Hesham A Syed

November 6, 2009

Niqaab sirf Khubsoorat auratoaN key liey hai

Filed under: Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:42 am
Tags:

Niqaab sirf Khubsoorat auratoaN key liey hai – Hesham Syed

حشام احمد سید                               نقاب صرف خوبصورت عورتوں کے لیے ہے  ؟

مصر کے شیخ طنطاوی ایک متنازعہ شخصیت بن گئے ہیں اسلامی دنیا میں جب سے انہوں نے بینک کے بعض سود ی شق کو سود کے معنی سے الگ کر کے اسے حلال قرار دیا ہے اور ابھی حال ہی میں جامعتہ الازھر میں لڑکیوں اور خواتین کے حجاب نہیں بلکہ نقاب کے خلاف فتویٰ دے دیا ہے جس میں صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں اور وہ بھی اکثر چشمہ سے ڈھانک لی جاتی ہیں۔ اسلامی دنیا کے مفتیوں کو اور علما کرام کو اور ویب سائٹ پہ بیٹھے ہوئے بہت سارے بظاہر اسلام پسند لوگوں کو ایک نیا موضوع ہاتھ لگ گیا ہے۔ دھنا دھن ای میل ، ویب سائٹ ، اور مختلف جرائد و اخبارات میں اس کے خلاف لوگوں کے جذبات ابل رہے ہیں۔چشم تصور میں ہر کسی کے ایک عجیب ہولناک  اور وحشتناک منظر ابھر کر سامنے آرہا ہے، کیا ہوگا اگر عورتوں کو چہرہ کھولنے کی، اور ہاتھوں سے دستانے اتارنے کی اجازت دے دی گئی ؟  چلیے صاحب جو خواتین اس پہ عامل نہیں ان کا اسلام اور ایمان تو مشکوک ہے ہی ان کا کیا ہوگا جو اس مبارک خیمہ سے باہر نکل آئیں گی۔ پہلے تو اسلام پہ حملہ غیر مسلمین کیا کرتے تھے ، کیا زمانہ آگیا ہے کہ اب مفتیانِ شھر اور عالم حضرات بھی اسلام کے خول سے باہر نکل رہے ہیں اور لوگوں کو بھی ان باتوں پہ اُکسا رہے ہیں۔ عورتیں اگر باہر نکل آئیں تو اسلام کا کیا ہوگا  ؟ اور خود ان مردوں کا کیا ہوگا جو کسی نہ کسی بہانے اور آخرت و جہنم  کا خوف دلا کر  اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ عورتیں صرف گھر میں بند ہو کر ان کی نفسانی خواہشات کی تسکین کرتی رہیں یا پھر ان کے لیے بچے جنتی رہیں۔ خطرہ ہے کہ تلوار بن کر ہر وقت سر پہ لٹکتا رہتا ہے، پہلے ہی معاشرے میں کیا کم بے شرمی اور بے حیائی پھیلی ہوئی ہے کہ اس  سر جھاڑ منہ پہاڑ،  بد تہذیب آبادی میں مزید اضافہ کیا جائے  ؟ قیامت ہی کے آثار ہیں۔ کسی  منچلے نے تو یہ بھی لکھ بھیجا کہ  :

نقاب کہتی ہے میں پردۂ قیامت ہوں  :  اگر یقین نہ ہو تو دیکھ لو اُٹھا  کے مجھے۔

نقاب کے سلسلے میں میں کہا کرتا ہوں کہ اگر حکمِ  خداوندی یہ ہوتا کہ صرف خوبصورت عورتیں ہی نقاب پہنیں گی تو دنیا کی ہر عورت چاہے وہ مشرق کی ناری  ہو یا مغرب کی  مادام  نقاب کے اندر خود ڈوب جاتی، کسی جبر و کراہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ واللہ عالم۔یہ بات جو میرے ذہن میں آئی میں نہیں کہہ سکتا کہ وحی ہے ، اس لیے کہ اس کا سلسلہ منقطع ہو چکا اور میں اپنا شمار مظہر خدا و نبی و رسول میں یا کاذبین یا گستاخ لوگوں میں نہیں کرنا چاہتا ۔ لے دے کہ اب صرف رویائے صادقہ ، یا کشف یا وجدان رہ گیا ہے سو یہ خیال ان قبیل میں بھی نہیں بلکہ ایک شاعرانہ خیال سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ مفتیانِ شھر اس خیال پہ بھی کفر کا فتویٰ صادر کریں گے یا نہیں۔بحر حال جو بات دل میں آئی وہ کہہ ڈالی۔

مردوں کا کیا ہے، ان کی نگاہیں اگر مسلمان نہیں تو ایکسرے کی طرح  نقاب کو بھی چیر دیتی ہیں ، جانے ہی کتنے اشعار نقاب پہ لکھ ڈالے گئے ، جانے کتنے صرف نقاب پہ ہی عاشق ہوئے بیٹھے ہیں، افسانوں ہی میں نہیں بلکہ واقعتاً پرانے زمانے میں یہ بھی ہوتا تھا کہ لوگ  نقاب زدہ  دوشیزاؤں یا خواتین کی ایڑیوں کی سفیدی اور سرخی پہ عاشق ہو کر اپنا پیغام دیا کرتے تھے اور پھر ساری عمر اس سے نبھاتے بھی رہتے تھے چاہے وہ اپنے حجرہ عروسی میں گھونگھٹ اٹھا کر کتنے ہی حواس  باختہ کیوں نہ ہوئے ہوں ، یا خود خواتین اپنے شوہروں کا اٹھتا ہوا سہرا دیکھ کر نیم بے ہوش کیوں نہ ہوگئی ہوں۔ جناب شرافت تو اسی کو کہتے ہیں۔ اور ویسے بھی یہ رویہ بڑا عام تھا کہ جس سے بندھ گئے تو بندھ گئے ۔ جو صاحب ثروت تھے ان میں سے کچھ کہیں اور بھی منہ مار لیتے تھے لیکن گھر کی مالکہ کو کیا مجال کہ پتہ چل پائے اور اگر پتہ چل بھی گیا تو وہ بیچاری اسے بھی اپنی تقدیر کا حصہ سمجھ کر اپنے رنگیلے میاں سے نبھاتی رہتی بلکہ ان کی ساری اوچھی حرکتوں پہ بھی خود ہی پردہ ڈالتی رہتی تھی۔

نقاب کی بھی تو کتنی قسمیں ہیں ، شٹل کاک کا افغانی یا پٹھانی نقاب اور اسی سے ملتا جلتا بوہری طبقہ کی خواتین بھی نقاب پہنتی ہیں لیکن منہ کھول لیتی ہیں۔ یہ شٹل کاک نما نقاب خیمہ نما ہوتا ہے ۔ ہر چند کہ میں اس بات کو نہیں مانتا لیکن احباب یہ کہتے ہیں کہ اس نقاب کا گھیراؤ اتنا زیادہ ہوتا  ہے کہ یہ خواتین کی خوبصورتی کو نہیں بلکہ ان کے موٹاپے اور بدنمائی کو چھپانے کے کام آتا ہے۔ ایران میں تو چادر اور چہرہ کھلا ہوتا ہے اس لیے اسے نقاب نہیں کہا جاسکتا۔ نقاب کی شرط ہی یہ ہے کہ چہرہ بالکل ڈھکا ہوا ہو۔ سوڈان میں بھی چادر اوڑھی جاتی ہے لیکن کوئی ضروری نہیں ہے کہ سیاہ ہو بلکہ زیادہ تر مختلف رنگ اور پرنٹ کے ہوتی ہے یہ چادر جو کہ لباس کا حصہ ہی ہوتا ہے ، اسی طرح دیگر افریقی ممالک میں ایسی چادر استعمال کی جاتی ہے سوائے مصر اور ایسے افریقی و ایشیائی ممالک جو اپنے آپ کو زبان کی وجہ کر عرب ہی گردانتے ہیں۔ عرب مملکتوں میں آج کل البتہ نقاب کو تراش خراش کر ایک لانگ جمپر یا ریشمی سیاہ کوٹ بنا لیا گیا ہے جس سے جسم کے نشیب و فراز کا  اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ ایسے نقاب پہ طرح طرح کی کشیدہ کاری اور چمکی و ریشم کے کام بھی ہوتے ہیں جس سے توجہ ہٹنے کے بجائے اور مبذول ہوتی ہے ۔یہاں کی خواتیں اب کچھ مطمئن ہیں کہ فیشن کی کوئی تو صورت نکلی۔ عرب مملکتوں میں بحرحال بعض لوگ یا بعض قبیلے پردے کے بارے میں بے حد متشددانہ رویہ  رکھتے ہیں یہاں تک کہ خواتیں چہرے پر ایسا ایک خول مستقل پہنے رہتی ہیں جسے دیکھ کر آدمی کی طبیعت مکدر ہوجاتی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے بعض خواتین یہ خول اپنے شوہروں کے سامنے بھی نہیں اتارتیں، واقعہ اس نوعیت کا بھی ہے کہ شوہر نے  عالمِ وصل میں چہرے سے وہ نقاب نوچ پھینکا تو اس خاتون نے اُس پہ بالجبر کا دعویٰ کر کے خلأ لے لیا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے اس دنیا میں کیسی کیسی مخلوق بنائی ہے۔پاکستان و ہندوستان میں ہر قسم کا نقاب نظر آتا ہے ، یہاں کے لوگ چونکہ نقال زیادہ ہوتے ہیں سو جس کے دل کو جو بھائے وہ اپنا لیتے ہیں یا پھر جو جہاں رہ کے آگیا ہو یا وہاں رہ رہا ہو  وہاں کی ریت اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ تو معاشرے کا ایک پہلو ہے دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ  ایسی بھی  ر یاستیں ہیں جہاں عورتیں ساری پیٹی کوٹ یا چولی یا بلاؤز کے بغیر پہنتی ہیں اور اس کی وجہ ان کی غربت ہے۔ افریقہ  کے بعض علاقے ،  بنگلہ دیش اور اسی طرح کے ممالک جہاں کثرتِ آبادی سے غربت کا بھی فروغ ہے وہاں یہ بات بڑی عام نظر آتی ہے۔ گھروں میں خادمائیں صرف تن تنہا ایک ساری میں ہوتی ہیں جس سے سب کچھ ہی نمایاں ہوتا ہے اور یہ صورتِ حال کوئی رومانوی منظر نہیں پیش کرتی بلکہ اسے دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے اور عورت کی بے عزتی  ہئیت کذائی اور معاشرے کی بے حسی دکھائی دیتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ عورت یا تو غربت میں اپنے ستر کو ڈھانک نہیں سکتی  ہے یا پھر امیری یا دولت کی فراوانی اسے بے شرم و بے حیا اور اپنے لباس سے آزاد و برہنہ کر دیتی ہے،لیکن دونوں کے مسائل الگ ہیں ایک کا تعلق اقتصادیات سے ہے تو دوسرے کا تعلق نفسیات سے۔ دونوں بیماریوں کا علاج الگ ہے۔ پھر  ایسی خواتین جو گاؤں میں کھلیانوں میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں  یا خادمائیں جو گھروں میں کام کرتی ہوتی ہیں یا عورتیں جو مٹی ، گارے اور اینٹیں ڈھوتی رہتی ہیں کہ بچوں کا پیٹ پال سکیں ان کے پاس نقاب جیسی عیاشی کا موقع کہاں ہے ؟  تو کیا یہ نقاب صرف متمول گھرانے کی عورتوں کے لیے ہی ہے ؟ کیا اللہ نے کبھی ایسا قانون بنایا ہے کہ غریب اور امیر کے لیے الگ الگ ہو۔ جو رئیس زادیاں ہیں وہ اپنی شرافت کا اظہار نقاب پہن کر کریں اور دوسری مزدور طبقہ کی عورتیں چونکہ نقاب پہن نہیں سکتیں کہ ان کے کام میں آڑے آتا ہے  تو انہیں نیچی نظروں سے دیکھا جائے ؟ بہت سارے لوگ تو اس بات پہ بھی مصر ہیں کہ عورتوں کو باہر کا کام کرنا ہی نہیں چاہیے اور وہ صرف گھر میں رہ کر میاں کا اور بچوں کا اور خاندان والوں کا خیال رکھیں۔ کاش یہ بات عملی طور پہ معاشرے میں لاگو ہوسکتی لیکن ایسا ممکن نہیں۔ اقتصادی حالات سب کے ایک جیسے نہیں ہوتے۔موجودہ معاشرے میں ایک کمانے والے سے ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔  بچوں کی تعلیم ہی اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ اسے ہی پورا کرتے کرتے عمر بیت جاتی ہے ، زندگی کے دوسرے تقاضوں کے اخراجات  تو اپنی جگہ ہیں ۔

عورتوں کے نقاب پہ جو واویلہ مرد حضرات مچاتے ہیں انہیں اس کی خبر نہیں کیا کہ انہیں بھی غصِّ بصر کا حکم دیا گیا ہے یعنی اپنی نگاہیں نیچی کر لیں ، یہاں تک کہ کسی غیر محرم پہ ایک بار نگاہ اُٹھ جائے تو دوبارہ  دیکھنے کی اجازت نہیں ، اب ذرا کوئی بتائے کہ کون مولوی یا دین کے ٹھیکیدار جو عورتوں کو خیمہ زن کرنے پہ تلے ہوئے ہیں اس  بات پہ عمل کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ بھی کرتے ہیں۔ اللہ کا حکم تو دونوں کے لیے ہے ۔ پھر یہ اک طرفہ تماشہ کیوں ؟ اگر حرام و حلال کا اتنا ہی خیال رہنے لگے  تو ویڈیو ، سینیما  اور ننگی فلموں کا کاروبار کیسے چلے  ، ہر وقت فاحشہ عورتوں اور مرد کی باتیں یا رطب السانی  اور ان کی نقالی سے کیسے  جان چھوٹے ؟  دوسری طرف یہ بھی ہوتا ہے کہ جس معاشرے میں نقاب کی پابندی کرانے کے لیے ڈنڈا مار حکومتی ادارے فعال ہیں انہی کارکن میں سے بہتیرے کی اپنی حرکتیں خاصی مشکوک ہیں خصوصاً جب یہ اس معاشرے سے نکل کے باہر آتے ہیں  ۔ اور یہی حال ایسے معاشرے کی  اکثرخواتین کا بھی ہے کہ جیسے ہی  ہوائی جہاز اڑا  ویسے ہی ان کا نقاب بھی اُڑا  یا کسی ہینڈ بیگ میں دفن ہو گیا، یہ ہینڈ بیگ پھر واپسی میں جہاز پہ ہی کھلتا ہے جب جہاز ان کے ملک کے ائرپورٹ پہ لینڈ کر نے والا ہو ۔گویا اللہ تبارک تعالیٰ صرف اس معاشرے میں  لوگوں پہ نظر رکھے ہوئے  ہے اور دوسرے ملکوں میں وہ موجود نہیں ؟ یا دوسرے ملک کے مرد وں کا شمار زنخوں میں ہوتا ہے ۔یہ کیسی دو رنگی ہے ؟ بات صرف یہی ہے نا کہ یہ عورتیں دوسرے ملک میں اپنے کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں۔ اور ایسے معاشرے میں جہاں کوئی عورت اگر مناسب  لباس جس میں برہنہ پن نہ ہو پہن کر اگر بغیر نقاب کے جارہی ہو تو اسے عام آدمی اشتہأ بھری نظر وں سے نہیں دیکھتا، جبکہ نقاب زدہ علاقوں میں گاڑی کسی سگنل پہ رکی  تو بھی ساتھ والے گاڑی سے نوجوان ، جوان ، بوڑھے حجاب بھی پہنے ہوئی عورت کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے پہلی بار یہ مخلوق دیکھی

ہے ، ان کی رالیں ان کی بانچھوں  سے بہہ رہی ہوتی ہیں۔ اور یہ کون نہیں جانتا کہ  نقاب پہنے ہوئے بھی  لڑکیاں  یا عورتیں موبائل پہ مسیج بھیج رہی ہوتی ہیں اور ڈیٹنگ ارینج ہو رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ حرم کعبتہ اللہ  میں بھی ایسے جوڑے پکڑے جاتے ہیں جنہوں نے مطاف یا مسجد کو بھی ملنے کی جگہ بنایا ہوا ہے  ، قبور اور مزاروں پہ عشق کی داستانیں تو بڑی پرانی ہےں ۔ پھر یہ بات بھی سبھوں کے علم میں ہے کہ جن معاشروں میں حد سے زیادہ پردے کی سختی ہو وہاں مردوں اور عورتوں دونوں ہی صنف میں ہم جنس پرستی کا بھی رجحان پیدا ہوجاتا ہے اور ہے ۔ مذہبی مدرسوں میں سکولوں میں کالجوں میں ، دفتروں میں، اداروں میں کہاں نہیں یہ منحوسیت پائی جاتی ہے ۔ہر چند کہ یہ ابلیسیت ان ممالک میں زیادہ ہے جہاں کا ماحول مادر پدر آزاد ہے۔ اصل میںسارا مسٔلہ اندر میں چھپے شیطان کا ہے چاہے وہ عورت ہو کہ مرد ، ساری محنت قلب و ذہن کی صفائی اور درستگی کا ہے جس پہ کوئی توجہ نہیں ۔ احتیاط لازم ہے لیکن یہ احتیاط ایسا بھی جبر نہ بن جائے کہ عورتیں گھر میں ہی مقید ہو کر رہ جائیں اور ان کی تعلیم و تربیت  میں روڑے اٹکائے جائیں۔ اللہ نے مردوں اور عورتوں  دونوں کو ہی انسان بنایا ہے سو کسی ایک کو بھی یہ اختیار نہیں دیا کہ دوسرے کی زندگی پہ حاوی ہو کر اس کا جینا حرام کر دے۔معاشرے میں ایک  توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ اگر اپنے اندر کے شیطان کو مسلمان کر لیا جائے اور مجاہدے سے اپنے نفس پہ قابو پالیا جائے تو جو نگاہ بھی ایک دوسرے کی طرف اُٹھے گی اس میں عزت ہوگی اور احترام ہوگا۔اور اس کا مشاہدہ بھی اکثر ہوتا ہے۔ یہ سوچ و فکر کی ہی بات ہے نہ کہ جن رشتوں کی حرمت بتائی گئی ہے ان کے بارے میں کوئی آدمی بھی  بھولے سے کوئی غلط بات نہیں سوچتا یہاں تک کہ کوئی  عادتاً  زانی بھی اپنی ماں ، بہن اور بیٹی  یا ایسی ہی محرم کی عصمت و حفاظت پہ اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ تاوقتیکہ کوئی اتنا ہی خبیث ہو کہ اسے ان حرمتوں کا بھی لحاظ نہ ہو ، ایسے لوگ بھی اِکا دُکا پائے جاتے ہیں لیکن یہ تو وہ لوگ ہیں جو  شکلاً آدمی ہیں لیکن اصل میں یہ شیطانی درندے ہیں، ان کا علاج تو پھر سچ ہے کہ گردن زنی ہی ہے۔

ان ساری باتوں کے لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ جو خواتین پردہ یا نقاب لے رہی ہیں وہ غلط کر رہی ہیں یا جو خواتین حجاب کر رہی

ہیں وہ غلط کر رہی ہیں یا جو خواتیں نقاب و حجاب تو نہیں کرتیں لیکن ان کا  ایک باعزت پہراوا  ہے وہ مجرم ہیں۔ ہاں جو خواتین بے حجابی کا شکار ہیں یعنی ایسا میک اپ یا پہراوا پہنتی ہین جو نہ پہننے کے برابر ہو یا جسم کے حصے جو چھپانے چاہیں وہ قصداً ظاہر کر رہی ہوں تاکہ محفل عام میں بھی پذیرائی حاصل ہو  تو وہ تو یقیناً مجرم ہیں  چاہے وہ یہ کام اپنی مرضی سے کر رہی ہوں یا مردوں کی یا خود اپنے شوہر یا باپ یا بھائی کی شہ پر کر رہی ہوں۔ 

بڑا معروف قطعہ ہے :

بے پردہ نظر آئیں جو مجھے چند بیبیاں

 اکبرؔ  زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا

اللہ نے عقل عطا کی ہے ، قران و حدیث میں اس بات پہ احکام بھی  واضح ہیں  ، ماحول  و حالات دیکھ کر جس بات میں

 خواتین و مرد حضرات اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں وہی اختیار کریں، لیکن جو بھی کریں اس میں ایک مصلحانہ رویہ کے ساتھ معاشرے میں خواتین کے کردار کو بھی پیشِ نظر رکھیں اور انہیں ان کا جائز مقام دیں ، انہیں اس بات کی پوری آزادی دیں کہ وہ تعلیم و تربیت اور زندگی کے سارے امور میںاپنی استطاعت کے ساتھ بھر پور حصہ لے سکیں۔ اور ساتھ ساتھ مردوں کا طبقہ اپنی باطنی تربیت بھی کرتا رہے ۔ اس لیے کہ مشاہدہ یہی ہے کہ پردہ  کے تشدد  میں یا بے پردگی کی خرابات  میں ، دونوں ہی صورت میں تحریک مردوں ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ مگر عورتوں کی آبادی  ہی جہنم  میں ان کو سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ اپنی کمزوریوں کو کسی اور کے سر منڈھ دینا تو  پرانی ریت ہے ، یہ نکتہ بھی قابل غور ہے۔ اس دنیا میں کون کیا کر رہا اور کیوں کر رہا ہے اللہ عالم الغیب السموات الارض سے تو کوئی زیادہ واقف نہیں۔ وہی عادل و حکیم مطلق ہے۔!

حشام احمد سید

۔۔

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: