Hesham A Syed

January 18, 2010

Ghaibi IsharoaN aur JantarioN ka Pakistan

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 6:06 am
Tags: ,

Ghaibi IsharoaN aur JantarioN ka Pakistan ; Hesham Syed

حشام احمد سید                              غیبی اشارے اور جنتریوں کا پاکستان

ُُٓپاکستان کی تحریک اور اس کے بننے کے بعد  اپنی بد اعمالیوں کی وجہ کر جو کچھ ہوتا رہا  اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مایوسیاں اتنی بڑھ گئیں ہیں کہ لوگ اب دست شناسوں ، جنتریوں ، نجومیوں ، روحانی عاملوں ، خواب دیکھنے والوں اور تعبیر بتانے والوں، پیروں، درگاہوں ، قبور کے مجاوروں ، چلہ کشوں  اور کشف و کرامات کا پرچار کرنے والوں کی طرف صرف اپنے ہی مستقبل کے لیے نہیں بلکہ خود پاکستان کے مستقبل کے لیے رجوع کرنے لگے ہیں۔ اور جنہیں ان سارے اداروں کی  باتوں اور غیبی اشاروں  سے تشفی نہیں ہوتی وہ کسی اور ملک کی شہریت کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی نسل کو  تو بچا لیں پاکستان کا کیا پتہ ؟  اللہ رحم فرمائے کم سے کم ان کے حال پر جو اپنی نسل در نسل کو اس ملک کے بنانے  اور اسے استحکام بخشنے میں کٹوا   اور گنوا  بیٹھے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو بالآخر ہتھیاروں کی منڈی ہی بننا تھا  یا اقوامِ غیر کا دستِ راس ۔!

 یہ معاملہ شروع سے پاکستان کے ساتھ ہوتا رہا  ہے ۔ اس ملک کو علامہ اقبال کا خواب کے علاوہ کبھی مدینہ پاک سے ملایا جاتا ہے ، کبھی  محمد علی جناح کے خواب کا پرچار کیا جاتا ہے جس میں خود حضورؐ ان کے گھر انگلینڈ میں تشریف لا کر انہیں پاکستان بنانے کو کہتے ہیں۔ یہ مکالمہ انگریزی میں ہوتا ہے کہ جناح صاحب یہی زبان صاف سمجھتے تھے ، کبھی کوئی بذرگ خواب میں جناح صاحب کو  حضورؐ کا مجاہد  دیکھتے ہیں، کبھی جنتریاں کھینچ کر کوئی  پاکستان کو شبِ قدر کا تحفہ بتاتا ہے ،  اور جناح  صاحب کی اپنی پیدائیش و وفات اور ان کے بچی کی پیدائیش کو بھی اشارہ ٔ  غیبی بتاتا ہے ( ایک ہی بچی جو آتش پرستوں کے درمیان پلتی بڑھتی ہے اور غیر مسلم ہی رہتی ہے اور جس سے  جناح صاحب نے سسرالی چپقلش کی وجہ کر ملنا بھی گوارہ نہیں کیا سو جناح صاحب کی اپنی ذاتی نسل ہی مسلمان نہیں اور آج سارے ہندوستان کے ہی غیر مسلم شہری ہیں  )،کبھی کوئی ہندوستان سے جنگ کے دوران حضور  ؐ کو سفید گھوڑے پر سوار پاکستان کا جھنڈا لیے اس ملک کی مدد کرتے دیکھتا ہے، کبھی  یہ خبر بھی پھیلائی جاتی ہے کہ ہندوستانی ہوائی جہاز پاکستان پہ جو بم پھینکتے تھے وہ فرشتے ہواؤں میں لوک لیا کرتے تھے اور زمین پہ گرنے نہیں دیتے تھے  ( اب کون نہیں جانتا کہ جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں اس میں پاکستان کو ہی ہزیمت اٹھانی پڑی ہے ) ۔پاکستان میں بھی شہیدوں  کا ایک سلسلہ ہے کہ جاری ہے ، کون شہید ہورہا ہے اس کا فیصلہ کون کرے ؟  جو فوجیوں اور شہریوں کو مار رہے ہیں وہ انہیں کافر نہیں تو کافروں کا ساتھ دینے والا ہی سمجھ کر  اعلانِ جہاد کر کے بم سے اڑا رہے ہیں  یا غارت گری کرتے پھر رہے ہیں،  ان کے ہاتھ میں بھی اسلام کا جھنڈا ہے اور  افواج پاکستان  مغربی قوتوں کے بل بوتے پر اپنے ہی پاکستانیوں کا قتل کر رہے ہیں اور ان کی نسلوں کو  تباہ کر رہے ہیں  وہ بھی اپنے وطن کی خدمت کرنے کے مدعی ہیں اور اس راہ میں اگر مارے جارہے ہیں تو وہ بھی شہید ہو رہے ہیں،   دونوں فریق  کے پسِ پشت بظاہر غیر اسلامی قوتیں ہی بر سرِ پیکار نظر آتی ہیں اور ان بد عقلوں کو آپس میں لڑا کے اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں۔ اور  پاکستانی اگر بچ گئے  تو  روپیہ  و ڈالر و پاؤنڈ کی آمدنی اور اگر مر گئے تو جنت کی حوریں تو کہیں نہیں گئیں۔ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اس کا شور و غوغا بہت ہے لیکن خود ہی پاکستان کو دو لخت کر کے بیٹھ گئے اس کا اب احساس بھی نہیں۔ اس ملک کے مزید ٹکڑے کرنی کی سازشیں ہی نہیں ہو رہیں بلکہ اس پہ عمل بھی ہورہا ہے لیکن

۲

پاکستانی دانشور ،  لکھاری ،  ٹاک شو کے اینکر  ، مبلغ  و ذاکر  ،  یاہو  گروپ  اور ویب سائیٹ  کے  مشتعل اور منفعل  افراد،  کسے باشد

اپنے خیالی  افیم کے اثر میں ہر طرح کی شاعری کرتے پھر رہے ہیں ۔ نغمے ہیں ،  قومی ترانے ہیں ،  بھنگڑے ہیں  اور دما دم مست قلندر ہے۔  قوم مست ہے اور ناچ رہی ہے۔ دوسری طرف ایسی افیم زدہ قوم کا فائدہ اٹھا کر اندروں خانہ پاکستان میں پاکستانیوں کی شکل و شہریت لیے ہوئے ایسے سیاسی اور حکومتی کارندے ہیں جو پاکستان کو جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور ہر وہ قانون پاس کر رہے ہیں ہر وہ کاروائی کر رہے ہیں جس سے پاکستان کے خزانے کو لوٹا جا سکے، بھیک میں ملی ہوئی رقم بھکاریوں تک پہنچنے سے پہلے ہی  بڑی توند والوں کے فارن اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے ،  اس کے بدلے میں پاکستان کی حرمت ،  اس کی اپنی شناخت ، اس ملک کی آزادی سبھی کچھ داؤ پہ لگتی ہے  تو لگا کرے۔ اے شیخ اپنا اپنا دیکھ والی صورتِ حال  ہے ۔ ذخیر ہ اندوزی ہو ،  رشوت  ہو ،  سود در سود کی لعنت ہو ،  جھوٹ و مکاری ہو ،  سفارش ہو، چوری ہو ،

 بے امانتی ہو  یا بے دیانتی ہو سبھی کچھ  تو اپنے کریہہ شکل میں موجود ہے  اور اس کی بہتات ہے ۔ یہ بدحال عوام ایک اندیکھے خدا کے آگے سجدہ ریز تو ہو سکتی ہے لیکن پیٹ اور گھر بھرنے کے لیے تو جوتی کسی اور کی ہی چاٹنی پڑتی ہے ، کیا کرے شخصیت پرستی  اگر شرک کے دائرے میں بھی داخل ہوجائے تو  اس کے علاوہ کوئی  چارہ بھی تو نہیں۔ پاکستان میں رہنے کے لیے یہ مثل مشہور ہے کہ یہ نہ سوچو کہ تم کیا جانتے ہو 

( یعنی کتنا علم و ہنر رکھتے ہو  ) بلکہ یہ سوچو کہ تم کس کو جانتے ہو کہ یہی کلید ِ ترقی و خوشحالی ہے۔

گویا  کہ پاکستان میں  ۶۱ کروڑ سے زیادہ  بے حس عوام  افیم کی گولی کے لیے ہاتھ بڑھائے بیٹھی ہے اور چند سو یا ہزار افراد پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھ کر عوام کو گولی دیتے پھر رہے ہیں۔ ڈگڈگی بج رہی ہے  ۔عوام تماشہ دیکھ رہی  ہے  ، پیسہ پھینک تماشہ دیکھ۔ ہر مقرر ، ہر لیڈر ، ہر مبلغ ، ہر داعی ، ہر ناصح ، ہر رہبر ،  ہر صنعت کار ، ہر تجار ، ہر ساہوکار ، ہر بینکر ، ہر پیشہ ور اپنی دکان چمکا رہا ہے  اور عوام کو سلائے رکھنا چاہتا ہے۔ اور اب یہ قوم جاگی بھی تو کیا کر لے گی ، شائد دوبارہ سوجائے ، عادت جو پڑ گئی ہے۔

اگر خوش خیالی  کے خواب سے کوئی نکالنا چاہے کہ کھول آنکھ  زمیں دیکھ  فضا  دیکھ  تو  لوگ دوبارہ یہ کہہ کے سُلا دیتے ہیں کہ پاکستان کو اللہ چلا رہا ہے  اور  اس کی حرمت ایسی ہی ہے جیسے کہ کعبہ اللہ یا مدینہ شریف کی ہے ۔ چلیے سارے مسائل کا حل نکل آیا ۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ جانا اگر مشرق کی طرف ہے تو مغرب کی طرف مونہہ کر کے کیوں چل رہے ہیں ، کم سے کم قبلہ تو درست کر لیں پھر دیر و آہستہ روی ہی سہی منزل تک پہنچ ہی جائیں گے لیکن اگر چل ہی الٹی طرف رہے ہیں تو پھر تو دنیا  اگر گول ہے تو  مونہہ موڑتے موڑتے  زمیں کی پوری گولائی کا چکر لگانا پڑے گا ۔ اسوقت تو بہت دیر ہوچکی ہوگی اور ہر بار دیر آئد درست آئد  والی مثال سہی نہیں ہوتی۔ اگر ہم ابھی بھی بچے کھچے پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو  ہمیں خوشنما  خواب و جنتریوں کے پاکستان سے نکلنا ہوگا اور ان سخت  راہوں پہ چلنا ہوگا  جس پہ چل کر قومیں تابناکیوں سے ہمکنار ہوتیں ہیں۔ صرف چادر اوڑھ کر  حضور  ؐ کو پاکستان کے بارے میں فکر مند دیکھنے سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہونگے  ، کچھ فکر ہمیں بھی پاکستان کی کرنی ہوگی اور کچھ عمل کرنا ہوگا ۔ حضور ؐ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین  نے اپنے گھروں میں خیموں میں اور مسجدوں میں صرف چادر

۳

اوڑھ کے خواب نہیں بُنے  ، گریہ و زاری نہیں کی ، تعویذ نہیں بانٹے ،  قبور پہ چادریں نہیں چڑھائیں ،  پھونکوں سے سارا علاج نہیں کیا ، جنتریاں

بنا کے نہیں بانٹیں ، بلکہ زندگی کے ہر میدان میں اور رزم حق و باطل میں دادِ شجاعت دی ہے۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں گذرا جس میں روشن خیالی کی نمود نہ ہو رہی ہو  ، عزائم سینوں میں بیدار نہ ہو رہے ہوں ۔میدان ِ کارزارمیںاپنے جوہر نہ دکھا رہے ہوں۔

لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے صرف پاکستان ہی نہیں بنایا ہے بلکہ ساری دنیا بنائی ہے ساری کائینات بنائی ہے۔ ایک نظام بنایا ہے۔ اگر ہم اس نظام پہ کاربند نہیں ہونگے تو ہم تباہ ہوجائیں گے جیسے کہ ہو رہے ہیں ۔ جو  قومیں اللہ کے کسی بھی نظام پہ عمل کر رہی ہیں اور  ماحولیاتی قوتوں کا فائدہ اٹھا رہی ہیں وہ دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔ شائد یہ بات بھی  لوگوں  کے علم میں ہو کہ غزوۂ  اُحد میں حضور ؐ  کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں کو ہزیمت  اٹھانی پڑی یہاں تک کہ خود حضور  ؐ بھی زخمی ہوئے کہ جن تیر اندازوں کو حضور ؐ نے جس مقام پہ نگراں مقرر کیا تھا  وہ اپنی جگہ چھوڑ کر مالِ غنیمت لوٹنے لگے اور اس کا فائدہ خالد بن ولید نے اٹھایا اور مسلمانوں کہ لشکر میں بھگڈر مچا دی ۔ اگر غیبی اشارہ ہی سمجھنا ہے تو اس واقعہ سے سمجھیں کہ قدرت کیا چاہتی ہے۔صرف یہ کہنا کہ پاکستان کا کچھ نہیں بگڑے گا اور دعا کریں کہ اللہ  پاکستان کو قائم رکھے وہی پاکستان کا محافظ ہے۔ تو کیا یہ بھی نظر نہیں آتا کہ پاکستان کا خود پاکستانی  اب تک کیا بگاڑ چکے ہیں ۔  جب ہند کے مسلمانوں نے یہ ملک بنانا چاہا تو ملک بنا ڈالا ۔ جب  اس ملک کو خود ہی توڑنا اور کھوکھلا کرنا چاہا  تو وہی کچھ ہوا۔ سو یہ بات تو اپنی نیت و عمل کا ہے جیسا  جو بھی عمل کرے گا اس کا نتیجہ ویسا ہی پائے گا جو کہ عین دینِ فطرت ہے۔ جو قومیں اپنی راہ سے ہٹ جاتی ہیں یا اپنا قبلہ درست نہیں رکھتیں وہ  مٹ جاتی ہیں ۔ انسانی تاریخ میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے، اللہ کے لیے کیا مشکل ہے کہ کوئی دوسری قوم کو پیدا فرمادے۔ آزمائیشوں کے بعد ہی کامیابی ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ برائی کرتے ہی چلے جائیں اور  اچھے کَل  یا مستقبل کی اُمید رکھیں۔آزمائیش سے مراد صبر و جہاد ہے  برائی کا ساتھ دینا  یا اس سے ہمدردی نہیں اور نہ اس کا کوئی جواز تلاش کرنے میں ہے۔ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الاللہ۔

نہ ستارے میں ہے ، نے گردش افلاک میں ہے

تیری  تقدیر  مرے نالۂ  بے باک  میں ہے

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: