Hesham A Syed

November 6, 2009

Bey-hiss aur ghulaam qaum

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:35 am
Tags: ,

Bey-hiss aur ghulaam qaum – Hesham Syed

حشام احمد سید                              بے حِس  اور  غلام  قوم ۔۔۔!

رمضان کے اختتام پہ عاقل میاں کو آنا ہی تھا، بچوں کے ساتھ عید منانے آئے  تو ہم سے بھی ملنے چلے آئے۔ پاکستان اور امُت مسلمہ کے بارے میںوہ کافی متوحش رہنے لگے ہیں۔ روزے کی حالت میں تو اس موضوع  پہ گفتگو اور کھلنے لگتی ہے، لیکن بات سے تو بات نکلتی ہی ہے۔ پاکستان میں  حالیہ حادثات کا ذکر چل نکلا ، راشن ڈپو پہ انتظار کرتے ہوئے کوئی چل بسا تو کسی جگہ راشن کی بھیڑ اتنی لگی کہ ۰۲ عورتیں  روندیں گئیں اور مر گئیں، دوسری طرف ذخیرہ اندوزاور منافع خور ساہوکار ملک میں ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جس سے انسان کا جینا دوبھر ہو رہا ہے، کہنے لگے کہ یہ بھی سیاسی چال ہی نظر آتی ہے۔ سیاست سوائے دھوکے اور لالچ کے اور کیا ہے  ؟

 اسلام آباد  کیا پورے پاکستان میں بلیک واٹر کے درندے باضابطہ حکومت کی ایمأ پر  بسائے جارہے ہیں جنکا کام عوام الناس  اور ہر اس آدمی کا قتل ہے جو  اپنی غلام حکومت کے خلاف ہے۔پاکستان کے بعض سفرأ باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر سیاسی اور فوجی کارندے پاکستان کا تشخص ہی مٹانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ روز ایک نئی روداد  سامنے آتی ہے۔ روز ایک نئی سازش کا انکشاف ہوتا ہے ، روز کوئی پرانا لیڈر جو لوگوں کو اپنی ڈگڈگی بجا کر نچاتا رہا  اور اپنے نام کا ڈنکا بجواتا رہا ، پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی مادہ ہے ،  میڈیا اب ہر ایک کی دُم اُٹھا کر دیکھ رہی ہے اور  میڈیا کا مقصد بھی کچھ اور نہیں صرف ایک سنسنی پھیلانا ہے لیکن چلیے عوام کو ایک نئی تفریح مئسرہے ،  وہ  جو شیر بنے رہے ،جب کھال اتاری گئی تو اندر سے بھیڑیے  اور لومڑ نکلے۔ کھلے عام ٹیلی ویژن پہ عدالت سجائی جارہی ہے، فیصلہ کیا جا رہا ہے اور دشمنانِ پاکستان بڑی دیدہ دلیری سے اپنے بین الاقوامی ایجنٹ ہونے کا اعتراف بھی کر رہے ہیں اس دھمکی کے ساتھ کہ کر لو جو کچھ کہ کرنا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ایک حمام میں سب ننگے ہیں، کوئی بلی کے گلے میں گھنٹی کیسے باندھے ؟  وہی لوگ ہیں ، وہی رشتہ داریاں ہیں ، وہی  خاندان ہیں ، اور وہی من تورا حاجی بگوئم تو مورا حاجی بگو والی روایت ہے۔  پورا ملک لوڈ شیڈنگ کی وجہ کر تاریکی  کا شکار ہے تو کیا ہوا  ، ہمیں تو پاکستان کے حکمرانوں اور لوگوں کے تاریک ذہنی سے خوف زیادہ آتا ہے۔ لوگ اب بے روزگاری ، گرمی کی شدت ، پیاس اور صاف پانی کی نادستیابی ،  ناقص تعلیم  اور صحت  کے نظام ،  روز مرہ کی دن دھاڑے چوری ڈکیتی  ،قتل و غارت  ، ذخیر ہ اندوزی ،  کے عادی ہوتے جارہے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں ، اس لیے کہ ان کے سامنے اور اس سے بڑے قومی مسائل ہیں جنہیں پہلے حل کرنا ہے، وکیلوں  اور ججوں کی سیاسی جماعت کی تشکیل کرنی ہے تاکہ وہ بھی اب کھلے عام قوم کو لوٹ سکیں، پرانے لیڈروں کو تختہ دار پہ لانے کا ہنگامہ بپا کرنا ہے تاکہ اپنی کوتاہیوں  اور  بد فعلیوں پہ پردہ پڑا رہے،  سیاسی لیڈروں کے بچوں کو آئندہ کا لیڈر بنوانے کے لیے بھنگڑہ ڈالنا ہے تاکہ پاکستان کی جائیداد ان لوگوں کے درمیان ہی تقسیم ہوتی رہے اور عوام کی نسلی غلامی کا عمل جاری رہے۔ قوم  بھوک  ، وحشت ، دہشت ، بین الاقوامی سودی قرضہ جات  اور تاریک مستقبل کا شکار ہے تو کیا ہوا  اس

۲

کے لیڈر کشکول گدائی لے کر ملکوں ملکوں کی سیر پہ نکلے ہوئے ہیں ، ملکی خزانے  خالی ہو رہے ہیں ،  لیڈروں کے ذاتی بینک اکاؤنٹ بھر رہے ہیں ، چارٹرڈ ہوائی جہاز ہے ، ہزاروں ڈالر کے کرائے پہ لی ہوئی لیموزین ہے ، ہزاروں ڈالر کے کرایہ پہ رہنے کو ہوٹل ہیں ،  دادِ عیش دینے کو گوری  ، بھوری یا کالی  عورتیں ہیں  ،  رقص و موسیقی کی مدھر تانیں ہیں ، بلکہ اب تو خود بھی گائیکوں اور گائیکاوں کے ساتھ گا رہے ہیں ، رقاص اور رقاصاؤں کے ساتھ ناچ رہے ہیں، باہر بیٹھے ہوئے پاکستانی بھی ان کے گرد بھنگڑا ڈال رہے ہیں ، ان پر ڈالر اور پونڈ نچھاور کر کے ان کی نظریں اتار رہے ہیں۔ ایسے لیڈران تو کبھی بھی پاکستان کو نہ ملے ،  ٹولیوں اور ایک ہجوم کے ساتھ اس سے قبل  کے لیڈران عمرہ اور زیارۃ حرم کے لیے ملکی خرچے پر جاتے رہے اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی لوٹتے رہے لیکن اب حالات تھوڑے بدل گئے ہیں ، شیروانی  سوٹ سے بدل گئی ہے ،  اس وقت کے حاکم کی نظر میں آنے کے لیے نمائشی اور فرمائشی نماز کی ضرورت نہیں رہی ، عاقل میاں کا کہنا ہے دونوں میں فرق کیا ہے ؟  دونوں ہی حالات میں عوام کے پیسے کا ناجائز فائدہ  اٹھایا گیا اور اٹھایا جاتا رہا ہے۔ وہ حضرت عمر ؓ کی ذاتی گفتگو کے دوران حکومتی خرچے پہ جلتے چراغ کو بجھا دینے کی روائیت کہاں گئی  ؟  اور یہ تو بہت دور کی بات ہے خود  بابائے قوم  محمد علی جناح  کا وزیروں کو  میٹنگ کے لیے بلانا  اور  ان سے یہ کہلوا دینا کہ چائے اپنے گھر سے پی کر آئیں کہ حکومت کے لیے یہ اصراف ہے  کا بھی تو واقعہ ابھی  صرف ۲۶ سالہ پرانا ہے ۔  دیانت کو کیا ہوا ، امانت کس وادی میں اپنے بال کھولے بین کر رہی ہے  ؟ بڑھ کے اٹھا لے جام کی روائیت نے وہ زور پکڑا ہے کہ توبہ ہی بھلی بلکہ دوسروں  کا جام بھی اپنے اندر  انڈیلا جا رہا ہے۔ تم ادھر ہم ادھر کا مشہور نعرہ شاید قوم کا یاد ہو جس نے پاکستان کو دو لخت کر دیا ، چلیے قائد اعظم کا آدھا احسان تو ۵۲ سال میں ہی لوٹا دیا گیا باقی جو ہے اس پہ بھی کافی محنت کی جا رہی ہے ، دیکھیے بقول شخصے کب تک اللہ پاکستان کو چلاتا ہے ۔ یہ بھی ایک عجیب فلسفۂ روباہ ہے ہمارے درمیان کہ پاکستان کو اللہ نے بنایا اور اسے اللہ ہی چلائے گا۔۔ اوئے پاکستان کو کوئی ہاتھ نئیں لگا سگدا ہے اَسی پھٹیاں پا دیاں گے ۔۔  تو مشرقی پاکستان جو ٹوٹ گیا تو کیا وہ پاکستان نہیں تھا کیا اسوقت پاکستان کو اللہ نہیں چلا رہا تھا کہ اب چلائے گا  ؟ اور بچا کھچا پاکستان جو نظریاتی طور پہ ٹوٹ چکا ہے اور صرف ایک وحشت نگر اور دہشت نگر بنا دیا گیا ہے  وہ بھی تو اپنے اعمال کا ہی نتیجہ ہے ۔ جب  لاکھوںعوام نے خون دیا ، قربانیاں دیں  تو پاکستان بنا ، اور جب عوام  بے حس ہوگئی اور اس ملک کے لیڈران نے ملک کو  توڑنا چاہا تو پاکستان ٹوٹ گیا ، اور اب کے پاکستان کا جو حشر ہو رہا ہے وہ بھی ہماری اپنی بد  نیتی اور بد اعمالیوں کا ہی نتیجہ ہے ، اس میں اللہ میاں کہاں سے آگئے  ؟ یہ تو اللہ کا ہی بنایا ہوا  نظام ہے کہ جو فرد و  قوم جس راہ میں اپنی کوشش کرتی ہے اسے ویسا ہی نتیجہ حا صل ہوتا ہے قطع نظر اس بات کہ اس قوم کے افراد کا نام عربی ہے یا عجمی ہے ، مسلمانوں جیسا ہے یا غیر مسلم جیسا ۔ لیکن ہم ہیں کہ کرنا ورنا کچھ نہیں صرف اپنی

۳

کوتاہیوں اور بداعمالیوں کا بھی ذمہ دار اللہ کو قرار دیتے ہیں کہ اللہ نے چاہا تو ایسا ہوا ، اللہ نے نہیں چاہا تو ایسا نہیں ہوا ، حالانکہ اللہ نے یہ بات صاف طور پہ کہدی ہے کہ تم جیسا مجھ سے گمان کروگے تمہارا نتیجہ ویسا ہی ہوگا یعنی تم جو چاہو گے کرنا اور اس راہ میں کوشش کروگے  تو تمہیں وہ حاصل ہوگا، بے عملی سے تو کچھ بھی نہیں ملتا سوائے کشکول گدائی کے۔ صرف اپنی دعاؤں میں گریہ و زاری کرنا اور زبردستی کی اشک شوئی کرنے سے بات نہیں بنتی۔  زندگی اور دنیا میں کامیابی کے لیے کمر کسنا پڑتا ہے۔عزت مفت کی نہیں بٹتی اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے  بدر و حنین  و کربلہ بپا کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے قرون اولیٰ میں جو کمایا تھا  دوسری اقوام نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ  ایک  حوصلہ مندی،  علم  و  تدبر اور منظم  محنت کا  ہی انجام ہے۔ دوسری قوموں کو بھی اللہ ہی نے بنایا ہے اور انہیں کیا ساری کائینات کو اللہ ہی چلا رہا ہے، فرق یہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اپنی عقل استعمال کر رہی ہیں۔آج کل ویب سائٹ اور ای میل  و ٹیلی ویژن پہ بے شمار بحث و مباحثے جاری ہیں ، ہر قسم کی معلومات و مغلظات پھیلائی جارہی ہیں، کوئی قومی ترانہ دوبارہ سن کر مدہوش ہے ، کوئی قومی نغموں کی فہرست بھیج رہا ہے ، کوئی جناح صاحب اور اوائل پاکستان کی داستانوں کو ایک ہوشربائی رنگ دے رہا ہے، کسی نے غزوۃ الھند کا کھڑاگ پھیلا رکھا ہے ، کوئی اقبالیات کا چیمپن بن کر  اپنی تشہیر کرہا ہے اور اکثر ان کے اشعار کو بھی غلط مفہوم پہنا رہا ہے، کوئی نعت و قوالی ہی کے کاروبار اور سر دھننے میں مست ہے ،  اس کے علاوہ  اقبالیات ، نعت و حمد ، بھلّے شاہ کے کافیے  یا کوئی اور عارفانہ کلام کو پاپ  میوزک پہ گا رہا ہے،  اب تو کچھ گائیک تائب ہو کر عشق  و محبت کے وحشت انگیز گانے کے بجائے نعت و حمد و قومی نغمے پہ گذارہ کر رہے ہیں۔چلیے اپنے فن کو مسلمان کر لیا ہے۔گھروں اور تقریبات میں وہی اصراف ، صاحب ثروت افراد کی دعوتیں اور تفریحات  ، اوروں کے مسائل تو ہم ایسے بھی اپنے ڈرائینگ روم میں شراب و طعام کے درمیان حل کر لیتے ہیں تاکہ ہمارا ضمیر بھی مطمئن  تو نہیں ہاں سویا رہے۔ بقیہ دما دم مست قلندر۔جس طرف دیکھیے عوام یا قوم ایک مستی اور سِحر کاری  یا ذہنی عیاشی کا شکار ہے۔ زندگی کے مقاصد معدوم ہیں ۔ کسی نے پاکستان میں راشن ڈپو پہ ہونے والی اموات سے متاثر ہو کر اپنے آن لائن اخبار مین یہ لکھا کہ پاکستان اب ایک خونی انقلاب جلد آنے والا ہے۔ میرے نذدیک یہ بھی ایک خیال خام ہے ، خوش فہمی ہے۔ کیونکہ  مردہ  قومیں  تو جی اُٹھتی ہیں لیکن بے حس اور  غلام قومیں کبھی بھی نہیں جی سکتیں، ان کے مقدر میں ذلت ہی ہوتی ہے چاہے وہ زندگی کی شکل میں ہو یا موت کی شکل میں۔  پاکستانیوں کو سب سے پہلے آزادی حاصل کرنا ہے ، آزادی استعماری قوتوں سے اور ان کے ایجنٹ سے جو ان پہ لیڈر بن کے بیٹھے ہوئے ہیں ،  تاکہ عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔  ورنہ بلیک ڈے،  بلیک نائٹ،بلیک لیڈر ، اور بلیک واٹر،  بلیک فیٹ بن کر  ان پہ مسلط رہے گی۔!

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: