Hesham A Syed

November 6, 2009

Labbaik Allahumma labbaik

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:47 am
Tags: ,

Labbaik Allahumma labbaik : Hesham Syed 

حشام احمد سید                              

  لبیک  الَلٰھم  ّ لبیک

?

ذی الحج کے مہینے کو شروع ہونے میں میں ایک ماہ اور چند دن ہی رہ گئے ہیں، ایک صدائے بازگشت ابھی سے سنائی دینے لگی ہے لبیک اَللہھم لبیک  ، حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ، ایک وارفتگی ابھی سے طاری ہونے لگی ۔ لوگوں کی تیاریاں تمام دنیا میں جاری ہیں، ہر اک اپنی اُمیدیں  ، خواہشیں ، تمنائیں ، محبتیں ، عشق  و  وجدان کا سرمایا سمیٹ کر  ایک ایسے سفر پہ جانے کا سوچ رہا ہے، تیار ہورہا ہے بلکہ  چند اپنے عالم ِ دیوانگی میں چل بھی پڑے ہیں جہاں سے اسے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔  ہر سال  یہ شوق ، محبت و عشق الہیٰ کا بازار گرم ہوتا ہے اور دنیا جہان سے پروانے ۵۲ سے ۰۳  لاکھ کی تعداد میں  شہر مکہ مکرمہ ، منیٰ ، عرفات اور مدینہ میں جمع ہوتے ہیں اور ظاہراً ایک ہی رنگ و لباس میں نظر آتے ہیں، انسانی برادری اور یکسانیت کا اس بڑا  اجتماع  یا مظاہرہ دنیا میں کہیں نظر نہ آتا ہے اور نہ آسکتا ہے۔ہر کی زبان پہ ایک ہی کلام ، اکثر کی  سوچ کا محور ایک اللہ ، اکثر کی آنکھیں اللہ کے رسول  ؐ کی احسانمندی سے نمناک ،  اکثرکے دل میں  انؐ کی شفاعت ہی کیا  ایسے وقتوں میں ہمہ وقت اُن کی موجودگی کا بھی احساس رہتا ہے۔احساس پہ تو قدغن نہیں ، کوئی شقی القلب اسے شرک خفی تعبیر کیا کرے  تو کیا کرے  ،  یہ شکائیت خدا سے کرے جس نے اپنی سنت بھی اس طرح قائم کی کہ انہیں ہی اپنا پیغامبر آخر بنا کے بھیجا  تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی عاشق کو محبوب کی یاد آئے اور  نامہ بر نہ یاد رہے  جبکہ اپنی محبت اور طاعت بھی ان کے ہی نام منسوب کر دی ، اور وہ بھی جو خود خدا کی محبوب ترین ہستی ہو ، پھر یہ تو کلمہ میں، ہر اذان میں ، نماز میں اور دیگر عبادات میں، دعاؤں کی قبولیت میں شامل ہیں جیسے کہ کوئی ایسا ٹرانسمیٹر ذریعہ ابلاغ  ہو جس  کے بغیر پیغام رسانی مشکل ہو ۔کوئی اگر ان باتوں کی گہرائی  یا گیرائی کو نہیں سمجھ پاتا تو یہ اس کی اپنی ذہنی و قلبی بے بضاعتی اور  بے بصریت و نگاہ کی کوتاہی ہے۔ آج کی زبان میں اسے مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹ کہتے ہیں۔

ہاں  تو صاحب آنے والے زائرین میں اللہ کے ولی ہیں ، صالحین ہیں اورمتقین ،  شائقین ،اورمصیبتوں کے مارے ، دنیا و دنیا والوں سے تنگ تو ہیں ہی ، ان میں  وہ بھی ہیں جو راشی ہیں ، وہ بھی ہیں جو ڈرگ کا کاروبار کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جنہوں نے دوسروں کا جینا حرام کر رکھا ہے ، وہ بھی ہیں جو انسانیت کے دشمن ہیں ، وہ بھی ہیں جو انسان  دشمن کاروبار میں  منسلک ہیں ، وہ بھی ہیں جو دوسروں کو دھوکہ دے کر ہی اپنا کام نکالنا جانتے ہیں، وہ بھی ہیں جو اسمگلنگ کو تجارت سمجھتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو زکوٰۃ  نہ دینے کے بہانے تلاش کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جن سے ان کے اپنے گھر ولی اور گھر والے تنگ ہیں ،  وہ  پیرِ مست بھی ہیں جنہوں نے مذہب کو کاروبار بنا رکھا ہے ، وہ بھی ہیں جنہوں نے فتنہ و فساد پھیلا رکھا ہے، وہ بھی ہیں جنہوں نے ملک کے سرمائے کو اُڑا کر اپنے ذاتی فارن اکاؤنٹ میں  بچا رکھا ہے،  وہ بھی ہیں جنہوں نے سیاست و دین میں اک عجب خلفشار پھیلا رکھا ہے ، وہ بھی ہیں  جو اُم الخبائث کا شکار ہیں اور چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی والی کیفیت کا شکار ہیں۔ وہ بھی ہیں جن کی طویل داڑھی میں بے شمار  تنکے ہیں ، وہ بھی ہیں  جو روشن خیال ہونے کے مدعی  ہیں  اور دین کی بنیادی عقائد اور اس کی رسومات پہ ہی شرمندہ ہیں ، وہ بھی ہیں جو دین سے روحِ رسول ؐ کو نکالنے کے چکر میں ہیں، وہ بھی ہیںجو منکر الحدیث و سنت ہیں تاکہ قرآن کو اپنے اوپر نازل کر کے اس کی اپنی تشریح کی جائے ۔ وہ بھی ہیں جو ولائیت  ، رسالت و نبوت  میں تفریق کر کے ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے کا زور لگا رہے ہیں اور طرح طرح کی بدعات ایجاد کر رکھی ہیں ،  وہ بھی ہیں جو کربلہ کے واقعہ کو ہی مشکوک بنا رہے ہیں ، وہ بھی ہیں جو یزید کو رضی اللہ عنہ  بنانے کے لیے احادیث کی غلط تاویل کر رہے ہیں ،  وہ بھی ہیں جو حضور ؐ کے  اقرب  صحابہ کرام  رضی الہ تعلیٰ اجمعین پہ ہی تبرًہ بھیجنے کو ہی اپنا دین بنا لیا ہے ۔  وہ بھی ہیں جو حضورؐ کے بعد کے جھوٹے انبیا کے پیرو کار ہیں اور چھپ چھپا کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے اس اجتماع میں شریک ہیں، وہ بھی ہیں جو کسی دھوکہ باز پیر کامل  کے مرید ہیں  اور یہاں بھی ہر وقت  تصور شیخ میں ڈوبے ہوئے ہیں ، وہ بھی ہیں جو بظاہر تو دو سفید چادر یا تولیے جیسے فقیرانہ لباس میں لپٹے ہوئے  ہیں لیکن ان کے اندر کا کبر اور دنیاوی عیش و آرام طلبی کم نہیںہوتی اور وہ شاندار  و عالیشان ہوٹلوں یا سرائے خانے کے ٹھنڈے کمروں  میں ہی اللہ کا ورد کر رہے ہیں اور منیٰ یا عرفات میں بھی تعیش آمیز خیموں میں ہی براجمان ہیں کہ ان کے نزدیک ہر انسان برابر کیسے ہو سکتے ہیں ؟ وہ بھی ہیں جن کے دل سیاہ ہیں اور اس میں صرف ایک دوسرے کے لیے کدورتیں اور نفرتیں  اور حسد بھری ہوئی ہیں،  وہ بھی ہیں جنہیں دنیاوی کاروبار میں وسعت چاہیے ،  وہ بھی ہیں جو کسی یقیناً جرم کے سبب  عدالتی چکر میں پھنسے ہوئے ہیں ، وہ بھی ہیں جو کسٹم میں پھنسے ہوئے کنٹینر یا کیس  سے نکالنے اور نکلنے میں پھنسے ہوئے ہیں، وہ بھی ہیں جنہوں نے بے شرمی اور بے حیائی کو  زندگی کی ایک ضرورت بنایا ہوا ہے، وہ بھی ہیں جو زندگی کو صرف ایک تماشہ گاہ سمجھتے ہیں اور  جنکا کوئی قابل ذکر مقصدِ حیات نہیں،  وہ بھی ہیں جو سودی کاروبار میں تو ملوث  ہیںہی حج بھی سودی قرضہ لے کر آئے ہیں  اور  اگر قرض  نہیں  تو ان کی آمدنی تمام سودی ہی ہے ،  وہ بھی ہیں جنہوں نے ملک اور قوم کی عزت کو نیلام کر دیا ہے ، وہ بھی ہیں جنہیں صرف دولت و ثروت کی فراوانی کی اشتہأ یہاں لے آئی ہے کہ شائد اس ٹرپ کے بعد کچھ اور بڑھوتی ہو، وہ بھی ہیں جنہوں نے کسی اور کی جائداد ، مکان ، یا مال پہ بے جا قبضہ کر رکھا ہے، وہ  بھی ہیںجو اپنے گاؤں میں تعلیم کا فروغ اس لیے نہیں چاہتے کہ اس سے ان کی جاگیر داری ، چودھراہٹ متاثر ہوگی، وہ بھی ہیں جو حج کو ہولی پکنک بنائے ہوئے ہیں ، وہ بھی ہیں جو بیسیوں حج اور عمرہ و زیارۃ کر چکے ہیں اور یہی ان کا مقصدِ حیات ہے کہ انہیں دیگر ذمہ داریوں اور خدمتِ خلق سے کوئی غرض نہیں اور ان کے ثواب کا پیمانہ الگ ہے  ،  وہ بھی ہیں جنہوں  نے بہتیرے حج و عمرے کیے ہیں لیکن ان کی زندگی پہ اس کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے، انہیں صرف اپنے نام کے ساتھ حاجی یا الحاج دیکھ کر خوشی ہوتی ہے چاہے فطرت میں وہ کیسے ہی پاجی کیوں نہ ہوں،  وہ بھی ہیں جن کی حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے  یا طواف کر تے ہوئے یا بیت اللہ کعبہ شریف کے اندر جاتے ہوئے کی تصویر انہیں  اپنے ملک میں زیادہ ووٹ دلوائے گی یا ان کی پاکیزگی کا چرچہ عام ہوگا ، بلیک منی کو وہائیٹ کرنے کا گُر بھی تو کوئی ان سے سیکھے ،  اس بھیڑ میں  وہ بھی ہیں جنہوں نے حج کو ایک تجارت بنا لیا ہے ، وہ بھی ہیں جنہوں نے اس رسم کو اپنے سارے سال کی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا ہے  اور ہر شئے پہ دام بڑھا کر حاجیوں کو لوٹ رہے ہیں ،  غرض کہ ہر قماش و رنگ کے لوگ اچھے اور برے سب حاضر ہیں۔ اور اگر  بھانت بھانت  کے سارے لوگ نہ آئیں تو ۰۳ لاکھ کا مجمع کیسے ہو۔ ہر کا اپنا ایجنڈاہے یہاں آنے کا اور ہر کسی کا اپنا ایمان ہے ۔ اللہ نے تو یہ فرمایا ہی ہے کہ بندہ کو وہ کچھ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ وہ اللہ سے گمان رکھتا ہے۔  فطرت کا اپنا معیار ہے  اور اس کی اپنی کارستانیاں ہےں ۔ رات اور دن برابر نہیں ہوتے ، کرگس شاہین نہیں بن سکتی ، گندے نالے میں پلنے والے کیڑے سمندر کی مچھلیاں نہیں بن سکتے ،  گدھا شیر نہیں بن سکتا ، خچر گھوڑا نہیں بن سکتا ،  زمین میں رینگنے والے جانور ہواؤں میں یا آسمان میں نہیں تیر سکتے ، اندھے روشنی کی تمیز سے نا آشنا ہوتے ہیں ،  عقل کے اندھے آنکھ کھلی ہونے کے باوجود اندھیرے میں  ہوتے ہیں ، شیطان  فرشتے نہیں بن سکتے ،  ہر کوئی نبی یا رسول نہیں ہو سکتا ۔ سو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کے بارے میں ہر اک کا گمان بھی ایک جیسا ہو۔

  لیکن اسی انسانی بستی میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کی ساری زندگی ایمانداری سے گذری اور اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھاتے اٹھاتے ان کے پاس اتنا بھی نہیں کہ سال میں ایک بار ہی اس فریضہ کو انجام دے پائیں۔ عدل ِالہیٰ کا پھر تقاضہ کیا ہے ؟ معروف قصہ ہے کہ ایک ولی کو  محلے کے ایک دھوبی کے بارے میں خواب دکھایا گیا کہ امسال لاکھوں کے مجمع میں حج صرف اس کا ہی قبول ہوا۔ جبکہ وہ دھوبی تو حج پہ گیا ہی نہیں اور حج کے لیے جمع کیے ہوئے پیسے کو آخری وقت اپنے پڑوسن کے بھوکے و بیمار بچوں پہ خرچ کر دیا اور اللہ توکل کر لیا۔ دنیا کی آخری عمر کے حصے کی بشارتوں میں  روائیت رسول ؐ  تو  یہ بھی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمان بھی اپنی مسجدوں  اور گھروں کی آرائیش ایسے ہی کریں گے جیسے کہ دوسرے مذاہب والے اپنی عبادتگاہوں کی تعمیر و زیبائیش کرتے ہیں  ، مسجد الحرام کے گرد بھی اونچی اونچی عمارتیں تعمیر ہونگی جن کے مالکان چرواہے ہونگے یعنی جنہیں دولت اچانک بے تحاشہ ملے گی ،  حج پہ بھی ایک جم غفیر ہوگا لیکن بہت کم کا ہی حج بارگاہِ الہی میں قبول ہوگا۔ واللہ عالم

سو فکر کی بات یہ ہے کہ کن لوگوں کا حج قبول ہوتا ہے  اور اس کی نشانیاں کیا ہیں  ؟

۔جو لوگ حج حلال کی آمدنی سے کر رہے ہوں حج صرف ان کا ہی قبول ہوتا ہے۔ اس کی علامات یہ ہیں کہ  :

۔حج کے بعد  :  جنکی زندگی میں ایک انقلاب ایسا آئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت دلوں میں جاگزیں ہو جائے ،  ان کے احکام اور ہدائیت  ہر شئے سے  زیادہ محبوب ہوں  اور ہمہ وقت اس کا ادراک و احساس رہے،  اپنے اندر خود  اپنا محاسبہ کرنے کی استطاعت پیدا ہو جائے۔ نظر کوئی برائی یا بے حیائی کی بات دیکھنا نہ چاہے ، کان ایسی کوئی بات سننا نہ چاہے ،  زبان سے کسی کی غیبت و تہمت نہ ہو  اور نہ ہی کسی لغو بات کا اظہار ہو ،  دھوکہ دہی و فریب کی زندگی سے چڑ ہو جائے ،  جھوٹ  ، سود  ،  شراب  ، جوئے وغیرہ سے نفرت پیدا ہو جائے ،  حرام کی آمدنی سے توبہ کر لیں ، لوگوں کے حقوق جو غصب کیے تھے وہ انہیں بلا چوں چرا واپس کردیں ،  زندگی کے لیے کسی بلند مقصد کی تلاش اور اس پہ عمل  شروع ہو جائے ، چھوٹے گناہ اور غلطیاں بھی بڑی لگنی لگیں ،  ا للہ کے مخلوق کا خیال رہنے لگے اور ہر کے ساتھ احسان کا سلوک روا ہو جائے۔ اگر یہ سب تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوجائے تو سمجھیں کہ حج باگاہ ایزدی مین مقبول ورنہ یہ صرف ایک  سیاحت ہی ہوئی۔لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا  !

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: