوگوں کو  لوٹنے والے بھی پستول دکھا کر آپ سے یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے  وہ فوراً حاضر کر دیں ، اگر آپ کو اپنی زندگی پیاری نہیں تو ہمیں تو اپنے پستول کی گولی سے پیار ہے کہ مہنگائی کہ زمانے میں اس کا دام بھی بڑھ گیا ہے، کسی کو مارنا بھی اب کوئی سستا نہیں رہا۔ بے شمار واقعات ایسے بھی ہیں کہ لوٹنے والے زبردستی گھر میں داخل ہوئے اور گھر والیوں سے بریانی اور قورمہ  بنانے کی درخواست کی جب تک کہ زیورات ، روپے اور گھر کی قیمتی چیزیں سمیٹی جارہی ہوں ، پھر تازہ بریانی وغیرہ کھا کر  مال کی گٹھری  اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے چلے کہ فقیرانا آئے صدا کر چلے میاںخوش رہو ہم دعا کر چلے۔ کچھ جامعہ کے طالبِ علم بھی اس پیشہ سے منسلک ہوگئے ہیں اور اگر غلطی سے کسی اپنے ہی پروفیسر کے گھر گھس آئیں تو معافی طلب کرتے ہوئے  صرف  دس یا بیس ہزار روپوں کی درخواست کرتے ہیں کہ اتنا صرف اس لیے دے دیں کہ یہ پولیس کا بھتا ہے جو ہر حال میں انہیں دینا ہی ہے ورنہ ان کی خیر نہیں۔  یہ نرم روی  اور شیریں زبانی کا اثر ہے کہ ہماری خواتین  کے دل سے ان لٹیروں کا خوف نکل گیا ہے اور ابھی بھی کھلے عام چہروں کو لیپ پوت کر ، بالوں کو کسی نیوٹرل یا ہم

۲

جنس پرست  ہیر ڈیزاینر سے کٹوا کر ،  زیوارات سے لدی پھندی بالی ووڈ یا لالی ووڈ کی فاحشہ  ہیروئینیں بن کر  شادی اور دیگر تقریبات میں شریک نظر آتی ہیں۔ سلامت رہے ٹیلی ویژن اور ویڈیو کی تجارت جس نے گھر گھر میں داخل ہوکر مرد عورت بچوں کو اخلاق باختہ بنا دیا ہے اور شرم و حیا کا مفہوم ہی بدل دیا ہے۔ اب گئے رات یا دن چڑھے اگر راستے میں ایسے ہی خوش اخلاق  لٹیروں کے ہاتھوں  ایسی خواتین  لُٹ گئیں تو کیا ہوا ،  شوہر صاحب کا مال گیا ،  زکواۃ و خیرات دینے سے بچے ،  اور پھر شوہر نامدار ہوتے کس لیے ہیں ؟  ان کی زندگی کا  واحدمقصد اپنے گھر والیوں کی دل جوئی ہی  تو ہے۔ سو جیسے کمایا ویسے گنوایا۔ اگر مال حلال کا تھا تو یہ صدقہ  و ثواب کی کھاتے میں ڈال دیا اور اگر مال حرام کا تھا  تو  ویسے ہی غم نہیں ۔ اور آجائے گا ،  صرف رشوت کی شرح میں اضافہ کرنے کی دیر ہے یا تھوڑی سی چالاکی و دھوکہ دہی میںرنگینی پیدا کرنا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ۔ اور بھلا یہ سب کچھ کیوں نہ ہو ؟ ابھی کتنے مہینوں اور سالوں کی بات ہے کہ پیر سے بم باندھ کر لوٹنے کا قصہ کس کا زباں زدِ عام تھا  اور کون مسٹر دس پرسنٹ کہلاتا تھا ؟ کتنے ہی لوگوں کا قتل اور قوم کی دولت لوٹنے کی نئی نئی ترکیبیں کتنے ہی اربابِ حکومت  کے زندگی کا مقصد تھا ۔اور اسوقت بھی ایوانِ حکومت میں ایسے ہی لوگ تو بیٹھے ہیں جنھیں عوام کے مسائل سے یا قومی حمیت  و اخلاقی معیار سے  کیا سروکار ؟  انھیں تو صرف اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے جس سے ان کی ساکھ بھی قائم ہے اور ان کے بینک کا اکاؤنٹ بھی۔ موبائل فون اور گاڑی و گھر  لوٹنے والے تو کم درجہ کے چور ہیں۔ جب حکمأ وقت ہی ڈاکو اور لٹیرے ہوں تو کیا کرے کوئی۔ کہتے ہیں جیسی عوام ویسے اس کے حاکم  اور کبھی کبھی یہ الٹا بھی ہوتا ہے ۔ اگر عوام چور اور ڈاکو نہیں تو بے وقوف ، احمق اور جاہل و بے ہمت  ضرور ہیں جس کا فائدہ اٹھا کر ان ہی کے ووٹوں کے طفیل حکومت  کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے فراعین  عام آدمی کے گھروں میں نقب لگاتے پھر رہے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے بہانے بیرونی قرضہ جات کو اپنے بیرونی ذاتی اکاؤنٹ میں بڑی چالاکی سے منتقل کرتے رہتے ہیں جہاں کہ ان کی نسل پل رہی ہے  اور ان کے لیے پاکستان سے دلچسپی بس اتنی ہے کہ وقتاً فوقتاً کسی منسٹری پہ آکر قابض ہوجائیں  یا  اس ملک کے بیس کروڑ عوام کی محنت و امنگوں کا فائدہ اٹھا کر ان کی دولت کو اپنے عیش پرستی کے لیے استعمال کرتے رہیں۔ اس لیے کہ پاکستان ان کے لیے ہی بنا تھا اور یہ ان ہی لوگوں کی جاگیر ہے۔

تعصب و اقربا یا قبیلہ پرستی بھی عام ہے ، آخر لوگ اپنوں کا خیال نہ رکھیں  تو کس کا رکھےں  ؟ کسی بھی ادارے میں یا جامعہ میں نوکری اس لیے نہیں دی جاتی کہ وہ اس کا اہل ہے بلکہ کس نے کتنی رشوت کس کو کھلائی اور کس کے پاس کہاں کا  ڈومیسائل ہے ؟

۳

کس سے کس کو سیاسی یا مالی فائدہ ہوگا۔ ملک کا کیا ہوگا ، اس کی ترقی میں اس رویہ سے کیا برا  اثر پڑیگا  یا پڑ چکا ہے اس کی کیوں فکر کریں  ؟  اپنا اپنا دیکھ کا فارمولہ ہی سہی ہے۔ جب جیب میں پیسے ہوتے ہیں اور پیٹ میں روٹی ہوتی ہے اسوقت یہ ذرہ ہیرا ہے اسوقت یہ قطرہ موتی ہے۔  ہر قبیلہ اس فکر میں ہے کہ پاکستان کے بننے کے بعد اسے کیا ملا اور کس نے کتنا لوٹا کھسوٹا ۔بے شمار واقعات ہیں ایک ہو  تو لکھا بھی جائے کہ جامعہ کے  استادوں ، پروفیسر وں ، سائینسی اداروں کے سائینسدانوں کی سیٹ پر بھی نااہل لوگ سفارش ،  رشوت  یا خوف  و ہراس کا سہارا لیتے ہوئے قابض ہیں۔ اب ایسے لوگ کیا علم کی ترویج کریں گے اور کیا ریسرچ کریں گے  سوائے کلرکوں کی طرح کاغذات پہ اپنے نام کی چڑیا بٹھائیں گے۔ قوم اگر ۳۱ فی صد خواندہ ہے تو ایسے  تو نہیں  ہے۔ دولت اگر چند ہاتھوں میں سمٹ رہی ہے اور عوام کی مفلوک الحالی میں اضافہ ہورہا ہے تو ایسے تو نہیں ہے۔

نیم دانشوروں کی بھی خوب بنی ہوئی ہے ، جو جتنی بے ہودہ اور بے تکی گفتگو ٹیلی ویژن پر آکر کر سکتا ہے یا اپنے کالم میں ، کتابوں میں ، شعروں میں ، تبصروں میں، ویب سائیٹ پہ  اپنے قومی ہیروؤں کی تذلیل کر سکتا ہے، اپنے دین و مذہب کو رسوا کر سکتا ہے وہ ہی آج کا عَلَم بردار ہے۔ نیم حکیم خطرہ ٔجان کی سمجھ اب بھی نہ آئے تو کب آئے گی ؟کوئ  بانئی ِ پاکستان کو اب بھی انگریزوں کا ایجنٹ کہتا ہے، کوئی اقبال کے فلسفے  وخواب کی الٹی تعبیر کرتا ہے، کوئی نیوکلر ہیرو قدیر خان کو فقط چور کہتا ہے، کوئی  صحابہ کرام ؓ  اور قرون

اولیٰ کے  ہیروؤں پہ تبرّا بھیجتا ہے ، کوئی صدیوں پہلے کے مسلمان بادشاہوں اور سپہ سالاروں و  جنرلوں کو ڈاکو  اور لٹیرا گردانتا ہے  ۔ الغرض اس معاشرے نے ایک پاگل خانے کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔

سوچیے کہ کیا ہمارا معاشرہ مہذب ہے ؟ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں  ؟                   

باہر  ہو کہ  اندر ہو  طوفان سا کیوں ہے

اس دور میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: