Hesham A Syed

February 9, 2010

Allah va Rasool sey baghawat

Filed under: Islam,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 9:57 am
Tags: , ,

Allah va Rasool sey baghawat aur bhanmati ka pataara 

حشام احمد سید                         اللہ اور رسولؐ سے بغاوت ۔ بھان متی کا  پٹارہ  !

cیہ صرف ابلیس ہی نہیں ہے جو اللہ سے بغاوت کر بیٹھا  بلکہ حضرتِ انسان جو خلیفتہ الارض بنائے گئے وہ بھی اس بغاوت میں پیش پیش ہیں۔ اور اب تو بیچارہ ابلیس تو کسی کھاتے میں ہی نہیں آتا، اور ایک آدم کی سجدہ  ریزی سے انکار کبھی کیا ہو  تو کیا ہو ،  اب تو ہر انسان کے آگے یہ سجدہ  ریز ہے۔ قرآن میں سود کے بارے میں جو آئیت اور تنبیہ نازل ہوئی ہے اس میں یہی کہا گیا ہے کہ سودی  معاملات اور کاروبار کرنے والے لوگ ایسے ہیں جیسے کہ اللہ اور رسول  سے اعلانِ جنگ کر بیٹھے ہوں لیکن صرف سود ہی پہ کیا منحصر ہے ، یہاں  تو روز مرہ کی زندگی میں زیادہ لمحہ ایسا گذرتا ہے جیسے کہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت ہو رہی ہو۔ کوئی اس بات کو مانے یا نہ مانے صرف اپنے گریبان میں جھانک کے دیکھ لیں کہ کیا ہر لمحہ وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا کہ اللہ نے حکم دیا ہے  یا اللہ  کے رسول  ؐ  نے ہدائیت کی ہے یا عملی طور پہ کر کے دکھایا ہے ؟ یا اس سے  دیدہ دانستہ طور پہ گریز کرتے ہیں اور اللہ کے دین کے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف کرنے میں انہیں دنیا بنتی نظر آتی ہے سو اس کا بہانہ یا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر شب  و  روز  ایسے اعمال کا ارتکاب کرتے ہیں  جو انا پرستی یا پندارِ خودی کی ہی تصویر ہوتی ہے اور ہم دانستہ یا نادانستہ طور پہ  اپنے آپ کو اللہ سے زیادہ  اہمیت دیتے ہیں  ۔ مثلاً نماز کا نہ پڑھنا یا اسے سستی یا تاخیر سے ادا کرنا،  زکوٰۃ  سے بچنے  یا  پورے نہ ادا کرنے میں  بہانے سے کام لینا ،  رشوت اور لوٹے ہوئے پیسوں سے حج کرنا ،  ماہِ رمضان  کا بھی احترام نہ کرنا اور روزے کے بھی رکھنے میں حیلے بہانے بنانا،  سودی اور مادیت پرستی کے فروغ میں دانستہ یا نا دنستہ طور پہ  شریک رہنا،  حواس خمسہ کو شہوت اور بیہودہ  باتوں یا کاموں میں مصروف رکھنا،  بے حجابی کی توجیح کرنا  ، معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلانا  ، دین کی بتائی ہوئی باتوں میں کچھ کو اپنانا اور کچھ کو رد کر دینا  وغیرہ۔شیطانِ رجیم سے اللہ کی  پناہ پتہ نہیں کون لوگ مانگتے ہیں جبکہ شیطان انسانِ فتین سے خود  پناہ مانگتا رہتا ہے۔ کچھ  تو یہ کہتے ہیں کہ شیطانیت ایک خصلت ہے اور  ایسی فطرت کے لوگ اصل میں انسانی شکل کے شیطان ہوتے ہیں اور ان کا شمار  ابلیس کے چیلوں یا گروہ میں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سارے مقامات پہ اور واضح طور پہ سورۃ الناس میں ایسے شیطان صفت انسانوں سے بھی اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔سر سید وبعد کے آنے والوں نے اور ان سے پہلے غالباً معتزلہ فرقہ نے جن کو وحشی انسانوں سے تعبیر کیا ہے  ا ور جن جیسی کوئی دوسری مخلوق کا انکار کیا ہے ، فرشتوں کا انکار کیا  اور  ایسی عقلی تاویلیں کیں ہیں جو انگریزوں یا اقوامِ مغرب کے خیالات سے لگا کھائے ۔ جن باتوں کی سمجھ نہ  آئے تو بجائے اسے سمجھنے کی  ایسی وضاحتیں کیں جائیں جو  اپنے خام ذہن میں سمو سکے۔ قران کی ایسی تشریحات جو اقوامِ غیر کے علمی جہت سے مرعوب ہو کر کی جائے ظاہر ہے کہ ایک گمراہی ہے  اور شیطانی روشن خیالی کی دلیل ہے۔ خیر،  ایسے مباحث بیشتر گمراہ لوگوں نے پھیلا رکھے ہیں اور طرح طرح کی اختراعات و بدعات کی صدیوں سے بھرمار ہے۔کوئی انسانیت کا مذہب ایجاد کر کے بیٹھا ہے اور اس کے پرچار کے لیے  الحاد  یعنی انکار وجود الہی کو بنیادی ضرورت سمجھتا ہے۔ کوئی سارے مذاہبِ عالم کا ملغوبہ بنانے پر مصر ہے کہ اس سے امن و شانتی میسر آئے گی ۔ کوئی شرک کی نجاست و غلاظت  اور ایمان کی طہارت و حلاوت کا احساس ہی مٹا دینا چاہتا ہے ، گویا سارے آدمی یا انسان ایک جیسے جانور بن جائیں تبھی یہ مل جل کر  بغیر کسی  ضمیر کی خلش کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ،نہ کوئی اخلاقی معیار ہوگا نہ روحانی قدروں کی تمیز ، جس کو جہاں مل گیا اس نے گھاس  پھونس پہ مونہہ مار لیا ،  پیٹ بھرا  ،  جسمانی تقاضے پورے کیے  اور اپنی زندگی ہنس کھیل کر گذار دی۔سب ٹھیک ہے  کی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے ،  بات یہ بھی اب سامنے آرہی ہے کہ کیا ضروری ہے کہ اس بات میں الجھا جائے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ، کیا حلال ہے کیا حرام ، کیا گناہ ہے اور کیا ثواب ۔  امر بالمعروف اور نہی المنکر نے ہی تو سارا جھگڑا کیا ہے۔انبیا و رسول کاگروہ  کیا تھا  سوائے اس کے کہ یہ  اپنے زمانے کے لیڈر  ہوا کرتے تھے ،  ان کی تعلیمات میں بھی موجودہ زمانے کے لحاظ سے ردو بدل اور ترمیم کی جانی چاہیے،  اور پھر یہ سللہ ختم ہی کیوں ہو ؟ یہ نبی و رسول کی اصطلاح ویسے بھی پرانی ہوچکی ہے کیوں نہ ہم موجودہ دور کے  یونیورسٹی کے پروفیسروں ،  ڈاکٹروں ،  انجینیروں ،  فلسفیوں اور دیگر ماہر ِ فنون کو وہی مقام دیںجو کہ کسی نبی و رسول کو حا صل ہے، آخر ہم کب تک پلٹ پلٹ کر  اپنے آگے دیکھنے کی کوشش کرتے رہیں گے ،  لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام  تو  کا رویہ کیوں اپنایا جائے  ؟  اگر کوئی خود ساختہ نبی  یا رسول یا امامِ وقت یا خلیفتہ الوقت  ، یا مبلغ العصر ، یا مہدی ، یا مسیحِ موعود  یا ولیِ کامل یا خود  خدا  ہونے کا مدعی ہے  تو  ہوا کرے ، کوئی  ولی کو نبی سے افضل مانے ،  کوئی کسی بھی شخص کو مقدس چادر میں اس طرح لپیٹے کہ خدا بنا دے ،  کوئی  الوہیت  اور وحدۃالوجود  کے فکر کو ہی اپنا لے ،  کوئی قبر پرستی کی دکان سجا لے،  کوئی قرونِ اولیٰ کے لوگوں کو  بارے میں یا  صحابہ کرام  کے بارے میں بہتان و الزام تراشی  و لعنت گری کا بازار گرم کر دے ،  کوئی اہلِ بیت اطہار اور عشرہ مبشرہ کی فضیلت کا  سرے سے ہی منکر ہو جائے  تو ہوا کرے ۔  بھان متی کے پٹارے میں انہیں بھی شامل کر لیں کہ ہر آدمی کو  یہ حق اور آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہے بول سکتا ہے ، جو چاہے لکھ سکتا ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو  پورے اخلاص سے  اللہ اور رسول کی بات کریں اس لیے کہ یہ  انسان کو جانوربننے سے  روکنا چاہتے ہیں حالانکہ ہم  روشن خیالوں کا  مقصدِ حیات کم سے کم معاشرتی جانور ہی بنے رہنا ہے۔ سو یہی وہ فکر ہے جو روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ہاں کہا نہ کہ ہم  روشن خیال لوگ ہیںاور اس  پر  طُرہ  یہ کہ ہم  عقلِ کُل ہیں ،  راہبر ہیں۔ دین و مذہب کے چمپین ہیں ۔ اس لیے کہ ٹیلی ویژن ، ریڈیو ، اخبار ، ویب سائٹ  یا ابلاغ عامہ کے سارے شعبے ہمارے ہی ہاتھ میں ہیں۔ لوگ غلط سمجھتے ہیں کہ ہم فکری اور لسانی ہیضہ کا شکار ہیں۔ بات بس اتنی ہے کہ یہ انبیا  ؑکرام کی باتیں شریعت محمدی ؐ  کے رسوم و قیود  اب ہضم نہیں ہو پاتے۔ اور ہم شتر بے مہار بننا چاہتے ہیں۔ اور یہ جو کچھ کہ اب ہو رہا ہے یہ تو اوائلِ تخلیق انسانی سے ہی ہو رہا  تھا۔  ایک سائنسی  خیال یہ بھی ہے کہ جرثومے سے ترقی کی تو بندر بنے اور اس سے آگے بڑھے  تو آدمی بنے،  انسان تو ہم میں چند ایک ہی بن سکے۔ سو  ابھی یہ ایوولیوشن کا سفر جاری ہے۔ لیکن لگتا تو یہ ہے کہ  جیسے واپسی ڈیوولیوشن کا سفر بھی ساتھ ساتھ شروع ہو چکا  یعنی انسان سے آدمی اور پھر بندر  و خنزیر و جرثومے پیڑ پودے  وغیرہ۔ تو کیا کئی ایک مذہب میں جو یہ آوا گون کا فلسفہ ہے یعنی انسان مستقل  اور مختلف شکل میں  ری سائیکل میں ہے  اسے تسلیم کر لینا چاہیے  ؟ کیوں نہیں  ایسا سوچنے والوں کو بھان متی کے پٹارے سے باہر کیوں رکھا جائے ، وہ بھی تو ہماری ہی برادری ہے۔ اور کہنے کو  شیطانی کہیں  یا  ا نسانی برادری ، ا  س کی کیا بات ہے ، سب کچھ اُسی کے لیے  تو ہو رہا ہے جو  کچھ کہ ہو رہا ہے۔!  بس آنکھ بند ہونے کی دیر ہے  اور ساری روشن خیالی و دانشوری  و  بقراطیاں  دھری کی دھری رہ جائیں گی۔      .

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: