Hesham A Syed

August 25, 2009

Obama ki taqreer aur MusalmanoaN ki taqdeer

Filed under: Islam,Muslim world,Urdu Articles,USA — Hesham A Syed @ 7:18 pm
Tags: ,

Obama ki taqreer aur MusalmanoaN ki taqdeer – hesham syed – urdu article

حشام احمد سید                      اوباما حسین کی تقریر اور مسلمانوں کی  تقدیر
نہ جانے کیوں  بارک  اوباما کے بجائے امریکی صدر کو  اوباما حسین ہی لکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ایسی ہی کوئی بات ہے جس کی کہ پردہ داری ہے۔ اوباما کی قاہرہ میں جو تقریر ہوئی اور پھر ماہِ رمضان پہ جو تقریر ہوئی اس نے  دنیا بھر کے مسلمانوں کو قلبی طور پہ اس نئے امریکی صدر سے قریب کر دیا ہے۔ہر چند کہ وہ اپنے آپ کو عیسائی کہلواتے ہیں لیکن ان کے والد اور بیشتر رشتہ دار مسلمان ہی تھے یا ہیں سو یہ کیسے ممکن ہے کہ اوباما کے دل میں مسلمانوں کے لیے مثبت جذبات نہ ہوں جسکا اظہار وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ پُر امید ہیں کہ اوباما کی موجودگی میں مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے غیر منصفانہ سلوک یا رویے میں تبدیلی آئے گی ، خاص طور پہ جو مسلمان شمالی امریکہ یا یورپ و انگلستان میں مقیم ہیں انہیں ایک نئی روشنی  نظر آتی ہے۔ایک نیا خواب جنم لے رہا ہے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔لیکن تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔
 لیکن ہمارے درمیان  ایسے لوگ بھی ہیں جو اوباما کی تقریر کو صرف ایک سیاسی ہتھکنڈا سمجھتے ہیں اور اسے ہاتھی کے کھانے کے دانت اور ہیں دکھانے کے اور کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت تقریروں سے کیا بنتا ہے ؟ کیا بیشتر مسلمان ممالک میں مسلمانوں کا قتل ِعام کا گناہ صرف تقریر کردینے سے دھل جائے گا  ؟ مسلمان اتنی جذباتی قوم کیوں ہے کہ کسی بھی ڈرامائی انداز میں کی گئی باتوں کے اثر میں اپنے رستے ہوئے زخم بھول جاتی ہے اور اس شخص کو اپنا مسیحا سمجھنے لگتی ہے۔ جو لوگ کہ سینکڑوں کی تعداد میںروز ڈرون سے مارے جارہے ہیں کیا  وہ مسلمان نہیں اور کیاامریکہ اور اسکے چیلے  چاہے وہ  نام کے مسلمان ہوں یا غیر مسلم اس قتل و غارت کے ذمہ دارنہیں۔ اگر مسلمانوں سے عزت کا معاملہ ہی کرنا ہے تو ان کے گھروں کو تباہ کرنا ، ان کی عورتوں کی عصمت وری، ان کی آبادی کو بلا کسی عمر کے تمیز کے یا کسی جرم کے قتل کرنا  یہ کس کھاتے میں جائے گا ؟ کیا صدر اوباما اس پالیسی کو بدل سکتے ہےں ؟ کیا یہ جنگ جس کے پیچھے توسیع پسندی اور اقتصادیاتی پلان پل رہا ہے اسے انسانی برادری کے پیشِ نظر روکا جاسکتا ہے ؟ کیا اوباما  صیہونی قوتوں کے زیر اثر نہیں ؟  اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت  محمد  ؐ  اللہ  سبحانہ و تعالی ٰ کے آخری آفاقی و عالمی نبی و رسول اور ساری کائینات کے لیے رحمت  ہیں اور ان پہ ایمان لانا شرط ہے آخرت میں فلاح کے لیے یا اللہ سے قربت حاصل کرنے کے لیے  ،  ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر  میں چاہے پہلے انسان حضرت آدم ؑ ہوں یا نسل انسانی یا ِ پیغمبری میں حضرت ابراہیم ؑ ہوں یا اسحٰق و اسمٰعیل کی نسلوں میں آنے والے  انبیاؑ کرام ہوں ، موسیٰ ؑ ہوں کہ عیسیؑ ہوں سب کے سب مسلمان ہی تھے اور ایک ہی روحانی و جسمانی زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں ، وہ اسلام کو کھلے عام قبول کر سکتے ہیں ؟ اور اگر ایسا ہو تو عجب کیا، کہ تاریخ میں تو ایسے واقعات موجود ہیں ۔ چند صدی پہلے آخر دشمنِ دیں چنگیز خان کے پوتے نے بھی  تو اسلام قبول کر لیا تھا اور اسکے نتیجے میں اس کے قبیلے کے اکثر لوگ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔یہ کام اوباما کے لیے تو کرنا زیادہ آسان ہے کہ اس کی رگوں میں ایک مسلمان کا ہی خون دوڑ رہا ہے  اور شاید اس میں نورِ اسلامی کا کوئی پرتو ہو،لیکن صرف اس بات کو  اوباما کے لیے  فکری و شعوری طور پہ تسلیم کر لینے کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ میں شخصی آزادی اس حد تک ہے کہ اس ملک کا صدر کالا بھی ہو اور مسلمان بھی ہو ؟ یہ تو پھر دو آتشہ ہی ہوگا۔اور امریکہ اس زمین پہ ایک ایسا ملک بن کے راج کرے گا جس کی شاید دوسری مثال نہ ہو۔
]  یہ بات تو شائد بہت سارے نام کے مسلمان بھی ٹھیک طور پہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے صرف اور صرف اسلام کی ہی بات کی ہے ، اقوامِ عالم میں دوسرے جتنے بھی نام دینِ الہ کو دے دیے گئے ہیں وہ سب کے سب آدمی کی اپنی اختراعات ہیں اور تعصبات سے متعلق ہیں۔ حضرت محمد  ؐ  پہ ایمان لانے سے آدم ؑ  ساری انسانی برادری اور سارے مذابِ عالم کی کڑی مل جاتی ہے اور سب کے سب ایک ہی  باغ کے خوشنما پھول بن جاتے ہیں۔ یہی کچھ اللہ جل جلالہ چاہتا ہے اور ایسا ہی ایک دن ہوگا ، کب ہوگا ؟ یہ اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے اسلام اس عالم میں بہت سارے مذاہب میں  سے صرف ایک مذہب نہیں بلکہ دینِ الہ ہے اور یہ سارے جن و اِنس کے لیے ہے ، تبھی یہ تخصیص حضرت محمد  ؐ کو حاصل ہے کہ وہ رسول الی الناس و اجنا  بنا کے بھیجے گئے اورتکمیلِ دین ان کے ہی ہاتھوں  پہ ہوئی۔ سو کوئی   پلولرزم  Plularism  کے چکر میں یہ نہ سمجھے کہ سارے مذاہب عالم  اور اسلام ایک ہی جیسے ہیں سو ہر رسم و رواج اور عقیدہ اللہ کے یہاں مقبول ہے۔ بیشتر علمأ بھی  لا اکراہ فی الدین کی تفسیر غلط کرتے ہیں  یا سورہ قل یا اَیھالاکافروں  سے دوسرے مذاہب  پہ عمل کرنے کا جواز نکالتے ہیں حالانکہ قرآن میں واضح طور پہ صرف اور صرف اسلام یعنی شریعتِ محمدی  ؐ  کو ہی  اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قبولیت کا درجہ دیا ہے اور اس سے قبل یا بعد کی بدعات و اختراعات  و نبوت و رسالت کو کا العدم قرار دے دیا ہے۔ بہت ساری قرآنی آیات اس بات کی دلیل ہیں ، اس کے علاوہ احادیث بھی موجود ہیں ،  ان میں سے ایک معروف واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک بار حضرت عمر ؓ  توریت کے چند اوراق  حضور  ؐ  کے سامنے پڑھ رہے تھے  ، تو حضور  ؐ  نے ان سے پوچھا کہ عمر ؓ  کیا پڑھ رہے ہو ،  اس پہ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ توریت کے چند اوراق پڑھ رہا ہوں کہ اچھی باتیں لکھی ہوئی ہیں، اس پہ حضور ؐ نے فرمایا کہ  اے عمر  ؓ  ابھی اگر حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو  میری شریعت کے تابع ہوتے یعنی وہ دین جو اللہ تبارک تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے۔[۔ اب اس کے بعد ہم میں سے کسی کے پاس کیا جواز ہے کہ اسلام کے بارے میں اور حکمتِ خداوندی کے بارے میں کوئی کلام کرے۔ اسلام تو نام ہی ہے سلامتی کا اور اللہ کے حکم و خواہش کے آگے اپنے پورے شعورکے ساتھ جھُک جانے کا سر بسجود ہوجانے کا ، پوری سپردگی کا۔ فنا فی اللہ ہو جانے کا۔جہاں صرف وہ ہی وہ دکھائی دے۔
  وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے  :  ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: