Hesham A Syed

February 1, 2010

Adlia ki beychaargi – Aman ki Aasha

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 6:57 am
Tags: ,

Adlia ki bey haargi – Aman ki Aasha ; Hesham Syed 

حشام احمد سید                              عدلیہ کی بیچارگی ۔ اَمن کی آشا

شور و غوغا تو خوب اُٹھا اور اب بھی اسے ہر روز سر پہ پیٹا جا رہا ہے کہ عدلیہ آزاد ہوگئی۔پاکستان کا سارا مسٔلہ حل ہو گیا ، اب سبھی چین کی نیند سویں گے، ملک میں ہر طرف امن و آشتی کا پرچار ہو گا ، کوئی شخص اب ملک کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکے گا،  عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس آجائے گی، حکومت میں بیٹھے ہوئے فرشتے  اب اپنے اپنے پروں کو ہلا کر ٹھنڈی ہوائیں چلائیں گے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران بھی گرمی  سے غریب  لوگوں کو بچائیں گے ۔ ہر کو انصاف جو میسر آئے گا  اور اب ہرشخص بلا خوف ہو ہراس کے اس  ملک میں اب بجائے خون بہانے کے دودھ کی ندی بہانے پہ لگ جائے گا۔ آہ ،  پاکستان خواب کے ذریعہ ہی عالمِ وجود میں آیا اور  اسے چند سو یا ہزار پاکستانی  عوام کو ہرغمال بنا کر  ایک سنہرا  خواب ہی بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔کیا ضروری ہے کہ نیند سے بیدار ہی ہوا جائے ؟  جبکہ لوریاں ایسی رسیلی ہوں تو کیوں نہ  بستر پہ اینڈتے ہی رہا جائے۔آنکھ بند ، کان بند ، عقل بند  ، کبھی کبھی زبان جو چلتی تھی وہ بھی بند ہی ہوجانا چاہیے۔ کیا  فائدہ ہے کچھ اب کہنے یا سننے کا سوائے بلڈ پریشر بڑھانے کے۔  عدلیہ پہ جن لوگوں نے سب سے پہلے پتھر پھینکنے کی رسم ڈالی وہی  عدلیہ کے کارندوں کے ساتھ مل کر اسے آزاد کرنے کے چمپین بن گئے ،  اس لیے کے یہی ایک راستہ تھا  فوجی آمر سے کسی  شہری و سیاسی آمر کے بدلاؤ کا۔عوام کو کیا فرق پڑا ، سینیٹ ہو ، پارلیمنٹ ہو ، ایوان صدر ہو  ہر جگہ وہی  چہرے جو پہلے بھی پاکستان کو لوٹتے رہے تھے آج بھی اسی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ایک دوسرے کی پیٹھ کھجائی اب بھی جاری ہے۔  کوئی دھوکہ دہی سے لی ہوئی اپنی گدی صرف عدلیہ کے کسی سیاسی یا آئینی فیصلے پہ کیسے چھوڑ دے ، کسی اور کام میں یا کاروبار میں اتنی آمدنی کے مواقع بھی تو نہیں۔عدلیہ اگر فیصلہ دے بھی رہی ہے  تو اس کی حیثیت ہی کیا ہے سوائے چند کاغذ کے ٹکڑوں پہ لکھی ہوئی تحریروں کے، اگر قانونی یا  ایڈمنسٹریٹو ادارے  یا ایکسیکیوٹو باڈی عدلیہ کے فیصلے کا کوئی نوٹس ہی نہ لیں  اور اسے ایک کان سے سنیں تو دوسرے سے اڑا دیں تو الگ  اس کے خلاف  اور عدلیہ کو  زک  پہنچانے کی طرح طرح کی کوششیں شروع ہوجائیں تو کیا تبدیلی رونما ہوسکتی ہے ؟  ملک ویسے ہی چلتا رہے گا  ،  جیسے کہ باسٹھ سال سے چل رہا ہے۔ بلکہ چل ہی کہاں رہا ہے ،  اس کا تو چل چلاؤ ہی لگتا ہے۔ عمل نہ ہو تو کسی بات میں اثر ہی نہیں۔ ٹاک شو بھی ہے ، ہر کالم نگار، دانشور ، شاعر ، اینکر ، سیاسی کارندہ ، اپنی اپنی بولی بھی بول رہا ہے ، کچھ  اُمید  اس لیے دلا رہے ہیں کہ انہیں اسی کی قیمت دی جاتی ہے ، کچھ اپنی رنگ آمیزی کر رہے ہیں کہ ان کی روزی بھی اسی سے وابستہ ہے۔ جیسے جیسے حالات بدلتے ہیں ویسے ویسے لوگوں کی بولی بھی بدلنے لگتی ہے۔ پاکستان کے شب  وروز کو سنسنی خیز جب تک نہ بنایا جائے جینے کا مزہ ہی کیا ہے۔ کوئی اللہ اور رسول کا نام لے کر لہو گرم کر رہا ہے،  ۔کوئی روٹی کپڑہ اور مکان کے نعرے پر آج بھی اپنا ووٹ کیش کر رہا ہے، اگر یہ سب کو میسر آجائے تو ان کے پاس لگانے کو اور نعرہ ہی کیا رہ جاتا ہے۔ کوئی خود ہی دھماکے ، قتل و غارت  کراکے اس کے خلاف بیان دیتا ہے۔ کہتے ہیں کہ پیار و محبت میں ہر چیز جائز ہوتی ہے اورسیاست میں ہر ناجائز بھی جائز ہو جاتی ہے۔کوئی اس بات کی اُمید رکھتا ہے کہ ہمارے سارے لُٹیرے ایک دن اچانک  باوضو ہو کر اپنی اپنی کوتاہیوں اور جرم کا اعتراف کریں گے اور دوسرے ہی دن پاکستان کے خزانے سے لوٹی ہوئی دولت کو اپنے ہی ہاتھوں سے لوٹا دیں گے کہ  ان کو بھی مرنا ہے ایک دن ،  ایسے سادہ دلوں کو  یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ مرنا اگر کل ہے تو دولت لوٹا کر آج کیوں مر جایا جائے ؟  لوٹنے میں تو

۲

          نہ جانے کیسی کیسی ترکیبیں ایجاد  کی گئی ہونگی ۔لوٹانے میں تو صرف عقل خبط ہی ہوجانے کی دیر ہے  یا ضمیر کا جاگنا شرط ہے ۔سیاست میں جو لوگ امانت و دیانت ، شرافت کی توقع رکھتے ہیں وہ حماقت کا ہی شکار ہیں۔ موجودہ دور جمہوریت کا ہے جس میں انسانوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا  اور جس ملک میں آدمیوں کو بھیڑ بکری کی طرح جدھر چاہو ہانک دیا جاتا ہو وہاں کی جمہوریت کے کیا کہنے ، اس سے بہتر اور کون سا ملک ہو سکتا ہے لوٹ مار کے لیے۔ نہ پڑھنے لکھنے کی حاجت اور نہ کسی روحانی و اخلاقی  معیار کی ضرورت ، جو چاہے سیاست دان بن جائے اور اپنا اکاؤنٹ بھرتا چلا جائے۔ پہلے کم سے کم یہ ہوتا تھا کہ حکومتی کارندے  اپنی بدنامی سے ڈرتے تھے ، اب نیک نامی یا بدنامی کی تمیز ہی اٹھ گئی ہے۔  اب ہر کام  جسے برا جانا جاتا تھا  بڑے دھڑلّے سے ، بہ بانگِ دہل کیا جاتا ہے۔ اُکھاڑ لو جو کچھ اکھاڑنا ہے۔ بے غیرتی و بے شرمی  سر پہ بال کھولے سو نہیں رہی بلکہ جاگ رہی ہے اور اپنی آنکھیں نچا نچا کے سب کو  اور سب کچھ  دیکھ رہی ہے۔ ملک کو  تو غیروں کے ہاتھوں بیچا ہی جا چکا ہے کہ وہ لوگ جمہوریت کے خدا ہیں اور ان کے آگے سجدہ ریز ہو کر ہی ہم راندۂ درگاہ ہونے سے بچ سکیں گے۔  جمہوریت کا تماشہ  بیٹا جمورا کا تماشہ ہو گیا ہے ، جسے دکھا کر سڑک کے کنارے پیسہ بٹورا جاتا ہے۔ بیٹا جمورا  ادھر آ ،  آگیا ،

 گھوم جا ۔ گھوم گیا  ،  اب بول  تو کیا کھائے گا  ؟ جلیبی  !  بھائی جان  قدردان  جمورا کی  جلیبی کے لیے کچھ دان کریں  ۔

 ایک طرف تو ہر دھماکے  و تباہی و بربادی میں پڑوسی ملک  کا ہاتھ نظر آتا ہے اور اس کی نشانیاں بھی ملتی ہیں تو دوسری طرف اَمن کی  آشا کی جوت بھی جگائی جارہی ہے۔ میڈیا  اس کام پہ بھی جٹا ہوا ہے ، عوام کو بہلاتے رہو ،  میراثیوں کی ٹولیوں کو اکٹھا کر لو  تا کہ پاکستان کا ایک سافٹ امیج بن سکے اور بین الاقوامی سطح پر اسے ایک مہذب قوم سمجھا جائے۔ مہذب بننے کے لیے  طوائفوں اور طائفوں کی ٹولیوں  سے ہی سبق لینا پڑے گا ۔ اس لیے کہ اور راستے تو مسدود ہو چکے ہیں۔  ایسے ایسے ڈرامے پیش کرو  ٹیلیویژن پہ یا فلم  بناؤ جس میں اپنی گنگا جمنی تہذیب کا پرچار ہو سکے ، مسلمانوں اور مشرکوں میں کوئی تمیز باقی نہ  رہے۔ شرک کی  نجاست اور ایمان کی  طہارت  کے احساس کو ہی مٹا دو ۔ جہاں بھجن گایا جا رہا ہو  اور آدمیوں کی بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا پاٹ ہو رہی ہو  وہیں قرآن کو بھی رکھو، اسے سجاؤ   اور قرآنی آیات و  حمد و نعت کو بھی  فلمی انداز سے گاؤ کہ اسی لیے تو اس کا نزول ہوا ہے ،  یہ کام ہمارے پاپ  سنگرز   اور قوال  بخیر و کوبی انجام دے رہے ہیں۔ قرآن کو بدلنا تو اب مشکل ہی ہے کہ اس کی حفاظت اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہے ، لیکن لوگوں کو اتنا  موقع ہی کیوں دیا جائے کہ وہ قرآن  اور سیرتِ رسول ؐ  کا مطالع کریں اور اپنی زندگی پہ غور کریں کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے ۔ انہیں رقص و موسیقی  اور طرح طرح کی ثقافتی رنگ رلیوں میں مصروف رکھا جائے کہ وہ  میک اپ ، فیشن ،  خود نمائی،  طرح طرح کے کھانے پینے ،  گھروں کو سجانے ،  گھر کو  کلب بنانے  اور دوستوں کے ہاؤ ہو، پارٹی بازی   اور دنیا کے سیر سپاٹے وغیرہ  کی بھول بھلیوں میں کھوئے رہیں۔ ایک بیچارہ مغل شہنشاہ اکبر کو  ہی  ہم کیوں بدنام کرتے ہیں کہ اس نے دینِ الہی کا آغاز کیا تھا حالانکہ یہ کام اس سے اس زمانے کہ درباری علمأ دین نے ہی کروایا تھا  لیکن  سنتے ہیں کہ شہنشاہ  اکبر بعد میں  اس سے تائب ہو گیا تھا۔ یا  دِلّی  کا نواب واجد علی شاہ ہی اپنی عیاشیوں کے لیے کیوں بدنام ہے جبکہ ایسی یا اس بھی افضل مثالیں اب پاکستان یا اسلامی دنیا  میں بے  شمار مل جاتی ہیں ۔  دور کیوں جائیں  ؟  بس آئینہ میں

۳

دیکھنا شرط ہے۔  اور جب یہی کچھ ہونا تھا کہ ہم  ماتھے پر تلک لگا کر پتنگے اڑاتے پھریں اور ایک دوسرے کو  اپنی پوجا  ، مورتیوں اور

مزاروں کے چڑھاوے  اور فاتحہ و نذر و نیاز کے پرساد  بانٹتے پھریں ،  سُر لگا کے بھجن  اور قوالی ہی گاتے پھریں، ایک دوسرے کے دھرم و دین کو  آپس میں مدغم کر دیں  اس لیے کہ  یہ بات اب پتہ چلی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا چاہیے تھا  اور رہنا ہے  تو پھر ۲۶ سال سے  دونوں طرف  کے کروڑوں عوام کا قتل و غارت اور ان کے نسل در نسل کی تباہی کس کھاتے میں جائے گا   ؟ دھوکہ اُسوقت  اور زمانے  نے دیا  یا  آج کا وقت  یا زمانہ  دے رہا ہے  ؟

خیر آیے  پھر پاکستان کے اندرونی مسائل کی طرف لوٹتے ہیں ،  پاکستان میں عدلیہ اور آئین کے ساتھ اب جو نیا کھلواڑ شروع ہو چکا ہے اس کا منطقی انجام کیا ہوگا ،  یہ کیا بتانے کی ضرورت ہے ؟  لگتا تو یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل اسوقت تک حل نہیں ہونگے جب تک کہ اللہ کی عدالت کا فیصلہ عوام کے راستے حکومت یا چند لٹیرے خاندانوں اور دشمنِ دین و  ملک پہ مسلط نہ ہوجائے۔ آنکھیں اب اس بات کی  بھی منتظر کیوں ہیں  ؟ یہ کام  بھی جاری ہے  اور  دھوئیں  و خاک کی دبیز چادر سے سرخ  لاوا  ابلنے ہی والا ہے۔! لیکن ٹھہریے  یہ لاوا  تو اس وقت اُبلتا ہے جب حرارت باقی ہو ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ قوم میں  ایمانی جوش و ولولے  یا اپنی مدد آپ کے جذبے کا لاوا ٹھنڈا ہو چکا  ہو  اور آتش فشاں بس دھواں ہی اگلتا رہے اور کچھ عرصے بعد اس کے دھانے میں مخملی گھاس اُگ رہی ہو  ، کوئی دھاڑ یا دل ہلادینے والی  چیخ کے بجائے ،  تال کی تھپ تھپ ، گھنگھرو کی چھن چھن ، تنبورے  و  ستار کی کھن کھن ،  ہارمونیم کی غن غن  اور طبلے کی ٹھن ٹھن سنائی دینے لگے ۔ کہ یہی  اب اَمن کی آشا ہے،  جیتے رہنے کا  پیغام ہے !   ہم سب  اُمید سے ہیں  !

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: