Hesham A Syed

November 6, 2009

Likh raha hooN junooN meiN kia kia Kuch

Filed under: Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:38 am
Tags:

Likh raha hooN junooN meiN kia kia Kuch – Hesham Syed

حشام احمد سید   :                        لکھ رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ                  

لکھنے بیٹھا ہوں تو غائب الدماغ ہوں کہ کیا لکھا جائے ، معاشرے  پہ کب تک رویا جائے، مرثیہ گوئی کب تک کی جائے ۔ قتل و غارت و بے حسی ، لوٹ مار چور چکاری، دھوکہ فریب  و  غارتگری  و انسانیت کی بڑھتی ہوئی دکھی لاشیں ہی کیوں دکھائی دیں ؟

 کہیں کوئی کلی بھی کھلے ، کوئی پھول بھی پھوٹے کہیں کوئی چراغ بھی روشن ہو ، کہیں کوئی ساون میں جھولے کی پینگیں بھی ہوں اور رم جھم برسے، کہیں سورج مدھم ہو اور چاند ڈھلے ،کہیں چاندنی کی سِحر انگیزیوں کا بھی کسی پہ اثر ہو ، کہیں تاروں کی منمناہٹ بھی سنائی دے ، کہیں کسی پھول کی نرم پتی پہ اوس اور شبنم  دیکھ کر بھی دل میں ایک ٹھنڈک کا احساس  جاگے ، کہیں حسنِ کائینات پہ بھی دل پگھلے ، کہیں آسمان بھی زمین سے آملے، کہیں  پہاڑوں کے آبشار کی ھم ھم میں بھی ہم گم ہو جائیں اورکبھی ہمیں اپنے ہونے کا بھی احساس ہو ۔ اورکیا ضروری ہے کہ کچھ لکھا ہی جائے ؟ بات خاموشی سے بھی تو کی جا سکتی ہے کہ  :

جو  حقیقتوں کی تلاش ہو  :  تو خموشیوں کو سنا کرو

نہیں منتِ کشِ تابِ شنیدن داستاں میری  :  خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

ایسی ہی کوئی بات ہے کہ چُپ ہوں   :  ورنہ  کیا  بات  کر  نہیں  آتی

ویسے بھی سننے اور سنانے والے کہاں رہے  ؛ آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے  :  مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا۔

دل میں تلخیاں ایسی گھل مل گئی ہیں کہ یہ بھی بھول بیٹھے کہ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو لیکن یہ تو اسوقت ممکن ہے جب ہم یہ کہہ سکیں کہ کبھی اپنے دل میں قرار تھا ہمیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔

صرف آفات ہی نہ تھے ذاتِ الہی کا ثبوت  :  دشت میں پھول بھی تھے حشر بھی جذبات میں تھے

زندگی کی مدت ہے ہی کتنی کہ اس کا اتنا غم کیا جائے، غم تو اس بات کا ہو کہ موت کا کیوں نہیں سوچا۔موت سب سے نباہ کرتی ہے ، زندگی تو زندگی کی دشمن ہے۔ موت سے اور کچھ  نہ ملے ،  زندگی سے جاں تو چھوٹے گی۔کسی نے کہا کہ جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ، جسم مٹ جانے سے انسان نہیں مرجاتے  ( چلیے صاحب قبور کے مجاوروں کے لیے ایک اور دلیل نکل آئی ) خیر یہ بات تو خود قرآن بھی کہتا ہے کہ بعض  بظاہر زندہ لوگ چلتی پھرتی لاشیں ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان دیں انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو ۔دھڑکنیں رُکنے سے ارمان نہیں مر جاتے  ( لیکن سانس  یا دھڑکن کے رُکنے کے بعد کے ارمان کا پتہ بھی تو نہیں چلتا ۔ دوسری زندگی کے ارمان بھی تو وہی ہیں جس کا علم عام ہے ، اس میں اگر کوئی تبدیلی موت کے بعد ہوجاتی ہے تو سوائے اللہ کے

کون بتا سکتا ہے )۔سانس تھم جانے سے اعلان نہیں مر جاتے ( یہ اس بات پہ منحصر ہے کہ کس کا سانس تھما  ۔ مدعی کا یا مدعا علیہ کا  یا

اس نابینے کا جس نے خود عدل کا ترازو تھام رکھا ہے۔ یہ بات بھی اکثر ذہن میں آئی کہ یہ ترازو خاتون نے کیوں تھام رکھا ہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کے ،  اسے مرد بھی تو تھام سکتا تھا  یا یہ کہ مرد کا قانون ہمیشہ سے اندھا ہی رہا ہے اسے پٹی باندھنے کی ضرورت نہیں ؟)۔ہونٹ جم جانے سے فرمان نہیں مر جاتے ( یہ بھی متنازعہ فیہ مسٔلہ ہے، اور اس بات پہ منحصر ہے کہ موت کس حالت میں ہوئی ) کسی نے گدی سے کھینچ کے اتارا ہے یا  اس نے اپنی گدی کے طوق کو اتار پھینکا ہے۔

 دیکھیے میں پھر بہکنے لگا اور سیدھی سادھی بات کرنے کے بجائے فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھنے لگا۔ بغض کی آگ ،  نفرت کے شعلے میکشوں تک پہنچنے نہ پائیں کہ فصل یہ مندروں ، گرجہ گھروں ،مسجدوں کی ، میکدوں کی زمینوں میں کیوں ہو  ؟  پھولوں سے رشتوں کا لحاظ ، ساعتِ فصل گُل یا جوانی کے جشن کا خیال تو ہونا ہی چاہیے۔عاقبت کے عذابوں کا رونا ہر وقت ہی کیوں ہو۔ لیکن ناعاقبت اندیشی بھی تو کوئی اچھی بات نہیں۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ زمانے کی تلخیاں ہمیں پکارتی رہیں اور ہم کسی کی گھنیری زلفوں کے سائے کے میں پناہ میں ہوں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی مدہوشی میں بہت سارے سوالات سے پہلو بچا لیں۔یہی کہ دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا  ؟ کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا  ؟  وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئے  جبکہ بے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیب ،  اور جو  خود کو  جمہوریت نواز  ، بشر دوست ، امن خواہ جیسے القاب  دینے والے رہبرانِ  قوم  تھے  انہیں کون سی زمین نگل گئی  ، وہ کہاں منہ چھپائے بیٹھے ہیں ؟ جمہور کے خون میں پرچم کو ڈبو کر شاہوں نے ہمیشہ افراد سے وفا کی امید ہی نہیں کی ہے بلکہ اسے نبھانے کا حکم صادر کیا ہے، یہ بات کوئی نئی تو نہیں۔ قومیں بن رہی ہیں ، بگڑ رہی ہیں ، افراد اس بننے بگڑنے میں مٹتے جا رہے ہیں۔افراد  قوم میںضم کیوں ہو جاتے ہیں ؟  صرف اسی لیے نہ کہ غلط کار اہل منصب، افراد کی تائید سے ہی بنتے ہیں  سو مجرم  تو افراد ہوئے۔ افراد جب تک کہ اپنے حق کو نہیں پہچانیں گے اور اہل منصب کے غلط دعوؤں کی تنقید و تنکیر کی بجائے تائید و تقلید کرتے رہیں گے وہ  مٹتے ہی رہیں گے ۔سو اپنے اعمال پہ نظر ڈالنے کے بجائے صرف قسمت و تقدیر  وحالات  کا  رونا رونا کیسی عقلمندی ہے۔لیجیے صاحب میں نے تو یہ سوچا تھا کہ آج صرف ہلکی پھلکی باتیں ہونگی لیکن چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی۔  پتہ نہیں کیا کچھ کہہ گیا بین السطور میں، اس کا فیصلہ اہل ِ دل قارئین ہی کر سکیں گے۔!

جہانِ رنگ و بو دانی ولے دل چیسے میدانی  :  مہ کز حلقۂ آفاق سازد گردِ خود حالہ

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: