Hesham A Syed

January 18, 2010

Watan faroashi aur Deen sey dushmani koyee jurm naheeN

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 6:01 am
Tags: , ,

Watan faroashi aur Deen sey dushmani koyee jurm naheeN ; kuch nasar meiN aur kuch nazm meiN : hesham syed

حشام احمد سید

وطن فروشی اور دین سے دشمنی کوئی جرم نہیں  !!

( کچھ  نثر میں اور کچھ نظم میں )

آپ حیرت میں ہیں کہ میں نے  یہ کیسا عنوان منتخب کیا ہے ؟  عنوان کی سچائی یہ ہے کہ  قوم نے ایسے ہی افراد  کا انتخاب کیا ہے جو انہیں ایسے تاریک گڑھے میں ڈالدیں جس کی تہہ سے سورج کی ایک کرن بھی نظر نہ آئے۔ اجی صاحب کیا یہی کچھ پاکستان کے حوالے سے نہیں ہورہا ہے ؟  دوسرے اسلامی مملکتوں میں بھی اگر یہی کچھ ہے تو ہوا کرے ہمیں تو اس وقت اس ملک سے غرض ہے جس سے ہماری اپنی شناخت وابستہ ہے۔ دو دن قبل ٹی وی پہ جو  این  آر  او  کے حوالے سے  اعنانِ حکومت اور کلیدی عہدوں پہ بیٹھے ہوئے  ملک کے  دشمنوں ، ڈاکووؤں اور چوروں کی  فہرست دکھائی اور سنائی گئی ( ہر چند کہ یہ فہرست بھی نامکمل ہے اور ابھی اور بھی  بے پردہ نشینوں کے نام پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے )  اور پھرمختلف  ٹاک شو میں مزید تفصیلات کا علم ہوا تو  بڑھے ہوئے بلڈ پریشر کے لیے دوائی کھانا پڑ گیا۔ اب تو بات اربوں روپے کی نہیں رہی بلکہ کھربوں روپے کے لوٹ کی ہو رہی ہے۔ یہ کام  این آر  او  سے پہلے بھی پاکستان کے بننے کے چند سالوں کے بعد سے  ہی ہورہا تھا  اور این آر او کا اعجاز یہ ہے کہ انہی لٹیروں کو ایک مافیا  ڈیموکریٹک پروسس  کے راستے اقتدار اعلیٰ اور کلیدی عہدوں پہ پھر سے  بٹھادیا گیا ہے کہ جو آج ہے وہ کل نہیں سو لوٹ لو اس ملک کو  اس قوم کو ، قتل و غارت خوف و ہراس و مہنگائی اور زندگی کے مسائل کو اتنا پھیلا دو کہ بائیس کروڑ عوام  حواس باختہ رہیں اور انہیں سوائے اپنی روز کی روٹی سے زیادہ سوچنے کی فرصت نہ ملے۔وقتا ً  فوقتاً ملک کی اپنی بقا کو بھی اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی سے مشکوک بنائے رکھو۔ لوگوں کے لیے زندگی اتنی تنگ کر دو کہ سوائے کشکول گدائی کے کوئی چارہ نہ رہے۔ لیکن جو پیلے اور براؤن یا کالے حاکم ہیں وہ اپنے گورے حاکموں کے سامنے  سجدہ ریز رہیں۔ سامراج برطانیہ سے نکلے  تو کیا ہوا امریکہ کی گود  ان سامراجی ایجنٹوں اور ان کے خاندان کو  اس سے زیادہ راس آرہی ہے۔ اس لیے کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت  باہر کے بینک میں محفوظ ہیں جن سے ان کی نسل در نسل اپنی ساری عیاشیوں کے ساتھ پل سکتی ہے ،  ان کے بڑے بڑے ایر کنڈشنڈ بنگلوز  میں ہر طرح کی عیاشی کا سامان موجود ہے،  ان کے پاس دنیا کی قیمتی گاڑیاں موجود ہیں ، ان کا علاج ملک سے باہر قیمتی ہاسپٹل میں ہوتا ہے ، ان کے بچے سامراجی حکومتوں کے طفیل ملک سے باہر پل رہے ہیں اور  ان کی تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک اور قوم کو دھوکہ دینے کی نئی نئی ترکیبیں سیکھ کر اس ملک میں واپس آکر  اسے مزید لوٹنا چاہتے ہیں ،  اس ملک کی زمین پہ اپنے حکومتی عہدوں کا فائدہ اٹھا کر ہزاروں مربعے  پائی کے داموں ہتھیا لیے ہیں جسکی قیمت شاید کئی ہزار گنا ہو چکی ہے،  ان لوگوں کے ذاتی کاموں کے لیے بھی ہوائی جہاز اور بے شمار حکومتی سہولیتیں مفت دستیاب ہیں، اور یہ سب  عیاشیاں عوام کے پیسوں پہ ہو رہا ہے، قوم روز بروز  معاشی بد حالی کا شکار ہو رہی ہے لیکن یہ چند سو کسی اور ہی دنیا میں دادِ عیش دے رہے ہیں ، کبھی کبھی یہ ٹی وی پر آکر  یا اخباروں میں مگر مچھ کے آنسو بہا کر عوام کو مزید گمراہ کرتے ہیں کہ یہی تو وہ ہتھیار ہے جس سے وہ معصومین میں شمار ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے مظلوم خود  ظالم کا ساتھ دے تو اس بڑا ظالم یا ظلم  اور کون  و کیا  ہو سکتا ہے؟

  لطف یہ کہ بائیس کروڑ عوام بے حس بنی ہوئی صرف چند سو یا ایک آدھ ہزار لوگوں کی دست  راس ہے اور اپنے لٹنے  و تباہ و بربادی و اپنی ذلت و رسوائی و عصمت وری کا  تماشہ شب و روز دیکھ رہی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام ایسے لوگوں یا حکمرانوں کو نوچ کے پھینک دیتی ، وطن فروشوں اور دشمن دین کو چوراہے پہ لٹکا دیا جاتا اور ان سب کو ایسی عبرت ناک سزائیں دی جاتیں کہ ان کی نسلیں بھی یہ نہ بھول پاتیں لیکن  بے حسی زندہ باد ، بکی ہوئی عدلیہ پائیندہ باد ، ہماری نسل در نسل کی غلامانہ ذہنیت  رخشندہ باد  ۔ لوگ پوچھتے ہیں پاکستان کا کیا ہوگا ، میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی اُمید نہیں ہے  تا وقتیکہ یہ قوم آزاد  نہ  ہو سامراجی قوتوں کے اثرات اور ان کے اندروں خانہ ایجنٹوں سے،  مادیت پرستی کی تاریکی سے  ،  تاکہ معاشرے میں معاشرتی اور اقتصادی انصاف مستحکم ہوجائے ۔ اور یہی ایک راستہ ہے سوائے اس کے ہر راستہ صرف چند قدم کے چلنے کا ہے جو آگے جاکر کسی نہ کسی  دلدل میں جا گرتا ہے۔ یہ سوال اب بھی ذہن میں تازہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا  ؟ جواب ہے لیکن اس پہ کسی کو یقین نہیں تبھی تو  اس پہ عمل نہیں ہوتا۔صرف یہ کہدینا کہ پاکستان ایک جنون ہے ،  ایک عشق ہے اور اس جنون میں لاکھوں آدمیوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا ہے  ایک شاعرانہ تعلّی ہے ۔ یہ ساری جانیں اس لیے نہیں گئیں کہ لوگ پاکستان کو ایک جنت کے حصول کی خود کشی سمجھتے تھے بلکہ اس لیے گئیں کہ ہمارے لیڈروں نے انہیں گمراہ کیا اور نسل در نسل کی عصمت وری و قتل و غارت ایک عذاب بن کر ان پر مسلط ہوگیا۔ جان دینے والوں کو  تو اس کا تصور بھی نہیں تھا کہ وہ  اس بہیمانہ طور پہ قتل کیے جائینگے اور ان کی نسلیں بھی تباہ و برباد ہو جائینگی ۔ خواب لوگ اچھا ہی دیکھنا چاہتے ہیں اور آنے والے کل کو آج سے اچھا  دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جو لوگ تباہ و برباد ہوگئے یا جو آج تک ہو رہے ہیں ان کے لیے اس خواب کی تعبیر بڑی بھیانک نکلی۔ اگر یہ جنون اور عشق ہوتا تو جس طرح پاکستان کو پاکستانیوں نے خود تباہ و برباد کیا ہے ، یہ نہ ہوتا  ! تو کیا صرف یہ جنون و عشق صرف ان کے نام سے منسوب ہے جو بیچارے معصوم یا بغیر اس بات کے علم کے مارے گئے اور جو زندہ درگور ہوگئے ،  ان کا کیا کہیں جو پاکستانی ہو کر بھی قاتلوں کے گروہ میں اور پاکستان کو لوٹنے اور تباہ و برباد کرنے والوں میں ہیں۔؟

اسی کیفیت میں ایک نظم ہوئی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اگلے صفحے پر۔     زنّاری کے بعد۔ مزید کیا لکھا جائے  ؟  کون سی بات ہے جو اب طشت ازبام نہیں

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: