Hesham A Syed

August 25, 2009

Muashratee Taghayuraat

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:17 am
Tags: ,

Muashratee Tagayuraat – hesham syed – urdu article

حشام احمد سید                                   معاشرتی  تغیرات
/ابکے  عاقل میاںؔ آئے تو اپنے ساتھ خان صاحب اور چودھری صاحب کو بھی ساتھ لے آئے۔اکیلے میں احباب کا آنا بھی غنیمت ہے ، کچھ  وقت توگپ شپ میں گزر ہی جاتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اب اپنی کہیے اور انکی سنیے سے زیادہ زمانے کی باتیں ہوتی ہیں۔اور شاید ہر دور کے لوگ پچھلے دور کی تعریف کرتے ہیں ،موجودہ دور سے شاکی اور آنے والے دور سے متوحش رہتے ہیں۔سو یہی سب کچھ اپنے دل و دماغ کی پوٹلی میں لیے ہوئے یہ حضرات بھی آدھمکے اور گویا ہوئے۔ حشام صاحب آپ معاشرتی مسائل پہ لکھتے تو بہت ہیں لیکن کیا کوئی نتیجہ بھی نکلتا ہے ؟  یہاں  تو معاملہ یہ ہے کہ  :
اس شہر کے انداز عجب ہیں مرے یارو  : گونگوں سے یہ کہتے ہیں کہ بہروں کو پکارو
بات تو واقعی یہی ہے۔ آنکھ رکھتے ہو  تو دیکھنا ہوگا  وقت جو کچھ کہ تم کو دکھلائے ، یہ اپنی جگہ سہی لیکن کیا کیا جائے ، آدمی اظہارِ خیال پہ پابندی بھی کیسے اور کب تک لگائے۔حالات بدل رہے ہیں ، انداز فکر بدل رہا ہے، آدمی اب اپنی خوشیوں کے وسائل بھی الگ ڈھونڈ رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ جسمانی اور نفسیاتی ہجرت ہے، ذرائع ابلاغ کا فروغ ہے، دنیا کا سکڑ کر ایک بکس میں بند ہوجانا ہے چاہے وہ کمپیوٹر ہو یا ٹیلی ویژن یا ریڈیو ہو۔ مغرب اور مشرق کے علاوہ شمال و جنوب بھی تو ہے اور یہ ساری سمتیں،  جہتیں  اور اس کے کنارے صرف چند گھنٹوںکے فاصلے  ہی پہ تو ہیں،حیرت ہے کہ اس کی بات نہیں ہوتی۔ تہذیب و تمدن و ثقافت میں بھی تو ہر روز ملاوٹ ہو رہی ہے،  معیار انسانیت اور اخلاقیات بھی اپنا نیا روپ دھار رہے ہیں۔ ایسے میں آدمی کو کس تیزی سے بدلنا ہوگا اس کا فیصلہ اپنا اپنا ہے یا طرزِ معاشرت کا تقاضہ ہے ؟
مجھ کو تو یہ دنیا نظر آتی ہے دِگر گوں  :  معلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیا
۔استاد اب ایک ملازم ہے اور اس کے شاگرد مل جل کر اس کی زندگی کے وسائل مہیا کرتے ہیں۔
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق  :  کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجیے
۔میاں بیوی اب سپاؤز ہیں جن کے حقوق و ذمہ داری کافیصلہ اب خدا کا دین نہیں بلکہ ملکی قوانین کرتے ہیں۔بلکہ اب تو سپاؤز کے بندھن  کے لیے کسی مذہب یا قانونی چارہ جوئی کی بھی ضرورت نہیں رہی، اور نہ یہ ضروری ہے کی جنس مخالف ہی سپاؤز بنیں۔
۔والدین ایک بایولاجیکل سورس( طبعی ذریعہ ) ہیں کسی کے دنیا میں آنے کے لیے۔ انکی دوستی اور بے تکلفی اب انکے احترام و عزت پہ فوقیت و اہمیت رکھتی ہے۔
۲
روشِ مغربی  ہے  مدِ ّ  نظر  :  وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
۔پہلے مرد و عورت کا حسن ان کے چہرے پہ کھلتی شرافت کے نور سے اور ان کی سادگی و سیرت سے جھلکتی تھی اور اب ان کے حسن کا دارومدار سارے کا سارا بیوٹی پارلر کی لیپا پوتی ،  اسپا  ٔ اور پلاسٹک سرجری پہ منحصر ہے۔
۔پہلے صبح ہوتے ہی قران کے تلاوت کی آواز سنائی دیتی تھی جس سے روح وجد میں آتی تھی ، اب گئے رات تک اور دن چڑھے پاپ میوزک کا ہنگامہ برقی تاروں کے ذریعہ کان میں اترتا ہے۔ پیر تھرکتے ہیں ، دل دھڑکتے ہیں ، جسم مٹکتے ہیں۔
۔پہلے ہر مرد و زن کے زندگی کا کوئی نہ کوئی  ایک بلندمقصد ہوتا تھا ، اب سب کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ زندگی کی آسائیشیں کتنی زیادہ اکٹھی کی جانی چاہیے۔
۔پہلے انبیا کرام ،  اولیا کرام اور بڑے بڑے مشاہیر ہیرؤں کے پیدائیش کے دن اور ان کے کارنامے یاد رہتے تھے ، شب برات یاد رہتی تھی ، شب معراج یاد رہتی تھی، بارہ ربیع الاول  ، محرم الحرام  ، شعبان کے روزے  ، عاشورہ کے روزے ،  رمضان کا مہینہ یاد رہتا تھا ، اور اب اپنی یا اپنے دوست رشتہ داروں کی تاریخ پیدائیش برتھ ڈے  یاد رہتی ہے، مدر ڈے ، فادر ڈے ، ولینٹائین ڈے، ہالوئین اور کرسمس یاد رہتا ہے۔
ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی شریعت  :  مغرب کے فقیہوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہے پاک !
۔پہلے خاندانی شرافت و عزت سرمایہ حیات تھی ، اب  سرمایہ ہی حیات ہے اور شرافت و عزت  کے لیے نام کے ساتھ سید اور شریف  اور کوئی اچھا سا لقب لگالینا کافی ہے۔
۔پہلے کوٹھے والوں یا کوٹھے والیوں سے شرفا کو کراہت محسوس ہوتی تھی ، اب ہر گھر میں کوٹھا  بہ شکل فلم اور ڈرامہ کھلا ہوا ہے اور ہر مرد و زن  اس  مۂ آتش میں اپنی شکل و عقل کو  ڈبوئے ہوئے ہے ۔
۔پہلے شادی کا مفہوم نسل انسانی کا فروغ اور بقا تھا اور ایک روحانی و دائمی ملاپ تھا  اور اب صرف ایک کمپینین شپ ( دوستی ) ہے۔ بچے بھی حادثاتی ہوتے ہیں۔
۔پہلے شرم و حیا کا مفہوم الگ تھا ، اب چست جامے کو دیکھ کر ایک با حیا باپ ابھی بھی اپنی جوان لڑکی کی طرف نگاہ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ گھر میں ٹیلیویژن اور ویڈیو  پہ حیا سوز اور فحش فلمیں بھی پیر و بذرگ ، ابا اماں ، جوان و بچے سب ساتھ ہی دیکھتے ہیں اور
۳
عورتوں اور مرد اداکاروں کے پردہ سیمیں پہ آتے ہی سسکیاں بھری جاتی ہیں۔ بلا کسی عمر کی قید کے سب کو کسی نہ کسی اداکار اور
اداکاروں پہ کرش ہوتا ہے۔ لیجیے اس شعر کی بھی تعبیر پوری ہوئی :
یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند !  :  غیرت نہ تجھ میں ہوگی نہ زن اوٹ چاہے گی
۔پہلے ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ کی دعاؤں میں اس کی کنجی ہوتی تھی۔ اب ان کی جگہ اولڈ مین ہاؤس ہے جہاں وہ  یا تو چھت کو تکتے ہیں یا کھلے آسمان میںتیرتے بادلوں کے ٹکڑوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ ہاں اگر ان کے ہاتھ میں اب بھی سرمایہ ہے جس کا فائدہ اولاد کو ہو سکتا ہے تو یہ ان کا نصیب ہے ورنہ ایسے گھرانے شاذ ہیں جہاں والدین کی بڑھاپے میں قدر کی جاتی ہے اور انہیں وہ عزت  دی جاتی ہے جس کے وہ متحمل ہوتے ہیں ورنہ تو  وہ ایک تماشائی بن کر ہی زندگی کے آخری دن گذارتے ہیں۔ اب روشن خیالی اسی کا نام ہے۔جو کوئی بھی اپنی مادی زندگی کی دوڑ میں رکاوٹ بنے اسے کنارے بٹھا دو۔دنیا میں ترقی بھی تو کرنا ہے۔
ہم ایسی سب کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں  : جنہیں پڑھ کے یہ بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
عاقل وخان و چودھری نے یک زبان ہو کر پوچھا۔ تو کیا یہ انقلاب زمانہ ہے ؟  نہیں نہیں  ، انقلاب اپنے اندر ایک مثبت معنی رکھتا ہے ،  زمانے کے بگاڑ کو انقلاب نہیں کہا جا سکتا۔
زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا  :  ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی
آخر ہماری معاشرت میں یہ بگاڑ پیدا کیسے ہوا  ؟ اس کا جواب بھی واضح ہے ۔ اپنی کم ہمتی ، کوتاہی  اور صدیوں کی  ذہنی غلامی  !
فرنگ سے بہت آگے ہے منزلِ مومن
 قدم  اٹھا یہ مقامِ  انتہائے  راہ  نہیں
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: