Hesham A Syed

January 18, 2010

16 Dec Pakistan aur Jarahat

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 11:29 am
Tags: ,

16 Dec Pakistan aur Jarahat : hesham syed

حشام احمد سید                               16 دسمبر  ۔  پاکستان  اور جراحت

5۶۱ دسمبر آیا اور گذر بھی گیا ، کہیں کہیں یہ بات سنائی دی کہ یہی وہ دن ہے ۱۷۹۱ کا  جب پاکستان ایک ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا  اور سقوط ڈھاکہ ہوا۔ ایسا کیوں ہوا  اور کیونکر ہوا ،۔ اور پھر اس سقوط کے بعد وہاں کے مقیم  مشرقی پاکستانیوں پہ کیا گذری اور پھر پاکستان کے دولخت ہوجانے پہ مغربی یا بچے کھچے پاکستان میں دوسرے فتنوں نے کتنا سر اٹھایا  ،  حکومتِ پاکستان کی بے حسی اور اہالیانِ حکومت کی بد دیانتی و بد نیتی و بے عقلی  کا کیا نتیجہ نکلا۔  اس پہ بے شمار اداریے اور مضامین و  مرثیے  و  نوحے لکھے جاچکے  یہان تک کہ دل و دماغ تھک چکا ہے ۔

 حمود الرحمٰن رپورٹ آج تک منظر عام پہ نہ آسکی اور یہ بات بھی مصدقہ ذرائع سے پتہ چلی کہ اس کے وہ اوراق جو اس وقت کے سیاسی ہیرو سے متعلق تھے اسے غائب کر دیا گیا ہے سو اگر یہ عام کی بھی گئی تو کس حد تک سارے واقعات کا احاطہ کرے گی یہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔ٹھیک ایسے ہی جیسے کہ پاکستان کا مستقبل صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس لیے کہ ہماری اپنی حرکتیں آج بھی  جس مستقبل کا پتہ دیتی ہیں  وہ افسوسناک ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ یہ تماشبین قوم  رنگ و سرور و رقصِ دوام کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ نکالتی ہے کہ لڈو بانٹ سکے ،  بھنگڑا ڈال سکے اور مست رہے کہ ملک تو اللہ چلا رہا ہے ، اور اب تو  اس ملک کو ہمارے جذباتی مقرروں نے اپنی بچکانہ فلسفے سے  مدینۂ پاک  سے ملا دیا۔ا ب کیا ہے یہ ملک تا قیامت محفوظ ہو گیا۔مشرقی پاکستان کے ساتھ نظریہ پاکستان  اگر ٹوٹ گیا تو ٹوٹا کرے ، ہم نے تو اسے پہلے بھی کب اپنا سمجھا تھا ، اگر بنگال کی کی کثیر آبادی نے پاکستان کے بنانے میں سب سے اہم رول ادا کیا تو کیا کریں  ،  لاکھوں جانیں اگر ختم ہوگئیں تو ہوا کریں ، نسل در نسل تباہ ہوگئی تو ہوا کرے ،  ہم ادھر اور تم ادھر کا نعرہ ہمارے لیے زیادہ اہمیت کا حاصل تھا۔ خیر اب  ۸۳ سال پہلے کی بات کو کیا دہرانا ، اس باسٹھ سالہ پاکستان  میں ۸۳ سال کے بعد بھی تو بہت کچھ ہوتا رہا  ، ہم تاریخ سے کوئی سبق تو حاصل کرتے ہی نہیں ، ایک اپنی روش ہے جس پہ ہم پچھلے ۰۰۴۱ چودہ سو سال سے نہیں تو ۰۰۸ آٹھ سو سال سے تو یقیناً قائم ہیں سو ہم کیوں بدلیں  ؟  سو  ایک بار پھر قوم کو مبارکباد یاں دی جارہی ہیں کہ ۶۱ دسمبر  ۹۰۰۲ کو عدلیہ آزاد ہوگئی اور این آر او  کو کالعدم قرار دے دیا گیا ۔ پاکستان کے خزانے سے کھربوں روپے لوٹنے والوں کے محاسبے کا وقت آگیا ،  اب یہ ملک حقیقی جمہوریت کی طرف چل پڑا ہے ۔ ایک لسٹ ہے جو جاری کر دی گئی ہے ایسے افراد کی ، یہ اور بات ہے کہ بے شمار ایسے لوگ اس لسٹ سے غائب ہیں جنہوں اس خاص این آر و سے تو فائدہ نہیں اٹھایا لیکن قوم کے خزانے لوٹنے میں اور اسے ایک بھیک منگی قوم بنانے میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔ اس میں اپوزیشن کے سرخیل بھی ہیں اور کئی تجار و صنعت کار و فوجی جنرل و بیو روکریٹس اور پسِ پردہ کنگ میکر و وڈیرے و جاگیر دار  بھی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محاسبہ ہی کرنا ہے تو یکلخت سب کا کیوں نہ کیا جائے ورنہ  یہ بات کہ یہ بھی  ایک بڑے محلے کی سازش ہے  اور عدلیہ صرف ایک سیاسی رول ادا کر رہی ہے  سچ نظر آنے لگے گا۔ ایک طرف تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اور گرفتاری کے وارنٹ کا اجرأ ہے  تو دوسری طرف خود  پارلیمانی چیف  یا وزیر اعظم یہ اعلان و تقریر کرتے پھر رہے ہیں کہ فلان اور فلان تو خود  دوسروں کو گرفتار کرتا ہے تو اسے کون گرفتار کرے گا۔ صدر صاحب کو  ایمیونیٹی حا صل ہے اور انہیں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے دوبارہ استحکام بخشا جا چکا

۲

ہے۔ گویا عدلیہ اور پارلیمنٹ  و صدارتی ادارے میں ٹھن گئی ہے۔ عدلیہ کر بھی کیا سکتی ہے ، صرف  اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے اگر حکومتی ادارے اس پہ عمل نہ کریں تو کوئی کیا کر لے گا۔حکومتی ادارے  اور انہیں استحکام بخشنے والے کیسے ایک دوسرے پہ نشتر چلا سکتے ہیں ؟  ایک حمام میں  یا آپریشن تھیٹر میںتو سب ننگے ہیں ۔ سب کے دونوں ہاتھ اپنا ہی  چھُپانے میں مصروف ہیں۔ بلیک منی ہو کہ بلیک واٹر سب کو وہائٹ بنانے کی ترکیبیں نکالی جارہی ہیں کیونکہ ان سب کا تعلق بلیک ہارٹ سے ہے اور آج کل تو ایسے بھی بلیک اِن ہے ۔  دیکھیے کہ قانونی چارہ جوئی  اور اس کے اداروں کو  اپنی سیدھی  راہ سے ہٹانے کے لیے ایسے افراد کو  حساس پوزیشن دی جارہی ہے جو لاقانونی نکتے سے قانون کو شکست دے سکیں ، ان میں وہ بھی ہیں جو خود  تو انتہائی درجہ کہ راشی ہیں لیکن ٹیلیویژن پہ آکر قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ چہ بو العجبی است  ؟  عوام  تو پہلے ہی دھوکہ دہی  اور شخصیت پرستی کی عادی ہے سو اسے بے قووف بنانا کون سا مشکل کام ہے۔ اللہ رسول کا نام لو جو ملک چاہے بنوا لو  ، جو ملک چاہے تڑوالو  ، جیسی بد انتظامی چاہے کروا لو ،  جتنا مال چاہے بہانے بہانے سے لوٹ لو ۔ رشوت ، عیش پرستی ، سفارش  کو اپنا حق سمجھو  اور پاکستان کو اپنی جاگیر کہ جس دام چاہے  اسے بین الاقوامی منڈی میں بیچ ڈالو۔ سودہ  چاہے قوم کے تشخص کا ہو ، ضمیر کا ہو  یا اس کی ثقافت و تہذیب و نظریات کا  اگر چند سو افراد کے اکاؤنٹ بھر رہے ہیں تو کیا حرج ہے ؟ پاکستان تو بنا ہی یہ چند سو یا ہزار افراد کے لیے ہے۔ عوام اپنی بھوکی ننگی تقدیر کے ساتھ روز ایک نئے بہلاوے کے ساتھ بہلتی ہے روز ایک نئی امید  کے غلقند کا تماشہ دیکھ کر خوش ہوتی رہتی ہے۔ قوم کے ساتھ ظلم  و چوری  و ڈکیتی  کرنے والوں کو ایمیونیٹی کیسے فراہم کی جا سکتی ہے چاہے وہ کسی بھی پوزیشن پہ بیٹھے ہوں۔ اگر ملک میں قانون کے ساتھ کھلواڑ ہی ہونا ہے اور ابھی بھی عدلیہ کے فیصلے  ایسے ہی کسی طاق پہ  رکھنے کے لیے دیے جارہے ہیں جیسے کہ ان چند سو پاکستان کے حقیقی دشمنوں نے قرآن کو سجا دیا ہے تو اس کا فائدہ ہی کیا ہے۔ کیا  پاکستان کا  آئین اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی کہ حضور ؐ نے یہ کہا کہ تم  سے پہلے کی  قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ قانونی سزائیں صرف  پس ماندہ و پسے ہوئے طبقے پہ لاگو ہوتی تھیں اور اس قوم و قبیلے کے صاحب ثروت افراد قانون سے بالیٰ تر گردانے جاتے تھے،  اگر چوری میں حضرت فاطمہ ؓ  بھی شامل ہوں تو میں ان کا ہاتھ کٹوا دوں۔ کیا یہ چند سو لیڈر اس بات سے بھی بے بہرہ  ہیں کہ حضرت عمر  ؓ  کو مالِ غنیمت میں بٹی ہوئی ایک چادر  زیادہ کا بھی حساب سرِ عام  ایک عام بدوی کو دینا پڑا  اور  اس بات کا کوئی برا نہیں منایا بلکہ اس کی ہمت افزائی کی ۔ ان مثالوں کی موجودگی میں کیسے  اس ملک کا کوئی صدر عوام کے پیسے  کے قرض کو یکلخت معاف کر سکتا ہے۔ قرض کے کثیر  رقوم کو معاف کروانے کا کھیل جنرل ضیاالحق سے شروع ہوا اور  بعد کے آنے والوں نے بھی یہ ترکیب لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے کے لیے استعمال کیا  ۔ اس کرسی پہ بیٹھ کر لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ امانت اور دیانت کی ہی سیاست اسلامی سیاست ہے۔ اور کیا قائد اعظم نے یہ بات نہیں کہی تھی کہ پاکستان کا آئین قرآن یعنی اسلام ہوگا۔  اور اگر یہ بات قائد اعظم نے نہ بھی کہی ہوتی تو بھی یہی ہونا چاہیے ۔  معاشر تی و اقتصادی بے انصافی  اور اخلاقی گراوٹ و بدحالی  ہی قوم کو تباہ کر دیتی ہے یہان تک کہ اس کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ صرف  مزاروں پہ چادر  چڑھانے ، مسجدِ ضرار بنانے،  رشوت اور غیر قانونی و غیر اخلاقی طور پہ کمائی ہوئی دولت  سے حج کرنے ،  سیاسی یا حکومتی

۳

پوزیشن کی وجہ کر کعبۃ اللہ کے اندر جا کے عبادت کرنے  یا  حرام کی دولت سے خیراتی ادارے بنانے،  رسول  ؐ اہل بیت اطہار  ؓ  ، صحابہ کرام  ؓ کا  ذکر کرنے ، نعت گوئی ،  مرثیہ خوانی ،  یا مگر مچھ کے آنسو بہانے  سے کام نہیں نکلے گا۔ اپنے عمل کا  حساب تو دینا ہی پڑے گا ،  اگر یہاں نہیں تو وہاں ۔ اور تم سے ہر اک نعمت کا سوال کیا جائے گا  یوم الدین میں ( قرآن ) ۔ محل و رئیسانہ گھر چاہے کوئی کتنے  ہی بنوالے بالآخر تو اس کے مقدر میں مٹی کی چھ یا سات فٹ کی قبر ہی ہے جہاں سے اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوگا  اور وہاں کو ئی دھوکہ دہی ،  قرآن کی جھوٹی  اور غلط سلط تفسیریں ،  متکبر ممبر و عمامے  ،  بد دیانت  صدارت و وزارت ،  جالی  پیری مریدی ،   لوگوں کے حقوق پہ قابض ہو کر جاگیر داری و ریاست  ،  شہید ہونے کا سیاسی سر ٹیفیکیٹ  یا سیاسی فتویٰ  اور  قول و عمل کی دورخی کام نہ آئے گی بلکہ یہ سب  ابدی زندگی کے لیے  عذاب بن جائیں گے ۔ بات بڑی سادہ ہے اگر سمجھ میں آجائے  اور لطف یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کس کا وقت کس لمحہ آجائے کہ اپنی اصلاح کا موقع ہی نصیب نہ ہو اور  اللہ کی عدالت میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں جہاں کہ کوئی گواہ دوسرا نہیں ہوگا بلکہ خود آدمی کا ہر عضو اس کے خلاف گواہی دے گا۔

روشن تو وہ ہوتی ہے ، جہاں بیں نہیں ہوتی

جس آنکھ کے پردوں میں نہیں ہے نگہ پاک

پاستان کے  دشمنوں میں میں صرف  بلیک واٹر ،  بلیک  ٹربن ( کالی پگڑی والے  ایجنٹ ) ، RAW  ہی نہیں ہیں بلکہ  اس کے اصل دشمن تو خود پاکستان کی نبض پہ ہاتھ رکھے پاکستانی  بیٹھے ہیں۔  جنہوں نے  بیس کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔  اسوقت پاکستان  میں  جو  چند سو  بے غیرت اور دشمن ِ قوم خاندان و  حکومتی یا سیاسی کارندے  جونک یا جراثیم  کی طرح پاکستان کے بدن سے چمٹے ہوئے ہیں،   ۔ اس کا علاج جراحت اور صرف جراحت ہے۔ دعائیں مانگی جا چکیں ، دوائیں کی جا چکیں ، کالم  و  مضامین  و  مرثیے  لکھے جاچکے،  ٹی وی  ٹاک شو پہ  اپنی دکانیں چمکائی جا چکیں  ۔ اگر ابھی بھی  ان  جراثیموں سے سڑے ہوئے بساند  حصے کو کاٹ کے  الگ نہیں کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب ان کے خنجر جو یہ پاکستان  کے گلے پر پھیر رہے ہیں بالاآخر اس ملک و قوم کی شہ رگ کو کاٹ کے اس کا ہی  قصہ تمام کر دیں۔العیاذ باللہ۔

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: