Hesham A Syed

November 15, 2009

Doodh pey billy aur billey ki rakhwali

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:21 am
Tags:

Doodh pey Billy aur Billey ki rakhwali : Hesham Syed 

حشام احمد سید                                دودھ  پہ  بلی  یا  بلے  کی  رکھوالی  ۔۔۔!

عاقل میاں سے میرے خیالات ملتے ہوں یا نہ ملتے ہوں لیکن باتیں دلچسپ ہوتی ہیں۔ ابکے آئے  تو  ایک نیا شوشہ سابق صدر مشرف  کا  صحافی ہرش کو دیے ہوئے انٹرویو کا لے آئے جس میں انہوں نے موجودہ صدر پاکستان آصف زرداری کی ہزل سرائی کی ہے یہاںتک کہ انہیں تھرڈ ریٹر قرار دیا ہے۔پاکستان تو اسوقت  ایک سنسنی خیز مرحلے سے گذر ہی رہا ہے بلکہ ہمیشہ سے ہی ایسا تھا ، کبھی کم کبھی زیادہ۔دھماکے پہ ہی روز کی خبریں ہیں کبھی بم کے دھماکے تو کبھی بیان بازی کے دھماکے۔ یا تو دھمکیاںہےں یا دھماکے ہیں۔ جو لوگ مشرف سے عناد  رکھتے ہیں  وہ تو اس انٹرویو کوخوب اچھال رہے ہیں اور جو ابھی بھی مشرف کے حامیوں میں ہیں  وہ اسے بھی ایک سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہرش نے مشرف کے بیان کو غلط رنگ دیا ہے۔لیکن دونوں گروہ کم سے کم اس بات سے انکار نہیں کر رہے کہ آصف زرداری کی صفات عالیہ کچھ مختلف ہیں۔پاکستان کی بد قسمتی یہ بھی ہے کہ آج تک یہ ملک شخصیت پرستی کے کلٹ سے آزاد نہیں ہوا۔ ہمیشہ سے گروہی فساد کسی نہ کسی شخصیت کے گرد ہی  ہوتا رہا ہے بلکہ یہ صورتحال تمام مملکت اسلامیہ کا رہا ہے  ۰۰۴۱ سال سے لے کر آج تک اور آئیندہ بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہونے کے۔ کسی کو  ہرش  کی  تحریر کا  اصلی متن کو پڑھنا ہو تو اس کی ویب سائیٹ درجہ ذیل ہے :

http://www.newyorker.com/reporting/2009/11/16/091115fa_fact_harsh?currentpage=all

پاکستانی اخباروں نے جس طرح  اس بات کو لکھا ہے اسے  پڑھ کر تو بے اختیار یہ شعر یاد آیا کہ  :

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ  :  ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

مشرف نے اپنے آخری دور میں جتنی بھی غلطیاں اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے کی ہیں اس میں سب سے بڑی غلطی  NRO  کی ہے، جس نے نہ صرف مشرف کو ذاتی طور پہ نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کو بھی ایک ایسے سنڈاس میں ڈھکیل دیا جہاں سوائے تعفن کے کچھ بھی نہیں۔

اعنانِ حکومت میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جن پہ جرائم کی فہرست مرتب ہے ، عوام حسب ِمعمول مداریوں کے ڈگڈگی پہ ناچ رہی ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ یہ  این آر او بھی امریکی دباؤ کا حصہ تھا اور جس طرح  اپنے ہی لوگوں کے قتل سے پاکستان بچتا نظر آنے لگا ویسے ہی  این آر  او سے صدارت کی مدت بھی زیادہ دکھائی دینے لگی۔جولوگ کہ باہر بیٹھ کے  ایسے پلان بناتے ہیں وہ شاید ہمارے سیاستدان اور فوجی جنرل سے زیادہ شیطان صفت ہوتے ہیں اور کسی سیاستدان یا جنرل کو یہ گمان بھی نہیں گذرتا کہ ان کے مالکان ان کی قبر خود اپنے ہی ہاتھوں کھدوا رہے ہیں۔ بحر حال مشرف کے حامیوں کا خیال ہے کہ جس طرح پاکستان میں آرڈیننس کی بیخ کنی کی جاتی ہے ویسے ہی  این آر  او  کو بھی غلط طور پہ استعمال کیا گیا اور اس کا  مقصد صرف کاغذوں میں لکھا رہ گیا۔  یہ تو اس ملک کی تاریخ ہے  بلکہ اسے سیاسی ثقافت کا حصہ سمجھیے۔ جس ملک میں آئین سے ساتھ کھلواڑ ہو ،  عدلیہ کرپٹ اور سیاسی ہو  ،  پاکستان لوٹو  کی وبا پھیلی ہوئی  ہو  ،  وہاں کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

ہمارے سیاسی ، اقتصادی اور معاشرتی تجزیہ نگار اور صاحب فکر  خواتین و حضرات منفی اور مثبت رائے پیش کرتے رہتے ہیں کہ یہ اس بات پہ منحصر ہے کہ ان کی اپنی ذہنی  اُپج کیا ہے  یا پھر وہ کس گروہ یا شخصیت کے  دلدادہ ہیں۔ یا ان میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے قلم و گویائی کو خریدا جا چکا

۲

ہے اور کس نے خریدا ہے۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ مشرف کا مقصد صرف یہ تھا کہ ساری سیاسی پارٹیوں کو یہ موقع فراہم کیا جائے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں اور اس کے نتیجے کو  قومی اور بین الاقوامی سطح پہ  منوایا جائے۔ گویا جمہوریت کے جانب یہ ایک صائب قدم تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی فوجی جنرل  سول حکومت کو بر طرف کرتا  رہا ہے  تو ہمیشہ سے یہ واویلہ مچایا جاتا رہا ہے کہ حکومت  صرف لوٹ مار  کر رہی تھی، پاکستان کا خزانہ خالی ہوچکا  تھا ، حکومت کے سارے انتظامی امور ناکارہ ہوچکے تھے اور اب ہم ایک نئے پاکستان کی  تشکیل کریں گے۔

        اور واقعہ بھی یہ ہے کہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے  یہاں تک کہ خود سول حکومت کے صدر  اور دیگر افراد  بلکہ ساتھ ساتھ عوام بھی فوجیوں کو خود  دعوت دیتی رہی ہے کہ وہ آکر انہیں ان لٹیروں سے بچائیں اور جو مسائل درپیش ہیں اس کا کوئی حل نکالیں۔ ہر سول حکومت کی برطرفی پر عوام نے سڑکوں پر لڈو باٹیں ہیں۔ اور جب کوئی فوجی حکومت نے شیروانی پہن لی یعنی سول ہوگئی تو  اس کی  برطرفی  پہ بھی  لڈو بانٹیں۔ جبھی تو لوگ کہتے ہیں جیسی پرجا ویسا ہی راجہ۔ عوام کو  یہ بات تو پتہ تھی کہ این آر  او کے تحت جو لوگ پھر حکومت میں دندنائیں گے وہ وہی  پرانے پاپی ہونگے جو کبھی جلا وطن  خود ہوئے یا کیے گئے یا جو پاکستان کے خزانے اور لوگوں کو لوٹ کر  بھی پاکستان کو مزید لوٹنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اس لیے کہ پاکستان  کو یہ اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور عوام کو اپنے مزارعے۔ تو کیا  جنرل مشرف  اتنے ہی معصوم تھے کہ یہ دیواروں پہ لکھا ہوا  نہیں پڑھ سکتے تھے۔ یہی مشرف تو تھے جو  ان ہی  لوگوں کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ  دے  ول ریٹرن آن مائی ڈیڈ باڈی ۔۔ ہم پاکستان کے  دشمنوں اور لٹیروں کو پاکستان آنے نہیں دیں گے۔ یہ ساری باتیں عوام بھولی نہی ہے۔  لیکن پھر کیا ہوا مشرف  صاحب بھی اپنی جان بچا کر پاکستان کا  خدا حافظ کہہ کر غیر ملک میں اپنی تقریروں سے ڈالر اور پاؤنڈ کماتے پھر رہے ہیں۔

پاکستان میں  جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے  وہ یہ ہے کہ در اص   Democracy در اصل   Demo – Crazy    ہے۔

Govt by the people , for the people    کے بجائے   Govt BUY the people , FAR the people  ہے۔

         کہنے کو پاکستان کی آبادی    ۲۲   ملین سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن الیکشن میں اور ووٹ ڈالنے میں سنجیدگی سے حصہ کتنے لوگ لیتے ہیں ؟  شاید ۰۳ فی صد یا زیادہ  اور اس میں بھی اکثریت بیچارے  ان لوگوں کی ہے جن کی حیثیت بھیڑ کی سی ہے ، جدھر انہیں ان کے مالکان ، وڈیرے ، جاگیردار ، تنخواہ دینے والے ہانک دیں یہ اسے ووٹ ڈال آتے ہیں۔انہیں اپنے  شب و روز کا کچھ پتہ نہیں تو یہ پاکستان کے مستقبل کا کیا سونچ سکتے ہیں۔ وہی مافیا  لارڈز  کی  حکومت بنام جمہوریت ہے۔ پاکستان پہ حکومت یا اس کے مستقبل کی  باگ ڈور صرف ایک فی صد سے کم لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کا خاندان سیاست کے کاروبار  میںہی پل رہا ہے۔ اس سے اچھی تجارت اور کیا ہوسکتی ہے ، نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے۔جو باشعور طبقہ ہے وہ ڈرائینگ روم  پالیٹکس  اور ویب سائیٹ و ٹیلی ویژن میں مگن ہے۔ اس کے پاس پاکستان کے سارے مسائل کا حل ہے جو اوور اے کپ آف کافی  بیان کرتا رہتا ہے، ٹھنڈے خوشبودار کمرے کا اپنا مزہ ہے۔ حکومتی کارندوں کو آزادی ہے کہ تعیش کی زندگی گذاریں ، سیر و سیاحت کریں ، اور اپنے بچوں کو  وراثت میں اپنی سیاسی و اخلاقی  بددیانتی  سکھا کر ہر پارٹی میں ایک لڑکا یا 

۳

لڑکی بٹھا جائیں۔ پاکستان کا مطلب کیا ؟     لا الہ الا اللہ۔۔؟  آر  یو  شیور  ؟  Are you sure  ?

یہ کہنا کہ زرداری  این آر او کی وجہ کر نہیں بلکہ بے نظیر کے قتل اور عوام کے ووٹ کی وجہ کر صدر بنے ہیں  بڑی معصومانہ دلیل ہے۔ ہاں اسے ایسا ہی کچھ دکھایا جانا تھا  اور کیا پتہ کہ یہ بھی  این آر  او  کا ہی حصہ ہو جس کا علم مشرف کو بھی نہ ہو ، کیا ضروری ہے کہ ہر بات ہر کو بتائی جائے ، مشرف بھی تو ایک مہرہ ہی تھا نہ ، اس کا فیصلہ تو ہو ہی چکا تھا کہ اسے کب ہٹانا ہے اور کیسے ہٹانا ہے۔

عاقل میاں نے ایک بات اچھی کہی کہ پاکستان میں کسی ایک وقت پاکستان کا  صدر یا پرائمنسٹر مسلمان ہوجاتا ہے اور اس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ امریکن پالیسی سے گریز کرنے لگتا ہے اور کسی اور جانب دیکھنے لگتا ہے کہ اسے اس بات کی سمجھ آنے لگتی ہے کہ اسے کیسے استعمال کیا جار ہا ہے اور پاکستان کے ساتھ مزید کیا ہونے والا ہے ۔ جب ایسا ہونے لگے  تو سمجھ لیں کہ  اس کا وقت پورا ہوچکا ہے۔  اسے ہٹانے کے لیے چاہے پھانسی دینا پڑ جائے ،  یا آم کا کریٹ رکھ کے جہاز میں اڑا دیا جائے ،  یا  پاکستان کا  خدا حافظ کہلوا کر اسے چلتا کریں۔

عاقل میاں اب رکنے والے کہاں تھے ،  کہنے لگے کہ کیا آپ نے اپنے ابتدائی دور میں وہ کہانی نہیں پڑھی جو درسی کی کتابوں میں بھی  تھا  کہ ایک دن شیطان نے کسی سے کہا کہ دیکھو  میں تو کچھ نہیں کرتا یہ انسان ہی اپنے لیے مسائل پیدا کرتا ہے، سو اس نے حلوائی کی دکان پہ اس کی کڑھائی سے ایک قطرہ شیرہ لے کر دیوار پہ لگا دیا، اس دیکھ کر ایک مکھی آبیٹھی ، مکھی کو دیکھ کر ایک چھپکلی اسے کھانے کو لپکی ،  چھپکلی کو دیکھ کر ایک بلی  اچھلی ، بلی کو دیکھ کر ایک کتے نے چھلانگ لگائی جس سے حلوائی کے گرم شیرہ  کی کڑھائی کسی گذرتے ہوئے آدمی پہ الٹ گئی  اور وہ حلوائی سے الجھ  پڑا ،  بات اتنی بڑھی کہ لوگ جمع ہوگئے اور  فریقین  بن کر  ایک  دوسرے پر حملہ کرنے لگے یہاں تک کہ قتل بھی ہوگیا۔ تو شیطان  نے کہا دیکھا میں نے تو صرف ایک قطرہ شیرہ ہی لگایا تھا۔ ایسا ہی کچھ سیاست میں بھی ہوتا  رہا ہے،  مالکان اپنے غلاموں کے لیے صرف ایک قطرہ  شیرہ ہی لگاتے ہیں۔  باقی کام ہم خود کر لیتے ہیں۔ تو کیا  این آر  او  بھی شیرہ کا  ایک قطرہ ہے  ؟  اب جبکہ دودھ کی رکھوالی کے لیے ہر جگہ بلیاں بٹھا دی گئی ہیں تو بھگتو ۔  لیکن یہ بلیاں تو نہیں  یہ تو بلے ہیں ، بلی کو تو دو  بار ہی موقع ملا  ۔ اور پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ بلی ہو یا بلا  ،  بات تو دودھ کے بچانے اور اس کی رکھوالی کی ہے۔قوم کو بہلانے کے لیے قائد اعظم  اور علامہ اقبال کے فرمودات ہیں شاعری ہے ،  بلکہ قائد عوام  و  بے نظیرکے بھی فرمودات ہیں ، روزانہ کا سیاسی بیان ہے  اور قومی نغمے ہیں ، ڈرامے ہیں، نئے نئے نعرے ہیں جلسے ہیں  ،  ٹی وی پہ ہالی اور بالی ووڈ اور پاپ کلچر ہے، کرکٹ ہے  وغیرہ  ۔ اتنا سب کچھ  تو ہے  اور کیا چاہیے؟  اگر  بجلی نہیں ،  مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے،  صاف پانی نہیں ، حفظان صحت و تعلیم  کا انتظام انتہائی ناقص ہی نہیں اکثر جگہ ناپیدہے،  رہزنی اور قتل و غارت ہے ، خوف و ہراس ہے ، کاروبار اور آپس کے معاملات  میں دھوکہ دہی ہے  تو کیا ہوا  لوگ اتنے بے صبرے کیوں ہیں ، ایک نہ ایک دن  تو یہ ٹھیک ہو ہی جائے گا ۔ پہلے تو پاکستان کو بچانا ہے۔!  پاکستان کا مظلب کیا   ؟   آخر مطلب کیا   ؟

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: