Hesham A Syed

January 20, 2010

Moajazah e Akbar

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:41 am
Tags: ,

Moajazah e Akbar : Hesham Syed

حشام احمد سید                                        معجزۂ   اکبر

ابکے عمرہ کے بعد  مدینہ پہنچا تو روضۂ  رسول ؐ  پہ چند  خیالات نے سارے وقت مجھے مخمور کیے  رکھا، مراقبے میں یا  چشم تصور میں حضور  ؐ  کی  سیرت اور اس سے متعلقہ تاریخ  ایک فلم کے مانند چلتی رہی۔ انؐ کے معجزات ایک ایک کر کے نظروں کے سامنے پھرنے لگے۔ ہاں معجزاتِ رسول ؐ  کا بھلا کون انکار کر سکتا ہے سوائے چند ایسے گروہ کے جو بہ ظاہر تو مسلمان ہیں لیکن بہ باطن ان کے اندر حُبِّ رسولؐ  کی وہ رمق نہیں جو ایمانیات کی اصل ہے اور ایک مومن سے متقاضی ہے۔افسوس صد افسوس کہ مسلمانوں میں بھی ایسے گروہ نکلتے رہے ہیں جو  حقیقتِ محمدی سے نا آشنا ہیں اور اللہ کے نذدیک اُنؐ کے درجات سے نابلدہیں۔ حضور  ؐ کی ذاتِ مبارک اور ان کی صفات کا احاطہ بھلا اس دنیا میں کون کر سکتا ہے ، اُن کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ  محمد  ؐ  کو  تو صرف خدا جانتا ہے ،  زمانہ بھلا اُنؐ  کو کیا جانتا ہے  ؟  ایسے صاحبِ قال اور صاحبِ عقل کے لیے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ  ؛   گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دلِ وجود   :  گاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں۔

لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی کتنا بھی پڑھا لکھا ہو  جبکہ  حضور ؐ  جنہیں خود اللہ نے تعلیم دی ہو  اور علم کے سارے پردے اٹھا دیے ہوں  چاہے وہ عالمِ غیب کے ہوں یا ظاہر ہوں تو اُنؐ کے مقابلے میں تو نرا جاہل ہی ہوتا ہے ۔ بڑے سے بڑا فلسفی یا مدبر حضور ؐ کے سامنے  تو ایک بونا ہی ہے۔حضورؐ  کے علاوہ  بھلا کون ایسا صادق و امین ہو سکتا ہے جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ قیامت تک کے باتیں مجھے ایسے دکھلا دی گئیں جیسے کہ میں اپنی ہتھیلی کو دیکھتا ہوں۔ایسی ہستی پہ زبان دراز کرنا  جو بعد از خدا بزرگ توئی ہو گستاخی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔لیجیے صاحب اب اس مصرعہ پر بھی اعتراض ہونے لگا ،  ظاہر ہے کہ یہ کوئی اللہ سے موازنہ نہیں کہ اللہ کا تو کوئی مثل ہے ہی نہیں اور بھلا مخلوق کا  خالق سے کیا تقابلہ ، لیکن عقل ٹیڑھی ہو تو ہر بات پہ اعتراض ، ہر طرح کے نکتے نکل آتے ہیں حضور ؐ کی تنکیر کے۔ کچھ ایسے نام لیوا موحد یا اہل قران پیدا ہو گئے ہیں جو ہر بات میں کھینچ تان کے شرک کا پہلو تلاش کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ خود  حضور ؐ جو کہ سب سے بڑے موحد ہیں ، عبد اللہ ہیں انہیں بھی بار بار اللہ کے مقابلے میں کھڑا کر کے خود گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں  اللہ کے حضور بھی اور  رسول اللہ ؐ کے بارے میں بھی ۔ اللہ تبارک تعالیٰ ساری کائینات کا خالق ہے جو ہمارے علم میں ہے اور جو نہیں بھی ہے ،  یہ دنیا بھی اسی خالق واحد و کل کی  پیدا کردہ ہے سو کوئی اگر اللہ کے علاوہ کسی اور کو اپنا ملجا یا ماوہ مانتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے تو اس سے اللہ کا کیا نقصان ہوگا ، اگر ہوگا تو اس شخص کا اپنا نقصان ہوگا ، اللہ تبارک تعالیٰ کی قدرت و صفات کو آدمی اپنی محدود عقل و بصارت اور تحمل و برداشت کے ترازو میں تولتا ہے تو نری جاہلیت ہے،  اللہ نے اگر ہدائیت  کا سلسلہ  بہ شکل  نبی و رسول جاری کیا ہے تو وہ اس لیے کہ انسان اپنی انسانیت کے جامع میں رہے اور اس کے ذمے جو کام اس دنیا میں سونپا گیا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جو  ذمہ داری اسے آخرت میں سونپی جانی ہے اس کی تیاری کرے۔ اگر سارے انس و جن ہی ابلیسیت کے جامے میں ، ابولہب و ابو جہل بن جائیں  یا محبانِ الہی میں  ابو بکر  ؓ و عمر ؓ و عثمان ؓ و  علی ؓ  بن جائیں تو اللہ کی حیثیت میں کیا فرق آسکتا ہے۔ وہ تو بلا شرکت ساری کائینات کا خود خالق و مالک ہے۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو نماز میں درود و سلام ابراہیمی کو بھی  اور ایسی آیات جن میں حضور کا نام

۲

آجائے یا تخاطب آجائے اسے شرک گردانتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو  پھر خود  حضور ؐ  اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین سبھی اس شرک کا ارتکاب کرتے رہے استغفراللہ ثم استغفراللہ۔ کیا  ایسے لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ ابلیس سب سے بڑا موحد تھا اپنے زمانے میں اور وہ تو اللہ سے ہمکلام بھی ہوتا تھا اور دیکھتا بھی تھا جبکہ ہما شما کو ظاہری آنکھ سے اللہ نظر بھی نہیں آتا ،  تو پھر وہ کیوں راندۂ درگاہ ہوا ،  اسی لیے نہ کہ اللہ کو جاننا اور اللہ کو ماننے میں فرق ہے۔ اگر اللہ کے حکم سے سرتابی ہو تو وہ مقبولِ درگاہ نہیں ہوسکتا چاہے وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا موحد ہی کیوں نہ سمجھے۔اگر اللہ کا یہی حکم ہے کہ  رسول کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے اور اُن کی محبت ہی حاصل ایمان ہے  تو کیا چیز آڑے آرہی ہے سوائے  ابلیسی یا شیطانی وسوسے کے۔

          اَلحمد لااللہ کہ محبانِ رسول ؐ  کی بھی کمی نہیں اور حضور ؐ سے اپنی عارضی و جسمانی زندگی میں جو بھی معجزات سرزد ہوئے یا اُن سے وابستہ ہیں انہیں رقم کر لیا ہے تاکہ نسل در نسل یہ علم بھی پھیلتا رہے۔ سب سے پہلے مختصراً  یہ سمجھ لینا چاہیے کہ معجزات یا کرامات کیا ہوتے ہیں ؟ ہر وہ چیز جو فطرت کے عام رویے سے ہٹ کر وقوع پذیر ہوتی ہے اور جس کی سمجھ ہمیں نہیں آتی وہ معجزات یا کرامات کی قبیل میں آتیں ہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ معجزات صرف نبی و رسول کو عطا ہوتے ہےں لیکن کرامات کا ظہور اولیا کرام یعنی کسی بھی  محبوبان الہی سے ہو سکتا ہے باذن اللہ اور یہ جو کچھ کہ کسی بھی انسان ، ولی یا نبی و رسول کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوتا ہے اس کی توفیق و صلاحیت و انتظام اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔  یہ بظاہر خارِق  عادت  یا محیر العقول تو ہوتے ہیں لیکن معجزہ یا کرامت کوئی جادو یا سِحر  نہیں ہوتا  بلکہ اس کرشمہ کا صدور ایک حقیقت ہوتی ہے۔کوئی معجزاتی یا کراماتی واقعہ لمحاتی بھی ہوسکتا ہے اور ایک سلسلہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس پہ وقت کی قید صرف اللہ ہی کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ نے اپنی حکمت کے مطابق سارے ہی اولولعزم پیغمبروں کو کوئی کوئی نہ کوئی معجزہ عطا فرمایا ہے یا ایک ہی پیغمبر کو کئی معجزے عطا فرمائے ہیں اور یہ بات سند کو پہنچی ہے کہ حضور ؐ کے ہاتھوں ہر نبی کے معجزے  یا اس کے مثل کا صدورہوا۔ انکارِ معجزاتِ رسولؐ  کی وبا جو چل نکلی ہے اس سے اللہ ہی پناہ دے۔

اور میں یہ کہتا ہوں کہ  :

اگر حضور ؐ کی پیدائیش سے قبل ابرہہ کو شکست فاش نہ بھی ہوئی ہوتی اور ہاتھیوں کا لشکر بھوسہ کی طرح چور نہ بھی ہوتا ،  جنوں اور کاہنوں کے لیے آسمان نہ بھی بند کیے جاتے،  حضرت آمنہؓ نے پیدائیش کے اوائل دنوں میں نور کو اپنے  بطن میں اترتے نہ بھی دیکھا ہوتا ،  پیدائیش  پہ  قیصر و کسریٰ کے کنگرے نہ بھی گرتے ،  بچپنے میں  راہ چلتے شجر و ہجر  کے حضور ؐ کو  سجدہ کرنے کا مشاہدہ  ابو طالب ؒ نے نہ بھی کیا ہوتا  ،  دائی حلیمہ ؒ کے وافر دودھ نہ اتر آیا ہوتا کہ وہ حضور ؐ کے ساتھ اپنے اپنی بچی کو بھی سیراب کر سکیں،  شقِ صدر کا واقعہ بھی نہ ہوا ہوتا ،  مریضوں کو ان کے ہاتھوں شفا نہ بھی ہوئی ہوتی  ،  مردوں کو دوبارہ زندہ نہ بھی کیا ہوتا ،  جسم کا سایہ اگر موجود  بھی  ہوتا  ،  پسینہ و بول و براز سے کستوری کی خوشبو نہ بھی آتی ہوتی ،  انگلیوں  کے درمیان پانی کا چشمہ نہ بھی ابلتا  جو سینکڑوں کو ایک وقت میں سیراب کردے  ، کھانے میں اپنے ہاتھ کو ڈال کے اتنا بابرکت نہ بھی بنایا ہوتا کہ اسی چھوٹے سے  برتن سے سینکڑوں آدمی سیر ہوجائیں اور پھر بھی کھانا بچ رہے،  لعابِ  دہن سے کھارے پانی کے

۳

کنویں میٹھے میں نہ بھی بدلتے ،  لعابِ دہن سے حضرت علی ؓ کے آشوبِ چشم کو ،  غارِ ثور میں ابو بکر ؓ کے سانپ کے کاٹے  کو  اور دیگر صحابہ کے

k

مختلف امراض  کا علاج  نہ بھی کیا ہوتا  ، سنگریزے ان کے ہاتھوں پہ بہ آواز بلند تسبیح نہ بھی پڑھتے ،  دعاؤں سے عذابِ قبر میں تخفیف نہ بھی کیا ہوتا  ،  قبر میں اتارتے ہوئے  چند ایک کو  آگ سے بچانے کے لیے  اپنی قمیض نہ بھی پہنائی ہوتی ،  اپنی تراشیدہ زلفوں  اور ناخن کو اپنے صحابہ میں  برکت کے لیے تقسیم نہ بھی فرماتے ،  بھوک کی حالت میں شکم پہ پتھر باندھے ہوئے  پھاوڑے سے جنگ خندق کے دوران ایک  چٹان کے کئی ٹکڑے کر دینا  اور اس کے چنگاری  و شعلے میں قیصر و کسریٰ کے محل دکھائی دینا  و فتح و کامیابی کی بشارت  نہ بھی دی ہوتی ،  چاند کو دو ٹکڑے کر کے دوبارہ  اسے جمع  نہ بھی کیا ہوتا  ، چشم ِزدن میں جسمانی حالت میں کعبۃ اللہ مکہ سے فلسطین مسجد اقصیٰ جاکر سارے انبیأ کی امامت نہ بھی کرتے ،  اور آسمانوں کی سیر اور سدرۃلمنتہیٰ  سے آگے اللہ سبحان تعالیٰ سے ملاقات کرکے نہ بھی لوٹ آئے ہوتے،   غزوہ سے  واپسی پر عصر کے وقت حضرت علی ؓ کے زانو پہ سر رکھے ہوئے ڈوبتے سورج کو دوبارہ  نماز پڑھنے کے لیے نہ بھی بلا یا ہوتا  ،  ابو جہل  کو اور اس کی اولاد کو ان کی زیادتیوں کے سبب بدعائیں نہ بھی دی ہوتیں کہ وہ بالاآخر ہلاک ہوئے ،  رومیوں کو  فارس پہ فتح کی بشارت نہ بھی دی ہوتی ، فارس کی سلطنت کو اپنے نامے کے ٹکڑوں کی طرح نہ ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوتا ،  دعاؤں سے مدینہ میں جل تھل  بارش  نہ بھی برساتے ،  دعاؤں سے صحابہ کرام کے معاشی اور اقتصادی مسائل نہ بھی دور کرتے ،  ممبر پہ کھجور کے درخت کا  خشک تنا  حضور ؐ کے ٹیک نہ لگانے پہ نہ بھی روتا ،

  اونٹ آپؐ سے اپنے مالک کی شکائیت نہ بھی کرتا ،  آپؐ کے دوھنے سے میزبانوں کی بکریوں کے خشک تھنوں میں دودھ نہ بھی اترا ہوتا ، آپؐ کے میزبانوں کے  ریوڑوں میں بے تحاشہ اضافہ نہ بھی ہوا ہوتا ،  حضرت سلیمان ؓ  کو یہودی مالک سے آزاد کرنے کے لیے کھجور کے  پودے  جو  چند ماہ میں ہی پھل دینے لگے نہ لگائے ہوتے ،  غزوات مین فرشتوں کا نزول نہ بھی ہوا ہوتا ،  غزوہ بدر میں کنکریوں کو دشمنانِ دین کی طرف  یداللہ بن کر نہ بھی پھینکا ہوتا ،  آنے والے وقتوں کی بشارت  اور قرب قیامت کے آثار  نہ بھی بتائے ہوتے ،  معراج  میں نظام تکوینی نہ بھی دکھائی دی  ہوتی ۔۔وغیرہ  تو  میں کہتا ہوں کہ سارے باشعور و ہدائت یافتہ لوگوں کے لیے  حضور سرورِ کائینات  ؐ  کی ذات و صفات و حیثیت و احترام و عقیدت  میں ذرا فرق نہ آتا۔ اُن کے اخلاقِ کریمہ ،  روحانی  بلندی ، حسنِ معاشرت،  اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عبدیت ،  دن و رات کی محنت شاقہ ،  زندگی کے ہر پہلو کے لیے ایک سبق آموز مثال چھوڑ جانا، امانت و صداقت  و شرافت کے منبع اور حرف آخر یہ سب کچھ اتنا بڑا  سرمایۂ  زندگی ہے  رہتی دنیا تک انسانوں اور جنوں کے لیے کہ کوئی دوسری مثال نہ ہوسکتی ہے اور نہ ہوگی۔ تکمیل ِ نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ تکمیل انسانیت بھی اُن کی ہی ذات سے وابستہ ہے۔

جن کے چشم ِ  باطن وا ہوتے ہیں وہ  فنا فی الرسول ہوجاتے ہیں کہ یہی راستہ فنا فی اللہ کا بھی ہے۔ ورنہ اُن ؐ کے دیکھنے اور ساتھ بیٹھنے  والوں میں تو منافقین بھی تھے اور ایسے  افراد  و خاندان بھی تھے جو دن و رات آپؐ اور آپؐ کے خاندان  اہل بیت اطہار ؓ  کے خلاف سازش ہی کرتے رہے اور انہیں دنیاوی تکلیفات و نقصانات پہنچاتے رہے ۔  اور آپؐ کی محفل میں ایسے بھی تھے جن کی نگاہیں ہمہ وقت آپ  ؐ کو دیکھتے رہنا

۴

چاہتی تھیں۔اور آپ  ؐ کی ہربات پہ آمنا و صدقنا  کہا کرتے تھے  ا ور بغیر چوں چرا کیے ہوئے اور یہ پوچھے ہوئے کہ آپؐ کا یہ حکم اللہ کی طرف

سے ہے یا یہ آپؐ کا حکم ہے کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ آپؐ کا حکم ہو یا اللہ تبارک تعالیٰ کا  دونوں کی حیثیت یکساں ہے  ۔وَ اطیعو الرسول فقد اَطاع

اللہ کا مفہوم بڑاواضح تھا اور منکرِ حدیث جیسی فتنہ پر وری شروع نہیں ہوئی تھی۔اس میں نہ کوئی الوہیت اور نہ وحد ۃ الوجود کی بحث تھی۔ سادہ سے لوگ تھے ،  دلوں میں نور صحبتِ رسولؐ ،  ان کی محبت اور شفقت کے حوالے سے اتر جاتا تھا اور ان کی رہنمائی کرتا رہتا تھا۔ وہ اپنا مال و متاع و جان لٹاتے رہتے اور اس سے کئی گنا زیادہ انعام اللہ سے دونوں جہان میں پاتے رہے۔

+کیا اس سر زمینِ کائینات اور عالمِ مخلوقات میں کوئی دوسری ہستی ایسی ہے جسے  رب العالمین نے  رحمت الاعالمین بنایا ، رسول الی الناس بنایا ،  اُنؐ  کو مبعوث فرما کر  سارے جن و انس  پہ اپنا احسان جتایا  ، اُن سے  ہمکلام ہونے کا اور اُن کی محفل میں  بیٹھنے اور گفتگو کرنے کا ادب سکھایا۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے تو اپنے محبوب کے ذکر کو ہر لمحہ بلند کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور ہم میں ہی ایسے شوریدہ  یا شیطانی صفات ہیں جو اس کے خلاف صرف اور صرف انہیں اپنے جیسا ہی ایک آدمی بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور قرآنی آیات کی غلط تعبیر و تفسیر کرتے ہیں۔

9

اب جو یہ بات کی جاتی ہے کہ حضور ؐ سے منسوب کوئی معجزہ نہیں ہے سوائے  قرآن کے تو اگر ہر معجزہ سے انکار ہی کرنا ہے تو  قرآن کو بھی معجزہ رسول ؐ کیوں کہا جائے ۔ یہ تو وحی متلوئی ہے جو ایک امین سے دوسرے امین تک منتقل ہوئی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ کیا کوئی دوسری ہستی ہے اس دنیا میں سوائے حضورؐ کے جو قرآن کی سند ہو کہ جس کلام کو انہوں نے قرآن کہدیا وہ  قرآن ہے  ورنہ نہیں۔  اس میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ قرآن ایک ایسا معجزہ ہے جو جاری ہے  رہتی دنیا تک ، دوسرے انبیأ کے معجزات تو ان کے ساتھ زندگی میں ہی ختم ہوگئے لیکن یہ کلام ِ الہی جو نطق ِرسول  ؐ سے عطا ہوتا رہا  وہ اپنی اصلی شکل میں محفوظ و جاری و ساری ہے  ۰۰۴۱ سو سال گذرنے کے بعد بھی اور تاقیامت اس کے ماننے اور اس پہ عمل کرنے  والے  رہیں گے لیکن شاید بہت ہی تھوڑے ہوں ۔لیکن  اس سے حضور ؐ کے دوسرے معجزات کہاں معدوم ہوتے ہیں  ؟  وہ بھی تو عالم تحریر میں ہیں اور ان کی نشانیاں بھی مل جاتی ہیں ہر چند کے اسے مٹانے کا کام بھی جاری ہے۔ سچ پوچھیں تو عالمِ مخلوقات میں اگر کوئی سب سے بڑا معجزہ ہے  تو وہ خود حضور ؐ کی ذاتِ مبارک ہے۔اُنؐ  کی سیرت کا مطالع کرتے چلے جائیں،  اُنؐ  کے رستے میں قدم اٹھاتے رہیں ، عقل و  دل  دونوں کے دریچے کھلتے چلے جائیں گے اور نور کے ایک سیلاب میں بہتے چلے جائیں گے۔  پھر یہ نور و بشر کی بحث بھی فضول رہ جاتی ہے۔!  اللہ  ہماری رہنمائی فرمائے اور اپنی  اور  اپنے محبوب  ؐ کی اور اہل اللہ کی محبت ہمارے دلوں میں جاگزیں کر دے۔( آمین )

وہ دانائے سُبل ، ختم الرسل ، مولائے کُل جس نے   :   غبارِ  راہ  کو  بخشا  فروغِ  وادیِ  سینا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر    :  وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسٰیں وہی طہٰ

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: