Hesham A Syed

August 25, 2009

Pakistan key Laddoo

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 10:21 am
Tags: ,

Pakistan key laddoo – hesham syed – urdu article

حشام احمد سید                                     پاکستان  کے  لڈو         
پاکستان کی باسٹھ سالہ تاریخ پہ نظر ڈالیں تو ہمارے سیاسی دانشوروں کا تجزیہ مختصراً یہ ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان فوجی آمریت سے پہنچا۔ اور اسوقت تک یہاں فوجی آمریت مسلط رہے گی جب تک کہ چار باتوں پہ عمل نہیں ہوگا اور وہ ہیں کہ  ۱) 1973 کے آئین کی اصلی شکل میں بحالی  ۲) عدلیہ کی مکمل ّزادی اور خود مختاری  ۳) مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کا خاتمہ۔ ۴) چیف آف آرمی سٹاف کے سربراہ مملکت بننے کی روایت کا خاتمہ۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ صحیح ہیں لیکن تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ فوجی آمریت کو پاکستان پہ مسلط کرنے میں خود سیاسی پارٹیوں اور سول حکومت کی بددیانتی اور ملک کی اقتصادی ، معاشرتی اور اخلاقی حالات کے بگاڑ رہے ہیں۔جب بھی کوئی فوجی جنرل آیا ہے یا اسے بلایا گیا ہے  تو ملک  کے شہریوں نے کھلے عام لڈو بانٹے ہیں ، سڑکوں پہ بھنگڑے ڈالے ہیں اور سکھ کا سانس لیا کہ جیسے یہ نیا فوجی دجالوں کے لیے مہدی یا مسیح بن کر آگیا ہے۔ شہری اور سیاسی حکومت کے کارندے بلکہ بعض اوقات تو سربراہ مملکت نے ہی فوجیوں کو آواز دی ہے کہ بچاؤ کہ یہ کشتی اب ڈوبی کہ تب ڈوبی۔ پھر جو سیاسی لیڈر اگر صدر یا وزیر اعظم بنا بھی تو اس کا اپنا اور اس کے ساتھیوں کا  مزاج بھی فوجیوں سے زیادہ آمرانہ  اور شاہانہ  رہا اور اس کے پیش نظر یا تو اپنے کاروبار کو فروغ دینا رہا  یا کسی بھی طریقہ سے عوام کی دولت کو لوٹ کر، اسے قرضوں کے پہاڑ میں مزید دبا کر اپنے بیرونی اکاؤنٹ میں ملین اور بلین کا اضافہ ہی  رہا  یا اندرون یا بیرون ملک جائداد  و کاروبار میں بڑھوتی رہا۔
 ہماری عوام کو بھی شاید نسیان کا مرض لاحق ہے کہ یہ ساری باتیں اور اپنے اوپر بیتے ہوئے مصائب بہت جلد بھول جاتی ہے یا پھر یہ قوم تماشبینوں سے بھری پڑی ہے کہ جو  مداری  چاہے وہ  فوجی یونیفارم میں ہو یا شیروانی  ، کوٹی و شلوار قمیض میں ہو جیسی ڈگڈگی بجائی ویسا ہی ناچنے لگ پڑی۔ دما دم مست قلندر۔ ہر نئے آنے والے کا اور پھر اس کے جانے پر لڈو کا بانٹنا ایک روایت بن چکی ہے۔  لوگ کہتے ہیں کہ جس قوم میں شرح تعلیم صرف ۳۱ فی صد ہو جس میں ان لوگوں کا بھی شمار ہو جو  اپنا نام لکھ سکیں تو ایسی  ۶۱ یا ۸۱ یا ۰۲ کروڑ  عوام سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ کوئی صحیح فیصلہ کر سکے گی۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ یہ بات تو مسلم ہے کہ ہماری عوام بھیڑ چال کا شکار ہے لیکن ہمارے اصل مجرم  اور پاکستان کے دشمن ہمارا  وہ طبقہ ہے جو بظاہر پڑھا لکھا ہے لیکن ان کی حالت وہ ہے کہ  وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں اور اندھے ہیں بلکہ  یہ  اگر اتنا بھی ہوتے تو  فرد جرم عائد نہ ہوتا بلکہ یہ سب ایسے بنے ہوئے ہیں اور یہ سب کسی نہ کسی شیطانی گروہ  اور اپنے اندرونِ خانہ یا بیرون ممالک کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں،  میڈیا
حشام احمد سید                                                ۲
میں آکر  عوام کو  ان کے مسائل سے ہٹا کر گمراہ کرتے رہتے ہیں یا انہیں ہر روز ایک نیا خواب دکھاتے ہیں۔ سیاسی لیڈر وں  میں انبوہ کثیر  وہ لوگ ہیں جن کا اصل کام یہ ہے کہ سیدھے سادھے بیوقوف عوام کو مزید الو بنا کر  ان کی دولت اور ملک کے وسائل کا ذاتی فائدہ اٹھایا جائے۔ پاکستان کو اپنی موروثی جاگیر بنا کر کسی نہ کسی شکل میں اس پہ قابض رہا جائے۔
 سوائے چند ایک لیڈروں کے شروع سے پاکستان پہ ایسا ہی طبقہ قابض رہا جس نے نہ کبھی غربت کو دیکھا نہ پرکھا اور نہ اسے پاکستانی عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی رہی ۔بلکہ ایک آمرانہ شان سے پاکستان کو ایک تجارتی منڈی سمجھا،  پاکستانی عوام کو اپنی ملکیت سمجھ کے جو چاہا اس کی قسمت کا فیصلہ صرف اپنے مفاد میں کرتا رہا چاہے اس کے لیے پاکستان کی اپنی عزت و حرمت کا ہی سودہ کیوں نہ کرنا پڑا۔ سینیٹ ہو یا کیبینیٹ یہی لوگ نسل در نسل اور طرح طرح کے بھیس بدل کے آتے رہے، کبھی اس پارٹی میں تو کبھی اس پارٹی میں، لوٹاکریسی بھی سلامت رہی ۔ یہی لوگ ہیں جن میں کچھ تو ایسے بھی ہیں جو کسی فوجی آمر ہی کے لگائے پودے ہیں اور جنہوںنے ہمیشہ ایجینسیوں یا پسِ پردہ اُسی آئی ایس آئی  کے زیر ہدایت اور اس کے تعاون سے ہی حکومت کرتے رہے جس کے خلاف اب باتیں کرتے ہیں۔ اِس ہاتھ لے اُس ہاتھ دے والا فارمولہ ہی کام کرتا رہا ۔ چہرے کی دورنگی کسی ایک کی ہو تو کہا بھی جائے۔ ایک حمام میں سبھی ننگے نظر آتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے عدلیہ ، سپریم کورٹ  پہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار پتھراؤ کیا لیکن آج وہی عدلیہ کی آزادی  کے چیمپین بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے کہ اس کے پیچھے ایک انتقامی سیاست کا ذہن کام کر رہا ہے ،  عدلیہ کہنے کو آزاد ہے لیکن آسمان سے گرا تو کھجور میں اٹکا ۔ یہ پہلے بھی بکی ہوئی تھی  اور اب بھی بکی ہوئی ہے ، صرف وفاداری بدل گئی ہے۔ لیکن عوام جان بوجھ کر بے وقوف بن رہی ہے کہ یہی اس کا مقدر ہے۔قانون کو ہمیشہ لاقانونیت کے فروغ کے لیے اور اپنے ذاتی اغراض کے لیے ہی استعمال کیا گیا۔ اس وقت حکومتی کارندوں میں اکثریت ایسے ہی افراد کی ہے جن کے کردار و اخلاقیات کا معیار حد درجہ گرا ہوا ہے  ، یہ لوگ انتہائی درجہ کے بددیانت لوگ ہیں جو قوم کا سرمایہ پہلے بھی ہڑپ کر چکے ہیں اور اب بھی موقع بہ موقع اس پہ ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔ ان پہ بے شمار فرد جرم قومی عدالت میں اور بین القوامی عدالت میں ثابت ہو چکا ہے لیکن  جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے۔ اب تو کسی جرم پہ پردہ بھی نہیں ڈھانکا جاتا بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر سب کچھ ہورہا ہے ۔ یہ اگر قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس کردیں تو پاکستان کے کئی سالوں کا خرچہ نکل آئے اور قوم آئی ایم ایف کے قرضے سے بچی رہے ۔لیکن  عوام ہے کہ ا ن ہی کی بجائی ہوئی بین پہ ناچ رہی ہے۔ مذہبی تنظیمین ہوں یا غیر مذہبی سب کا
حشام احمد سید                                                   ۳
ایک حال ہے۔  ہر ایک نے اپنی اصلی شکل کو چھپانے کے لیے تقدس کی چادر اوڑھ لی ہے۔ عود و لوبان اور عطر کے پھوارے نے ان کے گرد پاکیزگی کی وہ چاندنی بکھیر رکھی ہے جس میں عوام کو صرف ان کے عمامے ، پگڑیاں ، تسبیحات ، اور قراقلی ٹوپیاں ہی نظر آتی ہیں اس کے آگے ان کی نظریں چندھیا جاتی ہیں۔عوام میں بھوک ہے ، بے روزگاری ہے ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسٔلہ ہے، تعلیم و تربیت کا فقدان ہے ،  بیماری ،صحت و صفائی کا مسٔلہ ہے ، سر پہ چھت نہیں ، عزت نفس کا مسٔلہ ہے  ، سیکوریٹی کا مسٔلہ ہے ، مستقبل تاریک ہے ، نہ راہ ہے نہ منزل لیکن لیڈروں کو ، مراعت سے بھر پور طبقہ کو،  میڈیا میں گھُسے ہوئے جرنلسٹ اور نیم دانشوروں کو  ان سب سے کیا غرض کہ ان کے چہرے تو چمک رہے ہیں اور ان کے پوشاک تو زرق برق ہیں اور یہ سب اس لیے ہیں کہ انہیں قوم کو گمراہ رکھنے کی اجرت وافر ملتی ہے۔ اور یہ رقم عوام کی ہی لوٹی ہوئی دولت سے  ان میں تقسیم کی جاتی ہے۔
پاکستان کا اصل مسٔلہ یہ نہیں کہ فوجی حکومت کررہے ہیں یا غیر فوجی ، نہ یونیفارم پہن کر اور نہ شیروانی یا کوٹی پہن کر کوئی بدمعاش یا  شریف بن جاتا ہے،  اصل مسٔلہ دیانت و امانت کا ہے،  اخلاقی گراوٹ کا ہے ، جو طبقہ حکومت کرنا چاہتا ہے اسے عوام کو دھتکار دینا چاہیے بلکہ صرف ان کو ہی اپنا ووٹ دیں جو ان کی اور پاکستان کی خدمت کرنے کے خواہشمند ہوں۔ ایسے خد متگاروں کے مراعات وغیرہ بھی کڑی نظر رکھا جائے تاکہ کوئی عوام کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ آج بھی اگر ان سارے حکومتی کارندوں سے وہ بیش بہا مراعات چھین لی جایں تو یہ سارے لوگ خود ہی یہ کام چھوڑکر کسی اور بازار میں اپنے آپ کو بیچتے ہوئے نظر آیں گے۔ یہ معاملہ سارے کا سارا  مادیت پرستی کا ہے،  بددیانتی اور بے امانتی کا ہے، لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری کا ہے، معاشرتی اور اقتصادی بے عدلی اور بے انصافی کا ہے۔ جب تک کہ عوامی نمائیندے جو لوور مڈل کلاس یا مڈل کلاس سے نہ ہوں کیبینٹ اور سینیٹ یا پارلیمنٹ میں نہیں آیں گے پاکستان کا مسٔلہ جوںکا توں رہے گا بلکہ حالات بگڑتے ہی چلے جایں گے۔ پاکستان کے دشمن باہر نہیں بیٹھے ہوئے بلکہ یہ گھر میں ہی پاکستانیوں کی شکل بنا کر شب خون مار رہے ہیں اور باہر  غیر اقوام کو  ایسے ہی ملک اور دین کے دشمنوں کی ضرورت ہے  تاکہ وہ اپنا کام سہولت سے بہانے بنا بنا کے کرتے چلے جایں۔ اور پاکستانی عوام اپنے ترانے میں ولولہ ڈھوندتی رہے اور قومی نغموں میں سر کو دھنتی رہے اور اسٹیج اور ٹی وی پر پر پوپ میوزک پر اپنی کمر  لچکاتی رہے یا پھر اپنے لیڈروں کی بدمست تقریروں پہ اپنے ہوش ہو حواس گمائے رکھے۔  پاک سر زمین شاد باد۔۔ مرکزِ فتین شاد باد  !
  صرف لڈو بانٹنے سے  تو کچھ نہیں ہوگا۔اللہ  اس ملک کو  شیاطین کے لڈو  سے بچائے ( آمین )
حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: